تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     05-12-2015

نوازمودی رابطے

پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم کی ملاقاتیں ‘ دونوں ملکوں کے میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ جس کا دل چاہتا ہے‘ وہ اپنی خصوصی رپورٹ میں کوئی نہ کوئی راز افشا کر دیتا ہے۔ برکھادت نے اپنی کتاب میں صاف لکھ دیا کہ اس ملاقات کے دوران ‘ پاکستانی وزیراعظم نے اپنی بے بسی کااظہار کرتے ہوئے مودی کو بتایا کہ وہ پاک فوج کے سامنے بے بس ہیں۔ اتنی سی بات پر میڈیا میں بحث چل گئی‘ جو ابھی تک چلی جا رہی ہے۔ قیاس آرائیوں کے اس مقابلے میں شریک ہونے سے میں کیوں محروم رہوں؟ آخر میرے بھی خیالات ہیں۔ میری بھی قیاس آرائیاں ہیں۔ میں بھی تک بندی کر سکتا ہوں۔ لیکن میں ایسا نہیں کر رہا۔ میں انتہائی ''مصدقہ‘‘ باتیں لکھوں گا۔ مثلاً نیپال کے ہوٹل میں بھارت کے سٹیل میگنٹ ‘سجن جندل نے کٹھمنڈو کانفرنس کے دوران ایک ہوٹل کے اندر خفیہ کمرہ بک کر کے‘ مودی اور نوازشریف کی ملاقات کرائی۔ برکھادت نے اپنی کتاب میں اس کا انکشاف کرتے ہوئے وہ باتیں لکھیں‘ جو دونوں وزرائے اعظم کے درمیان ہوئیں۔ لیکن دونوں طرف سے اس ملاقات ہی کی تردید ہو رہی ہے۔ وزرائے اعظم کا خفیہ ملاقات کرنا انوکھی بات نہیں اور اس ملاقات میں ہونے والی باتوں پر قیاس آرائی کرناصحافیوں کا حق ہے۔ دونوں وزرائے اعظم نے خفیہ ملاقات کرنے کا حق ‘موقع ملتے ہی استعمال کر لیا اور برکھادت نے صحافیانہ قیاس آرائی کا حق استعمال کرنے سے گریز نہیں کیا۔ میں بھی اس ملاقات کے بارے میں کچھ معلومات رکھتا ہوں اور میری معلومات کے مطابق ہوا یوں کہ سجن جندل نے جو کہ بھارت میں سٹیل کے بہت بڑے تاجر ہیں‘ نواز شریف سے کہا ''میں آپ کو مودی کے ساتھ خفیہ طور سے ملانا چاہتا ہوں۔ ‘‘ نوازشریف نے پوچھا ''کیا مودی بھی یہی چاہتے ہیں؟‘‘ سجن جندل نے جواب دیا ''مودی نے تو خود اس خواہش کا اظہار کیا ہے۔‘‘ جس پر نوازشریف نے ملاقات پر رضامندی ظاہر کر دی۔ 
کٹھمنڈو کے جس خفیہ ہوٹل میں ملاقات کا اہتمام کیا گیا‘ اس کا نام بھی خفیہ ہے۔ دونوں وزرائے اعظم بھیس بدل کر‘ سارک کانفرنس کی راہداریوں میںچھپتے ہوئے خفیہ ہوٹل پہنچ گئے۔ پہلے نوازشریف نے جھانک کر دیکھا کہ کمرے میں مودی کے سوا کوئی اور تو نہیں؟ اس کے بعد وہ گردوپیش کا جائزہ لینے کے لئے کمرے سے باہر نکلے۔ جب نوازشریف جائزہ لے رہے تھے‘ اس وقت موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے‘ مودی جی کمرے کا جائزہ لینے اندرچلے گئے اور جب انہیں پورا اطمینان ہو گیا کہ خطرے کی کوئی بات نہیں اور وہ کمرے سے باہر نکلنے لگے تو نوازشریف بیرونی صورتحال کا جائز ہ لے کر اندر آ رہے تھے۔ اچانک سامنا ہونے پر ‘ نوازشریف نے مودی سے کہا ''اوئے توں؟‘‘ مودی نے جواب دیا ''ارے تو؟‘‘دونوں گرمجوشی سے گلے ملے۔ اس دوران سجن جندل کمرے میں داخل ہوا اور اس نے اپنے 
دونوں مہمانوں کو بیٹھنے کے لئے کہا۔ تینوں میں رسمی گفتگو ہوئی۔ جندل نے نوازشریف سے پوچھا کہ ''سعودی عرب میں آپ کی سٹیل مل کیسی چل رہی ہے؟‘‘ وزیراعظم پاکستان نے جواب دیا کہ ''پاکستانی وزیراعظم کو ذاتی کاروبار کرنے کی اجازت نہیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ جرم ہے‘ اس لئے مجھے اس سٹیل مل کے نفع و نقصان کا علم نہیں ہوتا۔ البتہ میرا بڑا بیٹا ‘اس کا خیال رکھتا ہے اور جب وہ بتاتا ہے کہ مل خوب نفع کما رہی ہے‘ تو میں کسی تاثر کا اظہار نہیں کرتا۔ کیونکہ پاکستانی وزیراعظم کو آئینی طور پر ‘خاندانی کاروبار میں دلچسپی لینے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ بہرحال میرا بیٹا کما رہا ہے۔ اس پر باپ کا خوش ہونا فطری امر ہے اور خوش ہونے کی آئینی طور پر کوئی ممانعت نہیں۔‘‘ 
مودی صاحب بو لے''یہ آپ کونسی کاروباری باتیں 
لے کر بیٹھ گئے۔ مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ میں تو ایک چائے بیچنے والا ہوں۔ بھگوان نے وزیراعظم بنا دیا۔ مجھ سے کاروباری بات کرنی ہے‘ تو چائے کے ریٹ پر گفتگو کر لو کہ آج کل ریلوے سٹیشن پر چائے کا کپ کتنے میں بک رہا ہے؟‘‘ جندل نے کہا ''میں نے صرف ایک بار ریلوے سٹیشن کی چائے دیکھی ہے‘ لیکن کپ اتنا گندا تھا کہ ہاتھ لگانے کو بھی دل نہیں چاہا۔‘‘ مودی نے کہا ''چائے کے جو کپ میں مسافروں کو دیا کرتا تھا‘ وہ گندے ہوتے تھے‘ لیکن میں نے خود ان میں کبھی چائے نہیں پی۔ مسافروں کو پلاتا تھا اور نفع کماتا تھا۔‘‘ جندل نے برجستہ کہا ''یہی تو آپ سیاستدانوں کا کمال ہے‘ جو چیز خود کھانا پسند نہیں کرتے‘ جنتا کو کھلاتے ہو‘ اوپر سے احسان بھی جھاڑتے ہو کہ دیکھو! میں نے تمہاری زندگی کتنی بدل کے رکھ دی؟ میں نے وعدہ کیا تھا کہ اچھے دن آئیں گے‘ دیکھ لو! اچھے دن آ گئے۔ بیروزگاری پہلے سے بڑھ گئی۔ کسانوں کی خودکشیوں میں پہلے سے اضافہ ہو گیا۔ ‘‘ یہاں پر نوازشریف نے سوچتے ہوئے کہا ''آپ وہ تقریر مجھے کیوں سنا رہے ہیں‘ جو آپ نے بھارتی عوام کے لئے تیار کر رکھی ہے؟ مجھے تو یہ بتایا گیا تھا کہ ہماری ایک خفیہ ملاقات ہو گی‘ جس میں ہم مل کر‘ مٹن بریانی کھائیں گے۔ بریانی 
کا دور تک پتہ نہیں۔ میں کشمیری آدمی ہوں۔ جب سے بریانی کا ذکر سنا ہے‘ میری بھوک زور پکڑ رہی ہے اور آپ ادھر ادھر کی باتوں میں ٹرخا رہے ہیں۔ بریانی کب آئے گی؟‘‘ جندل نے رازداری سے بتایا کہ ''نیپال بھی ہندوئوں کاملک ہے اور مودی صاحب کے خوف سے یہاں کہیں بھی بریانی نہیں پکتی ‘اس پر پابندی لگا دی گئی ہے۔‘‘ نوازشریف نے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا ''تو پھر تم نے 
مجھے کیوں کہا تھا کہ دونوں اکٹھے بیٹھ کر بریانی کھائیں گے؟‘‘ جندل نے معذرت خواہانہ لہجے میں جواب دیا''میں نے اپنا جہاز ڈھاکہ بھیج رکھا ہے۔ بنگالی بریانی بہت اچھی بناتے ہیں۔ وہاں سے آپ دونوں کے لئے خصوصی پرائم منسٹر بریانی بن کر آئے گی۔‘‘ اس موقع پر مودی نے مداخلت کرتے ہوئے کہا ''اس بریانی میں گوشت کونسا ہو گا؟‘‘ نوازشریف نے ہنستے ہوئے جواب دیا ''کبوتر کے گوشت میں تو بریانی پک نہیں سکتی۔ ظاہر ہے یا وہ بکرے کے گوشت میں پکے گی یا گائے کے۔‘‘ اچانک مودی کی آواز آئی ''رام رام رام۔‘‘ دونوں نے مودی کی طرف دیکھا۔ انہوں نے کان پکڑے ہوئے تھے اور رام رام کہے جا رہے تھے‘جس پر جندل نے مودی جی کو تسلی دیتے ہوئے کہا ''آپ فکر نہ کریں‘ میں نے گائے کی بریانی نہیں منگائی۔ مجھے پتہ ہے کہ آپ بکرے کی بریانی پسند کرتے ہیں۔ ڈھاکہ سے وہی آ رہی ہے۔ ‘‘ اس پر نوازشریف نے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا ''ڈھاکہ کی بریانی کے کیا کہنے؟میں کشمیری ہوں۔ میرا باورچی دنیا کی بہترین بریانی پکاتا ہے اور اس میں جو گوشت ڈالا جاتا ہے‘ وہ آٹھ مہینے کے بکرے کا ہوتا ہے۔ لقمہ چباتے ہوئے پتہ ہی نہیں چلتا کہ چاول زیادہ نرم ہیں یا گوشت ؟ اور چاولوں کی خوشبو آہاہاہا! سبحان اللہ۔‘‘ اس موقع پر جندل نے کہا ''میں نے میاں صاحب کے ہاں بریانی کھائی ہے۔ اس سے زیادہ لذیذ بریانی دنیا میں اور کہیں نہیں پکتی۔ میں نے کشمیر سے باورچی بلوا کراپنے گھر بریانی پکوانے کی بہت کوشش کی‘ مگر جو لطف میاں صاحب کی بریانی میں ہے‘ کشمیر کا کوئی باورچی ایسی بریانی نہیں پکا سکتا۔ مجھے جب بھی بریانی کھانا ہوتی ہے‘ میاں صاحب سے درخواست کرتا ہوں‘ یہ عموماً بیرونی دوروں پر ہی رہتے ہیں‘ جس ملک میں بھی ہوں‘ وہیں بلا لیتے ہیں۔ میں اپنا جہاز لے کر وہاں پہنچ جاتا ہوں۔ میاں صاحب کا پورا کچن سٹاف‘ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور پھر رام رام رام۔ ایسی بریانی پکتی ہے‘ جسے کھانے کے بعد کئی روز تک مزہ آتا رہتا ہے۔‘‘
اب میں ان سرگوشیوں کا راز کھولوںگا‘ جو پیرس میں دونوں وزرائے اعظم نے کھلے لائونج کے صوفے پر بیٹھ کے ‘ایک دوسرے کے ساتھ کیں۔ دنیا بھر کے صحافی اپنی اپنی خصوصی معلومات کا رعب ڈالتے ہوئے‘ سرگوشیوں کی اس گفتگو کے راز کھول رہے ہیں لیکن یہ سب ہوائیاں ہیں۔ میری خصوصی اطلاع کے مطابق‘ دونوں وزرائے اعظم کے درمیان سرگوشیوں میںیہ بات ہو رہی تھی کہ پیرس کے کس ہوٹل میں چھپ کر بریانی کھائی جائے؟ بات زیادہ لمبی نہ ہوتی لیکن جب ہمارے وزیراعظم ‘ پیرس کے ہوٹلوں میں ذائقے دار بریانی کے تذکرے کر رہے تھے‘ تو مودی صاحب نے بھی اپنے رائے دی۔ یہ سن کر نوازشریف نے حیرت سے کہا ''ارے آپ بھی؟‘‘ مودی صاحب شرمیلی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے ''جانتا تو میں بھی سب کچھ ہوں‘ پر کیا کروں؟ پردھان منتری بھارت کا ہوں‘ سچ صرف چھپ چھپا کر بولنا پڑتا ہے۔‘‘

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved