تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     06-12-2015

سنگیت کا جادو

مغربی دنیا کا سنگیت کیا کر سکتا ہے‘ وہ تو ہم دیکھ ہی چکے ہیں مگر ہاں، ہمارا یعنی مشرق کا سنگیت کیا کر سکتا تھا‘ اِس حوالے سے بہت سی داستانیں سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں۔ کہتے ہیں کسی زمانے میں دیپک کے سُر چھیڑنے پر آگ لگ جاتی تھی، چراغ جل اُٹھتے تھے۔ پھر ملہار کے گانے سے بارش ہو جایا کرتی تھی‘ اور جب تک ملہار نہ گائی جاتی تھی تب تک دیپک گا کر آگ لگانے والا اپنی ہی آگ میں جلتا رہتا تھا۔ 
1943 کی فلم ''تان سین‘‘ میں سنگیت کا جادو نقطۂ عروج پر دکھایا گیا۔ موسیقی کیم چند پرکاش کی تھی۔ موسیقار اعظم نوشاد نے فلم ''کنچن‘‘ میں کھیم چند پرکاش کے معاون کی حیثیت سے کام کیا تھا۔ ''تان سین‘‘ کے ہیرو کندن لعل سہگل تھے اور ہیروئن خورشید بانو۔ ہیرو تان سین تو بابا ہری داس سے سیکھ کر آئے تھے‘ جبکہ ہیروئن تانی بیگم تلمیذالرحمٰن تھیں یعنی جو تھوڑا بہت گانا اُنہیں آتا تھا‘ وہ ذوق و شوق یعنی ذاتی دلچسپی کا نتیجہ تھا۔ 
فلم کے ابتدائی منظر میں تانی بیگم گائے بکریاں چرا رہی ہیں‘ اور شام ہونے پر اپنی گائے بکریوں کو ''آؤ گوری، آؤ شیاما، سانجھ بھئی گھر آؤ‘‘ گاتے ہوئے پُکارتی ہیں‘ اور تمام گائیں بکریاں لَوٹ آتی ہیں! جب تان سین پوچھتے ہیں کہ گاکر کسے بلا رہی ہو تو تانی بیگم بتاتی ہیں کہ وہ گائے بکریوں کو بلا رہی ہیں۔ اس پر تان سین کہتے ہیں کہ آواز سُن کر جانور چلے آئیں تو جانور کیسے؟ جواب میں تانی بیگم کہتی ہیں کہ آواز میں اِتنی بھی تاثیر نہ ہو تو آواز کیسی! 
تانی بیگم ذرا شوخ ہیں۔ وہ تان سین کے فن کو نہیں مانتیں۔ ایک منظر یُوں ہے کہ مست ہاتھی گاؤں میں داخل ہو جاتا ہے۔ سب بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ تان سین مست ہاتھی کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور ''رُم جُھم رُم جُھم چال تِہاری، چال بھئی متواری‘‘ گا کر اُس کی جُنونی کیفیت ختم کر دیتے ہیں اور وہ بیٹھ جاتا ہے! پورا گاؤں تان سین پر داد و تحسین کے ڈونگرے برساتا ہے۔ تان سین بہت فخر سے تانی بیگم کی طرف دیکھتے ہیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں پوچھتے ہیں کہ اب تو مانتی ہو ہمارے فن کو! تانی بیگم ذرا سی شرمندگی کے ساتھ تان سین کے فن کا اعتراف کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مان تو ہم گئے مگر یہ ہے کہ آپ کا گانا موٹی عقل والوں کی سمجھ میں خوب آتا ہے! 
تان سین نورتن کی حیثیت سے شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دربار سے وابستہ ہو جاتے ہیں۔ ایک بار شہزادی کی فرمائش پر وہ دیپک گا کر محل کے چراغ روشن کر دیتے ہیں‘ مگر اپنی ہی آگ میں جلنے لگتے ہیں۔ جب حالت زیادہ بگڑتی ہے اور موت کے نزدیک پہنچتے ہیں تو تان سین کو اُنہی کی ہدایت پر اُن کے گاؤں پہنچا دیا جاتا ہے۔ اُن کی جان بچانے کے لیے تانی بیگم ملہار گاتی ہیں‘ جس کے نتیجے میں بارش ہو جاتی ہے اور یُوں فلم کا ''ہیپی اینڈ‘‘ ہوتا ہے! 
وہ اُستادوں کا زمانہ تھا کہ جب دِل سے کچھ گانے پر کچھ نہ کچھ ہو جایا کرتا تھا۔ اب اُستاد تو رہے نہیں اِس لیے گانے کی آڑ میں سبھی اُستادی دکھانے پر تُلے ہوئے ہیں! عام آدمی کو معلوم نہ تھا کہ سچے سُر کیا ہوتے ہیں مگر بے سُروں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی ہے کہ اب تو عام آدمی کی سمجھ میں بھی آنے لگا ہے کہ سچے سُر کیسے ہوتے ہوں گے! عوام پر دُہرا عذاب ہے۔ ایک طرف تو آلاتِ موسیقی کا شور اور اُس پر بے سُروں کے حلق سے برآمد ہونے والی چیخ پکار۔ گویا ع 
مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں! 
سنگیت کے نام پر شور مچا کر اپنے سُر تال کا لوہا منوانے والوں نے عوام پر ایک احسان ضرور کیا ہے۔ یہ کہ اب وہ کسی بھی کیفیت کو آسانی سے برداشت اور ہضم کر سکتے ہیں۔ 
بالی وُڈ میں ایک زمانہ نوشاد علی، خیام، انِل بسواس، سچن دیو برمن، روشن، روی، ہیمنت کمار اور مدن موہن جیسے سنگیت کاروں کا تھا۔ اور جب وقت نے کروٹ بدلی تو بپّی لہری جیسے موسیقار میدان میں آئے جنہوں نے فلموں کو خالص ''گھریلو‘‘ ماحول عطا کرنے کی کوشش کی یعنی اُن کی ترتیب دی ہوئی دُھنوں میں لوگوں کو گھر کے برتنوں کا ساؤنڈ ایفیکیٹ بھی ملنے لگا! گلوکار کے گلے کے ساتھ ساتھ پلیٹیں، ڈونگے اور چمچ بھی بجنے لگے۔ 
1980ء سے 1990ء تک کا زمانہ بالی وڈ کے سنگیت پر قیامت بن کر ٹوٹا۔ ایک طرف تو ''کچن میوزک‘‘ اور دوسری طرف عجیب و غریب آوازوں کا متعارف کرایا جانا۔ کوئی ناک میں گاتا تھا تو کسی کی آواز اٹھنے کا نام نہیں لیتی تھی۔ کسی میں سُر کی کمی تو کسی میں تال کا فقدان۔ کسی نہ کسی طور حلق پھاڑ کر چیخنے کو گلوکاری کا نام دے دیا گیا۔ بے چارے کومل سُر کہیں دفن ہو کر رہ گئے۔ سُننے والے نِڈھال ہو جایا کرتے تھے یعنی کوئی ڈھال بھی پاس نہیں ہوتی تھی کہ سنگیت کا وار جھیل سکیں! پھر یہ ہوا کہ بعض بیٹھی ہوئی آوازوں نے فلمی سنگیت کا بھٹّہ بٹھاتے ہوئے کھٹیا کھڑی کر دی! سُننے والوں کی آزمائش تھی کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔ بے ڈھنگا اور بے سُرا گانے والوں کو سُن سُن کر لوگوں کا مزاج ایسا بگڑا کہ کبھی کبھار ملنے والی اچھی چیز پسند نہ آتی تھی! 
ایسا نہیں ہے کہ سنگیت کا جادو ختم ہو گیا ہے۔ آج بھی ایسے گانے والے موجود ہیں جن کے فن سے سُننے والوں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے! اور یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی کے گانے سے پانی برسنے لگتا ہے۔ یہاں ہم واضح کردیں کہ یہ پانی بادلوں سے نہیں، آنکھوں سے برستا ہے! اور اِس سے بھی بُری کیفیت یہ ہوتی ہے کہ کسی کا گانا سُن کر کوئی بھری محفل میں چند اشک بھی نہ بہا سکے اور دل خون کے آنسو روتا رہے! 
شہنشاہِ غزل مہدی حسن خاں نے بتایا تھا کہ اُن کے چچا اسماعیل خان کو اللہ نے ایسا نوازا تھا کہ اُن کی بندش سُننے سے بچوں کے پیٹ کا درد مِٹ جایا کرتا تھا۔ یہ تو گُنی لوگوں کا معاملہ تھا۔ اب حالت یہ ہے کہ کسی کسی کا گانا سُننے سے درد یوں جاتا ہے کہ پیٹ کو ساتھ لے جاتا ہے! ع 
وہ شاخ ہی نہ رہی جو تھی آشیاں کے لیے! 
موسیقی سے کام لینے والے تو اِس گئے گزرے زمانے میں بھی ہیں۔ مغرب میں تجربہ کرنے سے یہ راز کھلا ہے کہ بھینسوں کو ہلکی پھلکی موسیقی سُنائی جاتی رہے تو وہ فرحاں و شاداں رہتی ہیں اور زیادہ دودھ دیتی ہیں! نفسی یعنی ذہنی پیچیدگیوں میں مبتلا افراد پر بھی موسیقی کے غیر معمولی مثبت اثرات کا مشاہدہ کیا جا چکا ہے۔ 
مشرقی معاشرے بھی موسیقی سے کام لینے کے معاملے میں پیچھے نہیں ہیں۔ ہمارے ہاں پبلک ٹرانسپورٹ کی بیشتر بسیں ڈیزل یا گیس سے زیادہ گانوں کی مدد سے چلتی ہیں! گانے نہ بج رہے ہوں تو ڈرائیور کے دماغ کا انجن بھی سٹارٹ ہونے سے انکار کر دیتا ہے! ساؤنڈ سسٹم اچھا لگا ہو تو مسافر بھی کرائے کی مد میں دو چار روپے زیادہ مانگے جانے پر سیخ پا نہیں ہوتے! دکانوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے بھی ایسے سنگیت پریمی واقع ہوئے ہیں کہ جب تک کچھ بج نہ رہا ہو، کام کا موڈ نہیں بنتا۔ بعض کاریگر تو ہینڈ فری پر گانا سُنے بغیر مشین چلانے کا نام ہی نہیں لیتے! 
یہ سب تو ٹھیک ہے مگر سچ یہ ہے کہ سنگیت سے کام لینے کے معاملے میں بھارتی ریاست اُتراکھنڈ کے کسانوں نے میدان مار لیا ہے۔ وہاں چند کسانوں نے اپنے کھیتوں میں کھڑی فصلوں کو سُوّر، گیدڑ اور دیگر جنگلی جانوروں سے بچانے کے لیے یویو ہنی سنگھ اور اِسی قبیل کے چند دوسرے گلوکاروں کے ''فن پاروں‘‘ سے مدد لینا شروع کر دیا ہے! کھیتوں کے نزدیک لاؤڈ سپیکرز پر ان گلوکاروں کے گانے تیز آواز سے بجائے جاتے ہیں جنہیں سُن کر جنگلی جانور کھیتوں سے دور رہتے ہیں! 
بات دلچسپ اور حیرت انگیز ہے مگر صاحب! ہم تو فن کا لوہا تب مانیں کہ جب بھارت میں ایسے گانے بھی تیار کیے جائیں جنہیں سُن کر جُنونی ہندو ... مسلمانوں سے دور رہیں!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved