تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     15-12-2015

غیر ذمہ دار ایٹمی قوت ؟

1983ء میںبھارتی ایئر فورس کے سابق ایئر مارشل دل باغ سنگھ جام نگر کے ہوائی اڈے پر دو ہزار پائونڈ طاقت کے بموں سے لیس اپنے جیگوار سکواڈرن کی قیا دت کرتے ہوئے انتہائی نیچی پروازیں کرنے کی مشقوں میں مصروف تھے اُنہیں پاکستان کے نیوکلیئر سنٹر کو تباہ کرنے کا ٹارگٹ سونپا گیا تھا۔ وہ اپنے سکواڈرن کے ساتھ کسی بھی لمحے حکم ملتے ہی سونپے جانے والے مشن کی تکمیل کیلئے تیار رہتے تھے۔ دل باغ سنگھ کو بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کی جانب سے سونپے گئے اس خفیہ آپریشن کا کوڈ نام''Osirak Contigency‘‘ رکھا گیا تھا ۔بھارت نے یہ پلان اسرائیل کے تعاون سے تیار کیا تھا۔ تاریخ کو سامنے رکھیں تو ان دونوں کا مسلم ممالک کے خلاف باہمی اشتراک بھی کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔اسرائیلی بمباروں نے1981ء میں بغداد سے کوئی24 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع جس ایٹمی مرکز کو تباہ کیا تھا اس جگہ کا نامOSIRAK تھا۔ اندرا گاندھی کی خباثت دیکھئے کہ اس نے پاکستان کے ایٹمی سنٹر کی مجوزہ تباہی کیلئے بنائے گئے گھنائونے منصوبے کو Osirak کی تباہی کیContigency قرار دیتے ہوئے کوڈ نام تجویز کیا۔ پاکستان کے ایٹمی مرکز کو 1983ء میں تباہ کرنے کے مجوزہ بھارتی پلان کو عراق کے ایٹمی مرکز کی اسرائیلی ائر فورس کے ہاتھوں تباہی کے نام سے جوڑتے ہوئے اسرائیلی فضائی ماہرین کے تعاون سے فضائی مشقیں شروع کر دی گئیں اور اس کیلئے بھارت کی ائر فورس کے چیف دل با غ سنگھ کو ذمہ داری سونپنے کی وجہ ہی یہ تھی کہ اسے انتہائی خفیہ رکھا جائے۔
کرنا خدا کا یہ ہوا کہ بھارت اور اسرائیل کے اس مشترکہ منصوبے کی پاکستان کو بھی خبر ہو گئی۔ آسٹریا میں پاکستان کے سابق سفیر عبد الستار نے پاکستان سے ملنے والی یہ اطلاع کوڈ ورڈز میں اس وقت ویانا میں ایک عالمی کانفرنس میں شرکت کیلئے آئے چیئر مین پاکستان اٹامک کمیشن منیر احمد خان کے حوالے کر دی۔ منیر احمد خان ایک لمحے کیلئے اس ناقابل یقین اطلاع سے پریشان سے ہو گئے لیکن جن ذرائع سے یہ رپورٹ بھیجی گئی تھی اس پر یقین کرنا بھی پڑا تھا کیونکہ اس طرح کی اطلاع بغیر مکمل تحقیق کے جاری ہی نہیں کی جاتی۔ یہ رپورٹ پڑھنے کے چند منٹ بعد انہوں نے اسی ہوٹل میں مقیم بھارتی ایٹمی ریسرچ سینٹر کے چیئرمین راج رامن کو شام کے کھانے پر مدعو کر لیا۔انہوں نے کچھ حیرت لیکن خوشی سے یہ دعوت قبول کر لی۔
امپیریل ہوٹل ویانا کے ڈائننگ ہال کے ایک کونے میں ایشیائی نظر آنے والے دو افراد بظاہر تو کھانے میں مصروف تھے لیکن دونوں کے چہروں پر گھبراہٹ اور فکر مندی کے آثار تھے جو ہر لمحہ گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ دونوں ہی ایک دوسرے کو غیر یقینی سی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ گوری رنگت والا شخص جس کا تعلق پاکستان سے تھا وہ منیر احمد خان چیئر مین پاکستان اٹامک کمیشن تھے ۔ ان کے سامنے بیٹھا ہوا شخص کوئی اور نہیں بلکہ بھارت کا بابائے ایٹم بم اور اس کے اٹامک انرجی کمشن کا چیئرمین راج رامن تھا۔ منیر احمد خان نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے راج رامن کو خبردار کر دیا کہ پاکستان بھارت کی اس حرکت کا جواب دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ اس وقت جب میں آپ کو آپ کے ملک کے اس شرمناک منصوبے کی اطلاع دے رہا ہوں تو ممبئی کا بھابھا ایٹمی ریسرچ سینٹر‘ جو بھارت کے دل میں واقع ہے اسے ہم اپنے نشانے پر لیے ہوئے ہیں۔یہ سننے کے بعد راج رامن چند لمحے اپنے ہاتھ میں پکڑے کانٹے سے کھیلتے رہے ۔ چیئر مین اٹامک کمیشن پاکستان نے سامنے بیٹھے راج رامن کو ایک بار پھر ٹھہری ٹھہری آواز میں بتایا ''اگر آپ کی طرف سے ایسا کیا گیا تو پھر پاکستان ایک لمحہ ضائع کئے بغیر آپ کو اسی طاقت اور شدت سے جواب دے گا، فیصلہ کرنے سے پہلے سوچ لیں یہ ہماری طرف سے آخری وارننگ ہے‘‘۔ نیپکن سے ہاتھ صاف کرتے
ہوئے راج رامن جلدی سے اٹھا اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا لفٹ کی جانب بڑھ گیا۔
اس موقع پر یہ سوال بہت سے ذہنوں میں اٹھا تھا کہ بھارت کے با بائے ایٹم بم راج رامن اس آپریشن کے بارے میں پہلے سے آگاہ تھے؟ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی لیکن چونکہ وہ بھارت کے ایٹمی ریسرچ سنٹر کے چیئر مین تھے اس لئے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کی اجا زت کے بغیر یا ان کے علم میں لائے بغیر اس طرح کی خطرناک کارروائی کی جاتی؟
راج رامن ویانا سے جیسے ہی دہلی پہنچے وہ سیدھے وزیر اعظم اندراگاندھی کے پاس گئے‘ انہیں یہ آپریشن فوری طور پر ختم کرنے کی درخواست کی اور ایسا نہ کرنے کی صورت میںجواب میں ہونے والی تباہی کی سنگین صورت حال سے آگاہ کر دیا۔اندر گاندھی حیران رہ گئیں کہ ان کا یہ انتہائی خفیہ ترین مشن‘ جس کا صرف چند لوگوں کو ہی علم تھا‘ پاکستان کی آئی ایس آئی کیسے لے اڑی؟۔ Nuclear Deception'' کے نام سے لکھی گئی اپنی کتاب میں Adrian Levy, Catherine Scott- Clark لکھتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی سنٹر پر بھارتی ائر فورس کے ممکنہ حملے کی یہ خبر جیسے ہی امریکی سی آئی اے تک پہنچی ،امریکی انتظامیہ فوری طور پر حرکت میں آ گئی اور اسی وقت وائٹ ہائوس سے بھارت کو انتہائی سخت ترین وارننگ جاری کی گئی کہ اگر پاکستان کے خلاف یہ حرکت کی گئی تو نتائج بھارت کیلئے انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ وقفے وقفے سے راج رامن اور امریکی وزارت خارجہ کے پیغامات ملتے ہی اندر گاندھی نے فوری طور پر اپنا یہ پلان منسوخ کر دیا جس پر سب سے زیا دہ دکھ اور مایوسی اسرائیل کو ہوئی۔
امریکہ اور مغرب کا میڈیا کوئی موقع ضائع کئے بغیر پاکستان کو غیر ذمہ دار ایٹمی قوت ثابت کرنے میں دن رات مصروف رہتا ہے لیکن جب انہیں بھارت کے اس پلان کے نا قابل تردید ثبوت پیش کرتے ہوئے پوچھا گیا کہ'' غیر ذمہ دار ایٹمی قوت کون ہے‘‘ تو سب چپ سادھ کر بیٹھے رہے ۔ دنیا بھر کو یقین کر لینا چاہئے کہ'' غیر ذمہ دار ایٹمی قوت پاکستان نہیں بلکہ بھارت ہے اور بروس ریڈل جیسے لوگوں کو افسانے تراشنے کی بجائے حقائق پر بات کرنی چاہئے ۔ امریکی سی آئی اے کے سابق عہدیدار اور کلنٹن انتظامیہ میں اعلیٰ عہدے پر فائز بروس ریڈل نےThe Clinton Tapes: Wrestling History With The President'' کے عنوان سے لکھی گئی اپنی کتاب میں ایک بار پھر یہ انکشاف کیا ہے کہ مئی سے جولائی 1999ء کے درمیان پاک بھارت کارگل لڑائی میں ایک لمحہ ایسا بھی آ یا جب پاکستانی فوج نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو سرحدوں کے قریب لانا شروع کر دیا تھا ۔ ہر رپورٹ اور کسی بھی کانفرنس میں اپنی تقریر اور لیکچر کے دوران پاکستان ان کا ہدف رہا ہے ان کی اس نئی کتاب کا یہ پیراگراف در اصل وہی پیغام ہے جس سے دنیا کو یہی تاثر دینا مقصود ہے کہ پاکستان ایک غیر ذمہ دار ایٹمی طاقت ہے‘‘۔
بھارت، امریکہ اور مغرب کے اخبارات اور دوسرے میڈیا ہائوسز کبھی کہتے ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے غیر محفوظ ہیں تو کبھی ان کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی وقت دہشت گردوں کے ہاتھوں لگ سکتے ہیں جو انہیں مغربی ممالک اور امریکہ کے خلاف استعمال کریں گے یا کسی دن ایسے ہی موج میں آ کر پاکستان اسے بھارت اور اسرائیل کے خلاف استعمال کرے گا۔ اس قسم کے اور بھی کئی مضحکہ خیز قسم کے افسانے دنیا کی واحد مسلم ایٹمی قوت کے خلاف پھیلائے جاتے۔ یہ سلسلہ گزشتہ دس سالوں سے کچھ زیادہ ہی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بروس ریڈل کی سی آئی اے نے یہ خبر تو گھڑ لی کہ پاکستان کارگل جنگ میں ایٹمی صلاحیت استعمال کرنے لگا تھا لیکن کیا اسے اب تک بھارت کے آپریشنOsirak Contigency کی خبر نہیں ہو ئی؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved