تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     20-12-2015

ناک کا مسئلہ کیوں؟

کراچی میں رینجرز کے اختیارات کا مسئلہ ملک بھر میں زیر بحث ہے۔ سندھ اسمبلی نے قرارداد منظور کرکے اسے مزید ایک سال کے لئے صوبائی انتظامیہ کی مدد جاری رکھنے کی اجازت (یا دعوت) دے دی ہے، لیکن یہ بھی بتا دیا ہے کہ معاونت کی حدود متعین ہوں گی۔ اس سے پہلے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اور صوبائی مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کے درمیان بیانات کے تبادلے سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ وزارت داخلہ کو رینجرز کے اختیار پر کسی قسم کی قدغن گوارا نہیں ہے، جبکہ صوبائی مشیر کا معاملہ مختلف تھا۔ قرارداد منظور ہونے کے بعد اسلام آباد سے کوئی تبصرہ سننے میں تو نہیں آیا لیکن یہ سب نے دیکھا ہے کہ سیاسی اور عسکری قیادت نے وزیر اعظم ہائوس میں سر جوڑے ہیں اور آپریشن کا ''ٹمپو‘‘ برقرار رکھنے کے لئے تدابیر پر غور کیا ہے۔ سنا گیا ہے کہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھی ریفر ہو سکتا ہے۔ اس تفصیل میں جائے بغیر کہ اختیارات کی حد مقرر کی جانی چاہیے کہ نہیں۔ سندھ حکومت کے خدشات حقیقی ہیں کہ نہیں، سپریم کورٹ کو ریفرنس کیا جانا چاہیے یا نہیں، یہ عرض کیا جائے تو نامناسب نہ ہو گا کہ صوبائی حکومت کو یکسر نظر انداز کرنا اچھی سیاست نہیں ہو گی۔
اس بارے میں کوئی دو آراء موجود نہیں ہیں کہ کراچی میں رینجرز کو کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اس نے بڑی جانفشانی سے کام کیا‘ اور کراچی کی رونقیں اسے لوٹائی ہیں۔ بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کی وارداتوں میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔ کسی بھی حوالے اور کسی بھی پیمانے سے دیکھا جائے‘ آپریشن کامیابی سے جاری ہے اور اسے بھرپور عوامی تائید حاصل ہے۔ کسی سیاسی یا مذہبی جماعت کو یہ جرات نہیں ہو پا رہی کہ وہ رینجرز کی واپسی کی بات زبان پر لائے۔ حکومت اور اپوزیشن میں اس ایک نکتے پر سو فیصد اتفاق ہے کہ کراچی میں (فی الوقت) رینجرز کے بغیر امن قائم نہیں رکھا جا سکتا۔ ایم کیو ایم‘ جو سندھ کی دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے اور جس کے دم سے اسمبلی میں حزب اختلاف کے بنچوں پر رونقیں ہیں، رینجرز کے کئی اقدامات سے شاکی رہی ہے، لیکن وہ بھی اس کے اختیار پر کسی طرح کی قدغن کی تائید کرنے کو تیار نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے معاونین خواہ وہ سیاسی ہوں یا غیر سیاسی، سرکاری دفتروں میں گھسے ہوئے ہوں یا کسی اور جگہ چھپے ہوئے ہوں، رینجرز کو ان کا سراغ لگانے اور ان پر ضرب لگانے کا بھرپور اختیار حاصل ہونا چاہیے۔ کسی اگر، مگر کا ساتھ نہ دے کر اس نے اپنے مخالفین کو زچ کیا ہے‘ اور نئے میک اپ کی داد وصول کر لی ہے۔
قانونی ماہرین اپنے نکتوں کے ساتھ میدان میں ہیں۔ اس رائے کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ ایک بار رینجرز کو طلب کر لیا جائے تو پھر اس کا ہاتھ نہیں روکا جا سکتا۔ اس حوالے سے انسداد دہشت گردی کے لئے بنائے جانے والے نئے اور پرانے قوانین کا ذکر ہو رہا ہے۔ سندھ حکومت کے معاونین و متعلقین دستور کی دفعہ 147 کی دہائی دے رہے ہیں کہ سارے قوانین کو اس کے تابع رکھ کر پڑھنا اور دیکھنا ہو گا۔ اس بحث میں الجھے بغیر کہ قانون کی پٹاری سے کب کس طرح کی تاویل برآمد کی جا سکتی ہے، اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ یہ رہا ہے کہ یہاں سیاست کو قانونی موشگافیوں سے ہانکنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ یوں انتظامی طور پر تو شاید کسی مسئلے سے نجات مل گئی ہو، لیکن اس کے مضر اثرات کو نہ روکا جا سکا ہے، نہ دیر تک ٹالا جا سکا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سرکاری افسروں کا اثر و رسوخ یوں وسعت پکڑ گیا تھا کہ سیاستدانوں کی بڑی تعداد کاروبار حکومت چلانے کا کوئی تجربہ نہیں رکھتی تھی۔ سیاست کو ''قانون‘‘ کے حوالے کرنے کی وبا اسی لئے پھوٹی۔ اس کا اولین شاہکار وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کی برطرفی تھی۔ دستور ساز اسمبلی کی تحلیل بھی اسی رویے کی پیداوار تھی۔ مشرقی بنگال میں مسلم لیگ کے مخالفین نے صوبائی انتخابات میں انتہائی بھاری اکثریت حاصل کر لی تھی۔ اس کے وزیر اعلیٰ نورالامین ایک طالب علم کے ہاتھوں شکست کھا گئے تھے۔ اسمبلی میں اپوزیشن کو اپنا وجود تسلیم کرانے کے لئے 10 نشستیں درکار تھیں جبکہ مسلم لیگ 9 پر کامیاب ہو پائی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اسمبلی میں وہ پارلیمانی پارٹی کے طور پر اپنا تشخص قائم نہیں کر سکے گی۔ فضل القادر چودھری مرحوم کو مسلم لیگ کے پارلیمانی بورڈ نے ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ وہ آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ کر اسمبلی میں پہنچے تھے۔ انہوں نے دوبارہ مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر کے اسے باقاعدہ پارلیمانی پارٹی کے طور پر تسلیم کرانے میں معاونت کی اور وہ پارلیمانی حزب اختلاف کے طور پر کام کرنے کے قابل ہو سکی۔ اس قدر بھاری اکثریت سے قائم ہونے والی حکومت کو مرکز نے کچھ ہی عرصے بعد برطرف کرکے وہاں گورنر راج نافذ کر دیا۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس ''آئینی اختیار‘‘ کے استعمال نے ان رائے دہندگان کو کتنا مجروح کیا ہو گا، جو متحدہ محاذ کو اپنی کشتی کی ملاحی سونپ چکے تھے۔ بھٹو مرحوم نے اپنے دور میں بلوچستان میں عطاء اللہ مینگل حکومت کو برطرف کرکے گورنر راج لگایا تو اس کے منفی اثرات بھی دور دور تک پہنچے۔
سیاسی معاملات کو سیاسی انداز سے حل کرنا ہی دانائی اور حکمت ہے۔ آج سندھ حکومت پر جو لوگ غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں اور وہاں گورنر راج کی آپشن کی طرف اشارے کر رہے ہیں، وہ سیاسی حقائق کو نظر انداز کرنے کے مرتکب ہو رہے ہیں... ہمارے دفاعی ادارے قابل احترام ہیں، قانون نافذ کرنے والوں کی قربانیاں بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتیں، لیکن سیاسی اداروں کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔ یہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتے اور اپنی وقعت کے اعتبار سے بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ویٹو کسی کے پاس نہیں ہونا چاہیے، لیکن یہ بھی درست ہے کہ ویٹو کے استعمال کی ضرورت ہی نہیں پڑنی چاہیے۔ وزیر اعظم نواز شریف محض انتظامی سربراہ نہیں ہیں، وہ ایک سیاسی رہنما بھی ہیں۔ انہیں ناک رگڑنے (یا رگڑوانے) کے شوق میں مبتلا عناصر پر واضح کرنا چاہیے کہ ہر بات کو ناک کا مسئلہ بنانے سے کسی کی ناک اونچی نہیں ہو سکتی۔
[یہ کالم روزنامہ ''دنیا‘‘ اور روزنامہ ''پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے۔]

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved