تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     01-01-2016

تناؤ کی ٹینشن

اگر کسی گھر میں جھگڑا نہ ہوتا ہو تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ کسی بھی ٹی وی ڈرامے کا کوئی سین آزماکر دیکھا جاسکتا ہے۔ آج کل ڈرامہ رائٹر اور پروڈیوسر ڈراموں میں ایسے بہت سے سین شامل کرتے ہیں جن کا بنیادی مقصد صرف یہ ہے کہ دیکھنے والے اُلجھ جائیں اور کچھ کا کچھ سمجھ اور کر بیٹھیں۔ اور اگر اِس نسخے سے بات نہ بنے یعنی کہ معاملات میں بگاڑ پیدا نہ ہو رہا ہو تو معاشرتی تعلقات کے کسی محقق کی تازہ ترین تحقیق کو بنیاد بناکر کوئی بات کیجیے اور پھر دیکھیے کہ آگ کتنی تیزی سے لگتی ہے اور کہاں تک پھیلتی ہے! تحقیق حقیقت تک پہنچنے کے عمل کو کہتے ہیں۔ ماہرین کو اللہ نے وہ خصوصیت عطا کی ہے کہ وہ حقیقت تک پہنچتے ہی نہیں، اُسے کچھ کا کچھ بنانے کی اپنی سی کوشش بھی کر گزرتے ہیں! 
یہ دنیا تضادات کا مرقّع ہے۔ اور سوچ میں ذرا سنجیدگی پیدا کیجیے تو اندازہ ہوگا کہ دنیا کی ساری رونق تضاد ہی کے دم سے ہے۔ ہم اور آپ جس ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں اس میں امیر اور غریب ہر طرح کے لوگ رہتے ہیں۔ کہیں غربت ہے تو انتہا کی۔ اور اگر کسی کے پاس دولت ہے تو اِتنی کہ سنبھالے نہیں سنبھلتی۔ بہت سوں کا مسئلہ یہ ہے کہ کمایا کس طور جائے۔ اور چند ایک ایسے بھی ہیں جن کا بنیادی مسئلہ دولت خرچ کرنا ہے یعنی ان کی سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ دولت کہاں کہاں اور کس کس طرح خرچ کریں! یہ دو انتہائیں ہیں۔ دوسرے بہت سے معاملات میں بھی ہمارا معاشرہ انتہاؤں کا فرق نمایاں کرکے دکھاتا ہے۔ زندگی کے بیشتر معاملات میں ذہنوں کے فاصلے وہی ہیں جو قطبین کے ہیں۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے بھی لوگ کوسوں دور رہتے ہیں۔ ماہرین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سب کو ایک لاٹھی سے ہانکتے ہیں۔ جب وہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ کرنے پر آتے ہیں تو ایک دنیا حیران ہوکر تماشا دیکھتی ہے۔ 
ہم اور آپ سبھی اس بات کے قائل ہیں کہ ذہن میں پیدا ہونے والا تناؤ شدید پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ انسان تناؤ کا شکار اسی وقت ہوتا ہے جب اسے کسی الجھن کا سامنا ہوتا ہے۔ اگر کہیں کوئی الجھن اور مصیبت نہ ہو تو کیسی پریشانی اور کہاں کا دردِ سر؟ ظاہر ہے جب کوئی الجھن نہیں ہوگی تو ذہن تناؤ کا شکار بھی نہیں ہوگا۔ مگر محققین اس معاملے میں بھی اپنی ہی رائے کو درست قرار دینے پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ذہن میں پیدا ہونے والا تناؤ بہت حد تک مثبت ہوتا ہے یعنی یہ کہ ذہن اسی وقت تناؤ کا شکار ہوتا ہے جب کوئی کام کی بات واقع ہو رہی ہوتی ہے! 
اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جب بھی کوئی پریشان ہو اور اپنی پریشانی کا اظہار کرنے میں خِسّت سے کام بھی نہ لے تو ہمیں اسے مبارک باد دینا چاہیے کہ کوئی کام کی بات واقع ہو رہی ہے! ہم مشورہ نہیں دے رہے، صرف اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ محض مفروضہ ہے۔ اگر آپ نے اس پر عمل کیا تو ذمہ دار آپ ہی ہوں گے! 
بات یہ ہے کہ بہت سوں کا رزق اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ذہنوں میں کس حد تک تناؤ یعنی ٹینشن پیدا کرسکتے ہیں! ان کی زبان سے جو بھی بات نکلتی ہے وہ کسی نہ کسی حد تک تناؤ پیدا کرنے کی صلاحیت لیے ہوئے ہوتی ہے۔ فی زمانہ کچھ لوگ سوشل میڈیا کی مدد سے بھی یہ فرض از خود نوٹس کے اصول کی بنیاد پر ادا کر رہے ہیں مگر اس میں یافت کا پہلو تشنہ رہ جاتا ہے۔ چند ایک خوش نصیب کسی سرکاری یا غیر سرکاری ادارے سے گرانٹ پاکر باضابطہ تحقیقی انداز اختیار کرکے کسی موضوع کو کما حقہ پامال کرتے ہیں اور پھر اپنی محنت کے نتیجے کو طشت از بام بھی کرتے ہیں تاکہ لوگ پڑھیں اور پہلے حیران، پھر پریشان ہوں! 
دنیا بھر میں سب سے زیادہ تحقیق ٹینشن یعنی ذہنی دباؤ یا تناؤ کے حوالے سے کی جارہی ہے۔ اور یقین جانیے کہ اہلِ جہاں کو سب سے زیادہ ٹینشن اِسی بات نے دے رکھی ہے! محققین رات دن ایک کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ذہنی تناؤ سے نجات پانا کچھ دشوار نہیں۔ مگر کچھ دور چلنے کے بعد ہی ان کے لیے ہر قدم من بھر کا ثابت ہونے لگتا ہے۔ تب وہ چند ایک ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے لوگ بھی خوش ہوجائیں اور اپنی بھی عزت رہ جائے۔ مگر ہم نے یہی دیکھا ہے کہ ان کی باتوں سے ذہنوں کا تناؤ کم تو کیا ہونا ہے، اُلٹا بڑھ ہی جاتا ہے! 
اب اسی بات کو لیجیے کہ ذہنی تناؤ کو تخلیقی جوہر کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ ذہنی تناؤ لازمی طور پر منفی نہیں ہوتا بلکہ یہ اس بات کی علامت بھی ہوتا ہے کہ آپ تخلیقی سوچ رکھتے ہیں یعنی زندگی کو بامقصد بنانے کی راہ پر گامزن ہیں۔ شاید ایسے ہی معاملات میں کہا جاتا ہے ماروں گُھٹنا، پُھوٹے آنکھ! اِس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جس شخص کا ذہن تناؤ کا شکار ہو (اور وہ ہمیں بھی تھوڑی بہت ٹینشن دے رہا ہو) اس کے ناز نخرے بخوشی قبول اور برداشت کرلینے چاہئیں کہ وہ تخلیقی جوہر کا مالک ہے! 
محققین کی بات درست تسلیم کرلی جائے تو آج کا پاکستانی معاشرہ حیرت انگیز، بلکہ خطرناک حد تک ''تخلیقی صلاحیت‘‘ کا حامل ہے! معاشرے میں ہر طرف ذہنی تناؤ نمایاں ہے۔ لوگ زندگی ایسی حالت میں بسر کر رہے ہیں کہ ان کا اپنے آپ پر بس چلتا ہے نہ دوسروں پر۔ ایک دوسرے پر قابو پانے کی دُھن میں مگن ہوکر لوگ اپنے وجود پر اختیار سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں، ظاہر ہے، ذہنی تناؤ کا گراف بلند سے بلندتر ہوتا جارہا ہے۔ چھوٹے چھوٹے معاملات کو بھی ڈھنگ سے نمٹانا ممکن نہیں رہا۔ پورا معاشرہ جیسے بند گلی میں پہنچ گیا ہے اور اب کوئی راہ نہیں سُوجھ رہی۔ محققین کا فرمان ہے کہ تناؤ کوئی چیز ہی نہیں اور اگر ہے بھی تو مثبت یعنی خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔ اور دوسری طرف زمینی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اگر کوئی ٹینشن ہے تو بس یہی، تناؤ کی۔ ذہنی تناؤ سے نجات پانے کے طریقے سوچ سوچ کر لوگ رات دن مزید ذہنی تناؤ کی زد میں آتے رہتے ہیں اور محققین ہیں کہ تناؤ ختم کرنے کا صرف یہ نسخہ سُجھا رہے ہیں کہ اس کے بارے میں سوچا ہی نہ جائے اور اسے منفی کے بجائے مثبت سمجھ لیا جائے۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے جیسے کسی کو شدت کی پیاس لگی ہو اور اسے مشورہ دیا جائے کہ اس تکلیف سے چھٹکارا پانے کی بہترین ترکیب یہ ہے کہ پیاس کے بارے میں سوچا ہی نہ جائے! ایسے محققین ازدواجی زندگی سے بیزار افراد کو بھی یقیناً یہی مشورہ دیں گے کہ کچھ سوچا ہی نہ جائے یا پھر سوچنا ہی پڑے تو کچھ کا کچھ تصور کیا جائے۔ یعنی اگر کوئی اپنی بیوی کا رونا روئے تو اُسے مشورہ دیا جائے کہ یہ تصور کرو بیوی ہے ہی نہیں! ماہرین کو کیا معلوم کہ کوئی شخص اپنی طرز عمل سے اگر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے کہ وہ بیوی کو کسی شمار میں نہیں رکھ رہا تو بیوی اسے گھر میں رہنے دے گی؟ میاں بیوی میں جھگڑا ہو جائے اور ذہنوں میں تناؤ پیدا ہوجائے تو کیسے فرض کرلیا جائے کہ یہ ''تخلیقی جوہر‘‘ ہے! 
ذہنوں میں پیدا ہونے اور اچھی خاصی زندگی کا تیا پانچا کرنے والے تناؤ کو مثبت قرار دے کر محققین شاید یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم طفل تسلّی سے بہل جائیں گے۔ زندگی مفروضوں کے سہارے کہاں گزرتی ہے؟ اور اگر ایسا کیا جائے تو ہر معاملہ بگاڑ کی زد میں آکر رہتا ہے۔ کاش ایسا ہو کہ محض مفروضوں کو بنیاد پر بناکر دادِ تحقیق دینے کا سلسلہ ختم ہو اور مگر مچھ کی طرح منہ پھاڑ کر ہمیں ہڑپنے کے لیے بے تاب حقائق کے بارے میں حقیقت پسندی سے کچھ سوچا جائے۔ مگر آپ ہی سوچئے کہ بھلا ایسا کیونکر ہونے لگا؟ محققین کا تو سارا رونق میلہ ہی مفروضوں اور طفل تسلّیوں کے دم سے ہے! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved