تحریر : عمار چودھری تاریخ اشاعت     14-01-2016

نابینائوں کی یہ جرأت !

نابینا افراد کے چار مطالبات ہیں:ایک‘ ڈیلی ویجز ملازمین کو کنٹریکٹ میں بدلنا۔ دو‘ کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنا۔ تین‘ تنخواہ کی بروقت ادائیگی اور آخری‘ تعلیمی قابلیت کے مطابق نوکری کا حصول۔ 
مجھے اب تک سمجھ نہیں آئی ‘ان میں سے کون سا مطالبہ ایسا ہے جو قابل قبول نہیں‘ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے منافی ہے‘ جو سماجی یا شرعی لحاظ سے سے ناجائز ہے‘ جو پورا نہیں ہو سکتا‘ جس کی وفاقی یا صوبائی بجٹ میں گنجائش موجود نہیں یا جو ان سے پہلے کسی اور نے نہیں کیا ؟ نابینا تو ویسے بھی معذوری کے حوالے سے قابل رحم ہیں۔ جو انسان اپنی جان سے پیاری بیٹی یا بیٹے کو ہی نہ دیکھ سکتا ہو‘ جو بچپن سے جوانی تک‘ ہر ضرورت‘ ہر جنبش کے لئے اپنے ماں باپ اور دوسروں کا محتاج ہو‘ وہ لوگ بڑے ہو کر اگر ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنے لئے حلال روزگار مانگ رہے ہیں تو کون سا گناہ کر رہے ہیںکہ انہیں بار بار سڑکوں پر آنا پڑ رہا ہے‘دھکے اور لاٹھیاں کھانے پڑ رہے ہیں او رہر تین ماہ بعد حکومت کے ہاتھوں دھوکے‘ تسلیاں اور جھوٹے وعدوں کی پوٹلیاں اٹھا کر گھروں کو جانا پڑتا ہے۔ ذرا تصورکریں ‘ خدانخواستہ آپ کا اپنا بچہ ایسی کسی جسمانی کمزوری کا شکار ہوتا اور حکومت اسے پنجاب پولیس کے ذریعے اٹھا کر گاڑیوں میں پھینک رہی ہوتی تو آپ پر کیا بیتتی؟ کل پولیس حکمرانوں کی پسندیدہ میٹرو بس چلانے کے لئے جس طرح نابینائوں کو اٹھا کر بھیڑ بکریوں کی طرح گاڑی میں پھینک رہی تھی‘ وہ منظر دیکھ کر حکمرانوں کو تو چھوڑیں‘ کسی سیاسی‘ مذہبی اور سول سوسائٹی نامی جماعت کے سینے میں کوئی کسک نہ اُٹھی۔
سنا تھا دریائے فرات کے کنارے جانور بھی بھوکا مر جائے تو 
ذمہ دار حاکم ٹھہرتا ہے۔ یہاں کروڑوں افراد روزانہ جیتے روزانہ مرتے ہیں لیکن حکمرانوں کو فکر ہے نہ احساس۔ یہ لوگ ایک سال میں پانچویں مرتبہ سڑکوں پر ہیں ۔ ہر مرتبہ یہ جسم کو پگھلانے والی گرمی برداشت کرتے ہیں‘ کئی کئی دن اور کئی کئی راتیں سڑکوں پر بھوکے پیاسے گزار دیتے ہیں لیکن حکمران اپنی جگہ سے ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہوتے۔ میڈیا کے دبائو کے باعث کوئی چھوٹا موٹا سیاستدان یا وزیر ان سے مذاکرات کرنے یوں پہنچتا ہے جیسے بہت بڑا احسان کر رہا ہو۔ مقصد ظاہر ہے یہی ہوتا ہے کہ ان کو کسی طرح سے یہاں سے اٹھا دیا جائے تاکہ احتجاج ختم ہو اور میڈیا پر سکون کی لہریں آ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر مرتبہ جھوٹے وعدے اور یقین دہانیاں کرانے کے بعد مسئلہ حل نہیں ہوتا تو یہ دوبارہ احتجاج کے لئے مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان کی بدقسمتی ہے کہ نہ ان کے ساتھ میڈیا اس طرح کھڑا ہے نہ کوئی عمران خان۔ اب کی بار تو مجموعی طور پر میڈیا نے اس احتجاج کو گول مول چلایا۔انہی رستوں سے ایان علی نے پیشی کے لئے گزرنا ہوتا تو درجنوں کیمرے صبح سویرے سے ہی بریکنگ نیوز چلانا شروع کر دیتے۔ فلاں تاریخ کو وہ کون سے کپڑے پہن کر آئی تھی‘ ہیئر سٹائل کیسا تھا‘ اس نے چشمہ کیسا لگایا ہوا تھا‘ کون سا بابا ڈالر گرل کے قریب ہونے کی کوشش کرتا رہا‘ اس سے ناظرین کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا جاتا۔ 
گزشتہ روز بھی جب سخت سردی اور بارش میں ساری قوم لحافوں میں دبکی ہوئی تھی‘ یہ بے چارے کھلے آسمان تلے ملازمتوں اور روزگار میں بہتری کے لئے حکمرانوں سے آس لگائے بیٹھے تھے ۔کبھی کسی نے سوچا کہ آخر زیادہ تر احتجاج پنجاب میں ہی کیوں ہوتے ہیں۔ جب بھی نون لیگ کی حکومت آتی ہے‘ ڈاکٹر‘نرسیں‘مزدور‘اساتذہ سبھی کو اپنے مسائل کے حل کیلئے سڑکوں پر کیوں آنا پڑتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف بعض اوقات تو چھوٹی سی خبر پر بھی ایکشن لیتے ہیں لیکن نہ لینا ہو تو سالہا سال گزر جائیں‘ آسمان بھی ٹوٹ پڑے توخاموشی طاری رہتی ہے۔ جنوبی پنجاب میں کوئی زیادتی ہو جائے‘ کوئی وڈیرا کسی کے بازو کاٹ ڈالے‘ فوراً وہ ہیلی کاپٹر پکڑتے ہیں‘ میڈیا کو ساتھ لیتے ہیں اور داد رسی کے لئے نکل جاتے ہیں۔ پہلے میں سمجھا شاید وہ بیرون ملک ہوں گے لیکن اگلے روز لاہور سے ان کے بیانات پڑھے تو حقیقت آشکار ہوئی۔ کہا جاتا ہے یہ سب کمپنی کی مشہوری کے لئے کیا جاتا ہے۔ چلیں کوئی بات نہیں۔ لوگ کہتے ہیں چلو اس طرح متاثرہ افراد کا بھلا تو ہو جاتا ہے۔ ایسا ہوتا تو پھر چاہیے ہی کیا تھا۔ اب تک جتنے بھی زیادتی یا تشدد کے واقعات ہوئے اور جہاں جہاں حکمرانوں نے پہنچ کر بریکنگ نیوز بنوائی، آپ ان سارے واقعات کا فالو اَپ نکال کر دیکھ لیں‘ حقیقت ہاتھ باندھے اور منہ لٹکائے آپ کے سامنے آ جائے گی۔ جو ملزم پکڑے گئے ہوتے ہیں‘ وہ چھوٹ چکے ہوتے ہیں اور الٹا مدعیوں کا جینا حرام ہو جاتا ہے۔ سب کو پتہ ہوتا ہے وزیراعلیٰ نے کون سا یہاں بیٹھے رہنا ہے۔ وہ یہاں سے جائیں گے تو پھر وہی پولیس ہو گی اور وہی انتظامیہ اور قانون کے وہی ادارے۔ بعد میں ان سے ساز باز ہوتی رہے گی۔ وہی پولیس جو چپ چاپ وزیراعلیٰ کی جھڑکیاں سن رہی ہوتی ہے‘ وہی بعد میں مدعی کو الٹا لٹکا رہی ہوتی ہے۔ پولیس والے بھی ایک مرتبہ کی جھڑکیاں خاموشی سے برداشت کر لیتے ہیں کہ انہیں بھی معلوم ہوتا ہے وزیراعلیٰ نے دوبارہ کون سا یہاں آنا ہے۔ اس دوران میں کوئی نیا ایشو کھڑا ہو گا تو کمزور یادداشت کی ماری اس قوم کو سب کچھ بھول جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ نابیناافراد نہ تو مظفرگڑھ میں تھے نہ راجن پور میں‘ یہ تو حکمرانوں کے کیمپ آفس سے صرف تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تھے۔ اگر انہیں ماڈل ٹائون سانحے کے بارے میں علم نہیں ہو سکا تھا تو کیا ہم یہ مان لیں کہ وہ حالیہ احتجاج اور دو دن سے میٹرو بس سروس کی بندش سے بھی لا علم تھے؟ یہ نابینا افراد جو مطالبات کر رہے ہیں کیا ان پر عمل درآمد کے لئے میٹرو بس ‘ اورنج لائن یا سگنل فری سڑکوں سے زیادہ اخراجات آتے ہیں؟ کیا ان پر رائے ونڈ محل کی سکیورٹی سے زیادہ لاگت آتی ہے؟ کیا ان کے لئے درکار رقم نندی پور پراجیکٹ میں جھونکی گئی رقم سے بھی زیادہ ہے؟ کیا یہ رقم حکمرانوں کے بیرون ملک خانساموں کی فوج لے جانے اور وہاں سینکڑوں ڈشز کا دسترخوان بچھانے سے بھی زیادہ ہے اور کیا ان کے مطالبات اس ملک کے چالیس کھرب روپے کے بجٹ کے اندر بھی پورے نہیں کیے جا سکتے؟ چلیں حکومت کو چھوڑیں‘ ہم میں سے کتنے ہیں جن کے دل میں یہ خیال آیا کہ ذرا جا کر خود ان سے مل لیں‘ اور کچھ نہیں کر سکتے تو ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کر لیں‘ چند لمحوں کیلئے ایک کتبہ لے کر ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ اس ملک میں اور پنجاب میں کتنی مذہبی‘ سیاسی جماعتیں ہیں‘ کتنی این جی اوز ہیں‘ کتنے با اثر اور عام افراد ہیں جن کے دل میں ان کے لئے رحم آیا ہو‘ جس نے دو منٹ کیلئے رُک کر ان سے ملاقات کی ہو۔ ہم سے بہتر تو یورپ کے عوام ہیں کہ عراق پر حملہ ہو یا شام پر عالمی جارحیت‘ یہ بیس بیس لاکھ کی تعداد میں سڑکوں پر آتے ہیں اور یہ دیکھے بغیر کہ وہاں مسلمان ہیں یا عیسائی‘ ان کے حق میں جلوس نکالتے ہیں ‘ ان کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہیں۔
کیا اب کوئی شک رہ جاتا ہے کہ یہ ملک اشرافیہ اور طاقتور طبقے کے لئے چراگاہ بن چکا ہے۔ رہے عوام تو ان کے پاساتناوقت ہے نہ فرصت کہ اس سے کہیں ''اہم‘‘ کام فیس بک اور وٹس ایپ پر ویڈیوز اور تصاویر شیئرکرنا ہے ۔رہے نابینا ‘تو ان سے نمٹنے کیلئے پنجاب پولیس موجود ہے۔ نابینائوں نے میٹرو بس دو دن روک کر حکمرانوں کے دل پر گہری چوٹ لگائی ہے۔ ان کی یہ جرأت کہ وہ حکمرانوں سے اپنے لئے حقوق مانگیں‘ انہیں تو عبرت کا نشان بنا دینا چاہیے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved