تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     15-01-2016

تتربتر

فوج نے دو کام اپنے ذمے لئے۔ ایک آپریشن ضرب عضب اور دوسرا‘ کراچی کے مسائل۔ ضرب عضب کا تعلق پورے پاکستان سے ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے فوج کی خصوصی مدد کی اور پشاور کے شہید بچوں کی قربانی نے برکت ڈالی۔ پاکستان عمومی طور سے دہشت گردوں کی خونریزی سے بڑی حد تک محفوظ ہو گیا، لیکن رینجرز نے کرپشن کی غلاظت ختم کرنے کے لئے جہاں جہاں بھی ہاتھ ڈالے‘ سیاسی عناصر نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا اور یہ کشمکش عجیب رنگ دکھاتی رہی، مثلاً ڈاکٹر عاصم حسین کی گرفتاری پر مختلف مسائل کھڑے کر کے جو الجھنیں پیدا کی گئیں‘ ان میں سے نکلنا ابھی تک مشکل دکھائی دیتا ہے۔ عدالتی کارروائیوں میں قانونی موشگافیوں کے ذریعے پیش رفت روکنے کی کوشش کی گئی۔ قانون‘ طبی سہولتوں کے لئے جتنی گنجائشیں مہیا کرتا ہے‘ ان سب سے فائدہ اٹھایا گیا۔ تاخیری حربے استعمال کئے گئے اور احتسابی اداروں کے خلاف زبردست پروپیگنڈا مہم چلائی گئی۔ یوں لگتا ہے کہ سول اور فوج کے احتسابی اداروں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا گیا ہے اور یہ تو پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ زیر تفتیش ملزموں کو بچانے کے لئے احتسابی اداروں پر دبائو ڈالنے کے مختلف طریقے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ جوابی کارروائیوں سے ڈرایا جاتا ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر بیٹھے جنرل کیانی کے بھائی کے خلاف مہم چلا کر‘ حقیقت میں فوج پر دبائو ڈالنے کی کوشش کی گئی، لیکن دو بڑے جنرلوں نے سراسیمہ ہونے کے بجائے آگے بڑھ کر اس وار کا سامنا کیا‘ جو بالواسطہ طور پر فوج کی شہرت خراب کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔ یہ ایک تیر سے دو شکار والی بات تھی۔ ایک طرف جنرل کیانی کے ذریعے فوج کو ملوث کیا گیا‘ اور دوسری طرف جنرل راحیل شریف کو ہدف بنا کر ‘یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی‘ جیسے وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے خواہش مند ہوں۔ سیاستدانوں کے حربے اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ یہ امکان دور دور تک موجود نہیں کہ جنرل راحیل شریف نے ایک سال پہلے سے ہی اپنی مدت ملازمت میں توسیع کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ایسی کوئی افواہ بھی سننے میں نہیں آئی، لیکن کرپشن کے خلاف فوج کی مہم نے سیاستدانوں کے غیظ و غضب کو یوں بھڑکایا کہ وہ براہ راست فوج کے سربراہ پر حملہ آور ہو گئے۔ 
سوال یہ ہے کہ آخر قوم کرپشن کی دلدل سے باہر کیسے نکلے گی؟ ایک ذریعے کے مطابق ابھی تک پاکستان سے 3 کھرب ڈالر باہر لے جائے گئے ہیں۔ میں تو 3 کھرب ڈالر کی رقم پڑھ کر ہی حیرت میں ڈوب گیا۔ آخر ان لوگوں کے پاس ایسے کون سے خفیہ راستے ہیں، جہاں سے یہ نہ صرف بھاری رقوم خُردبرد کرتے ہیں بلکہ انہیں کھربوں کی تعداد میں بیرون ملک بھی لے جاتے ہیں۔ یہ امکان پیدا ہوا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے‘ بے تحاشہ کرپشن کا نوٹس لینے لگے ہیں اور شاید ان کی طرف سے کچھ دبائو بھی آئے، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اپنے مفادات کی خاطر کرپشن سے نظریں چرانے لگے ہیں۔ پی آئی اے کی نجکاری پر عوامی نمائندوں اور میڈیا کو مختلف طریقوں سے یہ باور کرایا گیا کہ اسے کاروباری اداروں کے حوالے نہیں کیا جائے گا، مگر اطلاعات یہی ہیں کہ پی آئی اے کے باقاعدہ سودے ہو گئے ہیں اور آئی ایم ایف کو بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے‘ آخرکار نجی شعبے کے حوالے کی جا رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کو جو لیٹر آف انٹینٹ بھیجا گیا ہے‘ اس میں سٹیل مل اور پی آئی اے‘ دونوں کے نام شامل ہیں۔ گویا پاکستانی اداروں اور میڈیا کو جو کچھ بتایا گیا ہے‘ اس کے برعکس آئی ایم ایف سے کہا گیا ہے کہ حکومت سٹیل مل اور پی آئی اے کو نجی اداروں کے سپرد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ آئی ایم ایف حکومت پاکستان سے کہہ رہی ہے کہ وہ توانائی کے شعبوں میں بھی اہم قومی اداروں کی نجکاری کرے۔ سٹیل مل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کی خریداری کے لئے سندھ حکومت کو پیش کش کی جائے گی اور اگر وہ نہیں خریدتی‘ تو اس کی نجکاری بھی اس سال ستمبر کے آخر تک مکمل کر لی جائے گی۔ آج قومی اسمبلی میں ایل این جی کے معاہدے پر بھی بحث ہوئی۔ وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی حسب معمول اس معاہدے پر بات کرتے ہوئے اشتعال میں آ گئے اور انہوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ ایل این جی کے سودے کی تفصیل بتانے کو تیار نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایس او معاہدے پر دستخط ہونے تک قیمتوں کا راز نہیں بتایا جا سکتا۔ یہ کھلے بازار کا سودا ہے۔ شاہد خاقان عباسی اس کا ذکر آنے پر مشتعل کیوں ہو جاتے ہیں؟ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں پر تو کھلی دھاندلی کی جا رہی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کے نرخ گرتے گرتے 30 ڈالر سے بھی نیچے آ چکے ہیں۔ آج پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں وہی ہیں‘ جو تیل کی مہنگائی کے زمانے میں تھیں۔ پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے بھی لوٹ مار کے کھیل پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ نام نہاد اپوزیشن عوام کو اصل حقائق سے آگاہ نہیں کر رہی، ورنہ یہ راز کیوں نہیں کھولا جاتا کہ قیمتوں میں 100 ڈالر فی بیرل کمی آنے کے باوجود‘ عوام کو تیل پرانے نرخوں پر کیوں دیا جا رہا ہے اور تیل کے کاروبار میں‘ عوام کو کھلے بندوں لوٹ کر جتنا کچھ حکومت کما رہی ہے‘ اس کے بدلے میں عوام کو رعایت کیوں نہیں دی جا رہی؟ 
میں تو اس بات پر فکرمند ہوں کہ امریکی صدر بارک اوباما نے اپنے آخری سالانہ خطاب میں پاکستان کا نام لے کر یہ کیوں کہا کہ یہ ملک آنے والے کئی عشروں تک عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ پاکستان کے ساتھ صرف افغانستان کا نام لیا گیا۔ مالیاتی امور کے ماہرین مسلسل لکھ رہے ہیں کہ پاکستانی معیشت تیزی سے زوال پذیر ہے۔ ہماری سرکاری رپورٹوں میں دلاسا دیا جاتا ہے کہ پاکستان کی معیشت سنبھل رہی ہے۔ وہ کون سے ادارے ہیں جن کی رپورٹوں میں پاکستانی معیشت کو بہتری کی طرف بڑھتے ظاہر کیا جاتا ہے؟ جو کچھ عوام کو بتایا جاتا ہے‘ اصل حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مگر یہ عوام پر ظاہر کیوں نہیں کئے جاتے؟ یہ کون سی منطق ہے کہ ہم نے قطر کے ساتھ گیس کا سودا کر لیا ہے لیکن پارلیمنٹ کو نہیں بتایا جائے گا کہ ہم گیس کن نرخوں پر خریدیں گے۔ کیا یہ وزیر موصوف کا ذاتی سودا ہے؟ جسے وہ اپنی جیب سے خریدیں گے اور من چاہے نرخوں پر فروخت کریں گے؟ کمال یہ ہے کہ وزیر موصوف نے یہ بات قومی اسمبلی کے اندر کہی اور منتخب ایوان کے کسٹوڈین یعنی سپیکر صاحب کو یہ توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس کھلے تجارتی سودے کی تفصیل بتانے کے لئے وزیر موصوف کو پابند کریں۔ اس کے برعکس سپیکر صاحب نے بحث ہی بند کر دی اور منتخب ایوان کا یہ حق‘ وزیر موصوف کی خواہش کے عین مطابق سلب کر لیا۔ جب حکومتیں اپنے ہی عوام سے رازداری پر تل جائیں تو اس کا واحد مطلب یہ ہوتا ہے کہ عوام کو ان تمام وصولیوں کے اخراجات سے بے خبر رکھا جائے‘ جو ٹیکسوں اور مختلف اشیا کی مہنگے داموں فروخت کے نفع سے جمع کئے جاتے ہیں۔ 
میں نے قریباً تین سال پہلے لکھ دیا تھا کہ جس رخ پر حالات جا رہے ہیں‘ ان میں مجھے آزادیٔ اظہار کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ حکومت پیپلز پارٹی کی تھی اور اب قریباً دو سال سے مسلم لیگ (ن) کی ہے، لیکن حالات جس سمت میں جا رہے تھے‘ وہ ہرگز نہیں بدلی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت جس رفتار سے قرضے بڑھا رہی تھی‘ موجودہ حکومت اس سے چار گنا زیادہ رفتار سے قرضوں میں اضافہ کر رہی ہے۔ ہماری مصیبت یہ ہے کہ ڈالر بڑھتا جا رہا ہے اور ہمارا روپیہ گرتا جا رہا ہے۔ زیادہ دنوں کی بات نہیں‘ جب ہمارے وزیر خزانہ نے شیخ رشید کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ڈالر کو 100 روپے سے نیچے کی سطح پر لا کر دکھائیں گے۔ مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں‘ خود ہی اخبار میں پڑھ لیں کہ آج ڈالر کتنے کا ہے؟ جو بات مجھے زیادہ افسردہ کر رہی ہے‘ وہ یہ ہے کہ کرپشن کی سرپرستی کرنے والے سیاستدان‘ اب اتنے دیدہ دلیر ہو گئے ہیں کہ کرپشن روکنے کی کوشش پر‘ فوج کو بھی للکارنے لگے ہیں۔ امریکی صدر اوباما نے اپنے اقتدار کے آخری سال میں غلط نہیں کہا کہ پاکستان آنے والے کئی عشروں کے دوران عدم استحکام کا شکار رہے گا۔ اپنے گردوپیش نظر دوڑا کر دیکھ لیجئے۔ کیا کوئی لیڈر ایسا دکھائی دے رہا ہے‘ جو ہمیں بحران سے نکالنے کی اہلیت رکھتا ہو؟ کیا کوئی سیاسی جماعت ایسی ہے جو بحران میں ڈوبتے ہوئے ملک کو استحکام کی طرف لا سکے؟ کیا ہمارے لئے کسی بھی شعبے میں بہتری کی گنجائش چھوڑی جا رہی ہے؟ ہم افغانستان کو بچانے نکلے تھے، افغانستان ہمارے گلے پڑ گیا۔ آخر میں وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی سے غیر مودبانہ سوال ''گیس آپ ذاتی جیب سے خرید رہے ہیں یا قومی خزانے سے؟ اگر یہ آپ کی ذاتی خریداری نہیں‘ تو رقم کے اصل مالک یعنی عوام‘ خریدے گئے سودے کی قیمت کیوں نہیں پوچھ سکتے؟ ان سے چھپانے کا جواز کیا ہے؟‘‘ اصل بات یہی ہے کہ حکمران‘ قومی اثاثوں پر عوام کا حق تسلیم نہیں کرتے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved