تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     25-01-2016

سانحات کا تسلسل

اگر چہ ہمیں وقتا فوقتًا یہ بشارت دی جاتی رہی ہے کہ دہشت گردوں کے مراکز تباہ کر دیئے گئے ، ان کا نیٹ ورک توڑ دیا گیا ہے ، ان کو منتشر کر دیا گیا ہے ، وہ حواس باختگی کے عالم میں ہیں ، ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے ، وہ تتر بتر ہیں اور2016ء میں اس جنگ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا تا ہم انہوں نے 2016ء کے شروع ہی میں باچا خان یونیورسٹی چارسدہ میں حملہ کر کے اپنے وجود اور بدستور فعال ہونے کا ثبوت دیا ہے ۔ ہم پہلے ہی لکھتے رہے ہیں کہ یہ جنگ صبر آزما ہے اور ہماری تمام تر خواہشات اور دعاؤں کے باوجود اس کا فوری خاتمہ بظاہر ممکن نظر نہیں آتا ۔ اس کے مِن جُملہ اسباب میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان بے اعتمادی اور افغانستان میں ہندوستان کا مؤثر انٹیلی جنس نیٹ ورک ہے ۔ پٹھان کوٹ کے واقعے کے بعد ہندوستانی وزیر دفاع نے اشارات و کنایات میں جوابی اقدام کی دھمکی دے دی تھی ۔ 
چیف آف آرمی اسٹاف جناب جنرل راحیل شریف اور پاکستان کی مسلح اَفواج کا عزم ِ صمیم اور کامیابیاں مسلّم ہیں ، یہ بھی واضح ہے کہ پوری قوم اُن کی پشت پر ہے اور ان کے عزم کی صداقت پر کسی کو شبہ نہیں ہے ۔ جناب جنرل راحیل شریف ہر بڑے سانحے کے بعد سب سے پہلے جائے وقوع پر پہنچ جاتے ہیں ، اس سے فوجی جوانوں اور افسران کے ساتھ پوری قوم کا مورال بلند ہوتا ہے اور حوصلہ ملتا ہے ۔ اس طرح سول حکمرانوں اور سیاسی قائدین کو بھی جائے وقوع پر پہنچ کر اپنے عزم کا اظہار کرنا پڑتا ہے ۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل غیر محفوظ سرحد در اصل سارے مسئلے کی جڑ ہے ۔ افغانستان کی حکومت ہمیشہ شکوہ کناں رہتی ہے کہ اس کے مخالفین کو پاکستان میں پناہ ملتی ہے اور یہی شکایت حکومتِ پاکستان کو افغانستان سے ہے ۔ اس میں کسی کو بھی ذرہ بھر شک نہیں ہے کہ تحریک طالبان افغانستان کی قیادت اور ریاستِ پاکستان سے بر سرِ پیکار عناصر کی محفوظ کمین گاہیں پاکستان کی سرحد سے متصل افغانستان کے صوبوں میں ہیں ۔ سب سے زیادہ ناقابل فہم بات یہ ہے کہ امریکہ اپنے اہداف کو توبیک وقت پاکستان اور افغانستان کی سرحدوں کے اندر اپنے ڈرون حملوں کا نشانہ بناتا ہے اور پاکستان سے بھی یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اس کے مطلوبہ دشمنوں کو چن چن کر مارے یا زندہ گرفتار کر کے اس کے حوالے کرے ۔ ماضی میں حکومتِ پاکستان کسی حد تک یہ خدمت بجالاتی رہی ہے ، مگر اس کے صلے یا جزا کے طور پر امریکہ نے پاکستان کے دشمنوں کے خلاف افغانستان کی سرحد کے اندر ایک بھی ڈرون،فضائی یا زمینی حملہ نہیں کیا ہے ، نہ انہیں کسی انداز سے نشانہ بنایا ہے اور نہ ہی انہیں اپنے مطلوبہ افراد کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ اسی طرح امریکہنے افغانستان میں قائم ہندوستان کے انٹیلی جنس نیٹ ورک اور کسی بھی عالمی معیار کے مطابق ضرورت سے زیادہ قونصل خانے بنانے پر اعتراض کیا ہے ۔ لیکن پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اس کا اتحادی بننے پر مجبور ہے اور حال ہی میںپاکستان کے بارے میں امریکی صدر کے ریمارکس کافی حد تک خطرناک ہیں۔ 
ہمارا میڈیا ایسے مواقع پر بلاواسطہ یا بالواسطہ ، صراحتاً یا اشارتاً و کنایتاً مذہب اور اہل مذہب کو نشانہ بناتاہے ، جس کی وجہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔ ہم ایک سے زائد مرتبہ اس کے بارے میں فتویٰ جاری کر چکے ہیں اور بارہا یہ بیان دے چکے ہیں کہ پاکستانی ریاست کے اندر جاری دہشت گردی اور قتل و فساد کی تمام صورتیں حرامِ قطعی ہیں اور دینِ اسلام میں اس کے جواز کی کوئی صورت نہیں ہے۔یہ لوگ اسلام ،پاکستان اور انسانیت کے دشمن ہیں اور خود میڈیا کے تمام لبرل مفتیانِ کرام کا یہ موقف ہے کہ ریاست کے اندر ظلم وفساد، دہشت گردی اور قتل و غارت کی تمام صورتوں کو کنٹرول کرنا ریاست کی ذمے داری ہے ۔
در پیش حالات میں ہم جوابی بیانیہ بھی (Counter Narrative)مرتب کر کے ذمے داران کے حوالے کر چکے ہیں تاکہ ان کو کوئی اضافی Inputمطلوب ہو تو اسے بھی شامل کرنے پر غورکیا جا سکتا ہے ، اللہ کرے کہ انہیں غور و فکر کی فرصت میسر آجائے ۔ میں تو 2005ء میں اس حوالے سے کسی اگر مگر ، چونکہ چنانچہ اور تحفظات کے بغیر فتویٰ جاری کر چکا ہوں ، تمام مسالک کے ساٹھ علماء کی تائیدات و توثیقات بھی شامل ہیں ۔ آج بعض لوگ جو کسی نہ کسی انداز میں حکومت ِ وقت کا حصہ ہیں ، انہوں نے اس وقت اس فتوے کی مخالفت کی تھی اور اسے جنرل پرویز مشرف اور امریکہ کے مفاد میں قرار دیا تھا ، میڈیا کے بعض دوستوں نے رونق بڑھانے کے لیے پروگرام کیے تھے۔ اگر آج ان کے کلپس یاتحریریں دکھا دی جائیں تو سب حقائق سامنے آجائیں گے ۔ پس ہر دور میں ہر ایک کو اپنی پسند کا فتویٰ درکار ہوتا ہے اور ہر ایک کے حق و باطل کے پیمانے اپنے اپنے ہیں اور بعض صورتوں میں وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں ۔ 
حال ہی میں حکومتِ سندھ کا ایک بیان سامنے آیا کہ سب مسجدوں میں ایک ہی خطبہ دیا جائے گا اور وہ حکومت کی طرف سے فراہم کیا جائے گا ، اس پر ایک میڈیا میں دانائے روز گار لوگ یہ طے کر نے بیٹھ گئے کہ وہ سرکاری خطبہ عربی میں ہونا چاہیے یا اردو زبان میںیا مادری زبان میں ؟۔یہ سوچے بغیر کہ کیا پاکستان میں ایسا ممکن ہے ، اس طرح کی ذہنی اور فکری مشق (Intellectual Exercise) کی جاتی ہے۔ اس سے پہلے وفاقی وزیرِ مذہبی امور پورے ملک میں ایک وقت میں نمازیں پڑھانے کا شوق ظاہر کر چکے ہیں اور پھر اس بھاری پتھر کو چوم کر رکھ دیا ہے ۔ جو کام کرنے کا ہے وہ کوئی بھی کرنے کے لیے تیار نہیں ہے کہ جو لوگ نفرت انگیز اور فساد کو انگیخت کرنے والے خطابات کر رہے ہیں ان کے خلاف بلا تمیز کارروائی کی جائے ، صرف کاغذی کارروائی اور بیانات پر اکتفا کی جاتی ہے یا اس طرح کے گریز کے حیلے تلاش کیے جاتے ہیں ، جن کا میں نے سطورِ بالا میں ذکر کیا ہے ۔ حکومت کو مدارس کی تمام تنظیمات کی طرف سے یہ بھی لکھ کر دیا جا چکا ہے کہ مُبہم اور مُجمَل بات نہ کریں ، آپ کے پاس ثبوت ہے تو دہشت گردی میں ملوث اداروں کی فہرست شائع کریں اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کریں ، مُبہم بیانا ت دے کر سب کو مشتبہ نہ ٹھہرائیں ۔ اب تو یہ بات ریکارڈ پر آچکی ہے کہ دہشت گردی کے بعض سنگین واقعات میں یونیورسٹیوں کے جدید تعلیم یا فتہ لوگوں کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے ۔ 
اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی کے سانحات میں اقدام اور پہل (Initiative)کا اختیاردہشت گردوں کے پاس ہوتا ہے ، وہ اطمینا ن سے اپنے ہدف کا تعین کرتے ہیں ، اس کے لیے دہشت گر د ٹیم کو ذہنی طور پر تیار کرتے ہیں ،ان کے لیے مطلوبہ تباہ کن آتشیں ہتھیاروں کی محفوظ ترسیل (Trafficking)کا اہتمام کرتے ہیں ،پھر ان کے لیے پہلے سے طے کردہ ہدف کے قرب و جوار میں محفوظ کمین گاہیں تلاش کرتے ہیں ، جائے واردات کی جاسوسی (Recce) کرتے ہیں اور پھر وقت اور تاریخ کا تعین کر کے ایک دن اچانک حملہ آور ہوجاتے ہیں ۔ دہشت گردوں کی اس پہل کی صلاحیت کو غیر معمولی انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے ہی اقدام سے پہلے حملہ کرکے یاانہیں اپنی گرفت میں لے کر ناکام بنایا جا سکتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ بعض صورتوں میں ہمارے انٹیلی جنس اداروں نے ایسی کامیابیاں حاصل کی ہوں جو ہمارے علم میں نہیں ہیں ۔
حیرت ہے کہ بے قصور بچوں ، نوجوانوں ، عورتوں اور بوڑھوں کی جان لے کر انہیں کیا لذت ملتی ہے اور ان کی روح کو قرار کیسے آتا ہے اور وہ اپنے ضمیر کو کس طرح مطمئن کرتے ہیں ،سوائے اس کے کہ ان کے دل ودماغ شیطان کی آماجگاہ اور ابلیس کا ٹھکانا بن جائیں ۔خاص طور پر طلبہ و طالبات کو،جو اپنے والدین کے علاوہ پوری قوم کا مستقبل اور اثاثہ ہوتے ہیں ،نا کردہ گناہ کی پاداش میں موت سے ہمکنا ر کردینا انتہائی اذیت ناک ، المناک اور درد ناک عمل ہے ۔لوگ بتاتے ہیں کہ سوشل میڈیا پرانہیں ان سفاکانہ کارروائیوں پر رقص کرتا ہوا دکھایا جاتا ہے ، وہ اس کی ذمے داری قبول کرتے ہیں اور اس پر ابلیسی تفاخُر کا اظہار کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ پاکستان اور اہلِ پاکستان کو ان قیامت خیز سانحات سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات عطا فرمائے ، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے یا انہیں ہمیشہ کے لیے نشانِ عبرت بنائے ۔ اللہ تعالیٰ جاں بحق ہونے والوں کو مغفرتِ کاملہ نصیب فرمائے اور ان کے غمگسار اقارب کویہ صدمات برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved