تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     30-01-2016

پھر بھی نہ بنے تو؟

عرصہ ہوا امن اور خاموشی نے جینا مشکل کر رکھا تھا۔ حکومت اور اپوزیشن میں باہمی مک مکا نے افسردگی اور مایوسی طاری کر رکھی تھی۔ ایسا نہیں کہ ساری پارٹیوں نے مل کر‘ ملک سے بیروزگاری ختم کرنے اور عوامی مسائل حل کرنے کی ٹھان لی تھی یا مہنگائی ختم کرنے کے منصوبوں پر سوچنا شروع کر دیا تھا‘ایسی باتوں پر ہمارے سیاستدان بحث و مباحثہ نہیں کرتے۔اگر آپ گزشتہ دو سال کے پارلیمانی دور کا جائزہ لے کر دیکھیں‘ تو یوں محسوس ہوگا جیسے پاکستان کے عوام کسی بھی مسئلے اور مشکل سے دوچار نہیں۔ ان کا کوئی مسئلہ ہی ایسا نہیں‘ جس پر ایوان کے اندر گرما گرمی نظر آئی ہو۔ اپوزیشن اور حکومت میں اتنا امن و امان شاید ہی کہیں ہوتا ہو؟ سکینڈے نیویا ممالک کے منتخب ایوانوں میں گرماگرم بحثیں ہوتی ہیں اور موضوع ہمیشہ عوام کو مشکلات اور تکلیفوں سے بچانا ہوتا ہے۔ ایوانوں کے اندر ہر بحث ایسی باتوں پر ہوتی ہے کہ عوام کی کونسی مشکل حل کی جائے اور انہیں مزید سہولتیں پہنچانے کے لئے کیا طریقے اختیار کئے جائیں؟ یہی کچھ برطانوی پارلیمنٹ میں ہوتا ہے‘ یہی امریکہ کے ایوان نمائندگان اور سینیٹ میں۔ جمہوریت تو جرمنی اور فرانس میں بھی ہے مگر وہاں کی خبروں میں ہماری زیادہ دلچسپی نہیں۔ یا تو وہاں ایسی لڑائیاں لڑی جاتی ہیں‘ جو ہمارے مزاج کے مطابق نہیں ہوتیں یا پھر ہمیں ان کی سمجھ نہیں آتی۔ عرصہ ہوا پاکستان میں نظریاتی توتکار ہوا کرتی تھی۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ سب کچھ تو بیکار تھا۔ مذہبی جماعتیں ‘ اسلام نافذ کرنے پر مصر تھیں۔ مگر ہمیں سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ مسلمانوں کے ملک میں نفاذ اسلام سے کیا مراد لیتے تھے؟ ان کے پاس کوئی معاشی اور ترقیاتی پروگرام تو ہوتا نہیں تھا۔ جماعت اسلامی والے ایسے گھروں کی تلاش میں رہتے تھے‘ جہاں شادی بیاہ کے موقع پر کوئی گانا گایا جا رہا ہو۔ ان کے رضاکار ایسے گھروں کے دروازے لاٹھیوں سے کھڑکاتے‘ جہاں سے ڈھولک اور ناچ گانے کی آواز آ رہی ہوتی۔ اس فحاشی اور بے حیائی پر شادی والے گھر اور وہاں آئے ہوئے مہمانوں کو بتاتے کہ وہ اسلام کی حدود سے باہر جا رہے ہیں۔لٹھ بردار اسلام پسندوں کی دہشت سے شادی والا خاندان اور ان کے مہمان سہم جاتے اور کانوں کو ہاتھ لگا کر کہتے کہ آئندہ ہم اسلامی اصولوں کے خلاف کوئی کام نہیں کریں گے۔ صرف ایک ڈھولک ہے‘ اسے آپ لے جایئے۔یہ لوگ توبہ توبہ کرتے ہوئے کانوں کو ہاتھ لگاتے اور انتہائی احتیاط کے ساتھ‘ اپنے آپ کو ڈھولک سے دور رکھتے ہوئے روانہ ہو جاتے۔ 
ایک لڑائی ترقی پسندوں اور اسلام پسندوں میں ہوا کرتی۔ یوں لگتا ہے کہ ان میں بھی اب مک مکا ہو گیا ہے۔ کافی دنوں سے کسی بھی اسلام پسند جماعت کو نہ تو کہیں سرخے نظر آتے ہیں نہ کافرانہ طرززندگی گزارنے والے اور نہ ہی نئے سال کے موقع پرکفر پھیلانے والے۔ 25دسمبر اور نیا سال اب بھی آتا ہے۔ محفلیں اب بھی ہوتی ہیں۔ گھروں اور کلبوں کے باہر کاریں بھی پہلے کی طرح کھڑی رہتی ہیں۔ ہر طبقے کے لوگ گانا بجانا بھی اپنی اوقات کے مطابق کر لیتے ہیں۔ مگر اب نہ کاروں کے شیشے توڑے جاتے ہیں ‘ نہ روشنی کے لئے لگائے گئے چھوٹے موٹے بلب توڑ کر ‘ اسلام 
زندہ باد کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ سب نے ایک کو‘ دوسرے کے حال پر چھوڑ رکھا ہے۔ گھروں میں گیس اوربجلی نہ ہو‘ تو نظریاتی جھگڑے بھی پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ عوام کو تکلیف ضرور ہوتی ہے‘ مگر احتجاج کرتے کرتے‘ ان کی آوازیں بیٹھ گئی ہیں۔ اب عورتیں توے پراتیں لے کر بیلن سے بجاتی ہیں یا نوکریاں مانگتے ہوئے بیروزگاروں کے جلوس اور دھرنے نظر آتے ہیں۔ معذور اور اندھے‘ جو خیرات مانگ کر گزراوقات کر لیا کرتے تھے‘ اب انہیں اپنے حقوق کی سمجھ آنے لگی ہے۔ وہ سڑکوں پر مظاہرے کر کے ٹریفک روکتے ہیں۔ پولیس راستہ کھولنے کے لئے ان کی دھنائی کرتی ہے۔ معذوری کے مارے ہوئے بیچارے اندھے‘ بوڑھے یا ہاتھوں اور پیروں سے محروم لوگ ‘ایک ہی کام کر سکتے ہیں کہ شور مچائیں اور لاٹھیاں کھائیں۔ پاکستانی عوام برسوں یہی کام کرتے کرتے اب تھک گئے ہیں۔ اسلام پسندوں اور سرخوں کی لڑائی سڑکوں کے بجائے ٹی وی کے بحث مباحثوں میں چلی گئی ہے۔ فرسٹ‘ سیکنڈ اور تھرڈ کلاس کے سیاستدان‘ لفظوں سے ایک دوسرے کی درگت بناتے ہیں۔ کبھی کبھی ہاتھا پائی بھی ہو جاتی ہے۔ لیکن ٹاک شو ختم ہونے پر‘ سب ایک دوسرے سے گرمجوشی کے ساتھ مصافحہ کرتے اور گلے ملتے ہوئے‘ آرام سے گھر جا کر میٹھی نیند سوتے ہیں اور جن میں ایک دوسرے سے بحث کے بعد تھوڑا بہت دم خم باقی رہ گیا ہو‘ وہ اپنی بیگمات پر طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تکرار کرنے اور چیخنے چلانے کے بعد بھی ہمت باقی رہتی ہے‘ تو مار پٹائی سے تسلی کر لیتے ہیں۔ جن سرکردہ لیڈروں میں کسی کو ٹاک شو میں دل کی پوری بھڑاس نکالنے کا موقع نہیں ملتا‘ وہ باہر رونق لگا لیتے ہیں۔ ان میں ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی والے سب سے زیادہ ماہر اور باہمت ہوتے ہیں۔ اسلام پسندوں اور سرخوں کی باہمی لڑائی‘ اب گلیوں سے نکل کر ٹی وی سٹوڈیوز میں منتقل ہو چکی ہے۔ پارلیمنٹ میں بقول عمران خان مک مکاہو چکا ہے۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف ‘دونوں ایک دوسرے کو بے مقصد اور بے معنی بولنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ موجودہ پارلیمنٹ کو معرض وجود میں آئے دو سال سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے۔ ایک دن کے لئے بھی دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ نہ الجھے ہیں‘ نہ دست و گریباں ہوئے ہیں۔ جن باتوں پر حزب اختلاف اور حزب اقتدار میں بحث اور تکرار ہوتی تھی‘ وہ ساری باتیں ایوان سے باہر طے ہو جاتی ہیں اور جو کچھ باہر طے نہ ہو پائے‘ وہاں سپیکر صاحب بحث کے میدان میں کود کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ پہلا الیکشن لڑ کے ایوان میں آئے تھے‘ توبہت متحمل مزاج تھے۔ دوسرا الیکشن لڑنا پڑا تو مزاج میں قدرے تلخی آ گئی 
ہے اور اب تیسرا الیکشن نزدیک ہوتا نظر آ رہا ہے‘ تو مزاج کی تلخی میں ترشی کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر آنے والے عام انتخابات میں سب کے ساتھ الیکشن لڑنا پڑا‘ تو ہو سکتا ہے سپیکر صاحب‘ دوسروں کی دیکھا دیکھی عام طریقے سے الیکشن لڑلیں۔ خدانخواستہ پھر ضمنی الیکشن لڑنا پڑا‘ توایک بزرگ شاعر کی طرح مخالفین کو خوفزدہ کر دیں گے۔ ادبی محفلوں میں کوئی نظم‘ غزل ‘ افسانہ یا تنقیدی مضمون حاضرین کے سامنے پیش کر کے اظہار خیال کی دعوت دی جاتی تھی۔ جو بزرگ شاعر اس وقت زیربحث ہیں‘ انہیں تجرباتی شاعری کا شوق تھا۔ ایک محفل میں انہوں نے جو نظم برائے تنقید پیش کی‘ وہ یہ تھی ؎
ادھر پھول تھے اور ادھر پھول تھے
مگر چاند نے سب کے سب کھا لئے
نظم کی کاپیاں تقسیم کر کے‘ وہ کھڑے ہو گئے اور حاضرین پر نگاہ ڈالتے ہوئے بولے ''دیکھتا ہوں! اب کون مائی کا لال تنقید کرتا ہے؟‘‘ جب سے موجودہ پارلیمنٹ معرض وجود میں آئی ہے‘ اس میں حزب اقتدار کی طرف سے جو بھی بولتا‘ اس کا انداز مذکورہ شاعر جیسا ہوتا اور ہم نے تو یہ بھی دیکھا کہ قائد حزب اختلاف اور قائد ایوان میں فرق تلاش کرنا مشکل ہو جاتا تھا۔ اگر دھرنے کے دور کو یاد کیا جائے توقائد حزب اختلاف حکومت کے مخالفین کو‘ قائد ایوان سے بھی زیادہ سختی کے ساتھ ڈانٹا کرتے تھے۔ اس وقت حزب اختلاف کا مطلب صرف تحریک انصاف ہوتا تھا۔ اس کے لیڈر نے ایوان میں بولنا ابھی تک شروع نہیں کیا۔ دو سال سے زیادہ عرصہ ٹھنڈے‘ دھیمے اور جوش و خروش سے خالی ایوان کو دیکھتے دیکھتے‘ گیلریوں میں بیٹھنے والے اکتا چکے تھے۔ ایک وہ ایوان تھے جن میں باقی بلوچ‘ مولوی فرید احمد‘ جاوید ہاشمی‘ حاجی سیف اللہ‘ خورشید حسن میر جیسے لوگ تھے‘ جو ہمہ وقت حالت تقریر میں رہا کرتے اور ایک یہ وقت ہے کہ دوسال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا‘ قائد حزب اختلاف خود ہی قائد ایوان کا حق بھی ادا کیا کرتے ہیں۔ کئی مواقع تو ایسے بھی آئے‘ جب قائد حزب اختلاف تقریر کرتے اور حکمران جماعت کے ممبر ڈیسک بجاتے۔ ایسے ہی مناظر کویاد کرتے ہوئے عمران خان کہا کرتے کہ ان میں مک مکا ہو گیا ہے۔ کل تو چوہدری نثار علی خان نے صاف صاف کہہ دیا کہ ''عمران خان ٹھیک کہتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر نے حکومت سے مک مکا کر رکھا ہے۔‘‘ جواب میں اپوزیشن لیڈر نے بھی اعلان کر دیا کہ ''چوہدری نثار کے الزامات کا جواب وہ ایوان میں دیں گے۔‘‘ میں ابھی تک اس انتظار میں تھا کہ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف اور حزب اقتدار‘ دونوں کب دکھائی دیں گے؟ امید تو پیدا ہوئی ہے۔ شایدحزب اختلاف اپنا اصل کردار ادا کرنا شروع کر دے۔ ابھی تک تو ہم قائم علی شاہ پر گزارا کر رہے تھے‘ جو سندھ کی صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اقتدار بھی تھے اور وفاق کے لئے قائدحزب اختلاف بھی۔ جتنے دنوں سے سید خورشید شاہ قائد حزب اختلاف بنے ہیں‘ موجودہ پارلیمنٹ ‘ جنرل ضیا کی مجلس شوریٰ سے بھی زیادہ ٹھنڈی جا رہی ہے۔ اس میں بھی حاجی سیف اللہ اور ڈاکٹر شیرافگن جیسے باغی موجود تھے۔چوہدری نثار علی خاں نے کوشش تو کی ہے کہ خورشید شاہ قائدحزب اختلاف بن کر دکھائیں۔ پھر بھی نہ بنے تو؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved