تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     31-01-2016

بخیہ گری

کوئی حد نہیں ہے زوال کی۔ اس خونخوار حکمران طبقے سے چھٹکارا پائے بغیر نجات کا دروازہ اب کھل نہیں سکتا۔ شاعر نے کہا تھا؎
یہ جامۂِ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا
مہلت ہی نہ دی فیضؔ کبھی بخیہ گری نے
موبائل پر پیغامات پڑھے تو ان میں ایک وہ بھی تھا: بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں آپ کا نام نکلا ہے۔ اس نمبر پر رابطہ کیجیے اور 25000 روپے وصول کر لیجیے۔ چھ برس ہوتے ہیں، ڈیرہ اسمٰعیل خان سے اس طرح کا سندیسہ بھیجنے والے کو پولیس کے حوالے کیا تھا۔ سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ اس سے کیا حاصل؟ یہ ہے وہ معاشرہ، جس میں ہم جیتے ہیں۔ کوئی بتائے کہ اس نوسربازی کا انسداد کتنا مشکل ہے۔ سو ڈیڑھ سو پکڑے جائیں تو باقی بھاگ نکلیں۔ خوف ایک ہتھیار ہے، سلیقہ مندی سے برتا جائے تو معاشرہ ڈھب پر رہتا ہے۔ ہمارا حال مگر یہ ہے کہ پورے ملک میں، کسی بھی شہر میں خالص دودھ میسر نہیں۔ تین ماہ ہوتے ہیں۔ صاحبزادے تشریف لائے، بولے: بھینس خریدنی ہے، پوچھا: کس لیے؟ کہا: بازار میں جو دودھ دستیاب ہے، اس میں پانی ملا ہوتا ہے یا کیمیکل۔ معلوم نہیں اب کیا عالم ہے۔ ربع صدی پہلے ایک رپورٹ پڑھی تھی کہ بازار میں بکنے والا 66 فیصد آٹا انسانی استعمال کے قابل نہیں۔ برسوں تک گندم خرید کر خود پسواتے رہے، پھر بوجوہ یہ ممکن نہ رہا تو چکّی سے خریدنا شروع کیا۔ دو ماہ قبل ایک دوست نے کہا: اس میں مٹی شامل ہوتی ہے۔ ایک من میں ایک ڈیڑھ کلو۔ بتایا کہ چین کی بنی ہوئی ایک مشین مہیا ہے، جو سبزیوں سے کیمیکل اور گندم سے مٹی نکال دیتی ہے۔ حیرت ہے کہ کس حال کو ہم پہنچ گئے۔ ہر چیز آلودہ ہے تو سیاست کیوں غلیظ نہ ہو گی۔ جیسی رعایا ویسی پرجا۔
پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے درمیان بحث اب بھی چوہدری نثار علی خان کے بارے میں ہے۔ اب مگر اس نے دوسرا رخ اختیار کر لیا ہے۔ جناب قمر زمان کائرہ نے کل ارشاد فرمایا کہ نون لیگ کے لوگ بھی پیپلز پارٹی سے فوائد اُٹھاتے رہے۔ رانا تنویر احمد خان، چوہدری کی مدد کو آئے تو کہا: ہم بتائیں گے، دھرنے کے دنوں میں آپ کیا ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ گندے پوتڑے برسر بازار دھوئے جا رہے ہیں۔ کیا انہیں احساس ہے کہ سیاستدانوں کی باقی ماندہ ساکھ اس تیزی سے تحلیل ہو جائے گی، جس طرح دھوپ میں رکھی برف، اس کے بعد کیا ہو گا؟
یہ سب جانتے ہیں کہ دیانت اور امانت کے سیاستدان کم ہی قائل ہیں۔ غالباً یہ 1994ء کا ذکر ہے۔ اسلام آباد کے بلیو ایریا میں، پیپلز پارٹی کے ایک قائد ملے‘ عرض کیا: آپ کی رہنما پر ایک بار پھر سنگین الزام ہے۔ لندن میں ایک محل انہوں نے خریدا ہے۔ بولے: اس خاتون سے میں تنگ آ چکا۔ دو دن کے بعد پارلیمان میں ڈٹ کر سرے محل کا مقدمہ انہوں نے لڑا۔ کسی پارٹی میں کوئی نہیں اپنے رہنمائوں کی لوٹ مار‘ اپنے وطن کی بربادی پر جس کا دل دُکھتا ہو۔ سات برس ہوتے ہیں، ایک دوسرے چینل سے، ایک پروگرام میں مستقل طور پر میں شریک ہوا کرتا۔ شب کو نشر ہونے والا یہ پروگرام دن کے وقت ریکارڈ کیا جاتا۔ ایک دن عرض کیا کہ ملک کی تینوں بڑی پارٹیوں کے رہنمائوں کو عوام بدعنوان سمجھتے ہیں۔ گیلپ کا سروے یہ کہتا ہے کہ کم و بیش ایک جیسی رائے ہے‘ تینوں کے بارے میں۔ ادارے کے سربراہ قدرے محتاط آدمی تھے اور مجھ سے نالاں رہتے۔ مجھے بتایا گیا کہ یہ پروگرام نشر نہیں ہو سکتا اور اس کے ذمہ دار تم ہو۔ عرض کیا: میں کیا کروں‘ میرے بس میں نہیں کہ جرائم کی اس گرم بازاری پر خاموش رہوں۔ خیر وہ ایک الگ قصہ ہے کہ بالآخر اس ادارے کو خیرباد کہنا پڑا‘ حالانکہ جی نہ چاہتا تھا۔ حیرت ہے، میاں محمد نواز شریف کے رفقاء میں سے کوئی سوال نہیں کرتا کہ پاکستان کا وزیر اعظم لندن میں اپنا کاروبار کیسے جما سکتا ہے۔ جناب آصف علی زرداری کے انقلابی ساتھیوں میں سے کسی کو اعتراض نہیں کہ ان کا نیلسن منڈیلا، یورپ اور مشرق 
وسطیٰ کے کتنے ہی ممالک میں اربوں ڈالر کی متعدد جائیدادوں کا مالک ہے۔ وزیر خزانہ اعلان کر چکے کہ جب تک وہ اپنے منصب پر براجمان ہیں، ان کے فرزند پاکستان میں کاروبار نہ کریں گے۔ عذر گناہ بدتر از گناہ۔ یہ وہی صاحب ہیں عدالت میں جو بیان حلفی دے چکے کہ شریف خاندان کے لیے وہ بیرون ملک روپیہ منتقل کرتے رہے۔ باڑ ہی جب کھیت کو کھانے لگے؟ بنیادی سوال مگر یہ ہے کہ لوگ اٹھتے کیوں نہیں‘ فریاد کیوں نہیں کرتے‘ ہنگامہ کیوں نہیں اٹھا دیتے؟ نوچ نوچ کر کھائے جا رہے ہیں‘ لیکن صبر کیے بیٹھے ہیں۔ ان پر ظلم نہ ہو تو اور کیا ہو؟ ملکوں اور قوموں کی حفاظت افواج اور حکومتیں نہیں، قوم کیا کرتی ہے۔ قوم اگر چوراہے پر پڑی سوتی رہے گی تو نہ صرف یہ سلسلہ جاری رہے گا بلکہ جو کچھ بچ رہا ہے‘ وہ بھی لُٹ جائے گا۔ افراد اور ادارے‘ اقوام اور معاشرے ایک حال میں کبھی نہیں رہتے۔ وہ روبہ زوال ہوتے ہیں یا ارتقا پذیر۔
نون لیگ جشن منا رہی ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے مطابق کرپشن میں ایک ذرا سی کمی ہوئی ہے۔ ارے بھائی‘ کس کو الّو بناتے ہو۔ ٹھوس حقائق نہیں‘ یہ تاثر ہوتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی کے پاس اعداد و شمار ہی نہیں تو کس بنیاد پر وہ فیصلہ کرے گی‘ پھر یہ کہ کمی ہوئی کتنی ہے؟ آزاد میڈیا کا دبائو ہے؛ چنانچہ لوٹ مار آسان نہیں۔ ترقیاتی منصوبے مگر کس طرح بنتے ہیں؟ کس کی ترجیحات کے مطابق؟ لاہور میں صفائی کا ٹھیکہ ایک ترک کمپنی کے پاس ہے۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ترک صدر کے فرزند نسبتی کی مِلک ہے۔ فرض کیجیے‘ یہ بات غلط بھی ہو تو سامنے کا سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے شہروں کو صاف رکھنے کے لیے بھی غیر ملکیوں کے محتاج ہیں؟ صبح سویرے ریل گاڑی سے بیرون لاہور کا قصد کیا جائے تو دونوں طرف گندگی کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔ طبیعت متلانے لگتی ہے۔ کراچی تو کوڑے کرکٹ کا ایک دیوہیکل ڈپو بن چکا۔ پنجاب کے چھوٹے شہروں کا حال اور بھی ابتر ہے۔ ٹوٹی ہوئی سڑکیں‘ ابلتے گٹر‘ گندگی کے ڈھیر۔ اشتہارات میں البتہ پنجاب اب پیرس نظر آتا ہے۔ سیاست میں بھی اتنی ہی گندگی ہے۔
چوہدری نثار علی خان والا معاملہ اب قدرے مختلف نظر آتا ہے۔ رانا تنویر جس طرح خم ٹھونک کر میدان میں اترے ہیں‘ اس کا مطلب کیا ہے؟ یا تو وزیر اعظم کی کچھ نہ کچھ تائید انہیں حاصل ہے یا حکمران جماعت میں کچھ لوگ چوہدری کی تائید پر آمادہ ہیں۔ جس انداز میں بحث آگے بڑھی ہے‘ پیپلز پارٹی کا اس سے بھلا نہ ہو گا۔ دہشت گردی کے میدان میں اس کی کارکردگی نون لیگ سے کمتر نہیں‘ بدتر تھی۔ کراچی میں وہ آج بھی مسئلے کا حصہ ہے‘ حل کا نہیں۔ جوں جوں عزیر بلوچ کے انکشافات سامنے آتے جائیں گے یہ بات اور بھی واضح ہوتی جائے گی۔ قاسم ضیا کی مثال سامنے ہے۔ پرویز اشرف اور یوسف رضا گیلانی کی داستانیں دہرائی جائیں گی۔ سندھ میں صوبائی وزراء کے کارنامے بھی ۔ جی نہیں‘ وہ کسی بڑی جنگ کی متحمل نہیں۔ بری عادات جب فطرت ثانیہ ہو جائیں تو اصلاح کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔
کوئی حد نہیں ہے زوال کی۔ موجودہ حکمران طبقے سے چھٹکارا پائے بغیر نجات کا دروازہ اب کھل نہیں سکتا۔ شاعر نے کہا تھا؎
یہ جامۂِ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا
مہلت ہی نہ دی فیضؔ کبھی بخیہ گری نے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved