تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     03-02-2016

تَھر: سنہرا موقع بھی تو ہے!

ویسے تو خیر پیپلز پارٹی بھی اس وقت نیم مردہ کیفیت سے آگے بڑھ کر دم توڑنے کے مرحلے میں آچکی ہے۔ ہر گزرتا ہوا دن اُس کی ساکھ کو کمزور اور ووٹ بینک کو کمزور تر کرتا جارہا ہے۔ مگر اِس موضوع پر بات پھر کبھی سہی۔ سرِ دست سوال یہ ہے کہ تھر کے معاملے میں پیپلز پارٹی خوابِ غفلت سے بیدار کیوں نہیں ہو رہی۔ گزشتہ برس بھی تھر میں نو زائیدہ بچوں کی ہلاکتوں نے ہنگامہ برپا کیا تھا۔ اور سالِ رواں کے دوران بھی معاملہ گڑبڑ ہے۔ پُلوں کے نیچے سے اچھا خاصا پانی بہہ گیا ہے مگر پیپلز پارٹی کے کرتا دھرتا اب بھی معاملے کی سنگینی کا نوٹس لینے کو تیار نہیں۔ میڈیا والے چیخ چیخ کر تھک گئے۔ عوام بھی دیکھ رہے ہیں کو جو کچھ تھر میں دکھائی دے رہا ہے وہ ہرگز ایسا نہیں کہ خوش دِلی سے دیکھا اور برداشت کرلیا جائے۔ پھر بھی پیپلز پارٹی کی مرکزی اور صوبائی قیادت اپنی ذمہ داری کے احساس سے سرشار ہونے کو تیار نہیں۔ 
علامہ نے کہا تھا ع 
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں 
تھر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اِس کے برعکس ہے۔ وہاں جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ سب کے لبوں پر آکر پیپلز پارٹی کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی بھرپور کوشش کر رہا ہے۔ مگر خدا جانے ایسا ہوگیا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی وارث جماعت بیدار ہونے، کچھ سوچنے اور سوچے ہوئے پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 
تھر میں خوراک اور ادویہ کی قلت نے قیامت سی برپا کر رکھی ہے۔ ایک چھوٹا سا علاقہ پیپلز پارٹی کی ساکھ سے جونک کی طرح چمٹ گیا ہے۔ مگر دوسری طرف پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت ہے کہ کچھ کرنے کا سوچنے کو بھی اپنی توہین جیسا سمجھتی ہے۔ گویا ع 
ہم سے تو تم کو ضِد سی پڑی ہے! 
تھر کے بگڑے ہوئے معاملات بنیاد بناکر لوگ عدلیہ کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔ سندھ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرکے پیپلز پارٹی کو مطعون کیا جارہا ہے۔ مگر وہ ہے کہ کچھ سوچنے اور سمجھنے کو تیار ہی نہیں۔ اور اب تو سندھ اسمبلی میں بھی تھر کے معاملات پر خاصی گرما گرم بحث ہوچکی ہے۔ اِس فورم پر بھی سندھ حکومت نے اپنی ذمہ داری قبول کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے یہ بات زور دے کر کہی کہ تھر کے معاملات بڑھا چڑھاکر بیان کیے جارہے ہیں۔ بچوں کی ہلاکتوں کی ایک توجیہ کی گئی ہے کہ دائیوں کے ہاتھوں زچگی کے باعث ہلاکتوں کی شرح بڑھ گئی ہے۔ یہ بات فہم سے بالا ہے کہ دائیوں کے ہاتھوں زچگیاں تو عشروں، بلکہ صدیوں سے ہوتی آئی ہیں۔ تب نو زائیدہ بچوں کی ہلاکتوں کی شرح بلند کیوں نہ تھی؟ اب ایسی کونی سی آفت آن پڑی ہے یا قیامت برپا ہوگئی ہے کہ نوزائیدہ بچے موت کے گھاٹ اتر رہے ہیں اور اِس عمل کو روکنے کی تیاری صوبائی حکومت کو اپنا فرض محسوس نہیں ہو رہی؟ 
بچوں کی ہلاکتوں میں اضافے سے میڈیا والوں کا شور و غوغا بھی بلند ہوتا جارہا ہے۔ صوبے میں اپوزیشن بھی معاملات کو اچھالنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے رہی۔ اور اس میں حیرت کی بات کیا ہیے؟ اپوزیشن ہوتی ہی اس لیے کہ انگلی تھام کر پہنچا پکڑنے کی کوشش کرے یعنی حکومت کے خلاف رائی کا دانہ ملے تو اُسے پربت بنانے پر تُل جائے! کم از کم ہمارے ہوں تو ہر سطح کی منتخب اپوزیشن کا یہی وتیرہ رہا ہے۔ 
جو رویہ سندھ حکومت کے لیے اپوزیشن کا ہے وہی عام آدمی کا بھی ہے۔ اور کیوں نہ ہو؟ معاملہ نو زائیدہ بچوں کی ہلاکت کا ہے۔ بچوں کے معاملے میں ہر انسان حسّاس ہوتا ہے یا ہو جاتا ہے۔ نو زائیدہ بچوں کو بچانے کے لیے بظاہر کچھ نہیں کیا جارہا اور زچگی کی پیچیدگیوں سے نپٹنے کے معاملے میں خواتین کی بھی کچھ خاص مدد نہیں کی جارہی۔ اس کے نتیجے میں خواتین کا پیپلز پارٹی سے متنفّر ہونا حیرت انگیز نہیں۔ 
سندھ حکومت نے سپریم کورٹ کے استفسار پر رپورٹ پیش کردی ہے جس میں تھر کے نو زائیدہ بچوں کی ہلاکت کے لیے غربت، جہالت اور غذائی قلت کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ یہ تمام باتیں سپریم کورٹ یقیناً پہلے سے اور اچھی طرح جانتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ صفائی کے ناقص انتظام کو بھی نو زائیدہ بچوں کی ہلاکت کے لیے جوابدہ ٹھہرایا گیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ تمام معاملات کس کی ذمہ داری ہیں؟ غربت، جہالت، غذائی قلت اور صفائی کے حوالے سے کوئی کوئی بھی کمی دور کرنا کیا حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ 
تھرکے معاملے میں سندھ حکومت نے ''میں نہ مانوں‘‘ کی رٹ لگا رکھی ہے۔ وہ حد سے آگے تو کیا جائے گی، اپنی ذمہ داری بھی پوری نہیں کر پارہی ... یا نہیں کرنا چاہتی! مگر کیوں؟ اس کا جواب تو شاید پیپلز پارٹی کے ذمہ داران کے پاس بھی نہ ہو۔ کوئی اور پارٹی ہوتی تو اپنی ساکھ کو مزید گرنے سے بچانے کی خاطر تھر جیسے خطے پر بھرپور توجہ دے کر معاملات درست کرتی اور لوگوں کی نظروں میں سُرخرو ہوتی۔ چند لاکھ کی آبادی والے علاقے کی حالت درست کرنا کون سا کمال ہے؟ اگر صوبائی حکومت پوری ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ کچھ کرنے پر آئے تو صحرائے تھر میں غنچوں کے کِھلنے میں دیر نہ لگے۔ 
گزشتہ برس موئن جو دڑو میں منائے جانے والے سندھ کلچرل فیسٹیول کی شان و شوکت دیکھ کر لوگ دنگ رہ گئے تھے۔ تب بھی تھر کے معاملات بگڑچکے تھے مگر صوبائی حکومت نے ضمیر پر کوئی بوجھ محسوس کیے بغیر فیسٹیول کا اہتمام کیا اور ایک خطیر رقم اِس بھٹّی میں جھونک دی! 
اس وقت پیپلز پارٹی جاں کُنی کے عالم میں ہے۔ اپنے گڑھ میں بھی اس کی پوزیشن کمزور ہوچلی ہے۔ سب سے بڑا چیلنج امیج بلڈنگ کا ہے۔ اگر وہ قومی سیاست کے میدان میں ثابت قدم رہنا چاہتی ہے تو لوگوں کے دلوں میں دوبارہ گھر کرنا ہی پڑے گا۔ عوام کے بنیادی مسائل حل کرکے پیپلز پارٹی اپنی بنیادیں دوبارہ مضبوط بناسکتی ہے۔ اس حوالے سے تھر پیپلز پارٹی کے لیے ایک سنہرا موقع ہے۔ اپوزیشن کی سمجھ میں تو بات آگئی ہے مگر صوبائی حکومت اب تک غور فرمانے کی زحمت گوارا نہیں کر رہی۔ تھر میں سہولتوں کے غنچے کِھلاکر سندھ حکومت پیپلز پارٹی کے ووٹ بینک کو تھر کے بیشتر علاقوں کی طرح بے آب و گیاہ ہونے سے بچاسکتی ہے۔ 
کسی بھی سیاسی جماعت کو سب سے زیادہ ووٹ بینک کے حوالے سے فکر لاحق رہتی ہے۔ ووٹ بینک کے ٹوٹنے کا خوف ہو تو پارٹی قیادت پالیسیوں کا قبلہ درست کرتی ہے۔ یہاں معاملہ بہت انوکھا ہے۔ ملک بھر میں جس نوعیت کی سیاست ہو رہی ہے وہ سندھ میں پیپلز پارٹی کے لیے حالات انتہائی بُرے نہیں ہونے دیتی۔ جب بھی اہلِ سندھ کو کچھ خطرہ محسوس ہوتا ہے وہ فوراً واحد نجات دہندہ گردانتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سائبان تلے آجاتے ہیں! پیپلز پارٹی نے کئی مواقع پر سندھ کارڈ کھیلا ہے مگر اب تو خیر سے یہ کارڈ کھیلنا بھی نہیں پڑتا اور کام ہو جاتا ہے! کم و بیش یہی معاملہ کراچی اور حیدر آباد کا بھی ہے۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات نے ثابت کردیا کہ لوگ اب بھی کسی انجانے خوف کے سائے تلے جی رہے ہیں اور اپنی اپنی لسانی و نسلی چھتری کو سَروں پر تانے ہوئے ہی آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved