تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     04-02-2016

بھاری مینڈیٹ

کمزور معیشتوں‘ کمزور سماجی ڈھانچوں ‘ کمزور سیاسی نظاموں اور غیرمنظم سیاسی مشینری رکھنے والے ملکوں میں کچھ دیر کے لئے ٹھہرائو پیدا ہو جائے‘ تو حکمرانوں کو ایسے لمحات میں یہ باور نہیں کر لینا چاہیے کہ ان کی حکومت طاقتور اور مستحکم ہو چکی ہے اور اب وہ جو چاہے کرسکتے ہیں۔ تیسری دنیا کے ملکوں میں جس حکمران نے بھی یہ تصور کر لیا کہ وہ بہت طاقتور ہے اور جو چاہے کر سکتا ہے‘ تو وہ اپنے آپ کو غیرمتوقع صورتحال میں دھکیل کر تبدیلی کے ایسے ایسے تیوردیکھنے پر مجبور ہو جاتا ہے ‘ جن کے لئے نہ تو اس نے کوئی تیاری کی ہوتی ہے اور نہ ہی توقع۔ ایسے تماشے ہم برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ پتہ نہیں کب تک دیکھتے رہیں گے؟ صدر اوباما نے کانگرس میں اپنی آخری سالانہ تقریر میں ایک جملہ کہہ کر پاکستان کے اہل نظر کو فکرمندی اور پریشانی میں ڈال دیا ہے ۔ مگر یوں لگتا ہے کہ پاکستان کے حکمران طبقے طوفان کی آمد کی نشانیوں کو دیکھنے سے بھی قاصر ہیں۔ انہیں پتہ ہی نہیں کہ تیسری دنیا کے حادثانی جھٹکوں سے نکلا ہوا کوئی سیاسی اور انتظامی نظام‘ جب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے‘ تو اس کے دھڑام سے گرنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی۔ ہم کتنے تماشے دیکھ چکے ہیں؟ موجودہ حکمرانوں کے پیشروکیسے اطمینان اور تکبر سے چلتے چلتے‘ ایک چھوٹی سی ٹھوکر کھا کے‘ منہ کے بل گرتے ہیں اور ان کا حال اس سائیکل سوار جیساہوجاتا ہے‘ جسے تیزرفتار موٹراپنی رفتار کا جھٹکا دے کر گرا کے چلتی بنتی ہے۔ آتے جاتے لوگوں میں لالچی اور بدنیت افراد اس کی مدد کرنے کے بجائے‘ جیبیں ٹٹولنے لگتے ہیں اور جو جس کے ہاتھ آتا ہے‘ وہ لے کر کھسک جاتا ہے۔ بعد میں جو شریف آدمی باقی رہ جاتے ہیں‘ وہ اسے اٹھا کر علاج معالجے کے لئے کسی قریبی ہسپتال میں پہنچا دیتے ہیں۔ ہماری سڑکوں پر روز یہی کچھ ہوتا ہے‘ مگر ہم سیکھنے کو تیار نہیں کہ ہمارے معاشرے میں ٹھوکرکھاکے گرنے والے کا مددگار کوئی نہیں ہوتا۔ 
اندراگاندھی نے مشرقی پاکستان پر قبضہ کر کے اپنے آپ کو ایسا دیومالائی کردار سمجھنا شروع کر دیا‘ جسے کوئی شکست نہیں دے سکتا اور جو حالات اس دور میں پیدا ہو گئے تھے‘ کسی بھی لیڈر کو یہی خیال آ سکتا تھا جو اندراگاندھی کو آیا۔ انہوں نے اپنی مقبولیت اور سیاسی اور انتظامی طاقت کے زعم میں ایمرجنسی نافذ کردی۔ مخالفین کو جیلوں میں ڈال دیا اور شہریوں کو آزادی سے محروم کرنے والے سارے ہنگامی قوانین نافذ کر دیئے‘ جن میں انسان بنیادی حقوق سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہی ہوا‘ جو طاقت کے زعم میں مبتلا ہونے والے حکمرانوں کے ساتھ ہوتا ہے اور ضرب وہاں لگتی ہے‘ جہاں توقع بھی نہیں کی جا سکتی۔ اندراجی نے انتخابی مہم میں سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کر لیا تھا۔ ایک عام جج نے یہ الزام ثابت ہونے پر انہیں نشست سے محروم کر دیا۔ یہ غیرمتوقع دھکا تھا‘ جس نے پوری طاقت کے ساتھ اقتدار کی کرسی پر بیٹھی اندراگاندھی کو چکرا کے رکھ دیا۔ اس کے بعد ہر چیز بگڑتی چلی گئی اور آخر میں انہیں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔ اپنے پاکستان کی کہانیاں سنائوں تو ان دنوں وزیراعظم اور ان کے حواریوں کے بیانات پڑھ کر ہنسی آتی ہے‘کیونکہ میں نے اس طرح کے تماشے کئی بار دیکھے ہیں۔ مشرقی پاکستان میں وہاں کی تمام سیاسی پارٹیوں نے متحدہ محاذ یعنی جگتوفرنٹ کے نام سے انتخابات میں حصہ لیا اور مسلم لیگ کی حکومت کو اس بری طرح سے ہرایا کہ وزیراعلیٰ بھی اپنی نشست بچانے میں ناکام ہو گئے۔سیاسی مدوجزر میں شدت آتی گئی اور آخرکار ایوب خان نے سکندرمرزا کو ایوان اقتدار سے رخصت کر دیا‘ جسے منتخب حکومت کو ہٹا کر خود ایوب خان نے بٹھایا تھا۔ایوب خان کے دبدبے کا یہ عالم تھا کہ بڑے بڑے سیاسی لیڈر دبک کے گھروں میں بیٹھ گئے تھے۔ صرف ان کے سگے بھائی نے موقع بموقع مخالفت میں آواز اٹھائی۔ مگر عوام اسے گھریلو معاملہ سمجھ کر ہی بیٹھے رہے۔ دس سال بلاشرکت غیرے حکومت کر کے ایوب خان سمجھ بیٹھے کہ وہ عوام میں بیحد مقبول ہیں اور طاقت کے تمام ذرائع پر ان کا قبضہ ہے۔ اسی زعم میں انہوں نے عام انتخابات کا اعلان کر دیا اور جہاں سے انہیں چیلنج آیا اس کی وہ امید ہی نہیں کر رہے تھے۔ تمام سیاسی جماعتیں ایوب خان کے سامنے بے بس تھیں۔ ان کے سارے لیڈر کراچی میں جمع ہوئے اور آخری امید یہ نظر آئی کہ اگر مادرملت فاطمہ جناح کو ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی امیدوار بنا دیا جائے‘ تو انہیں شکست دی جا سکتی ہے۔ سوال مادرملت کو منانے کا تھا۔ سارے لیڈروں نے ان کے گھر جا کر استدعا کی۔ وہ امیدوار بننے پر آمادہ ہو گئیں۔ ایوب خان اور ان کے حواریوں نے مذاق اڑایا کہ یہ بوڑھی خاتون‘ انتخابی مہم کا بوجھ نہیں اٹھا پائے گی۔ مگر ایوب خان کو معلوم نہیں تھا کہ عوام ان کے طویل اقتدار سے کتنا تنگ آئے ہوئے تھے؟ انہیں اپنے بنیادی جمہوریت کے نظام پر اعتماد تھا ۔ انہوں نے بنیادی جمہوریت کے تحت پورے ملک میں اپنے کونسلرز کو انتخابی ووٹ کا حق دے کر‘ عوام کو ووٹ دینے سے محروم کر دیا تھا۔ اس طرح کے لوگ ریاستی طاقت کے غلام ہوتے ہیں۔ پھر بھی مادرملت کو مغربی پاکستان میں بھاری تعداد میں ووٹ ملے۔ لیکن مشرقی پاکستان میں مولانا بھاشانی کو رام کر کے‘ ایوب خان نے ان کی جماعت کے ووٹ حاصل کر لئے اور سب کی توقع کے خلاف ایوب خان مشرقی پاکستان سے زیادہ ووٹ لے گئے۔مگر ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا‘ جو طاقت کے نشے میں سرشار حکمرانوں کے ساتھ ہوا کرتا ہے۔ وہ ایوب خان جس کے خلاف کوئی آواز نہیں نکال سکتا تھا‘اس کے خلاف گلی گلی جلوس نکلنے لگے اور یہ واقعہ بہت ہی دردناک ہے‘ جسے سن کر ایوب خان نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔ ان کے خاندان کے کچھ افراد راولپنڈی کے مال روڈ سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے بچوں کی ٹولیوں کو ایسے نعرے لگاتے ہوئے سنا‘ جو کسی بھی شریف آدمی کے لئے توہین آمیز تھے۔ ایوب خان کو یہ بات پسند نہیں آئی اور انہوں نے اقتدار چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ ضیاالحق نے دس سالہ اقتدار میں اپنا شکنجہ پوری طرح کس لیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اب انہیں کوئی نہیں ہٹا سکتا۔ جب کسی حکمران میں اتنا تکبر آ جائے تو پھر وہی ہوتا ہے‘ جو ضیاالحق کے ساتھ ہوا۔ یہی کچھ بھٹو صاحب کے ساتھ ہوا ۔ بھٹو صاحب نے عام انتخابات کرائے اور ''بھاری مینڈیٹ‘‘ کے ساتھ کامیاب ہو گئے ۔ ان کے اعتماد کی حالت یہ تھی کہ انہوں نے اپنی کرسی کے بازو پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا کہ ''میری کرسی بہت مضبوط ہے۔‘‘مگر دو تہائی سے زیادہ اکثریت کا مینڈیٹ لے کر بھی ان کی مضبوط کرسی وقت پر کسی کام نہ آئی۔ بعد میں جو کچھ ہوا‘ وہ ایک المیہ ہے۔ جس کا ذکر نہ کرنا ہی مناسب ہو گا۔
ان دنوں ہم بھاری مینڈیٹ کی جھلکیاں دیکھ رہے ہیں۔ وزراء‘ پی آئی اے کے محنت کشوں کی جدوجہد پر ایسے ایسے تبصرے کرتے ہیں‘ جیسے ماضی کے ڈکٹیٹر کیا کرتے تھے۔ کسی نے کہا ''ہم ہڑتالیوں کے پر کتر دیں گے۔‘‘ وہ تو خیر کیا کترتے؟ ہڑتالیوں نے پی آئی اے کے پر کتر دیئے۔ گزشتہ کئی دنوں سے اس کے جہاز ہی نہیں اڑ رہے۔ زمین پر کھڑے ہیں۔ حد یہ ہے کہ پاکستان سے روزمرہ کی ضروریات کا جو سامان برآمد ہوا کرتا تھا‘ وہ بھی جہازوں کے اندر ہی پڑا رہ گیا‘ جیسے پھل‘ سبزیاں اور گوشت وغیرہ۔ پی آئی اے کی پروازیں معطل ہونے سے کسی غریب کو نقصان نہیں پہنچا۔ سارا نقصان انہیں اٹھانا پڑا‘ جو بھاری مینڈیٹ والوں کے مددگار ہیں۔ میں اس طاقت کی تخریبی صلاحیتوں کا اعتراف کروں گا‘ جس نے ایک جمی جمائی اور مستحکم حکومت کو ایسی ٹھوکر لگائی کہ اب اس کا سنبھلنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ بھاری بھرکم بحری جہاز سے برف کا چھوٹا سا سمندری تودہ (Sea Glacier) ٹکرائے تو جہاز کے کپتان کو اس کا احساس نہیں ہوتا‘ لیکن تھوڑی دیر کے بعد شگاف سے نکلنے والا پانی ‘جہاز کے اندر داخل ہونے لگتا ہے اور پھر وہی ہوتا ہے‘ جو ایک چیونٹی بدمست ہاتھی کے ساتھ کیا کرتی ہے۔ وزیراعظم تو خیر حکومت کے سربراہ ہیں مگر ان کے بلیوں جیسے حواری جب دھاڑتے ہیں‘ تو دیکھنے والوں کو ہنسی آتی ہے کہ بلّی تو اپنی طرف سے دھاڑ رہی ہے مگر سننے والوں کوصرف ''میائوں‘‘ سنائی دیتا ہے۔عوام بے شک کمزور اور نہتے ہوتے ہیں‘لیکن ان کے اندر ایک Sea Glacierموجود ہوتا ہے‘ جو موقع آنے پر ٹکر ماردے‘ تو بڑے بڑے جہاز ڈگمگا جاتے ہیں۔بھاری مینڈیٹ کی سواری پر اتنا ہی اعتماد کرنا چاہیے‘ جتنابھاری مینڈیٹ پر کیا جا سکتا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved