تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     18-02-2016

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید

یہ تماشا مملکت خدادادہی میں ممکن ہے کہ وزیر اعظم ہی نہیں، اپوزیشن لیڈر کی دولت کا بڑا حصہ بھی ملک سے باہر پڑا ہے۔ اس پر بھی توقع اگر انہی سے ہے تو سبحان اللہ! ؎
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
نا امیدی اس کی دیکھا چاہیے
وہی توجیہ درست لگتی ہے۔ وزیر اعظم نیب کے فوجی افسروں سے نالاں ہیں۔ باون تولے پائو رتی یہ مؤقف درست ہے کہ بالادستی سول کی ہونی چاہیے۔ مشکل مگر یہ ہے کہ اس منزلت کے لیے ایک اخلاقی بنیاد کی ضرورت ہوا کرتی ہے اور اس کا نام و نشان تک نہیں‘ امکان تک نہیں۔جب تک یہ نہ ہو گا، مصیبت ایسی اور اتنی ہی رہے گی بلکہ شاید بڑھتی چلی جائے گی۔
امور خزانہ کے وزیر مملکت ہارون اختر ابھی ابھی کراچی کے تاجروں سے خطاب کر رہے تھے۔الیکٹرانک میڈیاکا اعجازیہ ہے کہ براہِ راست انہیں سن لیا۔ جو کچھ انہوں نے کہا اس پر یہ ناچیز دنگ رہ گیا۔ ایک تاجر رہنما کا نام لے کر انہوں نے کہا: عالی جناب نے گفتگو آغاز کی تو بولے: جی ہم چور ہیں ، جی ہم ٹیکس نہیں دیتے۔فرمائش کی کہ ویلتھ ٹیکس نئے ٹیکس دہندگان پر نافذ نہ کیا جائے۔ سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن نہ کی جائے۔ ماضی میں جو کچھ ہم نے کیا، اس کا گوشوارہ مرتب نہ کیا جائے۔ ہارون اختر کے بقول سب اعدادو شمار حکومت کے پاس موجود ہیں۔ خوب جانتی ہے کہ کس آدمی نے کتنا روپیہ بینک میں جمع کرایا اور کتنی بار کس کس کے ساتھ لین دین کیا۔
نوٹس جاری کر دیئے جاتے اور ٹیکس وصول کیا جاتا۔ بالکل برعکس سب مطالبات ٹیکس خوروںکے مان لیے گئے۔ ماضی کا کیا، مستقبل کے تین برسوں کا حساب بھی پوچھا نہ جائے گا۔ سادہ ترین فارم مہیا کیا جائے گا۔ صرف ایک فیصد ادائیگی کے عوض ہر طرح کا استثنیٰ عطا کر دیا جائے گا۔ یہ ہے ریاست کا حال‘ اس طرح چل رہی ہے اس ملک کی حکومت ،اگر وہ قرض لے کر کاروبار حکومت نہ چلائے تو اور کیا کرے۔ کتنا قرض؟ اڑھائی برس میں 4500ارب روپے۔ زرداری حکومت نے پانچ برس میں 8000 ارب کو 14000 ارب تک پہنچا دیا۔ نواز شریف کا عہد تمام ہو گا تو نوبت شاید 25000 ارب تک پہنچ چکی ہو ۔ ایک معتبر بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ وزارت خزانہ نے مسترد کر دی ہے۔ انکشاف اس میں یہ تھا کہ اگلے برس پاکستان کو 15ارب ڈالر ادا کرنا ہیں۔ وضاحت کرنے والوں نے بتایا نہیں کہ درحقیقت کتنی ادائیگی کرنا ہو گی۔ پندرہ اگر نہیں تو کیا بارہ ارب ڈالر؟ دس ارب ڈالر؟ 
کہاں سے یہ سرمایہ فراہم ہو گا۔ ظاہر ہے کہ مزید قرض لے کر۔ پھر یہ خدشہ کیوں نہ ابھرے کہ امریکہ بہادر اور اس کے ہم نوا یورپی ممالک، ایٹمی پروگرام پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کریں گے۔ پے در پے امریکی اخبارات میں مضامین چھپے ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے پاکستان کا جوہری پروگرام غیر محفوظ ہے۔ ہرگز غیر محفوظ نہیں۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے خفیہ ساتھیوں کی مہم جوئی منظر عام پر آنے کے بعد دوسرے ملکوں سے زیادہ‘ بہت سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ دہشت گردوں سے اگر اندیشہ تھا تو ہر گزرے دن کے ساتھ کم ہوتا گیا۔ واضح ہے پاکستان کے خلاف مقدمہ مرتب کیا جا رہا ہے۔ افواج کی تعداد اور روایتی اسلحے میں، پاکستان کا اپنے حریف سے اب کوئی مقابلہ نہیں۔ صرف ایٹمی پروگرام اس کی حفاظت کا ضامن ہے۔بڑی تبدیلی یہ ہے کہ انکل سام جو کبھی پاکستان کا حلیف تھا، اب بھارت کا تزویراتی شریک کار ہے۔ چین سے امریکہ خوف زدہ ہے‘جس کے زرمبادلہ کے ذخائر دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہیں۔ سات ہزار سال میں پہلی بار چین اپنی سرحدوں سے باہر نکل رہا ہے اور ایک بہت ہی عظیم‘ ایک طے شدہ منصوبے کے ساتھ۔ مغرب کو بیجنگ کے گرد گھیرا ڈالنے کے لیے بھارت کی ضرورت آن پڑی ہے۔ پاکستان چین کا حلیف اور بھارت کا حریف ہے؛ چنانچہ اسلام آباد کو محدود کر دینا لازم ہے۔
تجارتی راہداری نے امریکہ اور اس کے حلیفوں کو اور بھی چوکنا کر دیا۔ چین کو اس سے فروغ حاصل ہو گا۔ پاکستان کی معیشت بھی جانبر ہو سکتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ اس خطّہ ارض میں قرار کی امریکی خواہش کے باوجود، پاکستان میں بھارتی تخریب کاری پر واشنگٹن چپ سادھ لیتا ہے۔ افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس، پختون خوا اور بلوچستان میں سازشوں کے جال بنتی ہے تو اس پر بھی امریکی خاموش رہتے ہیں۔
دہشت گردی کا خاتمہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ بالکل نہیں، قائد اعظم ثانی اسے فوج کا درد سمجھتے ہیں اور صرف فوج کا۔ پولیس اورسول انٹیلی جنس ایجنسیوں کی تنظیم تو ان کا مسئلہ نہیں، خوب جانتے ہیں کہ ان اداروں کو محکم کیے بغیر 60 ہزار زندگیاں نگل جانے والے عفریت کا خاتمہ ممکن نہیں۔ انہیں مگر پرواہ ہی نہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کا حال سب جانتے ہیں۔ پائوں جمانا تو دور کی بات ہے، نیکٹا ابھی تک ڈھنگ سے آغاز بھی کرنہیں سکی۔بحث ہے کہ علی الاعلان قاتل طالبان اور سفاک داعش کی تائید کرنے والے مولانا عبدالعزیز کو زیادہ رعایت کس نے دی؟ پیپلز پارٹی یا میاں محمد نواز شریف کی حکومت نے۔ جس آدمی کو جیل میں ہونا چاہیے ‘وزیر داخلہ کے بقول بارہ سنگین مقدمات میں وہ بری ہو چکا۔ عدالتوں نے قرار دیا کہ تفتیش کرنے والوں نے ڈھنگ سے تفتیش ہی نہ کی۔ چوہدری نثار علی خان کے بقول یہ سب کچھ مولوی صاحب کو آسودہ کرنے کی خاطر ہوا۔ اب ان کی حکومت بھی اسی راہ پر گامزن ہے... جب باڑ ہی کھیت کو کھانے لگے۔
ادھر چند روز سے وفاقی وزراء بغلیں بجا رہے تھے کہ 2018ء کا الیکشن بھی نون لیگ ہی جیتے گی۔ کپتان کا مذاق اڑاتے کہ وہ 2023ء کے انتخاب کی تیاری کریں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اپنی تباہی کے لیے خان خود ہی کافی ہے۔ میاں صاحب کے بارے میں بھی البتہ اس نے ٹھیک کہا کہ کسی وقت بھی دستی بم کو وہ لات مار سکتے ہیں۔ 
نیب سے چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ کیا ہو گا؟ فوجی افسروں کی کسی سے کوئی پرخاش نہیں، ممکن ہے کہ کسی ایک یا ایک سے زیادہ ملزموں کے باب میں توازن وہ برقرار نہ رکھ سکے ہوں۔ یوںکون سا اورمحکمہ مثالی کارکردگی کا حامل ہے کہ نیب اور رینجرز سے اس کی امید کی جائے۔ میاں صاحب سے کسی کو ایک سوال پوچھنا چاہیے۔ ڈاکٹر عاصم کیا بے گناہ ہیں؟ رانا مشہود کیا قصور وار نہیں؟ آزاد کشمیر کے سابق صدر ذوالقرنین کیا معصوم واقع ہوئے ہیں؟ یہ سوال مگر کون کرے؟ بولے تو زرداری یہ بولے کہ ایف آئی اے کے دانت بھی نکال دیئے جائیں۔ کیا کہنے، کیا کہنے۔کراچی کو پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی چراگاہ بنا دیا جائے۔ پنجاب اور مرکز کو نون لیگ کی۔ دیہی سندھ میں وڈیرے دندناتے پھریں۔ اس آدمی نے جس پر بلوچستان میں قیام امن اور غیر ملکی سازشوں سے نمٹنے کی ذمہ داری تھی، ایک بار اس ناچیز سے یہ کہا: باقی تو خیر، مگر بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کو پچاس ساٹھ کروڑ روپے سالانہ کے ترقیاتی منصوبوں کا اختیار ہے۔ اتنی بے دردی سے یہ اختیار برتا جاتا ہے کہ خدا کی پناہ۔ سال گزشتہ وفاقی حکومت کے عطا کردہ پندرہ ارب روپے بلوچستان حکومت نے واپس کر دیئے۔ سال بھر تنازع یہ رہا کہ قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کا حصّہ رسدی کیا ہو۔
یہ تماشا مملکت خدادادہی میں ممکن ہے کہ وزیر اعظم ہی نہیں، اپوزیشن لیڈر کی دولت کا بڑا حصہ بھی ملک سے باہر پڑا ہے۔ اس پر بھی توقع اگر انہی سے ہے تو سبحان اللہ! ؎
منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
نا امیدی اس کی دیکھا چاہیے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved