تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     01-03-2016

ستو کتلہ‘ پولیس کی حدود سے باہر؟

لاہور کے تھانہ ستو کتلہ کے امیر چوک کے قریب غریبوں کی ایک بستی میں لوگوں کے گھروں میں کا م کرنے والی تین عورتوں کو چار اور پانچ فروری کی درمیانی رات دو بجے چار نقاب پوش مسلح ڈاکوئوں نے آتشیں اسلحہ کی نوک پر اس طرح لوٹا کہ ان کے گھر وںکی ایک ایک شے اٹھا کر لے گئے جس میں ایک عورت کا صرف پانچ دن قبل قسطوں پر لئے جانے والا ٹی وی اور دوسری عورت کی ایک ماہ قبل ہی لی جانے والی واشنگ مشین بھی شامل تھی۔ اس کے علا وہ ان کی کل ملکیت لوہے کے ٹرنک جن میں ان کے اور بچے بچیوں کے نئے اور پرانے کپڑے اور ایک سال کی محنت سے جمع کی جانے والی تینوں خواتین کی جمع پونجی جو کل ملا کر 57 ہزار روپے تھی۔اس کے علا وہ ان کی آٹا رکھنے والی مٹیاں اور کھانا پکانے والے گیس کے چولہے شامل تھے جوڈاکو اپنے ساتھ لے گئے۔ 
دیکھا جائے تولٹنے والی یہ تین صرف خواتین نہیں ہیں بلکہ تین خاندان ہیں جو امیر چوک تھانہ ستو کتلہ کی اس آبادی میں ایک کمرے کے مکان میں رہتے ہیں اور جس کا ان تینوں خواتین سے ماہانہ بارہ ہزار روپے کرایہ وصول کیا جا تا ہے۔ چونکہ ان کے ساتھ ہونے والی ڈکیتی کی یہ واردات چار اور پانچ فروری کی رات ہوئی اس لئے ان کے پاس ان کی ماہانہ تنخواہ بھی مو جود تھی جو انہیں ان گھروں سے ملی تھی جہاں یہ کام کرتی ہیں۔۔۔۔ایک لمحہ کیلئے ہی سہی آپ سب سے گزارش ہے کہ سوچئے، سارا دن کسی کے گھر کے جھوٹے برتن مانجنے والی اور گھروں کے کمروں، فرشوں اور باتھ رومز کو تیس دن تک رگڑ رگڑ کر صاف کرنے والی کسی عورت کو مہینہ کے اختتام پر اس کی اس محنت مزدوری کی تنخواہ ملے اور اسی رات چار ڈاکو آ کر اس کا سب کچھ لوٹ کر لے جائیں تو ایسی عورت یا مرد پر کیا بیتے گی ؟سوچئے کہ لٹنے کے بعد دن چڑھے جب ان تین عورتوں کے گیارہ بچوں نے بھوک سے بے حال ہو کر روٹی مانگی ہو گی تو ان کی کیا حالت ہو گی کیونکہ ان کے گھر کے چولہے اور آٹا رکھنے والی مٹیاں بھی ڈاکو اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔ میں پولیس سے نہیں‘ کسی متعلقہ ڈی آئی جی سے نہیں اور نہ ہی کسی انسپکٹر جنرل سے مخاطب ہوں کہ گیارہ بچے پانچ فروری کی صبح جب ننھے بچے منہ کھولے اپنے ماں باپ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے تو ان پر کیا گذری ہو گی اور مالک مکان ماہانہ کرائے کا مطالبہ کرنے کیلئے ان کے دروازے پر کھڑا ہوگا تو وہ کس کیفیت میں ہوں گی؟۔ ۔ہمارے معاشرے میں جن گھروں میں یہ ماسیاں کام کرتی ہیں ان سے بہت سے گھروں کو اکثر شکایات بھی رہتی ہیں لیکن نہ جانے کیا وجہ تھی کہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والی یہ کام والیاں دوسری کام والی عورتوں ماسیوں سے بالکل مختلف ہیں کیونکہ ان سے کسی کو کبھی کبھار ہی کسی ہلکی پھلکی شکایت کا موقع ملتاہے۔شائد یہ ان محنت کش عورتوں کاکوئی امتحان ہے یا ہو سکتا ہے کہ ان کے ساتھ ہونے والی اس ڈکیتی کی واردات کی اطلاع اپنے مضمون کے ذریعے پولیس حکام اور وزیر اعلیٰ تک پہنچانے کے لئے بطور حجت استعمال میں لائی گئی ہو۔۔۔کیونکہ میرے رب کا فرمان ہے کہ وہ اپنی حجت پوری کرنے کے بعد ہی عذاب کا حساب کتاب کا حکم دیتا ہے کیونکہ جب خدا روز محشر ان ذمہ داران سے پوچھے گا تو ان میں سے کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ اے اﷲ مجھے تو ان کے لٹنے کی کوئی خبر ہی نہیں تھی۔
شائد اسی لئے ان کے گھر میں ہونے والی ڈکیتی کے چند دن بعد میں نے ان پر ہونے والے ظلم کے بارے ' سٹی پولیس افسر کی حدود‘‘ کے نام سے روزنامہ دنیا میں چھپنے والے اپنے مضمون میں ان سے ہونے والی اس ڈکیتی کی ایک ایک تفصیل کا ذکر کیا تھا اور اپنے اس کالم میں ایک بوڑھی عورت کا اس حوالے سے ایک واقعہ کاذکر کیا تھا جو غزنی سے دور دراز اور دشوار گذار علا قے سے اپنے بیٹے کے قاتلوں کے خلاف کارروائی کرانے کیلئے سلطان محمود غزنوی سے مدد مانگنے اس کے دربار جا پہنچی تھی۔۔۔مقتول بیٹوں کی ماں نے جب محمود غزنوی کو اپنی داستان سنانے کے بعدقاتلوں سے انصاف مانگا تو سلطان محمود غزنوی نے معذرت کرتے ہوئے بوڑھی عورت سے کہا ،افسوس کہ یہ علا قہ بہت دور اور مشکل ترین ہے جس پر اس بوڑھی عورت نے بادشاہ کی جانب ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہا'' اگر یہ علا قہ تمہارے لئے‘ تمہاری فوج کیلئے مشکل ترین اور دور دراز جگہ پر واقع ہے تو یہ علا قہ اپنی سلطنت سے نکال کر کسی اور کے سپرد کر دو تا کہ میں اس سے اپنے بیٹوں کے قاتلوں کے خلاف انصاف مانگ سکوں‘‘۔
مقام افسوس ہے کہ پنجاب پولیس کے کسی ایک بھی ذمہ دار نے ان تین مظلوم خواتین کے لٹنے پر میری اس شکایت پر رتی بھر بھی توجہ دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اس کی وجہ جو سمجھ میں آئی‘ وہ یہی ہو سکتی ہے کہ ان عورتوں کی حیثیت نہ اشرافیہ کی تھی نہ وہ کسی سرمایہ دار کی عزیزہ تھیں ۔ کسی بھی چھوٹے اور بڑے پولیس افسر کو اس سے کیا غرض ہو سکتی ہے کہ ان تین غریب اور محنت کش عورتوںکا سب کچھ لٹ گیا ہے۔ بھلا ان ماسیوں کا معاشرے میں مقام ہی کیا ہے اور شائد لاہور کے ڈی آئی جی آپریشن ‘ایس پی صدر اور سی سی پی او کے پاس غریب بے آسرا لوگوں کو انصاف دلانے کا وقت نہیں۔ ان تین خواتین کے گھروں میں مسلح نقاب پوش ڈاکو داخل ہو کر ان کا سب کچھ لوٹ کر لے جاتے ہیں لیکن کسی پولیس افسران سے کسی بھی قسم کی باز پرس تو دور کی بات ‘اس پر ذرا سی کارروائی بھی نہیں کی جاتی۔ پولیس افسران یہ بھی جانتے ہیں کہ رائے ونڈ کے ارد گرد اگر کوئی چوری، ڈاکہ اور راہزنی کی واردات ہو جائے تو وہ پولیس کی ذمہ داری اور فرائض میں نہیں آتا کیونکہ ان علا قوں میں پولیس کا کام صرف سڑکوں پر ٹریفک کو بند کرنا ہے۔۔۔اور وہ لوگ جو عوام کی مال ومتاع لوٹتے ہوئے معاشی دہشت گردی کرتے ہیں‘ شاید ان کے بارے میں کسی پولیس افسر کو پریشان یا ہلکان ہونے کی قطعی ضرورت نہیں!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved