تحریر : رؤف کلاسرا تاریخ اشاعت     09-03-2016

وزارت خارجہ کے سکینڈل کا انجام

ایک ٹاپ ریٹائرڈ جنرل سے اچانک ملاقات ہو گئی جو سرکاری عہدے پر بھی فائز ہیں۔ کہنے لگے، آپ نے فارن آفس کے بارے میں سکینڈل فائل کیا تھا۔ سیکرٹری فارن آفس اعزاز چوہدری ملنے آئے تھے۔ مدد مانگی، وہ بہت ہرٹ تھے۔ فارن آفس بدنام ہوگیا،ککھ عزت نہیں رہی۔ 
جنرل صاحب کی بات سن کر مجھے2004 ء کا وہ دن یاد آیا جب میری سابق چیئرمین نیب جنرل امجد سے ملاقات ہوئی تھی۔ انہیں نیب کی چیئرمین شپ سے ہٹا کر فوجی فائونڈیشن کا سربراہ مقرر کر دیا گیا تھا۔ ارشد شریف اور میں نے ایک سکینڈل فائل کیا تھا کہ کیسے جنرل امجد نے ایک شوگر مل اپنے ایک دوست کو بیچ دی۔ ایک پارٹی نے 37 کروڑ روپے کی پیشکش کی مگر فائونڈیشن نے وہ مل دوسری پارٹی کو تیس کروڑ روپے میں بیچ دی۔ یہ سب تفصیلات قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں اس وقت کے پارلیمانی سیکرٹری برائے دفاع نے پیش کی تھیں۔ بعد میں پتا چلا کہ اس پارٹی نے وہی مل دوسری پارٹی کو 37 کروڑ روپے میں بیچ دی اور یوں راتوں رات سات کروڑ روپے کا منافع کما لیا۔ جنرل امجد سے ملا تو سخت لہجے میں بولے، آپ نے سکینڈل بنا کر میرے37 سالہ کیریئر کی ساکھ خراب کر دی ہے۔ میں نے کہا، جنرل صاحب! وہ کیسی ساکھ تھی جو میری ایک خبر سے دھڑام سے گرگئی؟ جب ریٹائرڈ جنرل نے کہا کہ فارن سیکرٹری کہتے ہیں ان کی ساکھ میری خبروں اور سکینڈل فائل کرنے سے خراب ہو گئی ہے تو مجھے جنرل امجد والی بات یاد آگئی۔ 
میں نے کہا، جنرل صاحب! آپ کو علم ہے سکینڈل کیا تھا؟ یا آپ سمجھتے ہیں جو بھی رونا روئے گا، اپنی خودساختہ مظلومیت کی داستان سنائے گا، وہ سچا ہوگا؟ بولے، کچھ کچھ اندازہ ہے، کسی پلاٹ کا معاملہ ہے۔ وزارت خارجہ کی ایک این جی ہے۔ میں نے کہا، جنرل صاحب! انسانی نفسیات ہے، ہم دوسرے کو وہی کہانی سناتے ہیں جو ہمیں سُوٹ کرتی ہو۔ لوگ سفارش کرانے کے چکر میں ہمیشہ حقائق غلط بتاتے ہیں اور الٹا سفارشی شرمندہ ہوجاتا ہے۔ آپ کو بھی حسب روایت موصوف نے آدھی کہانی سنائی۔ پھر میں نے انہیں بتایا: 
پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ این جی او جس کا سکینڈل میں نے فائل کیا تھا وہ فارن آفس کی این جی او نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی سرکاری محکمہ این جی او نہیں بنا سکتا۔ یہ فارن آفس کے افسران کی بیگمات کی این جی او ہے جسے وہ ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتی اور فائدے اٹھاتی ہیں۔ یہ پرائیویٹ رجسٹرڈ ہے۔ فارن سیکرٹری کی بیگم صاحبہ گھریلو خاتون ہیں جن کا فارن آفس سے سرکاری تعلق نہیں، وہ اس کی سربراہ ہیں۔ طارق فاطمی کی بیگم جو ایم این اے ہیں، وہ اس کی پیٹرن انچیف ہیں۔ پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ایک پرائیویٹ معاملہ ہے، فارن آفس سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ تاہم فارن آفس کے افسران اس این جی او کی دنیا بھر سے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے مدد ضرور کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں فارن آفس نے اپنی بیگمات کو سرکاری دفتر، سرکاری فون اور سرکاری گاڑیاں دی ہوئی ہیں۔ چلیں مان لیتے ہیں، بیگمات کا اتنا حق تو بنتا ہے کہ وہ اپنے خاوندوں کی پوزیشن سے کچھ فائدہ اٹھائیں جو ہم سب اٹھاتے ہیں، لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ فارن آفس کے افسران اپنی بیگمات کی این جی او کو غیرملکی سفارت خانوں سے چندہ بھی لے کر دیتے ہیں۔ اس پر جنرل صاحب چونکے۔ میں نے کہا، اگر آپ کو یقین نہیں آ رہا تو میرے پاس ان 26 ملکوں کی فہرست ہے کہ کس ملک کے سفارتخانے نے فارن سیکرٹری اور طارق فاطمی کی بیگمات کی این جی اوزکو کتنا چندہ دیا۔ جنرل صاحب مزید چونکے۔ میں نے کہا، ہو سکتا ہے ان ممالک سے پیسے لینا معمولی بات ہو، ہر این جی او پیسے لیتی رہتی ہے، فارن آفس کے افسران کی بیگمات نے بھی اپنی این جی او کے لیے تیس لاکھ روپے چندہ لے لیا تو کون سی قیامت آگئی۔ جنرل صاحب کچھ ریلیکس ہوئے۔ ''بات تو درست ہے‘‘۔ انہوں نے کہا۔ میں نے کہا، جنرل صاحب! اس پر آپ کیا فرمائیں گے کہ طارق فاطمی جو وزیراعظم کے مشیر برائے وزارت خارجہ ہیں، ان کی بیگم کی این جی او کو جاپانی سفارتخانہ ستر ہزار ڈالر کا چندہ دے اور اس کے بورڈ آف گورنرز میں طارق فاطمی بھی شامل ہوں؟جنرل صاحب نے سنجیدگی اختیار کرتے ہوئے کہا، یہ تو غلط بات ہے۔ یہ تو Conflict of Interest ہوگا۔ میں نے کہا، جنرل صاحب! اگر فارن آفس کی بیگمات نے بھارتی سفارت خانے سے بھی اس این جی او کے لیے چندہ لیا ہو تو پھر آپ کیا کہیں گے؟ جنرل صاحب کو کرنٹ لگا۔ میں نے کہا، جنرل صاحب! آپ کا کیا خیال ہے، اگر میرے پاس ثبوت نہ ہوتے تو فارن سیکرٹری اعزاز چوہدری آپ کی مدد مانگتے کہ رئوف کلاسرا کا دماغ درست کرنے میں مدد فرمائیں؟ وہ مجھے عدالتوں میں گھسیٹتے، میرا جینا حرام کردیتے۔ آپ سے مدد مانگنے وہی آئے گا جس کو پتا ہوگا کہ وہ قانونی طور پر میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور اس نے کچھ ایسی وارداتیں کی ہیں جن کا دفاع نہیں ہوسکتا۔ جنرل صاحب کے چہرے پرپریشانی نمودار ہوئی۔ میں نے کہا حضور! فارن آفس کو دنیا بھر میں فرسٹ لائن آف ڈیفنس سمجھا جاتا ہے۔ اگر یہ بھی کرپٹ ہو، دنیا بھر کے سفارت خانوں سے اپنی اپنی بیگمات کی این جی او کے لیے چندہ مانگ رہا ہو تو پھر آپ کا وہی حشر ہوگا جو اقوام متحدہ کے ہیومین رائٹس کمیشن کے انتخابات میں ہوا۔ پاکستان بری طرح الیکشن ہار گیا۔ جس ملک کے سفارتکار اپنی بیگمات کی این جی اوز کے لئے 
چندے اکٹھے کر رہے ہوں، انہیں ووٹ کون دے گا؟ آپ نے فارن سیکرٹری سے پوچھا کہ آپ کو اقوام متحدہ میں اتنی بڑی شکست کیوں ہوئی؟ دو برس میں پاکستان کے سفارتکاروں نے 24 ارب روپے کے اخراجات کیے۔ یہ قوم مہنگا قرض لے کر ان کی عیاشیوں پر خرچ کرتی ہے اور ان کا یہ حال ہے کہ ہم الیکشن ہار جاتے ہیں جو ہم برسوں سے جیت رہے تھے۔ یہ الیکشن تو ہم اس وقت بھی جیتے گئے تھے جب جنرل مشرف پاکستان پر حکمران تھے اور بلوچستان کے حوالے سے روزانہ پاکستان پر الزامات لگتے تھے۔ لیکن اب جمہوری دور میں ہم ہار گئے جب بلوچستان کے معاملات بھی بہتر ہو رہے ہیں۔ میں نے کہا، جنرل صاحب! آپ کو پتا ہے وہ چندہ اکٹھا کر کے کس کو دیا گیا؟ طارق فاطمی کی بیگم ایم این اے زہرہ کی این جی او کو۔ کیا اب فارن آفس کے افسروں کا یہ کام رہ گیا ہے کہ وہ کشکول اٹھا کر ڈپلومیٹک انکلیو میں ہر سفارتخانے کے دراوزے پر دستک دیں، چندہ لیں اور طارق فاطمی کی بیگم کی این جی او کو دیدیں تاکہ غیرملکی پوسٹنگ لے سکیں؟ جنرل صاحب گھبرا کر بولے، چلیں چھوڑیں اور سنائیں،کیا ہو رہا ہے؟ میں نے کہا، نہیں جنرل صاحب! اب پوری بات سنیں۔
فارن آفس کی بیگمات کی این جی او نے اربوں روپے مالیت کا پلاٹ سی ڈی اے سے مفت لیا۔ بتایا گیا کہ وہ اس پر فلاحی سرگرمیاں کریںگی۔ پہلے ایک اور این جی او کو یہ پلاٹ دینے کا منصوبہ بنا تھا۔ سی ڈی اے پر فارن آفس کے بابوئوں نے دبائو ڈال کر یہ پلاٹ اپنی بیگمات کو ٹرانسفر کرنے کی اجازت لے دی۔ اب اس پلاٹ کی روٹس ملینیم کے مالک فیصل مشتاق کے ساتھ ڈیل کر لی گئی ہے۔ فیصل مشتاق کی ساس سینیٹر ہیں۔ انہوں نے فارن آفس کے افسران کی بیگمات کی این جی او کو تین لاکھ روپے کا چندہ دیا اور ساتھ ہی ایک ڈیل کی آفر کی۔ بیگمات چندہ لے کریہ پلاٹ فیصل مشتاق کو دینے پر راضی ہوگئیں جو انہیں سی ڈی اے سے مفت میں ملا تھا۔ ڈیل یہ ہوئی کہ فیصل مشتاق اربوں روپے مالیت کے اس پلاٹ پر سکول بنائے گا جس میں ایک ہزار بچے داخلہ لیں گے۔ فیس پندرہ ہزار روپے ماہانہ ہوگی۔ اس 
طرح وہ ہر ماہ ڈیڑھ کروڑ روپے کمائے گا۔ پچاس لاکھ روپے کا خرچہ نکال کر ایک کروڑ روپے منافع ہوگا جس میں سے وہ ڈیڑھ لاکھ روپے اس این جی او کو دے گا۔ فارن آفس کے بچوں کو فیس میں رعایت دے گا اور یہ رعایت اسلام آباد کے عام شہریوں کے بچوں سے زیادہ فیس لے کر پوری کرے گا۔ میں نے کہا، جنرل صاحب! آپ کو اربوں روپے کا مفت پلاٹ ملا ہو، آپ کسی ایسے شخص کو دیں گے جو اس سے ایک کروڑ روپے ماہانہ منافع کمائے اور آپ کو صرف ڈیڑھ لاکھ روپے دے؟ جنرل صاحب کہنے لگے کافی ہوگیا۔ مجھے تو یہ بات نہیں بتائی گئی۔ میں نے کہا، جو صاحب آپ کے پاس روتے رہے، وہ بھلا کیسے بتائیں گے کہ اتنی بڑی ڈیل کیسے ہوئی اور ننانوے برس کے لیے دیئے گئے اس پلاٹ پر بننے والے سکول میں کس کس بڑے آدمی کے کیا کیا ذاتی مفادات چھپے ہیں؟میں جانتا ہوں کس نے اس فراڈ میں اپنی سات نسلوں کو سنوار لیا ہے۔ جنرل صاحب بولے کافی ہوگیا یار!میں نے کہا، نہیں سر! ابھی باقی ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کیبنٹ نے جس کے چیئرمین سینیٹر طلحہ محمود ہیں، اس سکینڈل کا نوٹس لیا، تحقیقات شروع کی، بڑھکیں ماریں لیکن اب مک مکا ہوگیا ہے۔ وہ پوری بات نہیں سنیںگے، کس کس کو کیسے فارن آفس اور فیصل مشتاق نے مل کر کر رام کیا؟ کس کو کتنا گڑ کھلایا گیا؟ اب میرے ریٹائرڈ جنرل دوست کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ بولے، کافی سن لیا ہے! 
میں اٹھ آیا۔ جن لوگوں کی جواب طلبیاں ہونی چاہئیں، نوکریوں سے برطرف ہونا چاہیے، جیل جانا چاہیے، وہ دشمن ملک کے سفارت خانوں سے اپنی بیگمات کی این جی اوز کے لیے چندہ لینے، اربوں روپے کا پلاٹ ایک سینیٹر کے داماد کو مفت دینے میں مصروف ہیں اورملک پر حکمرانی کر رہے ہیں۔
پاکستانی اشرافیہ کا کمال دیکھیں۔ انہیں پتا ہے، ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ جنہیں جیل میں ہونا چاہیے تھا‘ وہ الٹا میری شکایتیں لگا کر میرا دماغ درست کرانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ ؎
یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا 
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved