تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     12-03-2016

پرفارمنس

جب تک کرکٹ کا کھلاڑی ‘ملک کا وزیراعظم نہیں بنا تھا‘ یہ کھیل بڑ ے اچھے نتائج دے رہا تھا۔پاکستان میں جتنے بھی عالمی شہرت کے کرکٹر پیدا ہوئے ہیں‘ ان سب کی خوش نصیبی رہی کہ ان کے کسی دور حکومت میں کرکٹ کا شوقین‘ ملک کا وزیراعظم نہیں تھا۔ ہر کسی کی دلچسپی اپنی سیاست میں رہتی اور کھلاڑیوں کو اپنے کھیل تک محدود رہ کر شوق پورا کرنے کے مواقع ملتے رہتے۔ کبھی کبھار فوجی یا سول حکومت کے کسی معتبر کے اپنے گھر کا لڑکا یا دوستوں کے لڑکے‘ کرکٹ کے شوق میں مبتلا ہو جاتے تو وہ کرکٹ انتظامیہ سے کہہ کر‘ اسے چانس دلوا دیتے لیکن حقیقت‘ دو تین میچوں کے بعد ہی سامنے آجاتی اور کرکٹ بورڈ کے عہدیدار‘ خود ہی شرمندہ ہو کر اسے ٹیم سے فارغ کر دیتے۔ ایسا کم و بیش ہر ملک میں ہوتا ہے ماسوا بھارت کے۔ وہاں کا کرکٹ بورڈ اتنا آزاد ہے کہ مضبوط سے مضبوط حکومت بھی ‘کسی لاڈلے کو ٹیم کا حصہ نہیں بنا سکتی۔ وہاں صرف کھیل ہوتا ہے‘ نگرانی کے لئے بڑا متحرک میڈیا اور کھیلوں سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں بھی موجود ہیں ۔ سیاسی اعتبار سے کوئی بھی طاقتور شخصیت اثرو رسوخ استعمال کر کے‘ اگر کسی لاڈلے کو ٹیم میں شامل کرا دیتی توچند ہی گھنٹوں میں کھیل سے تعلق رکھنے والے ادارے اور تنظیمیں‘ اس بری طرح سے حکومت اور بورڈ پر حملہ کرتیں کہ آخر کاربیچارے سفارشی کو ہی خود جا کر کہنا پڑتا کہ '' بھائی مجھے معاف کر دو اور ٹیم میں جس کی سفارش کر بیٹھا ہوں‘ اسے فارغ کر کے مجھ پر احسان کرو‘‘۔
پاکستانی کر کٹ کی شامت اس وقت آئی جب کرکٹ کے شوقین ایک کھلاڑی‘ ہمارے ملک کے وزیراعظم بن گئے۔ وہ جمخانہ کلب کے اچھے کھلاڑی تھے۔ جمخانہ کی کرکٹ ٹیم کسی بھی زمانے میں کمزور نہیں تھی۔ نوازشریف‘ جمخانہ کے اندر اچھے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیل کر‘ اپنا شوق پورا کر لیا کرتے تھے۔سننے میں آیا ہے کہ ان کے کلب کا کوئی بڑا افسر چپکے سے‘ امپائر کے ساتھ ملاقات کرتا اور وہ امپائر حیرت انگیز طور پر کھیل کو نوازشریف کے لئے انتہائی آسان بنا دیتا۔کلب کے دیگر ممبر بھی اس حقیقت کو اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ بھی ماحول کو ساز گار بنانے کے لئے اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے انجام دیا کرتے۔ جب تک بات جمخانہ کے اندر رہی‘ میاں صاحب کی کرکٹ ‘ ان کے کاروبار کی طرح چلتی رہی۔
لیکن عالمی کرکٹ کا اپنا ایک انداز ہوتا ہے۔اس کے انتظامات‘ کرکٹ کے کھیل کا عالمی ادارہ ‘ آئی سی سی کرتا ہے۔ اوراس کے تحت جتنے بھی میچ ہوتے ہیں‘د نیا بھر میں ان کے چرچے کئے جاتے ہیں۔ کسی زمانے میں یہ کام ریڈیو کمنٹری سے لیا جاتا تھا اور کمال کی بات ہے کہ کمنٹری کرنے والے بھی کرکٹ کی ہیروز کی طرح مشہور ہوا کرتے۔افتخاراحمد ‘عمر قریشی اور نئے دور کے چشتی مجاہد کھلاڑیوں کی طرح ہی مقبول کمنٹیٹر تھے۔ کر کٹ بورڈ کے سربراہ بھی اتنے پر اعتماد ہوا کرتے کہ حکومتیں‘ ان کی تیار کردہ ٹیموں کے اندر اپنا ''لاڈلا‘‘ داخل نہیں کر سکتی تھیں۔ خصوصاً جب فوجی کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنے تو انہوں نے اس کھیل کو حتی المقدور میرٹ کا پابند کیا۔یہ درست ہے کہ پاکستان کا کرکٹ بورڈ کبھی اتنا آزاد نہیں رہا کہ اسے آئیڈیل کہا جا سکے لیکن جب سے جمخانہ کرکٹ کے کھلاڑی‘ جناب نواز شریف اقتدار میں آئے ہیں ‘ان کے شوق نے کرکٹ کے کھیل کو ایک لاڈلے بچے کے کھلونے کی طرح مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔
ہمارے میاں صاحب بھی قذافی سٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کے خلاف بیٹنگ کرنے تشریف لائے۔ بائولر ایسا بدبخت تھا کہ اس نے دو تین گیندوں میں ہی میاں صاحب کو رخصت کر دیا۔جمخانہ کے پرانے کھلاڑی بتاتے ہیں کہ وہ‘ ایک بار برطانیہ کی ٹیسٹ ٹیم کو بھی للکارچکے ہیں۔اسے وارم اپ میچ کے لئے جمخانہ میں بلایا گیا اور وہاں بھی ان کی بیٹنگ ایسی ہی رہی‘ جیسے آج کل پاکستانی ٹیم کرتی ہے۔اس میں بورڈ کا بھی قصور نہیں۔ جب حاکم اعلیٰ ‘ نجم سیٹھی کو کرکٹ کا مالک و مختار بنا دے تو پھرا یسے لوگوں کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے باس کو خوش رکھیں۔ نجم سیٹھی نے ویسی ہی معیاری ٹیم تیار کر دی جیسی میاں صاحب کو پسند ہے اور وہ جب چاہیں اسے اپنے مقابلے میں اترنے کا حکم دے کر دھڑا دھڑ وکٹیں بھی لیں اور رنز بھی بنائیں۔ نجم سیٹھی نے ٹیم تیار کر دی ہے۔ اب یہ میاں صاحب کے موڈ پر ہے کہ وہ کس دن‘ اس ٹیم کے ساتھ کھیلنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ان دنوں بھارت میں ٹی20 ورلڈکپ‘ ہو رہا ہے۔اس کے لئے پاکستانی ٹیم کو بھی شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ ٹورنامنٹ کے انتظام کرنے والے بورڈ کی طرف سے پاکستان کو دعوت نامہ آگیا ۔نجم سیٹھی کے ہاتھ پائوں پھول گئے کہ جو ٹیم‘ انہوں نے تیار کی ہے‘ اس نے اگر بھارت میں جا کر پاکستانی عوام کی خواہش کے مطابق پرفارمنس دے دی تو کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کا بول بالا ہو جائے گا۔سیٹھی صاحب نے تویہ ٹیم‘ اپنے مہربان اور محسن کے مطلوبہ معیار کے مطابق تیار کی ہے۔اس میں بیٹسمین ایسے ہیں جو میاں صاحب کے ہاتھوں آسانی سے آئوٹ ہو جائیں اور بائولر ایسے جن کی ہر گیند پر میاں صاحب چھکا لگا سکیں۔ نجم سیٹھی نے تیاری تو پوری کر رکھی ہے لیکن قبل اس کے کہ میاں صاحب کو وقت ملتا‘ ٹی20ورلڈکپ درمیان میں آگیا۔ اس میں دوسرے ممالک کی ٹیموں کے علاوہ‘ پاکستان کو بھی دعوت نامہ ملا۔ سیٹھی صاحب نے جو ٹیم اپنے ملک کے حاکم اعلیٰ کو خوش کرنے کے لئے تیار کی تھی‘ اسے عالمی ٹیموں کے مقابلوں میں اتارنا پڑگیا۔ سیٹھی صاحب اسی وجہ سے پریشان رہے۔ ان کی راتوں کی نیند جو پہلے حلال تھی‘ اب حرام ہو گئی اور وہ ہر طرح سے جتن کر رہے ہیں کہ کسی طرح ان کی ٹیم‘ کو ورلڈکپ کے میچوں میں نہ اترنا پڑے۔انہوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ ٹیم ‘ورلڈکپ کھیلنے نہ جائے ۔ چنانچہ انہوں نے حکومت میں اپنے اثرورسوخ سے کام لیا ‘ پہلے توبورڈ نے حیلے بہانوں سے کام لینے کی کوشش کی۔ دوسری طرف بھارتی انتہا پسندوں کو میدان میں اتارا تاکہ وہ پاکستانی ٹیم کو دھمکیاںدے کر اسے ڈرا دیں اور وہ ٹورنامنٹ سے بچ نکلیں۔
نجم سیٹھی نے اپنی اور اپنے ہمنوائوں کی عزت بچانے کے لئے‘ حسب معمول ترکیب سوچی۔ میاں صاحب کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گئے کہ پاکستانی ٹیم کو ہندو انتہا پسندوں سے خطرہ ہے اور جب تک میزبان حکومت‘ پاکستانی ٹیم کے تحفظ کا یقین نہیں دلائے گی۔ ہماری ٹیم ٹورنامنٹ میں شرکت نہیں کرے گی۔ میاں صاحب ‘ کرکٹ کا جنجال چوہدری نثار کے سپرد کر کے بیرونی دورے پر چلے گئے ۔ اب چوہدری نثار سپاہیانہ جوش و جذبے سے بھارتی حملے سے بچنے کا بندوبست کرنے میں لگے ہیں۔چوہدری صاحب کا تعلق ایک فوجی خاندان سے ہے۔ ان کے والد اور بھائی‘ بھارت کے مقابلے میںآنے سے پہلے ‘ایسی گارنٹیاں نہیں مانگا کرتے تھے کہ بھارتی فوج پہلے یہ لکھ کر ہمیں دے کہ وہ ہمارے سپاہیوں کو کچھ نہیں کہے گی۔ چوہدری نثار ایسے نہیں تھے لیکن نجم سیٹھی نے انہیں اپنے قابو میں کر لیاکہ ہم اپنی ٹیم کو میدان میں اتارنے سے پہلے‘ بھارتی حکومت سے یہ ضمانت لیں کہ ان کے تماشائی‘ ہمارے کھلاڑیوں سے زیادتی نہیں کریں گے۔ بھارت کے اندر کرکٹ میدان میں متعدد بار بد نظمی ہوئی لیکن میری یادداشت کے مطابق نہ تو کبھی کسی کھلاڑی کو تکلیف پہنچی اور نہ ہی میچ بے نتیجہ رہا۔1996ء میں ورلڈکپ کے دوران‘ ایک سیمی فائنل‘ بھارت اور سری لنکا کے مابین ہوا۔ اس میچ میں تماشائیوں نے زیادہ اودھم مچایا تو انتظامیہ نے میچ روک کر سری لنکا کو فاتح قرار دے دیا۔یہ چوائس بری نہیں۔ اگر بھارت اسی طرح کا انتظام کر دے کہ تماشائیوں کے شور اور ہنگامے کے بہانے ہمیںمیچ بند ہونے کے نتیجے میں یکطرفہ طور سے فاتح قرار دے دیا جائے۔میرا خیال ہے کہ نجم سیٹھی ان دنوں اپنے بھارتی مہربانوں سے ایسی ہی کوئی رعایت لینے کے لئے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں۔اگر وہ کامیاب ہو گئے تو پھر پاکستانی ٹیم کو بھارت جا کر کھیلنے کی اجازت مل جائے گی۔ حکمران پارٹی کے سر پھرے ''جالو جالو اگن جالو‘‘کے نعرے لگا کر اور سوڈے کی بوتلوں سے دھماکے کر کے‘ ماحول پیدا کر دیں گے اور پاکستانی ٹیم کو سکھا دیا جائے گا کہ جیسے ہی حاضرین غل غپاڑہ کریں‘ وہ فوراً پویلین کی طرف روانہ ہو جائیں تاکہ ٹیم کو فاتح ڈیکلیئر کیا جا سکے۔میرا خیال ہے کہ کرکٹ جیسے چھوٹے معاملے میں اتنی اعلیٰ ترین حکومتی سطح پرہونے والی کشمکش ‘ کسی نہ کسی خاص مقصد کے لئے ہے۔ ورنہ کہاں نجم سیٹھی اور کہاں ارباب اقتدار کی طرف سے بھارتی حکومت پر مسلسل دبائو۔نجم سیٹھی نے جو کرکٹ کی ٹیم تیار کی ہے‘ اسے کامیابی دلوانے کے لئے بھی حکومتی سطح پر ہی پرفارمنس دکھانا پڑے گی۔آخری اطلاع یہ ہے کہ نجم سیٹھی‘ آخر کار ٹیم کو اسی تنخواہ پر بھارت لے جانے کے لئے تیار ہیں۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved