تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     24-03-2016

’’بابوں‘‘ کا دیس

یہ طے کرنا بہت مشکل، بلکہ تقریباً ناممکن ہے کہ بھارت میں مہان پُرش پیدا ہوتے ہیں یا یہ ملک ہے ہی مہان پُرشوں کا۔ بھارتی اخبارات پر ایک نظر ڈالیے تو یومیہ بنیاد پر ایسے واقعات کی رپورٹنگ ملتی ہے کہ پڑھیے اور حیران رہ جائیے۔ قدم قدم پر یوگی اور دھیانی بیٹھے ہیں جو تپسیا میں اپنی مہارت کو ایسی بلندی تک لے گئے ہیں کہ اُنہیں دیکھ کر یقین ہی نہیں آتا کہ کوئی انسان ایسا کرسکتا ہے۔ 
گزشتہ روز ہم نے درجنوں شہروں سے شائع ہونے والے معروف ہندی روزنامے ''جاگرن‘‘ میں ایک ایسی رپورٹ پڑھی کہ بیک وقت حیرت بھی ہوئی اور افسوس بھی۔ اور یہ ملی جلی کیفیت اِس بات پر تھی کہ ''شائننگ انڈیا‘‘ کا دعوٰی کرنے والے آج بھی پانچ ہزار سال پہلے کے دور میں جی رہے ہیں۔ 
یہ رپورٹ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے قصبے دیوریا سے تعلق رکھنے والے یوگی ''دیورہا بابا‘‘ کے بارے میں تھی۔ ان کے عقیدت مند ہزاروں تھے۔ رپورٹ کے مطابق دیورہا بابا عجیب و غریب ہستی تھے۔ اُن کا وجود انتہائی پراسرار معلوم ہوا ہوتا۔ کوئی نہ سمجھ سکا کہ وہ کیا ہیں اور کیوں ہیں۔ 
دیورہا بابا متھرا کے نزدیک دریائے جمنا کے کنارے لکڑی کے ایک مچان پر رہا کرتے تھے۔ لوگوں نے اُنہیں جب بھی دیکھا، اِس مچان ہی پر دیکھا۔ یہیں سے وہ درشن اور آشیرواد دیتے تھے۔ وہ مچان پر بیٹھے بیٹھے اگر کسی کے سَر پر ہاتھ رکھ دیتے تو، روایت ہے کہ، اُس کے وارے نیارے ہوجاتے تھے۔ اگر وہ کبھی کبھار کوئی پھل وغیرہ عقیدت مندوں کی طرف اُچھالتے تو اُسے حاصل کرنے کے لیے عقیدت مند گتھم گتھا ہوجاتے اور بابا کے مچان کے گرد اچھا خاصا لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ کھڑا ہو جاتا۔ 
دیورہا بابا 19 مئی 1990ء کو اِس فانی دُنیا سے رخصت ہوئے۔ وہ کتنے سال کے ہوکر پرلوک سِدھارے، اِس پر اچھا خاصا اختلاف پایا جاتا ہے اور اختلاف نے کئی صدیوں کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بابا کے بعض معتقدین کہتے ہیں کہ وہ کم و بیش ڈھائی سو سال زندہ رہے۔ چند ایک کا دعوٰی (یا عقیدہ) ہے کہ بابا 500 سال زندہ رہے۔ اور ایسے معتقدین کی بھی کمی نہیں جن کے خیال میں بابا نے اِس پرتھوی لوک پر 900 سال گزارے! ہمارے خیال میں بابا نے اپنی عمر چھپاکر اچھا نہیں کیا۔ اگر بتاکر جاتے تو آج اُن کی عمر کے حوالے سے تنازع نہ پایا جاتا! ویسے دیورہا بابا کی تاریخِ وفات معلوم ہونے سے یہ بات تو طے ہے کہ وہ کبھی نہ کبھی پیدا ضرور ہوئے ہوں گے! 
دیورہا بابا نے بھارت کی سرزمین پر اِتنی طویل مدت گزاری مگر یہ بتانے کی زحمت گوارا نہ کی کہ کس دور میں بھارت کیسا تھا، لوگ کس طور زندگی بسر کرتے تھے اور راجا، مہا راجا کس طور راج کیا کرتے تھے۔ اگر دیورہا بابا اِس حوالے سے لب کُشائی فرماتے تھے تو آج کے جنونی ہندوؤں کو مسلم دور کی بہت سی عمارتوں کی قبر کُشائی نہ کرنا پڑتی! 
دیورہا بابا کے عقیدت مند اُن میں ایسی ایسی خوبیاں بیان کرتے ہیں کہ تمام معاشروں کے تمام اقسام کے سپرمین مل کر بھی دیورہا بابا کی برابری نہیں کرسکتے! اب یہی دعوٰی لیجیے کہ بابا نے زندگی بھر اناج نہیں کھایا۔ صرف دریائے جمنا کے پانی، دودھ، شہد اور پھلوں کے رس پر گزارا تھا۔ ہم نے بارہا یہ پڑھا ہے کہ بھارت میں روحانی تطہیر کے خواہش مند جسم کو الجھن میں ضرور ڈالتے ہیں۔ اور سب سے پہلے اناج ترک کرتے ہیں۔ پتا نہیں اناج میں ایسی کون سی خرابی ہے جو روح کو بگاڑ دیتی ہے؟ گاندھی جی بھی اناج نہیں کھاتے تھے، بکری کے دودھ پر گزارا تھا۔ یہ ایک الگ بحث، بلکہ تحقیق کا موضوع ہے کہ گاندھی کی بکری کیا کیا کھاتی تھی۔ سُنا ہے کہ اِس بکری کو روزانہ طاقتور پھل اور خشک میوے کھلائے جاتے تھے تاکہ گاندھی کو زیادہ سے زیادہ غذائیت بخش دودھ میسر ہو۔ 
دیورہا بابا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سانس لیے بغیر پانی میں آدھا گھنٹہ گزار سکتے تھے۔ یہ فن تو ہم پاکستانیوں کو بھی آتا ہے اور بھارت کی قیادت ہی نے سکھایا ہے۔ نئی دہلی مختلف حوالوں سے پاکستان کا ناطقہ بند کرنے کے لیے سرگرمِ عمل رہتا ہے اور اپنی حکومت کے ساتھ ساتھ ہم بھی سانس روکے یہ تماشا دیکھتے رہتے ہیں! 
یہ بھی مشہور ہے کہ دیورہا بابا جنگلی جانوروں کی بولیاں سمجھتے تھے اور کسی بھی درندے کو ذرا سی دیر میں قابو کرلیتے تھے۔ اگر آج وہ ہوتے تو ہم اُن سے گزارش کرتے کہ بات بات پر مسلمانوں کو مارنے، کاٹنے کی بات کرنے والے جُنونی ہندوؤں کو تو ذرا قابو میں کیجیے! اور یہ بھی کہ اُن سے بات کرکے ہمیں بتائیے کہ وہ کیا چاہتے ہیں کیونکہ اُن کی بولی مسلمانوں کی سمجھ میں آتی۔ اور مسلمان کیا، سادہ اور شریف النفس ہندو بھی سنگھ پریوار کے جُنونیوں کی کوئی بات سمجھ نہیں پاتے! 
دیورہا بابا کے بارے میں لوگ زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے ہیں تاکہ کئی صدیوں تک زندہ رہنے کا راز سمجھ سکیں۔ ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ایسی طویل زندگی کس کام کی جو لکڑی کے مچان پر رہتے ہوئے گزاری جائے۔ سو دو سو برس جیے تو کیا حاصل اگر کسی کے لیے ذرا بھی مفید ثابت نہ ہوئے؟ ہم تو حبابؔ ترمذی کو درست سمجھتے ہیں جنہوں نے کہا ہے ؎ 
محبت کا ہے بس اِک لمحہ کافی 
ہزاروں سال جینے کی ہوس کیا؟ 
دیورہا بابا دریائے جمنا کے کنارے رہتے تھے۔ دہلی بھی جمنا کے کنارے ہے۔ یہی سبب ہے کہ بھارتی دارالحکومت میں حکومتی اور سفارتی سطح پر ایک سے بڑھ کر ایک دیورہا بابا پائے جاتے ہیں۔ اِن بابوں کو ایک طرف تو یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ دیر پورے مزے سے کس طور جیا جائے اور دوسری طرف یہ پتنجلی یوگ سُوتر کی مدد سے اس بات کا یوگ اور دھیان کرتے رہتے ہیں پاکستان کی عمر کس طور زیادہ سے زیادہ گھٹائی جائے! کبھی کبھی کوئی یوگ الٹا بھی ہو جاتا ہے۔ تب سب کچھ ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی سَر کے بل دنیا کو دیکھ رہا ہو! اِس حالت کو شیرشاسن کہتے ہیں۔ پنڈت جواہر لعل نہرو روزانہ شیرشاسن کرتے تھے۔ تبھی تو معاملات کو اُلٹا دیکھنے کے عادی ہوگئے اور پھر یہ عادت اُن کی بیٹی میں منتقل ہوئی! 
جس ملک میں لوگ یہ ماننے کو تیار ہوں کہ کسی نے یوگ آسن اور دھیان کے ذریعے اِس دنیا میں 900 سال گزارے ہیں اُس ملک کو سمجھنا اور سمجھانا اکیسویں صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ شائننگ انڈیا کسی کے لیے اُتنا بڑا مسئلہ نہیں جتنا بڑا مسئلہ ''ڈیفائننگ انڈیا‘‘ ہے! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved