تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     10-04-2016

کرکٹ واپس آ سکتی ہے

ان دنوں پاکستانی کرکٹ ٹیم میں اتھل پتھل ہو رہی ہے‘ لیکن بہتری کا کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا۔ جو اتھارٹی بھی بہتری کی تدبیر کرتی ہے‘ وہ خرابی کی اصل جڑ کو نہیں پکڑتی۔ حالانکہ میڈیا برسوں سے تجاویز دے رہا ہے کہ جب تک اوپر سے نیچے تک سارا بورڈ اٹھا کر باہر نہیں کر دیا جاتا‘ پاکستانی کرکٹ ٹھیک نہیں ہو سکتی۔ اس وقت بورڈ کے جتنے بھی اراکین ہیں اگر انہیں برسر روزگار رکھنا ضروری ہے‘ تو ان سب کو مالشیے بنا دیا جائے۔ یہی کام ہے‘ جو وہ عمدہ طریقے سے کر سکیں گے۔ بورڈ کی رگوں میں جو سازشی مادہ داخل ہو گیا ہے‘ اب اس کا نکلنا کسی طور بھی ممکن نہیں۔ اصلاح کے لئے حکومت نے متعدد سربراہ بدلے‘ لیکن جتنے سربراہ بھی آئے‘ ان سب کو مایوس ہو کر بورڈ سے باہر جانا پڑا‘ یا سازشی عناصر کا شکار ہو کر نکلنا پڑا۔ یہ ٹھیک ہے کہ پاکستانی معاشرہ اور سیاست پستی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہیں۔ سیاست کا زہر پھیلتا پھیلتا‘ جس طرح معاشرے کے دوسرے شعبوں تک پہنچ گیا ہے‘ اسی طرح کرکٹ بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکی۔ ان دنوں سازشی ذہن‘ نئی نئی ترکیبیں لڑا رہا ہے تاکہ وزیر اعظم‘ بورڈ میں اعلیٰ سطح کی تبدیلی پر جو غور کر رہے ہیں‘ انہیں کسی ایسی باعزت شخصیت کے انتخاب پر قائل کیا جائے‘ جو انہیں اپنی سیاسی ضروریات کے اعتبار سے موزوں دکھائی دے۔ اس مقصد کے لئے ماجد خان کو بھینٹ چڑھانے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ حالانکہ ماجد خان ایک بار پہلے بھی بورڈ انتظامیہ کو چلا چکے ہیں‘ لیکن وہ کوئی خاص تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ وہ طبعاً درویش منش آدمی ہیں۔ جب تک وہ کرکٹ کھیلے‘ ان کی تمام تر دلچسپی کھیل میں رہی۔ جس زمانے کے وہ کھلاڑی ہیں‘ تب بورڈ کی انتظامیہ میں سازشوں اور جوڑ توڑ کا مرض داخل نہیں ہوا تھا۔ 
جہاں تک بطور کرکٹر ان کی کارکردگی کا تعلق ہے‘ اپنے زمانے کے اعتبار سے وہ آج بھی مثالی ہے۔ انہوں نے اپنے کرکٹ کیریئر میں کل 63 ٹیسٹ کھیلے‘ جن میں 3 ہزار 931 رنز‘ 8 سینچریوں کے ساتھ بنائے۔ فرسٹ کلاس کرکٹ میں 27ہزار رنز 73سنچریوں اور 128 ففٹیوں کے ساتھ بنائے۔ انہوں نے اپنا آخری میچ 1983ء میں کھیلا۔ ان کے والد جہانگیر خان بھی ایک نامور کرکٹر تھے۔ ان کا یہ واقعہ مشہور ہے کہ جب وہ ایم سی سی بمقابلہ کیمبرج یونیورسٹی کھیل رہے تھے‘ تو بولنگ کرتے ہوئے ان کی گیند سے ایک پرندہ گر گیا تھا۔ یہ پرندہ آج بھی لارڈز کرکٹ گرائونڈ میں ایم سی سی کے عجائب گھر میں محفوظ ہے۔ وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سلیکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ جب ان کے صاحبزادے ماجد خان ٹیم کی سلیکشن کے لئے زیر غور تھے‘ تو جہانگیر خان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تاکہ ان کے بیٹے پر‘ باپ کے اثر و رسوخ کے استعمال کی تہمت نہ لگے۔ یہ واقعہ میں نے اس لئے بیان کیا کہ آج بورڈ کے اعلیٰ عہدیداروں اور سلیکٹرز کو کچھ حیا آ جائے کہ کرکٹ کتنا صاف ستھرا اور شرفا کا کھیل تھا‘ جسے اب تھڑے والوں کا ٹھکانا بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ ایسی ایسی سازشیں ہوتی ہیں اور ایک دوسرے کی اس طرح سے ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں کہ کوئی شریف آدمی اس ماحول میں رہنا پسند نہیں کر سکتا۔ ٹی ٹوئنٹی کے حالیہ میچوں میں تو حفیظ کی ٹانگ سچ مچ کھینچ لی گئی تھی۔ یہ اور بات ہے کہ اس کے باوجود وہ کھیلتے رہے۔ ان کا تو کچھ نہیں بگڑا‘ پاکستان پٹ گیا۔ مجھے حیرت ہے کہ کرکٹ میں صاف ستھرے کردار والے کھلاڑی کیسے ایک سے زیادہ میچ کھیلنے میں کامیاب ہو گئے؟ اس مرتبہ تو سازشوں کا سلسلہ اتنا بدنام ہوا کہ بات میڈیا میں پھیل گئی اور آج بچہ بچہ جانتا ہے کہ کون سا کھلاڑی‘ کس کے خلاف سازشیں کر رہا ہے؟ موجودہ کپتان سرفراز احمد کے ساتھ ہونے والا واقعہ تو ذہنوں میں آج بھی تازہ ہے۔ گزشتہ ورلڈ کپ میں جب پاکستان کی پٹائی ہو رہی تھی‘ تو انتظامیہ نے گھبراہٹ میں سرفراز کو بلانے کا فیصلہ کیا‘ لیکن ہیڈ کوچ وقار یونس نے اس کی شدید مخالفت کی۔ اگلا میچ پھر ہار گئے۔ اس فیصلے پر ملک بھر میں کرکٹ کے تمام شائقین ناراض ہو گئے۔ جب ان کی طرف سے شدید احتجاج ہوا اور خصوصاً میڈیا نے جستجو کر کے وجہ دریافت کی کہ سرفراز کو بلانے کا فیصلہ کس نے سبوتاژ کیا؟ تو پتہ چلا کہ یہ کارنامہ ہیڈ کوچ وقار یونس صاحب کا ہے۔ جب سرفراز احمد وہاں پہنچا‘ تو اس نے جاتے ہی اعلیٰ درجے کی کارکردگی دکھائی‘ جو وقار یونس کے لئے انتہائی پریشان کن تھی۔ کسی بھی ٹیم کے اچھے کھلاڑی کی عمدہ کارکردگی پر ہیڈ کوچ کو خوش ہونا چاہیے تھا‘ لیکن ہمارے ہیڈ کوچ صاحب اس پر بہت گھبرائے ہوئے تھے اور وہاں بیٹھے پریس بریفنگ دیتے ہوئے‘ جب ان سے سرفراز کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا اور بہت ہی برے لہجے میں ہذیان بکنے لگے۔ انہوں نے واپسی پر بورڈ کی اصلاح کے لئے ایک رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ کے بعض حصے منظر عام پر آ گئے۔ جس سے موصوف بہت بوکھلائے اور جگہ جگہ چکر لگا کر اپنا موقف بیان کرتے رہے۔ مگر کسی نے اہمیت نہ دی۔ انہیں بورڈ سے فارغ کیا جا چکا ہے‘ مگر اب بھی شکایت کرتے پھر رہے ہیں کہ میری سفارشات پر عمل کیا جاتا‘ تو پاکستانی کرکٹ کی دنیا بدل جاتی۔ جس طرح کی دنیا وقار یونس بدلنا چاہتے تھے‘ انہیں خاطر جمع رکھنا چاہیے‘ اب بھی انہی کی طرح کے لوگ کرکٹ میں آ رہے ہیں۔ ویسے ہی پیران تسمہ پا‘ کرکٹ کے کندھوں پر بیٹھے ہیں‘ جن کے سرغنہ جناب نجم سیٹھی ہیں۔ جب تک اس طرح کے لوگ بیٹھے رہیں گے‘ پاکستانی کرکٹ زوال پذیر ہی رہے گی۔ نجم سیٹھی پیسہ کمانے کے سوا‘ کسی بھی مشن میں کامیاب نہیں رہے۔ انہوں نے اپنا میگزین نکالا‘ مگر وہ بھی لنگڑاتا ہی رہا۔ اخبار نکالا‘ وہ بند ہو گیا۔ اب کرکٹ چلانے آئے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ قومی کرکٹ کی بحالی کے لئے دعا کروں‘ لیکن مجھے معلوم ہے کہ نجم سیٹھی کے ہوتے ہوئے کوئی دعا قبول نہیں ہو سکتی۔ 
میں نے کرکٹ کے حالات بدلنے کے لئے تجویز پیش کی ہے کہ بورڈ کی ساری انتظامیہ کو بدل کے رکھ دیا جائے۔ جتنے پرانے ملازمین‘ کھلاڑیوں کو سازشوں کے جال میں الجھاتے ہیں‘ جب تک وہ بورڈ کے اندر رہیں گے‘ کرکٹ کا یہی حال رہے گا۔ یہ خود بھی بورڈ کے دفتر کی سیڑھیاں نہیں چڑھ سکتے اور ہماری کرکٹ بھی ترقی کی سیڑھی نہیں چڑھ سکے گی۔ کرکٹ ایک کھیل ہے۔ کھیل ایک شوق ہوتا ہے۔ جب سے یہ پیشہ بنی ہے‘ تباہ و برباد ہو کے رہ گئی ہے۔ انڈیا میں طویل عرصے تک ڈالمیا کرکٹ کو چلاتے رہے۔ وہ امیر کبیر آدمی تھے اور جہاں بھی پیسے کی ضرورت پڑتی‘ وہ اپنی بزنس کمپنیوں سے دے دیتے۔ آج تو بھارتی کرکٹ‘ میچوں کی آمدنی سے ہی مالا مال ہے اور خوب پھول پھل رہی ہے۔ اب تو پاکستان میں بھی خدا کے فضل سے بے شمار لوگ مالدار ہو چکے ہیں۔ ان میں سے کسی کو کرکٹ کا شوق ہو‘ تو وزیر اعظم اسے خود دعوت دے کر‘ یہ کام سونپ سکتے ہیں۔ ایسے شخص کو بورڈ کے پیسے میں کوئی دلچسپی نہیں ہو گی‘ بلکہ بوقت ضرورت اپنی جیب سے پیسہ دے کر مسائل حل کرتا رہے گا۔ اسے دلچسپی صرف یہ ہو گی کہ کھیل‘ خرابیوں سے پاک ہو کر بہتر ہوتا رہے۔ وہ بورڈ کے سارے کام کھلاڑیوں کے سپرد کر دے۔ ایسے کھلاڑی جو خود بھی جوان ہوں۔ کھیل کود کام ہی بچوں اور جوانوں کا ہے۔ وہ ضعیف کھلاڑی‘ جو ریٹائرمنٹ کے قریب آ چکے ہیں یا ریٹائر ہونے والے ہیں‘ انہیں فوری طور پر بورڈ میں کسی ڈیوٹی پر لگا دیا جائے اور ڈیوٹی ایسی ہو‘ جو کھیل کو بہتر بنانے میں حصہ ڈال سکے۔ مل جل کر کرکٹ کو سنبھالا جائے گا‘ تو پاکستان میں آج بھی اچھے کھلاڑیوں کی کمی نہیں۔ ہماری کرکٹ کا بیڑا غرق پیشہ وروں نے کیا ہے۔ جب کھلاڑی اسے کھیل سمجھ کر کھیلیں گے‘ تو جوڑ توڑ اور سازش کا از خود خاتمہ ہو جائے گا۔ ورنہ جہاں نوکری ہے‘ وہاں سازش ہے اور جہاں سازش ہے‘ وہاں کام نہیں ہو سکتا۔ یہی مرض کرکٹ کو لاحق ہے۔ اسے دوبارہ کھیل بنا دیا جائے تو پاکستانی شائقین کو ان کا محبوب کھیل واپس مل سکتا ہے۔


Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved