تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     13-04-2016

عقل اور ہیجان … آمنے سامنے

جس معاشرے میں علیؓ ابن ابی طالب جیسے داماد نہ ہوں، وہاں عمرؓ ابن خطاب جیسے حکمران نہیں ہو سکتے۔ ہم پہلے حصے پر تو ایمان رکھتے ہیں، دوسرے پر نہیں۔ آج اختلاف مؤقف کا نہیں، حکمتِ عملی کا ہے۔
عمران خان کی کامیابی ہی، اس معاشرے کی اصل ناکامی ہے۔ انہوں نے رومان اور ہیجان کو فروغ دیا اور عقل و خرد کے دروازوں کو بند کر دیا۔ عمران کو فائدہ یہ ہوا کہ ان کے حامیوں تک دوسرے نقطہ نظر کی پہنچ مشکل ہو گئی ہے۔ ان سے اب مکالمہ نہیں ہو سکتا۔ صرف اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ یہی اس معاشرے کا المیہ بھی ہے۔ محبت اور نفرت میں عدم توازن۔ ایک طرف کوئی خوبی نہیں اور دوسری طرف کوئی برائی نہیں۔ مکالمہ کم و بیش ناممکن ہو گیا۔ جہاں مکالمے کا دروازہ بند ہو جائے وہاں ذہنی ارتقا رک جاتا ہے۔ معاشرتی سطح پر تقسیم کا عمل گہرا ہو جاتا ہے اور نفرت بڑھنے لگتی ہے۔
مذہب کے میدان میں ہم اس کے اثرات بچشمِ سر دیکھ چکے۔ مذہب میں رومان ہے یا ہیجان۔ پیری مریدی اور فرقہ واریت کا سارا کاروبار اسی وجہ سے زندہ ہے کہ مرید اور کارکن نہ سوچتا ہے نہ کچھ ماننے پر آمادہ ہے۔ پیر صاحب ہیجان برپا کر دیں تو مرید جان دینے نکل پڑتا ہے۔ سوال کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کچھ دن پہلے راولپنڈی میں ایک پیرزادے کی شادی ہوئی۔ اصراف کے ایسے مناظر چشمِ فلک نے کم دیکھے ہوں گے۔ ایک چینل نے بارات کے چند مناظر دکھائے۔ سوشل میڈیا پر تصاویر بھی موجود ہیں اور روداد بھی۔ اپنی آنکھوں کے ساتھ سب کچھ دیکھنے کے باوجود، ان کے مرید اپنی جگہ قائم و دائم ہیں۔ کل ہی میں نے برسرِ دیوار ان کا باتصویر اشتہار دیکھا جس میں پیر صاحب اور ان کے جواں سال بیٹے کو راہبرِ شریعت اور پیر طریقت لکھا گیا اور ساتھ ہی رئیس المفسرین و المحدثین بھی۔ یہ اپنی نوعیت کی واحد مثال نہیں۔ ابھی دھرنے میں بھی ہم دیکھ چکے کہ شیخ الحدیث کہلوانے والے ماں بہن کی گالیاں دے رہے ہیں‘ اور مرید اس پر بھی نعرۂ تکبیر بلند کر رہے ہیں۔ ہیجان اور رومان کا نتیجہ یہی ہو سکتا ہے۔
سیاست میں بھی یہی ہوتا آیا ہے۔ کبھی نظامِ مصطفیٰ کا رومان اور کبھی سوشلزم کا رومان۔ دونوں کا انجام ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے۔ ہمارے اہلِ سیاست و مذہب ایک رومانوی فضا بنا دیتے ہیں اور پھر عوام کو ایسے خواب دکھاتے ہیں‘ جن کی کوئی تعبیر نہیں ہوتی۔ عوام رومان میں مبتلا ہونے کے باعث یہ سوال نہیں اٹھاتے کہ یہ کیسے ہو گا؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی عوام شخصی اور خاندانی زندگی میں عملیت پسند ہوتے ہیں‘ لیکن جب حکمرانوں کی بات ہوتی ہے تو مثالیت پسند بن جاتے ہیں۔ وہ اپنے اس تضاد پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ جہاں مثالی داماد کا ملنا محال ہے وہاں مثالی حکمران کیسے مل سکتا ہے۔
کچھ دیر کے لیے اس مقدمے کو مان لیجیے کہ شریف فیملی پاکستان کا سب سے کرپٹ خاندان ہے جس سے نجات ہی میں قوم کی بھلائی ہے۔ اگر وہ خود اقتدار سے الگ نہیں ہوتے تو ان سے نجات کی ممکنہ صورت کیا ہے؟ یہی کہ دھرنے یا احتجاج سے انہیں اقتدار کے ایوانوں سے باہر نکالا جائے۔ میں یہ بھی فرض کر لیتا ہوں کہ ایسا ہو جاتا ہے۔ اب اقتدار کا ہما کس کے سر بیٹھے گا؟ اس کے دو جواب ہیں۔ فوج یا عوامی نمائندے۔ فوج کے لیے تو ظاہر ہے کہ کسی قانونی تکلف کی ضرورت نہیں۔ دس کور متحرک ہو گا اور انتقالِ اقتدار ہو جائے گا۔ کیا عمران خان کی منزل یہی ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتے۔ 
عوامی نمائندوں کے برسرِ اقتدار آنے کی واحد آئینی صورت انتخابات ہیں۔ کیا اس وقت کوئی سیاسی جماعت انتخابات کے لیے تیار ہے؟ تحریک انصاف اب واضح طور پر دو دھڑوں میں بٹ چکی۔ عمران خان خواہش اور کوشش کے باوجود جماعتی انتخابات کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ کیا ایسی منتشر جماعت انتخابات کے لیے تیار ہے؟ صاف معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ حالات میں تحریکِ انصاف انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انتخابات محض عوامی تائید سے نہیں لڑے جاتے۔ یہ ایک فن ہے۔ جو نہیں جانتا، جیت نہیں سکتا۔ اس میں صحیح امیدوار کے انتخاب سے لے کر انتخابی مہم تک بہت سے مراحل آتے ہیں۔ پی ٹی آئی کسی ایک کے لیے تیار نہیں۔ انتخابات کے آرٹ سے، سب سے زیادہ ن لیگ ہی واقف ہے۔ اب انتخابات کے بعد ن لیگ یا کسی دوسری جماعت ہی کو برسرِ اقتدار آنا ہے تو اس ہیجان اور رومان کا فائدہ؟ جب تحریک ِانصاف کے حامیوں کو یہ بات سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے‘ تو دلیل کا وزن محسوس کرنے کے بجائے، اس کا جواب ہوتا ہے کہ یہ شریف خاندان کی کرپشن کو سہارا دیا جا رہا ہے اور اس کے محرکات شخصی اور مادی ہیں۔
میں شخصی الزامات اور گالیوں کا جواب دینے پر یقین نہیں رکھتا۔ ہم سب اس سماج میں رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے اجنبی نہیں۔ مجھے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہوئے کئی سال ہو گئے۔ میں جیسا ہوں لوگوں کے لیے جاننا مشکل نہیں۔ میں خود کو چھپانا چاہوں بھی تو اس دور میں یہ آسان نہیں۔ اگر کوئی بے بنیاد الزام دھرتا ہے تو میرا خدا دیکھ رہا ہے۔ رہی گالی تو مجھ میں گالی دینے کی صلاحیت ہی نہیں۔ اس لیے میرے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ میں لوگوں کو اپنی دلیل کی طرف متوجہ کروں۔ یہ مکالمے کی فضا ہی میں ممکن ہے۔ افسوس کہ ہیجان اور رومان کی فضا میں یہ دروازہ بند ہو جاتا ہے۔
سوال سادہ ہے: کون کرپٹ ہے اور کون نہیں، اس کا فیصلہ کون کرے گا؟ انسانی تاریخ انصاف کی دو صورتوں سے واقف ہے: ایک عدالتی (Court Justice) اور ایک عوامی (Street Justice)۔ انقلاب میں عوامی انصاف کی صورت وہی ہوتی ہے جو فرانس میں ہوئی۔ ایوانِ اقتدار کے مکینوں کے خلاف عوام کو بھڑکایا جائے اور انہیں گلیوں میں گھسیٹا جائے۔ جمہوری انقلاب کے بعد عوامی انصاف کا طریقہ انتخابات ہیں۔ لوگ اپنے ووٹ سے انہیں حقِ اقتدار سے محروم کر دیں‘ جنہیں وہ کرپٹ اور اپنے حقوق کا غاصب سمجھتے ہیں۔ جمہوریت میں عدالتی اور عوامی انصاف بیک وقت ممکن ہے۔ اب ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمیں کس طرح انصاف لینا ہے۔ جنہیں ہم غاصب سمجھتے ہیں، انہیں گلیوں میں گھسیٹنا چاہتے ہیں یا عدالت سے انصاف طلب کرتے ہیں؟ اگر کوئی دوسری صورت کا قائل ہے تو پھر اس کے پاس واحد راستہ یہی ہے کہ وہ عدالتوں میں جائے اور ساتھ ہی حکمرانوں کے خلاف رائے عامہ کو بیدار کرے۔ جب انتخابات کا وقت آئے تو عوام کے فیصلے کو قبول کر لے۔ اگر کوئی پہلی صورت کا حامی ہے تو پھر وہ حکمرانوں کے گھروں کا گھیراؤ کرے۔ انہیں باہر کھینچ لائے اور عوامی انصاف کے لیے لوگوں کے حوالے کر دے۔ یہ اس بات کا اعلان ہو گا کہ آپ جمہوریت نہیں، انقلاب کے قائل ہیں۔
میں اس کا قائل نہیں۔ میرے نزدیک یہ معاشرے کو فساد اور فتنے میں مبتلا کرنا ہے۔ زندگی کے معاملات کو رومان کے بجائے حقیقت کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ پہلی بات یہ سمجھنی چاہیے کہ قیادت معاشرے کی عمومی اخلاقی حالت کا پرتو ہوتی ہے۔ ہمیں موجود میں سے بہتر کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ جیسے ہم ملازمت اور رشتے کا انتخاب کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ معاشرے میں تبدیلی تدریجاً آتی ہے۔ انقلاب ایک واہمہ ہے۔ اس سے جذبہ انتقام کی تسکین تو ممکن ہے بہتری کا امکان نہیں۔ ہم جس مثالی سیاسی قیادت کی بات کرتے ہیں، اس کے لیے سماجی تبدیلی مقدم ہے۔ میری تنقید ان کے مقدمے سے زیادہ ان کی حکمتِ عملی پر ہے۔
اس کا یہ مفہوم قطعی نہیں کہ بہتری کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ یہ کوشش تو لازم اور زندگی کی علامت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہ کوشش بہتری کے لیے یا مزید خرابی کے لیے۔ اس وقت جو میسر ہے اسے کھونے کے بجائے ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔ عمران خان قوم کو جس تصادم کی طرف لے جا رہے ہیں، اس کا نتیجہ بہتر نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف ہیجان ہے اور رومان۔ افسوس یہ ہے کہ اس فضا میں عقل و خرد کی نہیں سنی جاتی۔ یہی عمران خان کی کامیابی ہے اور یہی اس معاشرے کا المیہ بھی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved