تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     20-04-2016

شکریہ سپریم کورٹ

1999ء سے 2012ء تک کا برطانیہ کا لینڈ رجسٹری ڈیٹا مظہر ہے کہ BVI (برٹش ورجن آئی لینڈ)میں غیر قانونی سرمائے کو سفید کرنے کے لیے ایک لاکھ اپارٹمنٹس صرف انگلینڈ میں مختلف آف شور کمپنیوں کے ناموں سے خریدے گئے۔ ریکارڈ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ ان ایک لاکھ اپارٹمنٹس میں سے صرف لندن میں خریدے جانے والے اپارٹمنٹس اور عمارات کی تعداد چالیس فیصد ہے۔ 2013ء میں ون ہائیڈ پارک کے ان مشہور اپارٹمنٹس کے بارے میں Vanity Fair کی رپورٹ کے مطا بق یہ اپارٹمنٹس دنیا کے مہنگے ترین اپارٹمنٹس ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ ون ہائیڈ پارک کے ان 86 اپارٹمنٹس میں سے32 برٹش ورجن آئی لینڈ کی آف شور کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔ پاکستان کا کوئی ادارہ، پارلیمنٹ یا عدالت ملک سے لوٹی گئی آف شور کمپنیوں کی یہ دولت واپس لانے کی کوشش کرے تو اس راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہو گی کیونکہ بی وی آئی میں کریمنل کنڈکٹ ایکٹ1997ء اور اینٹی منی لانڈرنگ ریگولیشن 2008ء کے مطا بق یہ دولت اس ملک کو واپس لینے کا حق ہے جہاں سے یہ غیر قانونی طریقے سے لائی گئی لیکن اس کیلئے ثابت قدمی اور سنجیدگی اختیار کرنا ضروری ہے کیونکہ ایسا نہ کرنے کی وجہ سے اب تک بی وی آئی کی عدالتوں میں کسی بھی بیرونی حکومت کی اپیل پر توجہ نہیں دی گئی کہ وہ اپنے ملک سے لوٹا ہوا بلیک منی واپس لے جائیں، سوائے حسنی مبارک کے۔ جب اس کا ٹرائل شروع ہوا تو اس کے بیٹے اعلا کی کمپنی ''پان ورلڈ‘‘ کو منجمد کر دیاگیا۔ پھر قذافی کے بیٹے سعد قذافی کی آف شور کمپنیCapitana Seas Ltd. کے ذریعے خریدے جانے والے دس ملین ڈالر کے گھر واقع 7ولنگٹن کو انگلینڈ ہائیکورٹ نے سیل کر دیا۔ سولہ اپریل کے روزنامہ دنیا کے صفحہ اول پر شائع ہونے والی خبر پڑھنے کے بعد بے ساختہ، شکریہ سپریم کورٹ، کہنے کو دل چاہتا ہے۔ خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے ایک اخبار( دنیا نہیں) کی جمعہ کی اشاعت میں پیش کی گئی لیڈ سٹوری کوجھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا ہے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ ارباب محمد عارف نے واضح کیا کہ اس خبر سے سپریم کورٹ کا کوئی تعلق نہیں ان کا کہنا ہے کہ ''مجھے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے خود فون کرتے ہوئے اس خبر کی اشاعت کے بارے میں آگاہ کیا۔ اب میں میڈیا کے سامنے جو کچھ بھی کہہ رہا ہوں، ان کی اجا زت سے کہہ رہا ہوں‘‘ ارباب عارف سے جب سوال کیا گیا کہ سپریم کورٹ سے آپ کی کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے کہا سپریم کورٹ کے تمام معزز جسٹس حضرات۔سپریم کورٹ کی جانب سے میڈیا کو دی جانے والی اس مختصر بریفنگ کے بعد یقینا پاکستانیوں کو بھی دلی اطمینان اور تسلی ہوگئی ہو گی کہ ابھی ان کے ملک میں انصاف کی رمق باقی ہے، ورنہ تو سب حیران ہو کر سوچ رہے تھے کہ جس معاشرے سے انصاف نچلی سطح سے لے کر سب سے اونچی سطح پر بھی معذور ہو کر رہ جائے تو وہ معاشرہ کب تک اپنا وجود برقرار رکھ سکے گا؟ سولہ اپریل کے ہی اخبارات میں امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے پانامہ لیکس میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کا نام آنے پر پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں کہا '' دنیا میں کرپشن سے انتہا پسندی، اقتصادی عدم استحکام میں اضافہ ہوتا ہے اور سب جانتے ہیں کہ امریکہ اس معاملے میں بہت ہی سنجیدہ ہے‘‘ پانامہ لیکس کی خبر آنے کے بعد چند دن تک مسلم لیگ نواز کی حکومت بوکھلا سی گئی تھی؛ تاہم اب حالات کو اپنے حق میں کرنے کیلئے کافی سنجیدہ ہو گئی ہے اور حسب معمول'' حکیم خدا بخش‘‘ والا وہی پرانا اور آزمودہ نسخہ استعمال میں لا نا شروع کر دیا گیا ہے جس کی جانب آج سے کوئی پچیس سال قبل نجم سیٹھی نے اپنے اخبار میں اشارہ کیا تھا۔ ایسے ایسے جگادری جو دس اپریل سے پہلے کی شام تک اپنے پروگراموں میں گلاپھاڑ پھاڑ کر میاں نواز شریف حکومت کی کرپشن کے لتے لیتے تھے اچانک پانامہ لیکس کو سوائے جھوٹ کے کچھ بھی سمجھنے کو تیار نہیں۔ پانامہ لیکس تو صرف ابتدا ہے کیونکہ ابھی بہت کچھ باقی ہے کیونکہ برٹش ورجن آئی لینڈ کے علاوہ'' کے من آئی لینڈ، برمودا اور کُک آئی لینڈ کی لیکس بھی سامنے آنے والی ہیں ۔ہاں یہ بات سچ ہے کہ ان سب میں سے برٹش ورجن آئی لینڈ جو برطانیہ کے دائرہ اختیار میں تو ہے لیکن اپنے طور پرخود مختار ہونے کی وجہ سے بلیک منی کیلئے دنیا کی سب سے اہم ترین اور محفوظ جگہ ہے جہاں بہت ہی آسانی سے کالا دھن کھپایا اور چھپایا جا سکتا ہے ۔برٹش ورجن آئی لینڈ چھوٹے چھوٹے 60 جزیروں پر مشتمل ہے بہت ہی کم آبادی والے اس برٹش ورجن میں ایک اندازے کے مطا بق کل40 آف شور کمپنیاں ہیں۔
یہاں کے مرکزی جزیرےTortola کی ہوائی پٹی کوئی بڑی نہیں ہے کہ یہاں بڑے بڑے جہاز اتر سکیں اس لئے یہاں پر آنے والے بڑے بڑے ٹائیکون برٹش ورجن آنے کیلئے سب سے پہلے پیورٹوریکو اترتے ہیں اور پھر وہاں سے دس نشستوں والے چھوٹے سیسنا جہازوں سے یہاں پہنچتے ہیں۔یہ سب کٹھنائی اس لئے اختیار کی جاتی ہے کہ بی وی آئی کالے دھن والوں کیلئے سب سے محفوظ ترین جگہ ہے۔پاکستان میں ہر طرف یہی سوال کیا جا رہا ہے کہ یہ پانامہ لیکس کیا شے ہے تو اس سوال کا جواب دینے کیلئے جب شکاگو امریکہ میں فراڈ اور کالے دھن کی تفتیش کرنے والے ماہر Neal Levin ن سے پوچھا گیا تو اس نے اس کی تعریف کرتے ہوئے یہ دلچسپ فقرہ کہا ''We won't steal your money- But we will turn a blind eye if you steal some one else's. آپ یہ جان کر 
حیران رہ جائیں گے کہ بی وی آئی کے قانون کے مطابق ان آف شور کمپنیوں کے پیسے ان کے ہاں استعمال نہیں کئے جا سکتے بلکہ یہ تمام پیسے آف شور کمپنیوں کے ذریعے کسی دوسرے ملک میں استعمال میں لائے جاتے ہیں۔اب بھی اگر کوئی ان آف شور کمپنیوں کے خلاف سنجیدہ ہے اور لوٹی گئی دولت واپس لانا چاہتا ہے تو بی وی آئی کے قانون میںاس کی گنجائش موجود ہے اس کیلئے لندن، سپین یا جہاں پر بھی یہ دولت بھیجی یا خرچ کی گئی وہاں اور پاکستان میں فوجداری اور عدالتی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت کو اگر واقعی ہی واپس لانے کیلئے کوئی مخلص ہے تو اس کیلئے درج ذیل اقدامات کرنا ہوں گے۔ اول، برٹش ورجن آئی لینڈ یا جہاں پر آف شور کمپنیوں کی خریدی جانے والی جائدادیں موجو دہیں وہاں قانونی کارروائی کی جائے اور ایسا کرنے سے پہلے پاکستان میں ایسی آف شور کمپنیوں یا ان کے مالکان کے خلافOn prima Facie evidence کرپشن کے مقدمات درج کرانے ہوں گے۔دوم،چیف جسٹس سپریم کورٹ کے تحت ایک مکمل با اختیار جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے جس میں ٹیکنیکل لوگ بھی شامل ہوں تاکہ اس کمیشن کی جانب سے کی جانے والی انکوائری کوبا اعتماد سمجھا جا سکے۔ سوم، جوڈیشل کمیشن کیلئے بھاری فنڈز مختص کئے جا ئیں تاکہ تفتیشی اور تحقیقی عمل کیلئے اسے بی وی آئی سمیت کسی بھی جگہ کا ریکارڈ دیکھنے کیلئے اپنے رکن کو بھیجنا پڑے تو کسی کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہ ہو۔ رضا ربانی کے تحت انکوائری کمیشن کی تشکیل پر تحریک انصاف کی آمادگی سے ظاہر ہو گیا کہ شاہ محمود قریشی ایک اور ہاتھ کر گئے ہیںکیونکہ وہ جانتے ہیں کہ'' رضا ربانی کا دوسرا نام نواز شریف ہے‘‘ ۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved