تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     30-04-2016

لیڈر

خوابوں کی روایت کا معاملہ الگ ہے، امر واقعہ یہ ہے کہ قائد اعظم قیادت کے اس معیار پر پورا نہیں اترتے تھے جو مذہبی فکر میں تشکیل پاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس کے باوجود کیا سبب ہے کہ وہ مولانا اشرف علی تھانوی سے لے کر جماعت علی شاہ تک، مسلکی تقسیم سے ماورا، اہل مذہب کے لیے قابل قبول بن گئے؟
ہماری مذہبی فکر کی تشکیل میں بنیادی پتھر روایت ہے۔ یہ فکر کے اعتبار سے ہے اور تہذیبی اعتبار سے بھی۔ عرب کلچر، مذہبی لاشعور میں، مذہب ہی کا ایک حصہ ہے۔ اس لیے ہماری مذہبی روایت میں اس سے قریب تر رہنے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے۔ دینی مدارس میں جو شخصیات ڈھلتی ہیں، وہ فکر ہی نہیں حلیے کے اعتبار سے بھی غیر مذہبی لوگوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر سر پر ٹوپی رکھنا اس روایت کا ایک حصہ ہے۔ ایک طالب علم سے لے کر معلم تک، سب اس کا لحاظ رکھتے ہیں۔ مدرسے میں ٹوپی پہننا لازم ہے۔ داڑھی کی بات دوسری ہے کہ ہماری روایتی مذہبی فکر میں یہ دین کا حصہ ہے، لیکن ٹوپی کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ اس کے باوجود مدرسے میں ٹوپی پہننا لازم ہے۔ یہ اس لیے کہ یہ نظام تہذیبی اعتبار سے بھی جو انسان پیدا کرنا چاہتا ہے وہ ٹوپی سے بے نیاز نہیں ہوتا۔
قائد اعظم تہذیبی اعتبار سے سے بالکل مختلف تھے۔ وہ جدید آدمی تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ان کا لباس اور رہن سہن کیسا تھا۔ یہ ظاہری لبادہ ایک مذہبی فکر کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ حتیٰ کہ مولانا مودودی کے لیے بھی نہیں، جو نسبتاً ایک جدید عالم دین تھے۔ انہیں بھی مسلم لیگ کی صفوں میں ایک ایسا آدمی دکھائی نہیں دیا‘ جو اسلامی کردار کا نمونہ ہو۔ اس کے باوجود اگر اہل مذہب کے ایک بڑے طبقے نے قائد اعظم کو اپنی سیاسی قیادت کے لیے منتخب کیا تو کیوں؟ اس کا جواب جماعت علی شاہ صاحب نے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت مسلمان قوم کو ایک مقدمہ درپیش ہے اور اسے ایک وکیل کی ضرورت ہے۔ وکیل میں یہ صفات ہونی چاہئیں کہ وہ دیانت دار ہو اور اہل ہو۔ قائد اعظم میں یہ دونوں خصوصیات موجود ہیں۔
میرا احساس ہے کہ یہی خیال قائد اعظم کے بارے میں دیگر علماء کا بھی تھا‘ جنہوں نے تحریک پاکستان میں ان کی قیادت کو قبول کیا۔ جن کا خیال یہ تھا کہ تقسیم ہند ہی مسلمانوں کے مسائل کا حل ہے، انہوں نے محمد علی جناح کو قائد اعظم مان لیا۔ گویا سیاست کا مسئلہ مثالی اور غیر مثالی میں تقسیم کا نہیں ہے۔ اس باب میں حقیقت پسندی کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی، شخصی اعتبار سے، جس میں سرفہرست علم و فضل ہے، ممکن ہے مولانا ابوالکلام آزاد کو ترجیح دیتے ہوں، لیکن سیاسی میدان میں ان کا انتخاب قائد اعظم ہی تھے۔
آج پاکستان کے عوام کو بھی ایک مقدمہ درپیش ہے۔ یہ پاکستان کا مقدمہ ہے۔ اس وقت ملک کو امن، استحکام اور جمہوریت کی ضرورت ہے۔ امن اور معاشی استحکام کے اعتبار سے ہم زیادہ برے دور سے گزر چکے۔ امن کو دہشت گردی اور معیشت کو بدانتظامی کاچیلنج درپیش تھا۔ ساری دنیا تسلیم کر رہی ہے کہ آج صورت حال تبدیل ہو چکی۔ سیاسی قیادت نے ایک عزم کیا اور پاک فوج نے دہشت گردی کے عفریت کو بڑی حد تک قابو کر لیا۔ معاشی استحکام چونکہ امن سے وابستہ ہے، اس لیے اقتصادی سرگرمی کا دروازہ بھی کھل گیا۔
مسائل ان گنت ہیں۔ ہر مسئلہ اپنی جگہ اہم ہے۔ سوال لیکن ترجیح کا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون سا مسئلہ سب سے اہم ہے۔ مجھے اس میں رتی بھر شبہ نہیں کہ آج کا سب سے بڑا مسئلہ سیاسی استحکام ہے، معاشی استحکام جس سے وابستہ ہے۔ امن اور سیاسی استحکام کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ استحکام صرف حکومت کا کام نہیں ہے۔ اس میں اپوزیشن سمیت سب کی ذمہ داری شامل ہے۔ اپوزیشن کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ جس نظام کا حصہ ہے، اسے کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ وہ حکومت کو اس پر مجبور کرے کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائے، جو نظام کو پٹڑی سے اتار دے۔ نظام سے وفاداری اپوزیشن کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ 
تاہم اس کا یہ مفہوم بھی نہیں ہے کہ وہ حکومت پر تنقید نہ کرے۔ اس کی کمزوریوں پر پردہ ڈالے۔ اگر وہ کسی خرابی میں ملوث ہے تو عوام کو اس سے آگاہ نہ کرے۔ پانامہ لیکس میں لوگ برطانوی وزیر اعظم کیمرون کا ذکر کرتے ہیں‘ لیکن وہاں کی اپوزیشن کا کردار بیان نہیں کرتے۔ وہاں کی اپوزیشن وزیر اعظم کی کمزوری کو نمایاں کر رہی ہے‘ لیکن اس نے کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جو نظام کو کسی خطرے میں ڈال دے۔ یہی جمہوریت ہے۔ اس کو کامیاب بنانا صرف حکومت کی نہیں تمام سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے۔
حکومت کا رویہ اپوزیشن سے بھی اہم تر ہے۔ حکومت کی کارکردگی اور رویے، دونوں سے یہ تاثر ملنا چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہے۔ اگر حکمران غیر سنجیدہ دکھائی دیں تو اس سے بھی نظام پر عوام کا اعتبار قائم نہیں رہتا۔ چند روز پہلے اخبار میں ایک تصور شائع ہوئی کہ وزیر اعظم لندن میں مہنگی ترین گھڑیوں کی ایک دکان پر خریداری کر رہے ہیں۔ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مسائل میں گھری قوم کی نفسیات پر اس کا کیا اثر مرتب ہو ا ہو گا‘ جب اس نے یہ تصویر دیکھی ہو گی۔ کیا اس نے سوچا ہو گا کہ ہماری حکومت ہمارے مسائل کے بارے میں متفکر ہے یا اسے یہ خیال آیا ہو گا کہ حکمران عوام سے بے خبر اپنی عیاشیوں میں مصروف ہیں؟ میں تو یہ نہیں جان سکا کہ اس مرحلے پر نئی گھڑی کی ضرورت کیا تھی۔ پھر اس طرح اعلانیہ یہ خریداری تو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنا ہے۔ ہمیں تو یہ ہدایت ہے کہ پھل کھا کر چھلکے دروازے کے سامنے نہ ڈالے جائیں کہ کہیں پڑوسی کے بچوں کو یہ میسر نہ ہو‘ اور وہ محرومی کے کسی احساس سے دوچار ہو۔ 
چند سال پہلے تک دنیا یہ سوال اٹھا رہی تھی کہ کیا پاکستان ایک ناکام ریاست ہے؟ یہ ایک سنجیدہ سوال تھا اور اس میں دو مختلف آرا پائی جاتی تھیں۔ آج اللہ کا شکر ہے کہ یہ قصہ پارینہ ہے۔ دنیا میں کوئی پاکستان کو ناکام ریاست نہیں کہتا۔ اس کے برخلاف گواہیاں موجود ہیں جو کہتی ہیں کہ پاکستان کے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ یہ بہتری اسی لیے ممکن ہوئی کہ یہاں کوئی نظام موجود تھا۔ سماج میں بہتری کی صلاحیت تھی۔ جمہوری عمل میں تسلسل رہا۔ اگر آج ضربِ عضب کامیاب ہوئی تو اس کی بڑی وجہ ملک کا سیاسی استحکام ہے۔ یہ ایک منتخب جمہوری حکومت کا فیصلہ تھا‘ جسے تما م سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل تھی۔ اس کے بعد سماج میں موجود طالبان کے حامیوں کو بھی یہ ہمت نہ ہو سکی کہ وہ اس پر انگلی اٹھاتے۔ بلوچستان اور کراچی کا امن بھی جمہوریت کی دین ہے۔ اگر پس منظر میں سیاسی قوت نہ ہوتی تو رینجرز متنازع ہو جاتے اور اس آپریشن کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھتے۔
آج ہمیں دیکھنا ہے کہ کون سا راہنما ایسا ہے جو پاکستان کو امن اور سیاسی استحکام دے سکتا ہے اور کون ہے جو معاشرے اور ریاست کو مسلسل ہیجان اور اضطراب میں رکھنا چاہتا ہے۔ مسئلہ کسی کے مثالی اور غیر مثالی ہونے کا نہیں عملی ہے، تحریکِ پاکستان کی طرح۔ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کو ایک مقدمہ درپیش تھا۔ علما اور مشائخ نے جانا کہ یہ مقدمہ قائد اعظم ہی لڑ سکتے ہیں۔ آج پھر ہمیں ایک مقدمے کا سامنا ہے۔ ہیجان یا امن، احتجاج یا استحکام؟ اگر موقف واضح ہو تو پھر لیڈر کا انتخاب مشکل نہیں ہو گا۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved