تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     19-05-2016

حج کے لئے ایمان اور صبر لازم ہے !

نئی حج پالیسی کے بعد عازمین کی درخواستوں کی قرعہ اندازی مکمل ہو چکی ہے۔ 4 اگست سے حج پروازوں کی پاکستان سے جدہ کے لئے روانگی شروع ہو گی۔ فریضہ حج کی ادائی کے سلسلے میں اﷲ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد کا مفہوم یہ ہے کہ تم میں سے جس کو توفیق ہو وہ حج کرے۔ اسلام کے پانچویں رکن کی حیثیت سے 9 ہجری میں حج ان مسلمانوں پر فرض ہوا جو اس کی استطاعت رکھتے ہیں۔ حج کی سب سے نمایاں اور دلکش روح وہ ہے جو اس کے تمام مناسک میں نظر آتی ہے۔۔۔۔ عشق و شوریدگی اور قربان ہو جانے کا جذبہ جس میں جسم و عقل کی لگام اطاعت الٰہی کے حوالے کر دی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیم و حضرت اسمٰعیل علیھما السلام اور حضرت بی بی حاجرہ سلام اللہ علیھا کی سنت ادا کرتے ہوئے عشق و محبت کا جذبہ مناسک حج ادا کرنے والوں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کی رحمت و عنایت کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا بہترین اور مو ثر ذریعہ ہے۔ جس نے بھی اس محبت کا مزہ چکھا اس کے لئے اس سے زیادہ پرکیف اور دلفریب کوئی دوسری چیز نہیں ہو سکتی۔ اس کا سرور اور مہک حاجی کے احساسات اور دل و دما غ کو ہمیشہ معطر رکھتی ہے۔ حج پر جانے کا ارادہ کرنے والے شخص کو یہ بنیادی حکم لازمی طور پر ذہن نشین کرنا چاہیے کہ ''حج مبرور‘‘ یہ ہے جس کی ادائیگی کے دوران کوئی گناہ سرزد نہ ہو اور حج کے تمام اعمال سنت رسول مقبولﷺ کے مطا بق ادا ہوں۔ مقام افسوس ہے کہ ہر چند سال بعد مناسک حج کی ادائی کے دوران جو بد نظمی اور وحشت سے تباہی پھیلتی ہے یہ سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت کا با عث بن جاتی ہے۔ سنت رسولﷺ کی اتباع اس طرح ادا نہیں ہوتی۔ مناسک حج ادا کرنے کے دوران اگر کسی سے یہ غلطی جان بوجھ کر سر زد ہوتی ہے تو اس کا حج مبرورنہیں ہوگا۔گزشتہ سال حج کے موقع پر مچنے والی بھگدڑ اور افراتفری کے نتیجے میں سینکڑوں شہادتوں پر پھیلی ہوئی کہانی کو لفظوں میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ جو لوگ اس سال حج کی سعادت سے فیض یاب ہوئے اور قیامت کا یہ سماں اپنی آنکھوں سے دیکھا وہ بیان کرتے ہیں کہ چاروں جانب سے لوگ شدید افراتفری، سخت تپش اور ہوا میں گھٹن کی وجہ سے ایک دوسرے کو وحشیانہ انداز میں دھکے دیتے، کچلتے طوفان کی مانند ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔ کسی کو کسی کا ہوش نہیں تھا؛ ہر طرف عورتوں، بچوں اور مردوں کی جان کنی کی حالت میں نکلنے والی دلدوز چیخیں تھیں۔ اس کے نتیجے میں برپا ہونے والی افراتفری کا یہ عالم تھا کہ لوگوں نے حج کا جو لباس جسموں پرلپیٹا ہوا تھا، اس کا بھی کسی کو ہوش نہ رہا۔ آج اس سانحے کو سات ماہ سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے اور وہ ہزاروں لاکھوں لوگ آج یقینا شرمندہ ہوتے ہوںگے کہ وہ ایک دوسرے کو بے رحمی سے کچلتے اور روندتے ہوئے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہیں اس کا احساس تب ہوا جب انہوں نے اپنے ارد گرد جان بچانے کے لئے دیوانوں کی طرح بھاگتے گرتے لوگوں کو تڑپتے دیکھا۔ 
ایک مسلمان جس کا تعلق امریکہ سے ہے، اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ اس بھگدڑ اور افراتفری کے دوران جب وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ لاشوں کے ڈھیروں کے بیچ میں سے نکلنے کی جدو جہد کر رہا تھا تو اچانک اس کے پائوں میںکوئی انتہائی تیز اور نوکیلی چیز اتر گئی جس نے اس کی چیخیں نکال دیں، دیکھا تو لاشوں کے نیچے دبی ہوئی ایک عورت اس کے پائوں پرکاٹتے ہوئے اپنے زندہ ہونے کا احساس دلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ لیکن وہ اس افراتفری میں اس کی جان بچانے سے معذور تھا کیونکہ اسے دوسرے لوگوں کے زور دار دھکوں نے دور پھینک دیا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ اللہ نے اسے نیچے گرنے سے بچا لیا ورنہ وہ بھی قدموں کی لگنے والی شدید ضربوں سے ہلاک ہو جاتا۔ آج بھی جب وہ روح فرسا مناظر کو یاد کرتا ہے تو اس کے ذہن میں روز محشر کے بارے میں اس حدیث مبارکہ کے الفاظ گھومنے لگتے ہیں کہ کسی ماں کو اپنے بچوں اور کسی اولاد کو اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں، خاوند اور بہن بھائی کی پروا نہیں ہوگی کہ وہ کہاں ہے، اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اس دن سب کو صرف اور صرف اپنی اپنی پڑی ہو گی ۔
دین اسلام نے ہر مسلمان کے لئے جن بنیادی اراکین کی پابندی لازمی قرار دی ہے ان میں اﷲ کی وحدانیت، اللہ کے رسول حضرت محمد مصطفی احمد مجتبیٰ ﷺ کی نبوت کا سچے دل سے اقرار، نماز پنجگانہ، ماہ رمضان کے روزے، زکوٰۃ ادا کرنا اور استطاعت رکھنے پر ایک بار حج کی سعادت شامل ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ جو شخص بیت اﷲ تک جانے اور اخراجات برداشت کرنے کے قابل ہو اس پر زندگی میں ایک مرتبہ حج فرض کر دیا گیا ہے۔ جو مسلمان حج کے اخراجات برداشت کرنے کی سکت رکھتے ہیں اور جن کی صحت بھی اس کی اجازت دیتی ہے، اگر وہ جان بوجھ کرحج سے گریز کریں تو وہ ان آیات کے منکرکہلائیں گے۔
احکامات الٰہی کی روشنی میں ہر مرد اور عورت کے لئے لازم ہے کہ وہ انسان کی فلاح و بہبود کو مقدم سمجھے، اس کی ذات سے کسی دوسرے انسان کو دکھ اور تکلیف نہ پہنچے۔ اگر کوئی مسلمان نماز، روزہ، حج کی پابندی کرتا ہے لیکن اس کے عمل سے دوسرے انسانوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اس کی سب عبا دتیں ضائع جائیںگی۔
آج دیکھ لیجیے کروڑوں کی تعداد میں مسلمان نماز، روزہ اور لاکھوںکی تعداد میں ہر سال حج کی سعادت حاصل کرتے ہیں لیکن کسی بھی اسلامی ملک میں آپ کو شریعت کی پابندی اور قرآن کے احکامات کی پیروی، ایک دوسرے سے محبت اور قربانی دینے کا جذبہ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ قرآن مجید میں کسی بھی جگہ پر یہ نہیں لکھا کہ سعودی عرب، ایران ،امارات، پاکستان اور ملائشیا کے مسلمانوں نے اپنے اپنے ملک کے مسلمانوں کا خیال رکھنا ہے اور صرف اپنے ہی ملک کے مسلمانوں سے محبت کر نی ہے۔ نہیں،ایسا بالکل نہیں کہا گیا، بلکہ یہ قرآن حکیم کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ قرآن پاک میں تو تمام بنی نوع انسان کی عزت و تکریم اور حرمت کا ذکر کیا گیا ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا رنگ اور نسل سے ہو۔
حج ایمان لانے والوں کی زندگیوں اور ان کے طرز عمل میں بنیادی تبدیلیاں لانے کا نام ہے۔ جو شخص حج کی سعادت سے مالا مال ہوتا ہے، اس سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایمان، تقویٰ، اخلاق، روحانیت، بہتر سوچ اوردوسروں سے نرم اور بہتر طرز عمل پر کار بند ہوگا۔ یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب حاجی قرآن پاک کے احکامات کو اپنے اوپر پوری طرح نافذ کرے۔ جس طرح بے نور آنکھوں سے دیکھا نہیں جا سکتا اسی طرح کوئی بیشک کسی متبرک مقام پر چلا جائے، جب تک اس کا دل اور دماغ اس مقام کی روحانیت اور عزت وکے سامنے سر نہیں جھکائے گا اسے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved