تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     26-05-2016

ڈرون حملہ اور ہماری تُک بندیاں

ایک عرصہ پہلے سے رکے ہوئے ڈرون حملے‘ ایک بار پھر پاک امریکہ تعلقات کو ناہموار راستے پر لے آئے ہیں۔یہ حملہ اپنے ساتھ پراسرار کہانیاں لے کر آیا۔ اس حملے کی نشانیاں بہت دنوں سے دکھائی دینے لگی تھیں۔ پاک امریکہ تعلقات میں بہت دن پہلے سے ہچکولے محسوس ہونے لگے تھے۔ ان میں سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا‘ جب اچانک پاکستان کو طے شدہ سودے کے تحت‘ اچانک F-16 طیارے دینے سے انکار کر دیا گیا۔ بتایا گیا کہ کانگرسی اراکین کی مخالفت کی وجہ سے‘ اس سودے کی تکمیل مشکل ہو گی۔ پاکستان چاہے تو نقد رقم دے کر یہ طیارے حاصل کر سکتا ہے۔ امریکہ کو معلوم تھا کہ پاکستان کسی سودے میں اتنی بڑی رقم نقد ادا نہیں کر سکتا۔ ہمارے پاس شور مچانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ مگر ہم نے یہ شور بہت دھیمی آواز میں اٹھایا۔ کیونکہ ہماری حکومت کی نہ تو کوئی خارجہ پالیسی ہے اور نہ ہی اس میں اچانک رونما ہونے والے حادثوں کے جھٹکے برداشت کرنے کی صلاحیت ہے۔ شاید F-16 طیاروں کی فراہمی سے‘ اچانک انکار کر کے‘ امریکہ نے سوچا ہو کہ پاکستانی ایسے جھٹکوں کو پہلے بھی صبر کر کے برداشت کرتے آئے ہیں‘ اس بار بھی چپ رہیں گے۔ یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔ واقعی وہی بات نکلی۔ آزمائے ہوئے بازوئوں نے کوئی حرکت نہ کی‘ تو امریکہ نے اچانک ایک ڈرون حملہ کر کے‘ پاکستانی حکومت کے اگلے ردعمل کا اندازہ کرنے کی کوشش کی۔ یہ ایک بہت بڑا سرپرائز تھا۔ ڈرون حملہ نوشکی اور ایرانی سرحد کے درمیان کہیں ویرانے میں کیا گیا۔ جس کی اطلاع بقول وزیراعظم پاکستان‘ انہیں 7گھنٹے بعد رات کے 10بجے دی گئی۔ ہمارے وزیراعظم سفر میں تھے۔ انہوں نے چوہدری نثار علی خاں کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ تفصیل سے ردعمل کا اظہار کریں۔ 
اس سے پہلے وہ آرمی چیف کے ساتھ بات کر چکے تھے۔ گویا پاکستان کا سارا سکیورٹی نظام حملے کے فوراً بعد پوری طرح باخبر نہیں تھا۔ ڈرون حملے کی خبر پر‘ ہمارے حکومتی عہدیدار پنگ پانگ کھیلتے رہے۔ اس سے اگلے مرحلے میں جو خبریں آئیں‘ وہ اندھوں کے انکشافات پر مبنی تھیں‘ جو انہوں نے ہاتھی کو ٹٹول ٹٹول کر حاصل کی تھیں۔ جس اندھے نے جتنا ہاتھی دیکھا‘ اس کے بارے میں ایمانداری سے اطلاع دے دی۔ ایسی ہی اطلاعیںڈرون حملے کی زد پہ آنے والی کار اور پورے حملے کے بارے میں تھیں۔ وزیراعظم نے فرمایا کہ ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے انہیں سات گھنٹے بعد حملے کی اطلاع دی۔ یہاں تک خبر بالکل صاف تھی۔ امریکہ کی طرف سے وزیراعظم کو جو پہلی اطلاع دی گئی وہ کافی دیر کے بعد تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ ہم نے طالبان کے امیر پر ڈرون حملہ کر کے‘ اسے مار دیا ہے۔ لیکن اس فوری اطلاع کے بعد‘ ہم دو دن تک کہاں کہاں بھٹکتے پھرے؟ جبکہ یہ حملہ ہمارے ہی ایک صوبے کے اندر ہوا۔ یہاں میرا ذہن ایک اور طرف بھی جا رہا ہے کہ کہیں حملے کی زد میں آنے والی کار‘ براہ راست امریکہ کا نشانہ ہی نہ ہو؟ کیونکہ دالبندین ضلع چاغی کی ایک یونین کونسل ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اس معمولی سی آبادی والے قصبے میں ایئرپورٹ بھی موجود ہے‘ جہاں جہازوں کی آمدورفت برائے نام ہے۔ اس کا سبب ہماری ایٹمی تجربہ گاہ ہے۔ دالبندین کا علاقہ اپنے حساس مراکز کی بنا پر ‘ہر وقت امریکہ کی نگرانی میں رہتا ہے۔ ہو سکتا ہے کار کی گزرگاہ ‘زیرنگرانی علاقے کے اندر سے گزر رہی ہو اور وہ نگرانی کے ہمہ وقتی نظام کی زد میں آ گئی ہو؟ بیشک یہ دور کی کوڑی ہے لیکن حساس ترین علاقوں پر امریکی نگرانی میں غلطی کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ ریڈ زون میں چیونٹی بھی آ جائے‘ تو اس کا بچنا محال ہوتا ہے۔ میں جدید دور کی حیرت انگیز صلاحیتوں کا علم نہیں رکھتا۔ محض قیاس آرائی کر سکتا ہوں کہ یہ گزرگاہ جس پر ملا اخترمنصور جا رہے تھے‘ پہلے بھی زیراستعمال رہی ہو۔ یاد رہے‘ ہمارا ایٹمی پروگرام ان دنوں امریکہ کو کچھ زیادہ ہی کھٹک رہا ہے اور وہ بذریعہ طالبان ‘وہاں ہماری توقعات یا اندازوں کے خلاف کوئی ایسی کارروائی کرنے کی کوشش میں ہو‘جیسی مہران نیول بیس یا کامرہ ایئر بیس پر کی گئیں۔ اگر ان دونوں حملوں کی کڑی کو ایٹمی پروگرام سے جوڑ کر دیکھا جائے‘ توامریکی ذہن‘ وقت اور فاصلے کو اہمیت نہیں دیتے اور خاص طور پہ نشانہ ایٹمی تجربہ گاہیں ہوں‘ تو کچھ بھی سوچا جا سکتا ہے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ گزشتہ چند روز میں ایٹمی تجربہ گاہ کے قرب و جوار میں‘ کوئی غیرمعمولی نقل و حرکت ہوئی ہو اور امریکہ نے ڈیڑھ دوسو میل کے دائرے پر سرخ نشان لگا دیا ہو اور یہ کار نشان زدہ علاقے میں نکل آئی ہو؟ یا پھر امریکہ کے اشارے پر و ارداتیں کرنے والے طالبان ہی کسی قسم کی ڈیوٹی پر ہوں اور انہیں ڈرون حملے نے آلیاہو‘ جو بالکل بے موقع اور بے محل ہو۔ اگر اس کی کڑیاں ملا کر دیکھی جائیں‘ تو کسی بڑے منصوبے کی کڑی ہاتھ لگ سکتی ہے۔ 
پاکستان امریکہ کے تعلقات میں چند ہفتوں کے اندر اندر جو جھٹکے اور غیرمعمولی تبدیلیاں آئی ہیں‘ ان میں مضمر وسعتوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ اب ہم اپنے گھر کی طرف آتے ہیں۔ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے واپسی کے فوراً بعد امریکی سفیر کو طلب کر کے شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ اس سے پہلے ہماری طرف سے جتنے ڈرے سہمے احتجاج کئے گئے‘ ان میں معمول کی سفارتی زبان میں بھی نیم تلخ جملے استعمال کئے گئے۔ چیف آف آرمی سٹاف نے اپنے احتجاج میں وہی الفاظ استعمال کئے‘ جو غیرمتوقع برہمی کے ردعمل میں کئے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں اور قربانیوں کی مثال دی۔ چوہدری نثار کو ردعمل کی جو ڈیوٹی دی گئی تھی‘ اس میں انہوں نے حیرت انگیز طور پر پوچھا کہ ڈرون حملے میں مارا جانے والا شخص کون تھا؟ محض یہ اطلاع دی کہ حملہ پاکستان کی سالمیت کی خلاف ورزی تھا اور حکومت اس کی شدید مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیراعظم نوازشریف کی لندن سے واپسی پر‘ باقاعدہ ردعمل دیا جائے گا اور اس سلسلے میں قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی بلایا جا رہا ہے۔ مرنے والے کا پتہ نہیں اور احتجاج کیا جا رہا ہے۔ لیکن وزیراعظم کی آمد سے پہلے ہی جنرل راحیل شریف نے جو کچھ کہنا تھا‘ کہہ دیا۔ راحیل شریف سے بڑھ کر موزوں ردعمل کون دے سکتا ہے؟ 
آخر میں محمد حنیف کی بی بی سی ڈاٹ کام پر شائع شدہ چند تیکھی سطریں ملاحظہ فرمایئے۔ 
'' پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ جب یہ کہے کہ آپ ہمارے معزز مہمان ہیں‘ اس دن سے اپنی وصیت لکھنی شروع کر دیں۔٭ انہی میں سے کوئی کہے کہ آپ ہمارے مسلمان بھائی ہیں‘ تو یہ مت کہنا کہ اس بھائی چارے کے اب تک کتنے ڈالر ہوئے؟ پاکستانی حساس قوم ہیں۔ ٭کوئٹہ سے کبھی گاڑی کرائے پر مت لینا۔خلیفہ ملا عمر کی روایت پر عمل کرتے ہوئے موٹرسائیکل پر سفر کرنا‘ عمرطبعی پائو گے۔ بلکہ شہادت سے کئی سال بعد بھی لوگ زندہ ہی سمجھیں گے۔ ٭پاکستان کے دفاعی تجزیہ نگاروں سے بچ کے رہنا۔ (اگر ڈرون حملے سے بچ گئے)یہ بے رحم دانشور چن چن کر مار دیں گے۔جب تک آپ زندہ ہیں آپ کو تاریخ کا سب سے بڑا جنگجو کہیں گے۔ شہادت کے بعد کہیں گے کہ امن کی آخری امید دم توڑ گئی۔ یہ دفاعی تجزیہ نگار اچھے خاصے مجاہد کو گاندھی بنا دیں گے۔٭ہر ریاست کی پالیسی دوغلی ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے یہ مہربان بھائی ایک ہاتھ سے فاتحہ پڑھتے ہیں‘ دوسرا ہاتھ خنجر پہ رکھتے ہیں۔٭میرا خیال تھا ہمارے پاکستانی دوست لطیفے بہت اچھے سناتے ہیں۔ پنجابی مجاہد نے ایک دفعہ بتایا کہ ہمارے چوکیدار رات کو صدا لگاتے ہیں ''جاگدے رہنا‘ ساڈے تے نہ رہنا۔‘‘ اب پتہ چلا کہ کمبختوں نے ایک جگت کو قومی دفاعی پالیسی بنا لیا ہے۔٭ اپنے پاکستانی بھائیوں سے کبھی یہ نہ کہنا کہ ہم افغان تو اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں‘ تم کیا لُچ تل رہے ہو؟ بتایا تھا نا؟ حساس قوم ہیں۔ ہمارے سیاستدان بھی حساس ہیں۔(آخری جملہ اضافی ہے) ٭حساسیت کا یہ عالم ہے کہ جیسے ہی آپ کی شہادت ہو گی‘ تو پہلے سکتے میں آ جائیں گے۔ پھر کہیں گے ہماری خودمختاری کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے۔ ہمارے گھر میں گھس کر مارا۔ پھر کہیں گے ہمارے گھر میں تو کوئی تھا ہی نہیں۔اس کے بعد پھر کہیں گے‘ تمہاری جرأت کیسے ہوئی ہمارے گھر میں گھسنے کی؟ تو آپ نے دیکھا آپ کی جان جائے گی اور ان کی خودمختاری دنیا بھر میں اٹھکھیلیاں کرتی پھرے گی اور کہے گی پتہ نہیں مجھے دنیا والے اتنا کیوں چھیڑتے ہیں؟ ٭یہ جو پاکستان کے علماومشائخ اور غائبانہ نماز جنازہ پڑھانے والی پارٹیاں ہیں‘ ان سے بھی ہوشیار رہنا ضروری ہے۔ ساری عمر آپ کے کانوں میں ''شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن گنگناتے رہیں گے‘‘ اور جب وقت شہادت آئے گا‘ تو تدفین سے فوراً پہلے گنگا جمنی تہذیب جاگ اٹھے گی اور کہیں گے ''نہیں حضور! پہلے آپ۔‘‘٭اگلا امیر منتخب کرتے وقت ان کے مشورے مت سننا۔ کچھ سال پہلے ہمارے پاکستانی بھائی خالد سجنا کو امیر منتخب کرنے والے تھے کہ کسی نے گانا گا دیا ''سجنا وی مر جانا۔‘‘ وہ امیر نہ بن سکے۔ دنیا کی بہت سی قومیں لہوولعب میں مبتلا ہیں۔ لیکن یہ کیسی قوم ہے؟ جس نے گانوں اور لطیفوں کو ایک مکمل ضابطہ حیات بنا رکھا ہے۔٭ سرحدی علاقوں ‘پہاڑوں اور غاروں میں پناہ لینے کے دن گئے۔ کراچی کے گنجان آباد علاقے بھی بہت گنجان ہو گئے۔ اب پکی پناہ کے لئے‘ ڈی ایچ اے سٹی میں‘ ایک پلاٹ بک کرائو۔ وہاں تمہیں امریکہ کا باپ بھی نہیں ڈھونڈ سکے گا۔‘‘

 

 

 

 

 

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved