تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     17-06-2016

ابھی وقت لگے گا (آخری قسط)

پاکستان کی خارجہ پالیسی ''قوت گویائی ‘‘سے کیوں محروم ہو گئی ہے؟ اس کا جواب ڈھونڈنے کے لئے تحقیقات کرنے کی ضرورت نہیں۔ وزیراعظم نوازشریف نے اپنے موجودہ دوراقتدار کا آغاز ہی ایک انجانے مقصد کے تحت کیا تھا‘جس کا جواز آج تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان موجودہ دور اقتدار میں نامعلوم وجوہ کی بنا پر‘ وزیرخارجہ کی خدمات سے محروم ہے۔ اب چوتھا سال شروع ہونے کو ہے اور پاکستان باقاعدہ وزیرخارجہ کی خدمات سے آج بھی محروم ہے۔ وزیراعظم کا منصب ہی ایسا ہے کہ وہ متعدد وزارتوں کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد کوئی ایک کام بھی توجہ سے انجام نہیں دے پا رہے۔ وزارت خارجہ بہرحال ایک فل ٹائم جاب ہے۔ بیشتر فائلیں تووزیراعظم کی توجہ سے ہی محروم رہتی ہیں اور جو دو معاونین رکھے گئے ہیں‘ وزارت کا حال'' دو ملائوں میں مرغی حرام‘‘ کی مثل ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے تو یہ دونوں نائب وزراء آپس میں طے کرتے ہیں کہ کونسی فائل کون لے کروزیراعظم کے پاس جائے گا؟ اور اس کے بعد وزیراعظم جو حکم جاری کرتے ہیں‘ اس پر عمل درآمد کے لئے ''دونوں ملا‘‘ یعنی دونوں نیم وزراء ‘ آپس میں مشاورت سے عموماً گریز کرتے ہیں۔ ماحول وہی ہوتا ہے کہ زیادہ معتبر کون ہے؟ ہروزیراپنی محنت کا ثبوت دینے کے لئے زیرغور معاملے پر قبضہ جما لیتا ہے اور اس طرح باہمی تبادلہ خیال کی نوبت نہیں آتی۔ وزیراعظم کا غالباً یہی مقصد ہو گا کہ دونوں وزراء باہمی مشاورت سے مسائل کا بہتر حل تلاش کر کے‘ ان تک پہنچیں۔ لیکن عملاً ایسا نہیں ہوا کرتا۔ نتیجہ یہ ہے کہ وزارت خارجہ کو دونوں کی بہترین صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ 
خود ہمارے وزیراعظم بھی خارجہ امور میں خصوصی مہارت نہیں رکھتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہماری وزارت خارجہ کو اس شعبے کے بہترین دماغوں کی خدمات دستیاب نہیں ہو سکیں۔وزارت کو وزیرکے بغیر چلانے کا نتیجہ ‘تین سال میں ہمارے سامنے آ چکا ہے۔ آج پورا عالمی میڈیا بیک وقت ایک ہی رائے دے رہا ہے کہ پاکستان خارجہ امور میں شدید تنہائی کا شکار ہے۔ پڑوسیوں میں چین کے سوا کوئی بھی ملک‘ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو سمجھ نہیں پارہا۔ سمجھنے کے لئے پالیسی کا ہونا ضروری ہے۔ جب کوئی پالیسی ہی نہیں‘ تو کونسا دوسرا ملک اسے سمجھنے کی کوشش کر سکتا ہے؟ احمد رشید نے ہماری خارجہ پالیسی کے اسی مخمصے کو جاننے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے‘ جب کوئی خارجہ پالیسی ہی نہیں تو کوئی کتنا ہی سر کھپا لے‘ سمجھ نہیں سکتا۔ ذیل میں احمد رشید کا تجزیہ آپ کی خدمت میں پیش ہے۔ افغانستان کے ساتھ کشیدگی میں کافی نرمی آ گئی ہے۔ لیکن ابھی اس کا تجربہ نہیں ہو سکا۔ 
''نیوکلیئر سپلائیرز گروپ (این ایس جی) میں شمولیت کے لیے امریکہ کے حمایت یافتہ انڈیا کی کوششوں نے پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک بار پھر الگ تھلگ کر دیا ہے۔پاکستان خطے میں خود کو بے یارومددگار محسوس کررہا ہے، ایران، افغانستان اور انڈیا کے خیال میں پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے خاتمے اور خاص طور پر افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں ناکامی میں اس کو قصوروار سمجھتے ہیں ،جس کا اسلام آباد نے دو سال قبل وعدہ کیا تھا۔48 ممالک پر مشتمل این ایس جی، جو جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی کی بین الاقوامی تجارت کے قواعد کا تعین کرتا ہے، انڈیا اور پاکستان کے درمیان سفارتی میدان جنگ بن گیا ہے۔ اس کا ایک اہم اجلاس رواں ماہ منعقد ہونے والا ہے۔پاکستانی فوج اس بات پر خفا ہے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے حالیہ دورہ واشنگٹن کے بعد امریکہ، انڈیا کی ایس این جی کی رکنیت کے لیے تمام رکن ممالک میں لابنگ کر رہا ہے۔
پاکستان نے بھی ایسا ہی کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن اس کا جوہری پھیلاؤ کا ریکارڈ انڈیا کی طرح اچھا نہیں ہے اور واضح طور پر وہ کامیاب نہیں ہوگا۔ تاہم کچھ چھوٹے ممالک ،امریکہ سے ناراض ہیں، جس پر وہ دھونس جمانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انڈیا یا پاکستان جب تک جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی ) پر دستخط نہیں کرتے دونوں ممالک کو رکن نہیں بننا چاہیے۔امریکی صدر بارک اوباما انڈیا کو این ایس جی کی رکنیت دینے کے لیے جوہری عدم پھیلاؤ اور ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق اپنی پالیسی کے خلاف جا رہے ہیں، جبکہ امریکہ کا انڈیا کو چھ جوہری توانائی کے پلانٹ کی فروخت کا منصوبہ بھی ہے۔اسی دوران امریکہ نے کئی ڈرامائی اقدام دکھائے ہیں اور افغان طالبان کی کارروائیوں کو روکنے میں پاکستان کی کوششوں پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ گزشتہ ماہ اس نے صوبہ بلوچستان میں طالبان رہنما ملا اختر منصور کو ایک ڈرون حملے میں ہلاک کیا، جس کے بعد پاکستان نے امریکہ پر جغرافیائی خودمختاری کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔اس کے بعد امریکہ نے پاکستان پر طالبان اور حقانی گروپ کو روکنے کے لیے زیادہ اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ اور افغان حکومت کی حمایت کا اشارہ دیتے ہوئے صدر اوباما نے افغانستان میں افغان فوجوں کے ساتھ مل کر لڑنے کے لئے امریکی فوجوں کے قیام کی اجازت دی تھی۔آخرکار، نریندر مودی کے دورہ امریکہ کے دوران امریکہ نے کھلے عام پاکستانی پنجاب اور کشمیر میں سرگرم انتہاپسند گروہوں کی مذمت کی تھی، جن کی سرگرمیوں کو اسلام آباد نہیں روکتا۔
فوج نے ممبئی حملوں میں مطلوب حافظ سعید کو اسلام آباد میں جمعے کی نماز کی امامت کی اجازت دی، جسے امریکہ اور انڈیا کے سامنے بے باکی کے ایک اشارے کے طور پر دیکھا گیا۔ پاکستانی فوج کو خدشہ ہے کہ امریکہ کا جنوبی ایشیا سے انخلا ہو رہا ہے اور وہ اپنے پیچھے پاکستان کے حریف انڈیا کو علاقائی پولیس اہلکار کے طور پر چھوڑ دے گا، جوکہ اس کے لیے ناقابل قبول ہے۔ پاکستانی فوج کی جانب سے ایران اور افغانستان میں انڈین جاسوسوں کے پاکستان کے خلاف کام کرنے کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔ خاص طور پر گوادر سے چین تک مواصلاتی نیٹ ورک کی تعمیر کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے۔پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات اتنے ہی برے ہیں جتنے کئی برسوں سے تھے اور ایران کے ساتھ بھی کچھ اچھے مراسم نہیں۔ ایک سال سے زائد عرصہ انتظار کرنے کے بعد افغان صدر اشرف غنی نے، پاکستان کی افغان طالبان کو کابل کے ساتھ مذاکرات کی طرف مائل کرنے کی کوششوں سے ہاتھ دھو لئے ہیں۔ ان کی ناکامی کے غصے کو اب امریکی حمایت بھی حاصل ہے۔اسی دوران ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ سول سیاستدان اور عوام ایرانی تیل اور گیس پائپ لائن کی طرف دیکھ رہے تھے، جس سے توانائی اور بجلی پاکستان کو مل سکتی تھی جس کی اسے اشد ضرورت تھی۔ تاہم اسلام آباد کی جانب سے پاکستانی معیشت کو سبوتاژ کرنے لیے انڈین جاسوس کی میزبانی کے الزام کے بعد ایران اب اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر رہا ہے۔چین پاکستان کا سب سے قریبی اتحادی ہے لیکن وہ بھی ناراضی کا اظہار کر رہا ہے۔ چین 45 ارب ڈالر پر مشتمل وسطی ایشیا سے منسلک کرنے والے سلک روٹ منصوبے کی تعمیر چاہتا ہے، لیکن وہ چاہتا ہے کہ فوج پہلے اپنا سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے افغانسان میں طالبان کی جنگ اور بلوچستان میں شورش کا خاتمہ کرے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی دیرینہ حالت نے اندرونی سیاست کو بھی متاثر کیا ہے۔ پالیسی سازی میں سویلین حکومت یا وزیراعظم نواز شریف یا وزارت خارجہ یا پارلیمنٹ کی بہت کم شمولیت مسئلے کا حصہ ہے، جو اب فوج کا حصہ بن گیا ہے۔وزیراعظم نوازشریف انڈیا، ایران اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر سکے۔ جبکہ حزب اختلاف کے سیاستدان نواز شریف پر خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا الزام عائد کرتے ہیں۔
اس کے جواب میں فوج بھی خفا ہے اور انہیں کسی حد تک عوامی حمایت بھی حاصل ہے کہ نواز شریف نے وزیرخارجہ تعینات نہیں کیا اور گورننس کو بہترنہیں کیا۔ انہوں نے لندن میں اوپن ہارٹ سرجری کے بعد بھی خارجہ امور کا قلمدان نہیں چھوڑا۔یہ خطہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور پاکستان کو فوری طور پر اپنی سکیورٹی کے مسائل اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری پر توجہ دینا ہوگی۔‘‘
نوٹ:- میں نے اس کالم میں دونوں ماہرین کے جو تجزیئے پیش کئے ہیں‘ وہ ان کی اپنی رائے ہے۔ ضروری نہیں کہ مجھے ان دونوں سے اتفاق ہو۔

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved