تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     17-06-2016

قہقہہ

ویسے ایک بات ہے۔ لطف آ گیا۔ 
(قہقہہ)
یار! جو ٹیکنیکل قسم کی گالیاں تم نے دیں، جس قدر تعریف کی جائے کم ہے۔ بس سماں باندھ دیا!
ان تعلیم یافتہ عورتوں کا دماغ درست کرنا ضروری ہے۔ ورنہ مزید سرپر چڑھیں گی۔ میں نے تو صاف کہہ دیا کہ تم شوہر بننے کی کوشش کر رہی ہو!ہاں! یار! یہ تو تم درست کہہ رے ہو! طالبان کی حکومت آئی تو ان عورتوں کا کم از کم افغانستان میں بندوبست ہو گیا تھا۔ ملازمتیں چھُڑوا دی گئیں، گھروں میں بٹھا دیا گیا، بہت شور مچا کہ کچھ عورتیں مجبوراً ملازمت کرتی ہیں تا کہ گھر کا خرچ چلتا رہے مگر آفرین ہے طالبان پر! ایک نہ سنی ،جو چاہتے تھے کر دکھایا!
کام تو یہاں بھی شروع ہو گیا تھا! لڑکیوں کے کئی سکول جلا ڈالے گئے۔ مگر افسوس! یہ سلسلہ رُک گیا۔
یہ سلسلہ جاری رہتا تو آج یہ ہمارے منہ نہ لگتیں! فساد کی جڑ عورتوں کی تعلیم ہی ہے اسی برصغیر میں ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ عورتوں کو لکھنا نہ سکھاؤ! ورنہ یہ پڑوسیوں کو خطوط لکھیں گی! کیا وژن تھا! سبحان اللہ! جب سے ہم نے بزرگوں کی حکم عدولی کرنا شروع کی ہے، نتائج بھگت رہے ہیں۔ عورتیں پڑھ لکھ کر بحث کرنے لگی ہیں! مردوں کے سامنے انہیں بولنے کی جرأت ہی نہیں ہونی چاہیے! لیکن یار! اس بات کا خیال رہے کہ رائے عامہ ہمارے خلاف ہو رہی ہے۔ اب یہی معاملہ دیکھ لو، جو تمہارے اور اس عورت کے درمیان پیش آیا۔ کسی نے تمہاری حمایت نہیں کی! ہمارا اپنا طبقہ تو ساتھ دے رہا ہے مگر تمہارے حق میں بیان دینے کی ہمت ان سے بھی کسی نے نہیں کی!
رائے عامہ کا کیا ہے! کیا اس سے پہلے رائے عامہ کبھی ہمارے راستے کی دیوار بنی؟ ان کے قائداعظم ہی کی مثال لے لو! پورے پاکستان کا قائداعظم ہے مگر ہم نے کبھی قائداعظم کہا نہ تسلیم کیا۔ نہ کبھی مزار پر فاتحہ خوانی کے لیے گئے۔ ہمارے ہزاروں لاکھوں مدرسوں میں اوّل تو اس کا کبھی ذکر ہی نہیں ہؤا، ہو بھی تو جناح کہہ دیتے ہیں۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ ہم نے مدارس میں تحریک پاکستان کی تاریخ یا برصغیر کی تاریخ کا فتنہ ہی نہیں پنپنے دیا! اسی لیے تو ہمیں اس طبقے سے ووٹ مل رہے ہیں! تاریخ پڑھائی جاتی تو ہمارے طلبہ کو یہ بھی معلوم ہو جاتا کہ مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا ظفر احمد عثمانی، مولانا مفتی محمد شفیع اور دیگر کئی علما نے قائداعظم کا ساتھ دیا تھا! تم نے رائے عامہ کی بات کی! رائے عامہ کی ہماری طاقت کے سامنے کیا حیثیت ہے! ہم نے بر ملا کہا کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں۔ اس کے باوجود ہم ہر حکومت کا حصہ رہے۔ ہم نے پاکستان سے خوب خوب فائدہ اٹھایا۔ ہماری پانچوں گھی میں اور سرکڑھائی میں ہے۔ کیا یہ ہمارا کمال نہیں کہ جس پاکستان کے بانی کا ہم نے کبھی ذکر تک نہیں کیا، کسی جلسے کسی تقریر میں اس کا نام تک کبھی نہیں لیا، اسی پاکستان سے ہم وزارتوں میں بھی اپنا حصہ بلکہ حصے سے زیادہ، لیے جا رہے ہیں۔ کمیٹیوں کے ہم صدر ہیں۔ اسلامی نظریاتی ادارے ہماری جیب میں ہیں وزیروں جتنی مراعات ہم لے رہے ہیں۔ اسمبلیوں اور سینیٹ کی رکنیتیں ہمارے پاس ہیں! ہم جب چاہیں، ایک گھنٹے کے نوٹس پر حکومت کے سربراہ سے مل سکتے ہیں! کہاں ہے رائے عامہ؟
(قہقہہ)
ویسے یار! اگر ہمت کرتے تو ایک آدھ ہاتھ اُس مغرب زدہ عورت کو ٹکا ہی جاتے! دماغ درست ہو جاتا اس کا بس حالات ہی ایسے تھے کہ یہ کام نہ ہو سکا! چلو، کوئی بات نہیں! اگلی بار سہی!
اگلی بارتو مجھے مشکل ہی دکھائی دے رہی ہے! میں نہیں سمجھتا کہ اب تمہیں یہ ٹی وی چینلوں والے اپنے ٹاک شوز میں بلائیں گے! تمہیں بلا بھی لیا تو اس عورت کو کبھی نہیں بلائیں گے۔ وہ بھی تو ہر وقت جھگڑنے لڑنے کے لیے تیار بیٹھی ہوتی ہے!
یہ بھی تمہاری غلط فہمی ہے! بلائیں گے۔ ضرور بلائیں گے۔ مجھے بھی بلائیں گے اور اس عورت کو بھی!
نہیں! بھئی! پیمرا نے بھی نوٹس لے لیا ہے!
پیمرا یا نو پیمرا! تم ایک پہلو پر غور نہیں کر رہے! یہ ٹی وی چینل دکانیں ہیں۔ دکان پر وہی سودا سپلائی کیا جاتا ہے جس کی مانگ ہو! ٹی وی چینلوں کے لیے ریٹنگ کا مسئلہ موت اور زندگی کا مسئلہ ہے! تمہارا کیا خیال ہے جب ایک طرف مجھے بلا رہے تھے اور دوسری طرف اُس عورت کو، تو کیا انہیں معلوم نہ تھا کہ جھگڑا ہو گا اور خوب ہو گا! وہ سب جانتے تھے۔ اور یہی چاہتے تھے کہ جھگڑا ہو، بلکہ لڑائی مارکٹائی تک بات پہنچے۔
اب اس وڈیو ہی کو دیکھ لو جو ہمارے جھگڑے کی ہے۔ لاکھوں ناظرین دیکھ چکے ہیں اور دیکھے جا رہے ہیں! کیا تم نے کبھی نوٹ نہیں کیا کہ جب چینلوں پر سیاست دان اور مذہبی سکالر ایک دوسرے سے الجھتے ہیں تو اینکر خواتین اور اینکر حضرات خاموش ہو کر انہیں الجھنے دیتے ہیں۔ مداخلت نہیں کرتے۔ جھگڑا اتنا بڑھتا ہے کہ ناظرین کا انہماک دو چند ہو جاتا ہے۔ ہمارے لوگوں کی نفسیات کو اس حقیقت سے سمجھنے کی کوشش کرو کہ جب کسی شاہراہ پر دو فریقوں یا دو افراد کے درمیان لڑائی ہو تو راہ گیر رک جاتے ہیں۔
گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں والے گاڑیاں اور موٹر سائیکل ایک طرف پارک کر کے، دوڑ دوڑ کر تماشہ دیکھنے جاتے ہیں۔ سینکڑوں کا ہجوم اکٹھا ہوتا ہے! ٹی وی چینلوں پر یہی حال ہے۔ لوگ چسکا لیتے ہیں۔ اُن کی اذیت رسانی (SADISM) کی رگ کو تسکین ملتی ہے! اکثر و بیشتر ٹاک شوز میں دونوں حریف، بیک وقت، مسلسل بول رہے ہوتے ہیں۔ چیخ رہے ہوتے ہیں۔ اینکر پرسن اس طرح مطمئن، بیٹھے ہوتے ہیں، جیسے مرغوں کی لڑائی کے دوران مرغوں کو لڑانے والے آرام سے بیٹھے ہوتے ہیں! چنانچہ اس بات کو تو تم بھول ہی جاؤ کہ ہمیں اب بلایا نہیں جائے گا! چند دن کا وقفہ ہو گا۔ پھر ہم ہوں گے اور یہ ٹاک شو!
ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن و سنت سے جو احکام اور روایات، کسی نہ کسی مصلحت کے تحت چھپا کر رکھے ہوئے تھے، وہ بھی سرِ عام بتائے جا رہے ہیں!
مثلاً؟
مثلاً لوگوں کے، بالخصوص خواتین کے علم میں لایا جا رہا ہے کہ بالغ، عاقل عورت اپنی پسند سے شادی کر سکتی ہے اور اس کے ماں باپ، مربی یا ولی کو زبردستی شادی کرنے کا اختیار نہیں! روزنامہ دنیا نے گیارہ مئی 2016ء کو اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا کہ ایک خاتون نے بارگاہِ رسالت میں آکر فریاد کی کہ اس کے والد نے اپنے رشتہ داروں میں اس کی شادی زبردستی کر دی ہے تا کہ اس بندھن سے والد کا سماجی مرتبہ بلند ہو جائے۔ آپ نے شادی منسوخ فرما دی۔ تب اس خاتون نے کہا اب میں اس شادی پر راضی ہوں۔ میں صرف یہ چاہتی تھی کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ عورت کی شادی کے معاملے میں مردوں کو اختیار نہیں! یا مثلاً پاکستانی عورتوں کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ عرب معاشرے میں عورت آج بھی مرد کو شادی کے لیے پیغام خود بھجوا سکتی ہے!ہاں درست ہے ان حقائق کو اب زیادہ دیر چھپایا نہیں جا سکتا، مگر ہمیں چاہیے کہ لوگوں کو مسلسل بتاتے رہیںکہ عورت ناقص العقل ہے! ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوئی ہے۔ مرد کے سامنے اس کی حیثیت ہیچ ہے۔ یہ نجی پنچایتیں اور جرگے غنیمت ہیں کہ انہوں نے بھی عورت کو، بہت حد، تک اپنی اوقات میں رکھا ہوا ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved