تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     21-06-2016

طورخم میں تصادم!

یوں تو طویل عرصے سے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر دہشت گردی اور ڈرون حملوں کی بربادیاں جاری تھیں ،لیکن اس ہفتے افغانستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان جھڑپیں اورتصادم اس کہرام اور خونریزی میں ایک سنگین اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ صرف چند روز کی جھڑپوں کے بعد ہی امریکی سامراج کے دبائو کے تحت اس آگ کو وقتی طور پر ٹھنڈاتو کیا گیا ہے، لیکن دونوں ممالک کے درمیان مفادات کے تصادم کی چنگاریاں ابھی تک گُل نہیں ہوئیں‘ یہ پھر بھڑک سکتی ہیں۔ویسے تو افغانستان کے بارے میں کیا جاتا ہے کہ یہاں ایک جمہوری حکومت ہے جو انتخابات کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے اور اس کی خارجی اور داخلی پالیسیاں وہ خود استوار کرتی ہے ،لیکن اگر افغانستان میں آج کے زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ باتیں کچھ مضحکہ خیز سی لگتی ہیں۔حال ہی میں امریکی جرنیلوں اور فوجی ماہرین نے صدر اوباما پر زور دیا ہے کہ افغانستان سے سامراجی انخلا کا پروگرام روک دیا جائے اور بیشتر ماہرین کی یہ رائے ہے کہ اگر ہلیری کلنٹن صدر بن گئی تو افغانستان میں مزید فوجی بھیج کر اس جارحیت کو مزید تیز کرے گی۔ لیکن افغانستان کی حکومت کو اپنا وجود بھی سامراجی فوجوں کے انخلا سے قائم رہتا ہوا نظر نہیں ہوتا۔ سامراجی سنگینوں کے تخت پر بیٹھ کر کٹھ پتلی حکومت سے حاکمیت تو مل جاتی ہے ،چین نہیں نصیب ہوتا! اس حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ افغانستان میں صرف ایک سامراج کی مداخلت نہیں ہے بلکہ مختلف عالمی اور علاقائی سامراجی طاقتوں کی بھی گہری مداخلت ہے۔ جن کے مفادات مشترک بھی ہیں اور متضاد بھی! کچھ عرصے قبل جب 'ماہرین ارضیات‘ کی تحقیق سامنے آئی ہے کہ افغانستان میں تین ہزار ارب ڈالر سے زائد کے صرف معدنیاتی وسائل پائے جاتے ہیں تو سامراجی اجارہ داریاں اس بدنصیب خطے پرٹوٹ پڑی ہیں۔ ان کارپوریٹ سرمایہ داروں نے اپنے تابع سیاست دانوں اور ریاستی آقائوں کو اس خانہ جنگی میں دھکیلنا شروع کر رکھا ہے۔ ان سامراجی قوتوں کی مقامی پروردہ پراکسیاں حکومتوں اور ریاستوں میں بھی پائی جاتی ہیں اور طالبان اور دوسرے متحارب جنگجو گروہوں میں بھی ملتی ہیں۔ ان پر سرکاری اور خفیہ سرمایہ کاری سے‘ یہ متحارب سامراجی ریاستیں اور ان کے حکمران طبقات اپنے مالیاتی مفادات کو بڑھوتی دینے کے لیے تگ ودو میں لگے ہوئے ہیں۔ یہاں نہ صرف مغربی سامراجیوں کی جارحیت جاری ہے بلکہ چینی ،ہندوستانی، اور دیگر پراکسیاں بھی اس آگ اور خون کے کھیل کو مزید بھڑکا رہی ہیں۔ جب ان مختلف سامراجی قوتوں کے درمیان مفادات کی کہیں مفاہمت ہوجاتی ہے تو یہ اور ان کی پراکسیاں حلیف بن جاتی ہیں، لیکن جب سودے نہ بن سکیں تو پھر جنگی تصادم شروع کروادیا جاتا ہے ،جس سے تاراج ‘ افغانستان اور اس خطے کے محنت کش اور غریب ہی ہورہے ہیں۔ اس ہولناک کھلواڑ میں نہ صرف فوجی حکمت عملی جاری ہے بلکہ رائے عامہ بنانے اور افغانستان کے باسیوں میں اپنے اپنے حریف سامراجیوں اور ریاستوں کے خلاف نفرتوں کو ابھارنے کا کاروبار بھی زوروں پر ہے ۔رائے عامہ بنانے والے بیشتر ادارے اس کام پر اپنے اپنے داخلی اور خارجی آقائوں کے مفادات کے لئے بھاری اجرتوں پر معمور ہیں ۔ یہیں پر پاکستان ریاست کا کردار بھی سامنے آتا ہے۔ افغانستان میں1978ء کے افغان انقلاب کو تباہ کرنے کے لیے امریکی سامراج نے جو خفیہ جارحیت شروع کروائی اس کو( ڈالر) جہاد کا نام دیا گیا۔ سوویت یونین کے انہدام کے بعد امریکی سامراجی تو واپس چلے گئے ،لیکن جو آگ وہ لگا کر گئے تھے وہ بھڑکتی ہی رہی۔اس ردانقلابی قتل وغارت کو جاری کرنے کے لیے انہوں نے جو منشیات اور خصوصاً ہیروئین کا نیٹ ورک اور دوسرے مجرمانہ کاروبار شروع کروائے‘ وہ پھیلتے پھولتے رہے۔ افغانستان تو کیا پاکستان میں بھی ڈالر جہاد کے مضمرات سے منشیات اور کلاشنکوف کلچر ایک ناسور کی طرح پھیلانا شروع ہوگیا، جو اب کالے دھن کے طور پر اس ملک کی معیشت کے جسم کے اندر ایک بھیانک ناسوربن کر پل رہا ہے۔ اس طرف سے جو پراکسیاں بنائی گئی تھیں‘ وہ
اس کالے دھن کی کرامت سے چیتھڑوں سے ابھر کر جہازوں اور بھاری گاڑیوں کے مالک بن گئے۔ اسلحے اور منشیات کے کاروبار نے ان کو کالے دھنوان بنا دیا تو انہوں نے اپنے منشیات،اسلحے اورخاص طور پرمختلف ریاستوں کی مداخلت پر مبنی دہشت کی فروختگی کے کاروبار کو وسعت اور جدت بخشی۔پہلے تووہ اپنی وفاداریاں بیچا کرتے تھے مگرپھر ان کو کرائے پر دینے لگے اور زیادہ دام دینے والے گاہکوں کے لیے دشمنیوں اور دوستیوں کو الٹ پلٹ کرتے رہے۔ اسی طرح جہاں مذہب اور مسلکوں کی فرقہ واریت کو اس ڈاکہ زنی کی خانہ جنگی میں استعمال کیا گیا وہاں نسلی اور قومیاتی تضادات کو ابھار کر ان کے گرد فرقہ بازی اور تصادم کروائے گئے ۔ ان کے پیچھے مختلف سرمائے ‘اپنی ریاستوں اور پراکسیوں کے ذریعے اپنے منافع خوری کے مفادات بڑھاتے چلے گئے ۔ افغانستان میں پشتون، تاجک، ہزارہ، ازبک‘ ترکمان‘بلوچ اور دوسری قومیں اور نسلیں رہتی ہیں۔ جہاں افغانستان میںمرکزی ریاست کا کنٹرول بکھر گیا ہے وہاں یہ ملک ابھی موجود بھی ہے۔کچھ علاقوں میںپاکستان کے حامی پائے جاتے ہیںاور کچھ خطوں میں پاکستان سے نفرت کرنے والے حاکم ہیں۔ اس لیے افغانستان کا ہر حکمران اس توازن کو برقرار رکھتے رکھتے ہی رخصت ہوجاتا ہے ۔ کرزئی دور تو کابل کے محل اور بیرون ملک دوروں میں اپنی حکمرانی سامراجی پشت پناہی میںگزار گیا۔ لیکن کرزئی نے کبھی
کبھی امریکی سامراج کو بھی بیانات میںرگڑ دینے کی پالیسی اپنائی ہوئی تھیں۔ اس کا مقصد تو ''اپنی ‘‘ خود مختاری‘‘ کا ناٹک کرنا تھا، لیکن وہ بار بار امریکی سامراج کے جرنیلوں اور واشنگٹن کے حکمرانوں میں تضادات اور سامراج کے کھوکھلے پن کی بھی عکاسی کرتی تھی۔ اشرف غنی اور عبداللہ کی یہ نا م نہاد مخلوط حکومت میں غنی نے پہلے ہندوستان سے رابطے بڑھائے ، بعدمیں پاکستان کے قریب آنے کی کوشش کی‘ اب پھر مودی کے دورے کے بعد وہ پاکستان کے خلاف زہر اُگل رہا ہے ۔لیکن پاکستانی حکمرانوں نے بھی (Srategic Depth) ''حکمت عملی کی گہرائی‘‘ کی پالیسی کو کبھی ترک نہیں کیا۔ اچھے اور برے طالبان کے بیانات کا مطلب حامی اور مخالف طالبان ہوتا ہے، ان کی دہشت گردی سے سروکار نہیں رکھا جاتا، ان کے اہداف معنی رکھتے ہیں ۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ایسی کئی اطراف کے محاذوں اور متحارب قوتوں کی خانہ جنگی میں امن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔سامراجی جارحیت سے افغانستان اور پاکستان کے وسیع تر عوام کسی امن اور خوشحالی سے محروم رہے ہیں۔ان کے چلے جانے سے صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔ یہ خانہ جنگی سامراجی اور انفرادی لالچ اور لوٹنے کی لڑائی ہیــ۔ یہ(بھیانک) مقاصد اس وقت تک جاری رہیں گے، جب تک افغانستان میں اس قسم کے اقدامات نہیں کیے جاتے، جیسے نور محمد ترکئی کی حکومت نے روسی فوجی کی مداخلت سے افغانستان میں سرمائے اور جہالت کی قوتوں کو توڑنے کے لیے شروع کیے تھے۔لیکن ایسا انقلاب صرف افغانستان میں کامیاب نہیں ہوسکتااس کو دونوں طرف سے ابھرنا پڑے گا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved