تحریر : محمد اظہارالحق تاریخ اشاعت     22-06-2016

ہم اتنے بھی بُرے نہیں!

چلچلاتی دُھوپ تھی‘ اور کڑی دوپہر! مائیکل اور اس کے ساتھی کو کام کرتے کئی گھنٹے ہو گئے تھے۔ گھر کی پشت پر چھت کو جانے والی لوہے کی سیڑھی کئی ہفتوں سے اتری ہوئی تھی۔ اس کے کئی مسائل تھے جگہ جگہ ویلڈنگ کرنا تھی۔ نیچے سے زمین کے ساتھ جوڑنا تھی اور اوپر سے چھت کے ساتھ! فن تعمیر سے وابستہ کئی دوستوں نے مختلف کاریگروں کا بتایا۔ کوئی بھی نہ ہاتھ آیا۔ ایک نے تو اچھا خاصا سبق بھی پڑھا دیا۔ شکوہ کیا کہ تُم نے وعدہ کیا تھا۔ مگر نہ آئے‘ کہنے لگا صاحب! لیبر کا وعدہ ہوتا ہے نہ کوئی زبان! بس مجبوریاں ہی مجبوریاں ہیں! مائیکل نے کئی سال پہلے گھر آ کر کچھ کام کیا تھا۔ پرانے کاغذوں میں اس کا فون نمبر تلاش کیا۔ اس نے مہربانی کی اور صرف ایک بار وعدہ خلافی کرنے کے بعد‘ ایک صبح ضروری سامان اٹھائے پہنچ گیا۔
چلچلاتی دُھوپ تھی اور کڑی دوپہر! دونوں کو کام کرتے کئی گھنٹے ہو چلے تھے۔ درمیان میں برقی رو لوڈشیڈنگ کی نذر ہو جاتی اور انہیں انتظار کرنا پڑتا۔ سب گھر والے اپنے اپنے کمروں میں پناہ لیے سو رہے تھے! میں نے جام شیریں کے دو گلاس بنائے۔ ٹرے میں رکھے اور چاردیواری کے اندر‘ پانچ فٹ چوڑی راہداری میں چلتا‘ مائیکل اور اس کے ساتھی کے پاس لے گیا۔ ٹرے مائیکل کے سامنے کیا تو کانچ کا گلاس اٹھاتے وقت اس پر ہچکچاہٹ کی کیفیت طاری ہو گئی۔ چند ثانیوں کے تذبذب کے بعد اس نے میری طرف دیکھا اور پوچھا !...''سر ! اسی میں پینا ہے؟‘‘ میں نے کہا ہاں! یہ تمہارے لیے ہی ہیں! کچھ دیر کے بعد جب انہیں چائے کے دو کپ پیش کیے تو اب کے تذبذب کم تھا اور حیرت زیادہ! وہ دودھ پیتے بچے نہیں تھے۔ پیالیاں دیکھ کر جان گئے ہوں گے کہ یہ مہمانوں کے لیے مخصوص نسبتاً بہتر نسل کے برتن ہیں!
ہمارے معاشرے کے بعض روییّ عجیب و غریب ہیں! متناقض! اضداد سے بھرے ہوئے! گھروں میں کام کرنے والا مرد یا عورت مسیحی ہے تو اس کے برتن الگ کر دیئے جاتے ہیں! کچھ گھرانوں میں سب ملازموں کے برتن قطع نظر ان کے مذہبی عقائد سے‘ مطلقاً الگ رکھے جاتے ہیں مگر عمومی رویہ دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ اس کا معیار مذہب پر رکھا گیا ہے! دوسری طرف جب ہم ولایتی ملکوں میں جاتے ہیں تو انہی کے ریستورانوں میں چائے پیتے ہیں۔ کھانے کھاتے ہیں۔ حلال کھانا مہیا کرنے والے ریستورانوں میں بھی مسیحی اور یہودی ویٹر اور باورچی کام کرتے ہیں! مقامی آبادی کے گھروں میں جا کر ان کے ہاں‘ ساتھ بیٹھ کر‘ لاکھوں کروڑوں مسلمان دعوتیں کھاتے ہیں!
امیر المومنین ابوبکر صدیقؓ نے لشکر اسامہ کی روانگی کے وقت مجاہدین کو دس ہدایات دیں۔ ان کی تفصیل مشہور مورخ محمد حسین ہیکل نے خلیفہ اول کی سوانح عمری میں نقل کی ہے۔ آٹھویں ہدایت یہ تھی ...''تمہیں ایسے لوگوں کے پاس جانے کا موقع ملے گا جو تمہارے لیے برتنوں میں ڈال کر مختلف قسم کے کھانے پیش کریں گے۔ تمہارا فرض ہے کہ بسم اللہ پڑھ کر کھانا شروع کر دو‘‘۔
رسم و رواج کے بہت سے حصے مذہب کے کھاتے ہیں ڈال دیئے گئے۔ بے شمار ایسے سماجی رویے ہیں جنہیں ہم مذہب کا تقاضا گردانتے ہیں مگر تھوڑا سا بھی غور کر لیا جائے اور ذرا سی تحقیق کر لی جائے تو معاملے کی تہہ تک پہنچنا مشکل نہیں ہوتا۔ معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا مذہب سے یا عقائد سے کوئی تعلق نہیں! مذہب کو خواہ مخواہ ذمہ دار ٹھہرا کر بدنام کیا جاتا ہے۔
پنجاب اور سندھ کی فیوڈل سوسائٹی میں جو سلوک ہاریوں‘ مزارعوں‘ نوکروں اور ان کی عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے‘ وہ ہماری ثقافت کا حصہ تو ہو سکتا ہے‘ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں! جاگیردار نوکروں سے بدسلوکی یا ظلم کرتے وقت یہ نہیں دیکھتا کہ وہ مسلمان ہے یا ہندو یا مسیحی! یہ نوکر یا ملازم‘ عملی طور پر غلاموں کی زندگی بسر کرتے ہیں! ''مالک‘‘ کے سامنے چارپائی پر یا کرسی پر‘ یہاں تک کہ پیڑھی پر بھی نہیں بیٹھ سکتے۔ دن ہو یا رات‘ حویلی کے بڑے دروازے کے باہر درجن یا نصف درجن نوکر زمین پر بیٹھے ہوتے ہیں۔ مردوں کے حقوق ہیں نہ عورتوں کے‘ نسل در نسل یہ غلامی منتقل ہوتی رہتی ہے۔ بلوچستان میں صورتحال اس سے بھی زیادہ ابتر ہے! بلوچی سردار‘ اہل قبیلہ کے جان و مال‘ دونوں کا بلا شرکت غیرے مالک ہے۔ چاہے تو مار دے‘ چاہے تو زندہ رکھے‘ اس پس منظر میں تصّور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ نواب‘ جاگیردار یا سردار ملازموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے گا یا اُن برتنوں میں کھائے گا جن میں نوکروں نے کھایا ہے! غالباً یہی رواج مڈل کلاس اور اپر کلاس کے تعلیم یافتہ اور نیم تعلیم یافتہ گھرانوں میں بھی پہنچا ہے سو کام کرنے والوں کے برتن الگ رکھے جاتے ہیں! پھر اگر خاکروب ہے‘ یا دوسرے مذہب کا‘ تو اس رواج میں التزام بھی شامل ہو جاتا ہے۔ غیر مسلم اسے اسلام کے کھاتے میں ڈال دیتا ہے حالانکہ اسلام میں اس کی کوئی اصل نہیں! رہا یہ پہلو کہ جن برتنوں میں شراب پی جاتی ہے یا غیر حلال گوشت رکھایا یا کھایا جاتا ہے‘ وہ برتن اگر مسلمان کے گھر میں ہوں گے‘ تب بھی ان سے اجتناب کرنا ہو گا! اس میں مسلم یا غیر مسلم کی تخصیص نہیں! مفتی محمد شفیع مرحوم اپنی تفسیر میں ایک مقام پر لکھتے ہیں ''گوشت کے سوا دوسری اشیاء خوردنی میں اہل کتاب اور دوسرے کفار میں کوئی امتیاز اور فرق نہیں! کھانے پینے کی خشک چیزیں گندم‘ چنا‘ چاول اور پھل وغیرہ ہر کافر کے ہاتھ کا حلال اور جائز ہے۔ اس میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں!‘‘
تقسیم سے پہلے مسلمانوں کی ہندوئوں اور سکھوں کے ساتھ دوستیاں تھیں۔ بھائی چارے تھے ایک دوسرے کی شادیوں اور موت کی تقریبات میں شامل ہوتے تھے۔ گھروں میں دعوتیں ہوتی تھیں۔ حلوائی زیادہ تر ہندو ہوتے تھے۔ ڈھاکے قیام کے دوران دیکھا کہ شہر میں مٹھائی کی مقبول ترین دکان مرن چند کی تھی۔ اسی کے فراہم کردہ برتنوں میں مسلمان رس ملائی کھاتے تھے‘ تازہ بنے ہوئے گلاب جامن اور میٹھا دہی بھی‘ میٹھا دہی بنگال میں مٹھائی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ بنگالی میں اسے ''مشٹی دوئی‘‘ کہتے ہیں۔ مشرقی پاکستان مرحوم اور اب بنگلہ دیش میں بوگرہ کا میٹھا دہی مقبول عام و خاص ہے۔ اس کے بنانے کی خاص تکنیک ہے۔
اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان کا ریکارڈ ہو سکتا ہے‘ اعلیٰ ترین نہ ہو مگر ع... عمر بڑھا بھی دیتے ہیں کچھ زیب داستاں کے لیے‘ اس میں منفی پروپیگنڈے کا عنصر بھی غالب ہے۔ بُری خبر اچھالی جاتی ہے اور مثبت خبر سے بے اعتنائی برتی جاتی ہے۔ اس سلوک میں پاکستان کا اپنا میڈیا بھی برابر کا شریک ہے۔ چند دن پہلے سندھ کے قصبے گھوٹکی میں ایک 80 سالہ بوڑھا ہندو افطار کے وقت سے پہلے کھانے پینے کی چیزیں فروخت کر رہا تھا۔ ایک سپاہی نے جس کا بیان تھا کہ بوڑھا کیلا کھا رہا تھا‘ اُسے خوب مارا پیٹا۔ بوڑھے کے پوتے نے مقدمہ دائر کر دیا۔ سپاہی کو جس کا نام علی حسین تھا گرفتار کر لیا گیا۔ تعجب ہے کہ ہمارے اپنے میڈیا نے اس خبر کو نمایاں حیثیت نہ دی۔ مگر معروف بھارتی انگریزی روزنامے ''دی ہندو‘‘ نے سپاہی کی گرفتاری کی خبر اپنے سارے ایڈیشنوں میں چھاپی! اسی ہفتے ٹنڈو آدم میں وہ دکاندار گرفتار کر لیا گیا ہے جس کی دکان پر قابل اعتراض جوتے فروخت ہو رہے تھے۔ ہندو برادری نے شکایت کی تھی اور احتجاج بھی کہ جوتوں میں ایسے الفاظ لکھے ہوئے ہیں جن سے ہندو دھرم کی توہین ہوتی ہے۔ بلاسفیمی قانون کے تحت دکاندار پکڑ لیا گیا ہے یہ اور بات ہے کہ اس نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا۔ جوتے اسے پنجاب سے سپلائی ہوئے تھے‘ یہ خبر رائٹر نے اور بھارتی اخبارات نے بھی شائع کی ہے۔
تاہم دلچسپ ترین اقدام عمران خان کی خیبر پختونخوا حکومت نے اٹھایا ہے! اس نے اقلیتوں کے لیے مختص فنڈ میں غیر معمولی کمی کر کے تیس کروڑ روپے ایک دارالعلوم کو دے دیئے ہیں۔ اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے گزشتہ برس گیارہ کروڑ ستر لاکھ روپے رکھے گئے تھے۔ ابکے یہ رقم آٹھ کروڑ ساٹھ لاکھ رہ گئی ہے۔ وفاق المدارس عربیہ کے سیکرٹری جنرل مولانا حنیف جالندھری نے دارالعلوم کی گرانٹ پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی قریب میں مدارس کو کوئی فنڈ جاری نہیں ہوئے۔ سابق سیکرٹری مذہبی امور وکیل خان کے مطابق 2002ء کے بعد کسی مدرسہ کو وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی گرانٹ نہیں ملی! مدرسہ کو خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے اس خطیر گرانٹ کا مقصد مدرسہ کی تعمیر نو اور بحالی بتایا گیا ہے۔ کیا عجب‘ مدرسہ کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کے بعد عمران خان کے صاحبزادے لندن سے آ کر اس مدرسہ میں داخلہ لے لیں!!۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved