تحریر : ڈاکٹر لال خان تاریخ اشاعت     30-06-2016

برطانیہ کے بغیر یورپی یونین؟

23 جون کو برطانیہ (United Kingdom) میں ہونے والے ریفرنڈم میں اکثریت نے غیر متوقع طور پر یورپی یونین سے علیحدگی کا ووٹ دیا۔ 52 فیصد لوگوں نے یورپی یونین سے علیحدگی جبکہ 48 فیصد نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔ 71.8 فیصد ٹرن آئوٹ 1992ء کے انتخابات کے بعد سب سے زیادہ اور توقعات سے بڑھ کر تھا۔ یہ نتائج اگر عملی جامہ پہنتے ہیں تو برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہونے والا پہلا ملک بن جائے گا۔ بی بی سی کے مطابق ''یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی ایک پیچیدہ اور طویل عمل ہے جسے مکمل ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں‘‘۔
ا س ر یفرنڈم کی نوعیت 'ایڈوائزری‘ ہے اور اگر پارلیمنٹ علیحدگی کی منظوری نہیں دیتی تو نیا سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ریفرنڈم کے حتمی نتائج آنے کے بعد برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون (جو یورپی یونین کے ساتھ رہنے کی مہم چلا رہا تھا) نے اس سال کے آخر تک مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ حکمران کنزرویٹو پارٹی میں داخلی تضادات شدید ہیں اور یورپی یونین سے علیحدگی کی مہم میں پیش پیش لندن کا سابقہ میئر بورس جانسن نیا متوقع وزیر اعظم ہو سکتا ہے۔ ڈیوڈ کیمرون نے اس ریفرنڈم کا اعلان انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست اور یورپی یونین مخالف 'یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی‘ (UKIP) کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا مقابلہ کرنے اور اپنی ساکھ میں اضافے کے لئے کروایا تھا‘ لیکن وہ اس جوئے میں ہار چکا ہے۔ جیرمی کاربن کی قیادت میں لیبر پارٹی نے بھی یورپی یونین میں رہنے کی مہم چلائی تھی لیکن علیحدگی کے ووٹ کی کامیابی کو لیبر پارٹی کا دایاں بازو جیرمی کاربن کی کمزوری اور ناکامی قرار دے کر ان کے استعفے کا مطالبہ کر رہا ہے؛ تاہم کاربن نے واضح کیا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔ جیرمی کاربن نے پارٹی کے دائیں بازو کے لیڈر اور ٹونی بلیئر کے وفادار ہینری بین کو شیڈو کابینہ سے برطرف کر دیا ہے کیونکہ وہ پارٹی قیادت پر ایک کُو (Coup) کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔
برطانیہ کے اندر مختلف خطوں میں نتائج مختلف رہے۔ انگلینڈ میں 53.4 فیصد نے یورپی یونین سے علیحدگی جبکہ 46 فیصد نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔ ویلز (Wales) میں یہ شرح بالترتیب 52.2 فیصد اور 47.5 فیصد رہی۔ انگلینڈ اور ویلز کے برخلاف سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں بالترتیب 62 فیصد اور 55.8 فیصد اکثریت نے یورپی یونین کے ساتھ رہنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے بعد سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے امکانات پھر سے بڑھ گئے ہیں اور اس پر ایک نئے ریفرنڈم کی بات کی جا رہی ہے۔ ایسی ہی صورتحال شمالی آئرلینڈ میں بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ 
برطانیہ میں دائیں بازو کے نسل پرست، قوم پرست اور مہاجرین مخالف (Anti Immigration) سیاسی رجحانات رکھنے والی 'یو کے انڈی پنڈنٹ پارٹی‘ کے سربراہ نائجل فراژ نے اسے اپنی فتح اور 23 جون کو ''برطانیہ کے یوم آزادی‘‘ سے تعبیر کیا اور کہا ہے کہ ''یورپی یونین ناکام ہو رہی ہے، یہ مر رہی ہے۔‘‘
سارے یورپ میں انتہائی دائیں بازو کی مہاجرین مخالف پارٹیوں (مثلا فرانس میں نیشنل فرنٹ) کو تقویت ملی ہے اور دیگر ممالک میں بھی ایسے ریفرنڈم کے مطالبات اٹھ سکتے ہیں۔ جرمن اور فرانسیسی بورژوازی کے معاشی جبر کا شکار یونان جیسے ممالک میں یورپی یونین کے خلاف پہلے ہی نفرت پائی جاتی ہے۔ اب حکمران طبقات بہت محتاط ہو جائیں گے اسے ٹالنے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈے استعمال کریں گے۔
ریفرنڈم کے نتائج نے نہ صرف برطانیہ بلکہ پورے یورپی یونین اور اس سے باہر بھی سیاسی اور معاشی طور پر بھونچال برپا کر دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق عالمی سٹاک مارکیٹوں کا حجم ریفرنڈم کے نتائج کے بعد 2 ہزار ارب ڈالر سکڑ گیا ہے۔ اکانومسٹ کے مطابق ''یورپی یونین کے لئے برطانیہ کی علیحدگی ایک تباہی ہے‘‘۔ اکانومسٹ نے صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر برطانیہ میں ایک نئے معاشی بحران (Recession) کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ اس سے یورپ کے دوسرے ممالک (بالخصوص جرمنی، فرانس، اٹلی) کی برطانیہ کو برآمدات بھی سکڑیں گی اور یوں برائے نام معاشی بحالی ایک نئے اور زیادہ گہرے بحران میں پورے یورپی یونین کو مبتلا کر سکتی ہے۔ برطانوی پائونڈ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں 11 فیصد کم ہو گئی ہے اور یہ پچھلے31 سال کی کم ترین سطح پر چلا گیا ہے۔
برطانیہ کی کل برآمدات کا نصف یورپی یونین کے ممالک میں فروخت ہوتا ہے۔ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد وہ ان مصنوعات کو یورپ کے50 کروڑ صارفین کی مشترکہ منڈی میں بلا روک ٹوک فروخت نہیںکر سکے گا‘ اور ان پر ڈیوٹی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح یورپی یونین کے 53 ممالک سے آزادانہ تجارت کے معاہدوں (بشمول کینیڈا، سنگاپور، جنوبی کوریا وغیرہ) سے بھی برطانیہ باہر ہو جائے گا۔ فرانس اور جرمنی جیسے بڑے صنعتی ممالک کو بھی برطانیہ کی منڈی تک رسائی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا‘ اور اس طرح سارا یورپ ایک نئے معاشی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔
فی الوقت برطانیہ میں دوسرے یورپی ممالک کے 22 لاکھ باشندے آباد ہیں اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں برطانیہ کے شہری دوسرے یورپی ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ ان کا مستقبل بھی غیر یقینی ہو گیا ہے اور انہیں کام کرنے کے لیے اب ویزا کی ضرورت پڑ سکتی ہے؛ تاہم یورپ کے علاوہ دوسرے ممالک، بالخصوص تیسری دنیا اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کے مہاجرین اور پناہ گزینوں سے متعلق برطانیہ کی ریاست فوری طور پر سخت رویہ اپنا سکتی ہے۔
1992ء میں قائم ہونے والی 28 ممالک پر مشتمل یورپی یونین یورپی خصوصاً جرمن اور فرانسیسی بورژوازی کی وسیع تر منڈیوں تک رسائی کی کوشش تھی۔ آج اس یونین کے حتمی شراکت دار اور فیصلہ ساز جرمنی اور کسی حد تک فرانس کے سرمایہ دار ہیں جبکہ یونان، پرتگال حتیٰ کہ اٹلی اور سپین جیسے 'چھوٹے‘ یا تکنیکی و اقتصادی طورپر پسماندہ ممالک معاشی طور پر دیوالیہ (یا اس طرف گامزن) ہو کر ان کی ماتحت ریاستوں تبدیل ہو چکے ہیں۔ مختلف سمت میں سفر کرتی ہوئی اور مختلف کیفیات کی حامل سرمایہ دارانہ معیشتوں اور سیاسی اکائیوں کو ایک منڈی میں اور اس سے بھی بڑھ کر ایک کرنسی میں جوڑنا عملی طور پر ناممکن ہے۔ جن بنیادوں پر یورپ کو ایک معاشی اکائی بنانے کا خواب یورپی بورژوازی نے دیکھا تھا آج وہ کھوکھلی ہو چکی ہے، نتیجتاً پورا ڈھانچہ لڑکھڑا رہا ہے۔ یورپی یونین کی ٹوٹ پھوٹ آنے والے دنوں میں تیز تر ہو گی۔ 
برطانیہ میں یورپی یونین سے علیحدگی (Brexit) کی کیمپین انتہائی دائیں بازو کی قوم پرست اور رجعتی پارٹیوں کی جانب سے چلائی گئی تھی۔ 18-44 سال کے افراد کی اکثریت نے یورپی یونین میں رہنے جبکہ 45-65 سال اور اس سے اوپر کے افراد کی اکثریت نے علیحدگی کے لئے ووٹ دیا‘ جس میں یورپی یونین سے پہلے کے پرانے اور 'اچھے‘ دنوں میں لوٹ جانے کی خواہش صاف نظر آتی ہے۔ لیکن سرمایہ داری کے اس بحران میں اچھے دن واپس نہیں آ سکتے۔ نوجوانوں نے واضح طور پر قوم پرستی اور Anti Immigration کی زہریلی بنیاد پر چلائی جانے والی علیحدگی کی مہم کو مسترد کیا ہے۔
حکمران طبقے کے سنجیدہ حصے یورپی یونین میں رہنے کی حمایت میں تھے لیکن انتہائی دائیں بازو نے درمیانے طبقے اور سماج کے پسماندہ حصوں کے خوف اور عدم تحفظ سے کھیلا ہے؛ تاہم قوم پرستی اور لسانیت کو ہوا دینا اور قومی سرحدوں کو گہرا کرنے کرنا ایک رجعتی اقدام ہے۔ برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی معاشی زوال پزیری، آسٹیریٹی، محنت کشوں اور نوجوانوں کے معیار زندگی میں مسلسل گراوٹ اور بیروزگاری جیسے مسائل کا حل نہیں ہے۔ وقت اور حالات برطانیہ اور یورپ کے محنت کشوں کو ناگزیر طور پر سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف جدوجہد کی طرف بار بار دھکیلیں گے۔ اس طبقاتی جنگ کی ابتدائی صف آرائی اب کئی یورپی ممالک بشمول برطانیہ میں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ 2008ء اور اس کے بعد دنیا بھر کے مختلف خطوں میں بحران در بحران کے تسلسل نے پرانا معمول توڑ دیا ہے اور آج کا عہد غیر معمولی واقعات اور مظاہر کے نئے 'معمول‘ پر مبنی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved