تحریر : مجیب الرحمٰن شامی تاریخ اشاعت     03-07-2016

اپوزیشن کا ’’یُو ٹرن‘‘

وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں پہلے خبر آئی کہ وہ عید کے بعد پاکستان واپس آئیں گے، اور ان کا دھوم دھام سے استقبال کیا جائے گا۔ کامران خان صاحب نے تاریخ کا اعلان بھی کر دیا، ان کے ذرائع نے انہیں خبر دی تھی کہ وزیر اعظم 10 جولائی کو اسلام آباد پہنچیں گے۔ پھر بعض مسلم لیگی حلقوں نے یہ بتانا شروع کیا کہ وہ لاہور آئیں گے، لیکن چند ہی روز بعد یہ اعلان سامنے آ گیا کہ وزیر اعظم نے استقبالی تیاریوں پر خط تنسیخ پھیر دیا ہے۔ اس کی متعدد وجوہ بیان کی گئی تھیں، ایک بڑا سبب موسم کی شدت اور حِدّت بھی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل جبکہ سورج سوا نیزے پر آ گیا محسوس ہوتا ہے‘ اپنے حامیوں کو دور و نزدیک سے جمع کرنا انہیں ایک نئے امتحان میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب نے جب اپنا دھرنا نمبر ایک دیا تھا، تو اسلام آباد شدید سردی کی لپیٹ میں تھا، وہ اپنے گرماگرم کنٹینر میں تشریف فرما رہتے تھے، لیکن ان کے عقیدت مند سردی میں ٹھٹھر کر دادِ عقیدت دیتے جاتے تھے۔ ان خواتین و حضرات پر کوئی ترس کھانے والا نہیں تھا۔ بالآخر کسی نہ کسی حیلے بہانے سے جب یہ دھرنا ختم کیا گیا تو لوگوں کی جان میں جان آئی، اب بھی جو سیاسی رہنما جلسوں، جلوسوں اور دھرنوں پر ادھار کھاتے رہتے ہیں وہ خود سورج کی ایک گھنٹہ تک بھی تاب نہیں لا سکتے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اگر یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اپنے استقبال کے لئے اپنے حامیوں کو زحمت نہیں دیں گے اور خاموشی سے وطن واپس آ جائیں گے تو اس پر مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو ٹھنڈا سانس نصیب ہو جائے گا۔
وزیر اعظم ہوں یا ان کے مخالفین‘ کسی کے بارے میں بھی یہ بات نہیں کہی جا سکتی ان کے 
حامی (یا مخالف) موجود نہیں ہیں۔ پاکستانی سیاست میں دونوں طرح کے خواتین و حضرات بکثرت پائے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کے جانثار بے شمار ہیں، تو عمران خان کے حامی بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی کا حلقہ اثر بھی اپنا ہے۔ اگر کوئی جماعت اپنے حامیوں کو مجتمع کر کے کوئی بڑا جلسہ یا اجتماع کر دکھاتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے ''ویٹو‘‘ حاصل ہو گیا ہے اور اب ہوائیں اس سے پوچھ کر چلیں گی اور بارش اس کے اشارے کا انتظار کرے گی۔ پاکستان کی آبادی کم و بیش انیس، بیس کروڑ ہے۔ اس میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد بھی کروڑوں تک پہنچتی ہے۔ ایک حلقہ انتخاب کے رائے دہندگان کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے۔ قومی اسمبلی کا ایک رکن (عموماً) ایک لاکھ سے زائد ووٹ لے کر منتخب ہوتا ہے، اس کے حریف 90 کیا 99 ہزار بھی حاصل کر لیں تو کامیابی ان کے نام نہیں لکھی جا سکتی۔ اگر ہر حلقے کے ناکام امیدوار ایک جگہ جمع ہو جائیں تو وہ بھی کروڑوں کی نمائندگی کا دعویٰ کر سکتے ہیں، لیکن اکثریت حاصل نہ ہونے کی پاداش میں اُنہیں اسمبلیوں کے باہر رہنا اور اگلے انتخابات کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔
کسی بھی جمہوری مُلک میں وزیر اعظم اپنے مخالفین کے ووٹوں سے منتخب نہیں ہوتا، سو وزیر اعظم نواز شریف بھی تحریک انصاف یا پیپلز پارٹی کے مرہون منت نہیں ہیں۔ ان کے بس میں ہوتا تو ایوانِ اقتدار میں وہ ہرگز ہرگز داخل نہ ہو پاتے اور زیادہ سے زیادہ سید خورشید شاہ کی کرسی پر براجمان ہو جاتے، یا ہو سکتا ہے (عمران خان کی طرح) وہ بھی ان کے حصے میں نہ آتی۔ اِس لئے اگر وہ لوگ جو اوّل روز سے ان کے برسرِ اقتدار آنے کے مخالف تھے، اور جنہوں نے ان کا راستہ روکنے کے لئے ایڑی اور چوٹی کا زور لگایا تھا، استعفے طلب کریں اور دعویٰ کریں کہ انہیں اس کا ''مینڈیٹ‘‘ حاصل ہو گیا ہے تو اس پر ایک زوردار قہقہہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔
اکثر سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ وزیر اعظم کو وطن واپس آنے کے بعد اپوزیشن سے شدید مقابلہ کرنا پڑے گا، یہ اپنے حامیوں کو سڑکوں پر لا کر ان کے لئے مشکلات میں اضافہ کرے گی، لیکن اپوزیشن کی بے خیالی کا یہ عالم ہے کہ اس کی دونوں بڑی جماعتوں نے وزیر اعظم اور ان کے اہل خاندان کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کر دیئے ہیں۔ لگائے جانے والے الزامات میں پاناما لیکس کا حوالہ بھی موجود ہے۔ کہا گیا ہے کہ شریف خاندان کے افراد نے اپنی جائیداد کی تفصیلات درست طور پر فراہم نہیں کیں، اِس لئے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔ درخواست گزاروں کا خیال ہے کہ الیکشن کمیشن کو شریف خاندان کے جملہ بالغ افراد کو اسمبلیوں سے باہر نکال دینا چاہئے۔ یہ بھی مطالبہ ہے کہ ان میں سے جو اسمبلیوں سے باہر ہے اسے اندر داخلے کے حق سے محروم کر دیا جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پانامہ لیکس کی خبریں آنے کے بعد اپوزیشن ہی کی طرف سے سپریم کورٹ کے حاضر سروس ججوں پر مشتمل تحقیقاتی کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے لئے مشترکہ ٹرمز آف ریفرنس تیار کرنے کے لئے کل جماعتی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ اس ساری تگ و دو کا مطلب یہ تھا کہ تحقیقات کا فورم اور دائرہ مشترکہ طور پر طے کیا جانا چاہئے۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے اچانک ''یو ٹرن‘‘ لے لیا، اور پانامہ لیکس کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کر دیا۔ ظاہر ہے کہ ایک معاملہ دو فورمز پر تو زیر بحث نہیں آ سکتا۔ ان دونوں جماعتوں کی اس پیش قدمی سے مسلم لیگ (ن) اور اس کے حامیوں نے اطمینان کا سانس لیا ہے کہ چلئے اب معاملہ الیکشن کمیشن کے سپرد ہو گیا ہے‘ وہاں سے نکلے گا تو عدالتوں میں پہنچ جائے گا، اس طرح فوری طور پر سڑکوں پر آنے کی دھمکی بھی اپنا جواز کھو بیٹھی ہے اور ٹی او آر کی بحث بھی غیر متعلق ہو گئی ہے۔ اسے اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم نواز شریف کی صحت یابی کا تحفہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی اور یُو ٹرن نہ لیا گیا، تو اپوزیشن کی پوزیشن وہی رہے گی جو کہ ہے۔
الجھا ہے پائوں یار کا زلفِ دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا
(یہ کالم روزنامہ '' دنیا‘‘ اور روزنامہ ''پاکستان‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved