تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     06-07-2016

عیدکے لمحات

وقت کے گزرنے کی رفتار قیامت خیز ہے۔ سبھی کچھ بہت تیزی سے پیچھے چُھوٹتا محسوس ہو رہا ہے۔ ٹرین میں سفر کرنے والے کے سامنے سے مناظر گزرتے جاتے ہیں اور وہ حیران ہوتا رہتا ہے۔ مگر کیا واقعی مناظر گزر رہے ہوتے ہیں؟ نہیں۔ سب کچھ اپنی جگہ ہے۔ سفر کرنے والے کو ایسا صرف محسوس ہوتا ہے کہ سب کچھ پیچھے چُھوٹ رہا ہے۔ یہی حال ہمارے اور وقت کے تعلق کا بھی ہے۔ وقت کی رفتار تیزی نہیں ہوئی۔ وہ تو اپنی طے شدہ رفتار کے مطابق ہی گزر رہا ہے۔ ہمارے حواس کی کیفیت تبدیل ہوگئی ہے۔ کسی بھی چیز کو دیکھنے اور برتنے کے حوالے سے ہماری سوچ اور احساس میں تبدیلی رونما ہوچکی ہے۔ ہر شعبے میں مسابقت کے پنپتے ہوئے رجحان اور بے مثال ترقی نے زندگی کی رفتار تیزی کردی ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو گِراکر، دھکیل کر یا کسی اور طریقے سے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اس دھکم پیل کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ وقت گزرنے کا احساس بھی بڑھ گیا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے کئی سال گزر جاتے ہیں اور ہمیں کچھ اندازہ ہی نہیں ہو پاتا۔ 
ہر سال رمضان المبارک کی آمد ہوتی ہے تو دل کو بے حد مسرت محسوس ہوتی ہے۔ ابتدائی دو تین روزے تو ایسے گزرتے ہیں کہ دل و دماغ کا عالم ہی کچھ اور ہوتا ہے اور روح عجیب طمانیت سے سرشار رہتی ہے۔ پھر وہی ہوتا ہے جس کا ذکر ہم نے ابھی کیا۔ روزے تیزی سے گزرنے لگتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے پورا ماہِ مبارک گزر جاتا ہے۔
رمضان کی آمد پر ہم نے اپنے آپ سے کیا کیا عہد کیے ہوتے ہیں کہ اس بار تو بھرپور عبادت کے ذریعے رب کو راضی کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ ہم کوشش بھی کرتے ہیں مگر افسوس کہ بیشتر معاملات میں ہماری کوشش نیم دِلانہ رہ جاتی ہے۔ ہم دنیا داری سے دور رہنے کا صرف سوچتے ہیں، ایسا کرتے نہیں۔ ماہِ صیام میں بھی دنیا داری ہم سے چمٹی رہتی ہے۔ لاکھ کوشش کے باوجود ہم اپنے آپ کو اُن علائق سے دور نہیں رکھ پاتے جن سے دور رکھنے ہی کے لیے رمضان کا ماہِ مبارک ہمیں عطا کیا گیا ہے۔ 
ہر سال جب ماہِ صیام آتا ہے تب ہم تمام کام عید کے بعد پر اٹھا رکھتے ہیں۔ گویا رمضان بہت بھاری ذمہ داری ہو۔ ویسے ایک لحاظ سے دیکھیے تو رمضان بھاری ذمہ داری ہے بھی۔ اس ماہِ مبارک میں ہمیں بہت کچھ ترک کرنا پڑتا ہے۔ اور دوسرا بہت کچھ اپنانا بھی پڑتا ہے۔ مگر کیا واقعی ہم ایسا کرتے ہیں؟ یہ سوال غور طلب ہے۔ عید کی سعید ساعتوں میں ہمیں اپنے آپ سے چند سوال ضرور کرنے چاہئیں۔ مثلاً یہ کہ ہم نے ماہِ صیام کا حق ادا کرنے کی کوشش کی؟ تزکیۂ نفس اُس حد تک کیا جس حد تک رب ہم سے چاہتا ہے؟ کیا ہمیں عید الفطر کی سعید ساعتوں سے کماحقہ فیض یاب ہونے کا استحقاق حاصل ہے؟ 
کیا رمضان المبارک اور کیا عیدین، ہر موقع آتا ہے اور گزر جاتا ہے۔ اور اُس کے گزر جانے پر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم وہ سب کچھ نہیں کر پائے جو کرنا چاہیے تھا۔ اور المیہ یہ ہے کہ یہ احساس بھی اب ناپید ہوتا جارہا ہے! 
ماہِ صیام کی شکل میں ہمیں ہر سال پورا ایک مہینہ تزکیۂ نفس کے لیے ملتا ہے۔ اس ایک ماہ کی عبادت بھی افضل ہے اور ان تیس دنوں میں انجام پانے والے روزمرہ افعال بھی فضیلت کا موجب بنتے ہیں۔ عام دنوں میں نیکی کا جو بھی ثواب ہے وہ اِن تیس دنوں میں کئی گنا ہو جاتا ہے۔ جن کی نیت ماہِ صیام سے زیادہ سے زیادہ سعادت کشید کرنے کی ہوتی ہے اُنہیں اللہ ایسا کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ اور رمضان اللہ کے ایسے ہی بندوں کے لیے ہوتا ہے۔ 
یہ بھی اللہ ہی کی شان ہے کہ اُس نے فیوض و برکات سے مُزیّن ماہِ مبارک کو اُن کے لیے بھی بارآور بنادیا ہے جو دنیا کمانے کے شوقین ہیں! جو ریاست اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی ہے اُسی کا یہ حال ہے کہ لوگ ماہِ صیام کو اللہ کی رضا کے حصول سے زیادہ دنیا اور مال و دولتِ دنیا کمانے کے لیے بروئے کار لا رہے ہیں! جب لوگ خرچ کرنے پر تُلے ہوں تب کسی بھی معاملے میں سیزن سے فائدہ اٹھانا کوئی ایسی بُری بات نہیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ تجارت پسندی کب شرارت پسندی میں تبدیل ہوجاتی ہے، کچھ اندازہ نہیں ہو پاتا۔ زیادہ سے زیادہ منفعت کے شدید خواہش انسان کو نفس کے تحت الثّرٰی میں گرا دیتا ہے۔ ہوس کے بعض پُتلوں کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ ماہِ صیام میں اتنا کمالیا جائے کہ پھرچھ ماہ تک کچھ کمانے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔ کی کمائی کرلی جائے۔ ایک طرف لوگ ہیں کہ ماہِ صیام کو ع 
بابرؔ! بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست 
کے مصداق گزارتے ہیں یعنی کھانے پینے سے گھومنے پھرنے اور اوڑھنے پہننے تک ہر معاملے میں وہ غیر معمولی سُرعت، بلکہ عجلت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اور دوسری طرف وہ ہیں جو ماہِ صیام کو لین دین کے نقطۂ عروج کا مہینہ سمجھ کر گلے لگاتے ہیں۔ اُن کے ہر خیال، ہر عمل اور ہر انداز سے ایک ہی بات جھلکتی ہے ... ایسا موقع پھر کہاں ملے گا! 
عید الفطر ہو یا عید الاضحی، دونوں ہی ہم سے کچھ مطالبہ کرتی ہیں، کوئی تقاضا کرتی ہیں۔ یہ کہ ہمیں صرف اپنے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے بلکہ دوسروں کی بہبود اور مفاد کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ جو بھی اس مطالبے یا تقاضے کا جتنا خیال رکھتا ہے اُس سے اللہ اُسی قدر راضی ہوتا ہے۔ 
عید الفطر کی سعید ساعتوں میں ہمیں اپنا جائزہ ضرور لینا چاہیے کہ اللہ نے ہمارے ذمے جو کام لگائے تھے وہ ہم نے کیے یا نہیں۔ حق یہ ہے کہ ہم بیشتر معاملات میں تساہل برتنے کے عادی ہیں۔ اپنے حصے کا کام بھرپور طریقے سے انجام دینے کے لیے ہمیں جتنی کوشش کرنی چاہیے اُتنی کوشش ہم بالعموم کرتے نہیں۔ یہی سبب ہے کہ بہت سی خوشیاں ادھوری سی رہ جاتی ہیں۔ مسرّت کے کسی بھی موقع سے بھرپور استفادہ اُسی وقت کیا جاسکتا ہے جب ہم نے اپنے حصے کا کام پوری ایمان داری سے کیا ہو اور حق ادا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ہو۔ 
رمضان المبارک کی آمد پر بہت کچھ ایسا ہوتا ہے جو ہم عید الفطر کے گزرنے تک موقوف کر رکھتے ہیں۔ اِس ذہنیت نے پوری قوم کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہم اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے کترانے کے معاملے میں ایسے راسخ العمل ہوچکے ہیں کہ اب ایسا کرنے پر شرمندگی محسوس ہوتی ہے نہ دکھ ؎ 
وائے ناکامی! متاعِ کارواں جاتا رہا 
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا! 
کام کو ٹالتے رہنے کی عادت نے ہمیں کام ٹالنے کے کئی راستے سجھائے ہیں۔ عمومی سطح پر ہم یہ کہتے ہیں کہ اتوار کے بعد دیکھیں گے یعنی ذہن میں یہ تصور راسخ ہوچکا ہے کہ کوئی بھی کام ہفتے کے پہلے ورکنگ ڈے پر شروع کرنا چاہیے۔ اِسی طور اگر کوئی بڑا ایونٹ یا مذہبی موقع آرہا ہو تو معاملہ اُس کے گزرنے تک موخر کردیا جاتا ہے۔ زندگی کی گاڑی کو بات بات پر روک دینے کی یہ عادت اب اس قدر پختہ ہوچکی ہے کہ اب ہمیں دکھ ہوتا ہے نہ شرمندگی۔ چند لمحات کے لیے تھوڑا سا توقف کیا جاتا ہے اور پرنالے پھر وہیں بہنے لگتے ہیں۔ 
قسمت والے ماہِ صیام کی فیوض و برکات سے مستفید ہوئے۔ آئیے ہم سب عہد کریں کہ آج کے کام کو کل پر ٹالنے کی روش ترک کرکے ایسی راہ پر گامزن ہوں گے جو ہمیں درست سوچ اور اُس سے بھی زیادہ درست عمل کی طرف لے جاتی ہو۔ اہلِ وطن نے بہت کچھ عید کے بعد پر اٹھا رکھا ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ عید کے بعد اٹھا رکھا جانے والا ہر وہ ارادہ ناکامی سے دوچار ہو جو اس ملک کے حق میں نہیں۔ عید کے بعد حکومت مخالف تحریک چلائے جانے کی بات بھی ہو رہی ہے۔ اللہ کرے کہ ملک مزید افتراق و انتشار سے محفوظ رہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved