تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     23-07-2016

غیرت کے نام پر قتل اور قصاص

غیرت کے نام پر قتل اور زنا بالجبر جیسے بڑے جرائم کی روک تھام کے لیے ایک اہم قانون تشکیل کے مراحل میں ہے۔ پارلیمانی کمیٹی نے اس اہم مسودۂ قانون کی متفقہ منظوری دے دی ہے۔ اس قانون میں چار باتیں اہم ہیں۔
٭ غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں عدالت سے باہر مفاہمت کا باب بند کر دیا گیا ہے۔ اگر مقتول کے ورثا معاف کر دیں، تب بھی مجرم کو کم از کم پچیس سال قید بھگتنا ہوگی۔
٭ زنا بالجبر کے لیے سزائے موت تجویز کی گئی ہے۔
٭ اس نوعیت کے مقدمات میں ڈی این اے کی شہادت کو قبول کیا جائے گا۔
٭ عدالت زنا بالجبر کے مقدمے میں پابند ہوگی کہ تین ماہ میں فیصلہ سنائے۔ اس طرح لازم ہوگا کہ اپیل کا فیصلہ چار ماہ میں کر دیا جائے۔
یہ بہت اہم پیش رفت ہے۔ اس سے کسی حد تک اس ظلم کا خاتمہ ہو گا جو اس معاشرے میں روا رکھا جا رہا ہے اور جسے بد قسمتی سے بعض مذہبی تعبیرات اور سماجی روایات کا تحفظ حاصل ہے۔ مثال کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ مقتول کے ورثا اگر معاف کر دیں تو ریاست کو سزا دینے یا قصاص لینے کا اختیار نہیں۔ اس تعبیر نے خواتین کے خلاف ظلم کا ایک دروازہ کھول دیا ہے۔ ہمارے ہاں غیرت کے نام پر ہونے والے اکثر قتل باپ اور بیٹے کی ملی بھگت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ دونوں مل کر لڑکی کو قتل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ بھائی قتل کرتا اور باپ مقتول کا وارث بن کر مقدمہ لڑتا ہے۔ جب عدالت سزا سناتی ہے تو باپ والی اور وارث بن کر بیٹے کو معاف کر دیتا ہے۔ یوں مجرم قانون میں موجود ایک سقم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صاف بچ جاتا ہے۔
اہل علم کے ایک طبقے نے واضح کیا کہ یہ الٰہی منشا کی درست تفہیم نہیں ہے۔ قصاص کا قانون انسانوں کے لیے اﷲ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔ یہ قانون اس جذبہ انتقام کو ٹھنڈا کرنے کے لیے دیا گیا ہے جو نسل در نسل انسانوں میں قتل و غارت گری کے ایک سلسلے کو پروان چڑھاتا ہے اور یوں بہت سی انسانی جانیں اس کی نذر ہو جاتی ہیں۔ اﷲ تعالیٰ نے معاف کرنے کا حق مقتول کے ورثا کو دیا تاکہ قانون مظلوم کا ہمدرد بن کر سامنے آئے اور اس کے جذبۂ انتقام کو تسکین ملے۔ اس کے ساتھ اﷲ تعالیٰ نے یہ ہدایت بھی کی کہ اگر مقتول کے ورثا معاف کر دیں گے تو اس میں ان کے لیے بہتری ہے۔ اس قانون کی افادیت بالکل واضح ہے۔ ایک تو یہ کہ لوگ قانون کو ہاتھ میں نہ لیں اور مقتول کے ورثا کو یہ یقین ہو کہ قانون مظلوم کے ساتھ ہے۔ دوسرا یہ کہ لوگوں میں انتقام کے جذبے کو کم کیا جائے اور معافی کو رواج دیا جائے تاکہ انسانی جان کی حرمت مستحکم ہو۔
اس قانون سے یہ قطعی مقصود نہیں تھا کہ ریاست کے ہاتھ پوری طرح کاٹ دیے جائیں یا اس قانون کا سوئے استعمال ہو تو اس کو ختم کر نے کی کوئی سبیل نہ رہے۔ ہر جرم جہاں فرد کے خلاف ہوتا ہے وہاں ریاست کے بھی خلاف ہوتا ہے۔ اگر ایک فریق نے معاف کر دیا تو یہ لازم نہیں کہ دوسرا فریق بھی معاف کر دے۔ اگر ریاست یہ سمجھتی ہے کہ اس سے ظلم کو فروغ مل رہا ہے تو ظلم کو روکنا اس کے فرائض منصبی میں شامل ہے اور وہ اس حوالے سے چاہے تو مجرم کو معاف کر نے سے انکار کرد ے۔ اس لیے آج اگر اس قانون میں ترمیم کی جا رہی ہے تو یہ منشا الہی کی درست تفہیم ہو گی۔
غیرت کے نام پر قتل یا زنا بالجبر، اصلاً فرد کے خلاف نہیں، ریاست اور معاشرے کے خلاف جرائم ہیں۔انہیں عام قتل یا زنا پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ یہ محاربہ ہے جسے قرآن مجید اللہ اور رسول کے خلاف اعلانِ جنگ اور فساد فی الارض قرار دیتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل ایک سماجی روایت کے نام پر ہو تا ہے۔ یہ قتل مجرم کے لیے باعثِ فخر شمار ہو تا ہے۔اس کااثر پورے معاشرے کی فضا پر پڑتا ہے۔ یوں یہ جرم فردِ واحد کے نہیں، پورے سماج کے خلاف ہوتا اور لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔ یہی معاملہ زنا بالجبر کا ہے۔ اسے کسی طرح باالرضا پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ بالجبر کی سنگینی بالرضا سے کہیں بڑھ کر ہے۔ رضا کے مقدمے میں مجرم دو ہوتے ہیں اور جبر میں ایک۔ اس سے بھی پورے معاشرے میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہو تا ہے۔ لہٰذا اس میں شبہ نہیں کہ یہ دونوں جرائم کسی طرح بھی قتل یا بدکاری کے عام جرائم نہیں ہیں۔ 
قرآن مجید نے محاربہ کے لیے بہت عبرت ناک سزا تجویز کی ہے۔ زنا بالرضا کی سزا قرآن نے سو کوڑے بتائی ہے۔ لیکن جب یہ بالجبر ہوتا ہے تو محاربہ ہے اور محاربہ کی ایک سزا قرآن مجید نے یہ بتائی ہے کہ مجرموں کے ہاتھ پاؤں بے ترتیب کاٹ ڈالے جائیں یا پھر انہیں عبرت ناک طریقے سے قتل کیا جائے۔ اگر یہ بات پیش نظر رہے توغیرت کے نام پر قتل اور زنا بالجبر کے مجرم سنگین سزا کے مستحق ہیں اور ان کے بارے میں اصل فریق ریاست ہے۔ مجوزہ قانون میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ مقتولین کے ورثا اگر معاف کر دیں تو موت کی سزا نہیں دی جائے گی لیکن تعزیراً پچیس سال کی قید ہوگی۔ محاربہ میں ریاست کا یہ حق کہ وہ موت کی سزا دے، کسی صورت ختم نہیں ہو سکتا۔ مقتولین کے ورثا کا یہ حق تسلیم کرنے کا مفہوم یہ ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کو محاربہ نہیں سمجھا جا رہا۔ یہ شاید علماء کو خوش کر نے کے لیے کیا گیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کو محاربہ کے دائرے میں لانا چاہیے۔
اس قانون میں ایک اہم پیش رفت یہ ہے کہ ڈی این اے کی شہادت کو قانوناً تسلیم کر لیا گیا۔ ہمارے روایتی علماء کے نزدیک حدود کے مقدمات میں ڈی این اے کی گواہی قابلِ قبول نہیں۔ قانون شہادت کے باب میں یہ ایک اہم پیش رفت ہے اور مجھے امید ہے کہ اس سے شریعت کی تفہیمِ نو میں مدد ملے گی اور فقہ کی تدوینِ نو کا عمل آگے بڑھے گا۔ علماء حدود کے مقدمات میں خاتون کی شہادت بھی قبول نہیںکرتے۔ اس قانون پر علماء کی متوقع تنقید کے پیش نظر اس میں تبدیلی کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اہم بات یہ ہے کہ اس پارلیمانی کمیٹی میں مولانا فضل الرحمٰن بھی شمال ہیں۔ شاید ان کے احترام میں خاموشی کو روا رکھا جائے۔ 
یہ قانون زنا بالجبرکے مقدمے میں عدالت کو پابند کر تا ہے کہ وہ تین ماہ میں فیصلہ سنائے۔ اس کا بھی خیر مقدم ہونا چاہیے۔ میرا خیال یہ ہے کہ مدت کا تعین ہر مقدمے میں ہونا چاہیے۔ بعض اوقات شہادتیں سامنے ہوتی ہیں مگر اس کے باوجود سالوں فیصلے نہیں ہو تے۔ مثال کے طور پر قندیل بلوچ کا بھائی ساری دنیا کے سامنے اعترافِ جرم کر رہا اور والدین کے بیانات سمیت تمام شواہد اس اعتراف کی تائید میں ہیں۔ اب اس کے بعد سزا میں تاخیر کا سبب کیا ہے؟ ایسے ان گنت واقعات ہوتے ہیں جب مجرم، میڈیا کے سامنے اعتراف کرتے ہیں اور پھر بھی انہیں سزا نہیں ملتی۔ قانون میں اس حوالے سے موجود سقم کو بھی دورکرنے کی ضرورت ہے۔ لہٰذا فیصلے کے لیے وقت کے تعین کو محض زنا بالجبر کے مقدمات تک محدود نہ رکھا جائے۔ فیصلوں میں تاخیر ہمارے ہاں جرائم کے فروغ کے بڑے اسباب میں سے ہے۔ اس کے لیے ایک موثر نظام بننا چاہیے۔
بحیثیت ِمجموعی یہ ایک اہم قانون سازی ہے جس پر پارلیمان مبارک بادکی مستحق ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved