تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     24-07-2016

کاک ٹیل کالم

ہمارے بغیر عمران کی نئی تحریک
بھی ناکام ہو گی۔خورشید شاہ
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ ''ہمارے بغیر عمران کی نئی تحریک بھی ناکام ہو گی‘‘ اگرچہ یہ ہمارے ساتھ ہونے سے بھی ناکام ہوگی کیونکہ ہمارا مقصد جمہوریت کو بچانا ہے جس نے دونوں طرف اتنے بھاگ لگا رکھے ہیں اور اگر اسی بہانے حکومت بھی بچ نکلتی ہے اور سارے کاروبار بھی بدستور چلتے رہتے ہیں تو یہ قدرت کے کھیل ہیں جس کے آگے عاجز و مسکین انسان کیا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''عمران خاں نے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لیے اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا‘‘ جبکہ یہ حکومت ہی ہے جو اب تک ہمیں بچائے ہوئے ہے اور ہم نے حکومت کو بچا رکھا ہے کیونکہ صفایا اگر ہوا تو دونوں ہی کا ہو جائیگا جبکہ کچھ فائلیں تو کھل چکی ہیں اور باقی کسی وقت بھی کُھل سکتی ہیں اور چونکہ جان بچانا فرض ہے اس لیے دونوں جماعتیں اس فرض سے کوتاہی کی مرتکب نہیں ہو سکتیں اور پچھلے دھرنے کے دوران اگر ہم نے حکومت کی جان بچائی تھی تو اب ہم دونوں کو مل جل کر ایک دوسرے کی جان بچانی چاہیے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں تحریک کے حوالے سے تبصرہ کر رہے تھے۔
تنہا پرواز...؟
عمران خان پر تحریک چلانے کے سلسلے میں تنہا پرواز کا جو الزام لگایا جا رہا ہے اس میں خود اپوزیشن کو بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے کہ عمران خان ان پر کب تک جھوٹی امیدیں لگائے رکھتا کیونکہ یہ تو شروع سے ہی نظر آ رہا تھا کہ حکومت کی صحیح معنوں میں مخالفت کرنا اپوزیشن افورڈ ہی نہیں کر سکتی اور محض 'بلف‘ کر رہی ہے اور اگر سچ پوچھیں تو عمران خاں کے علاوہ ملک کی سیاست میں اپوزیشن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے کیونکہ دونوں فریق صرف اور صرف پیٹ پوجا میں یقین رکھتے ہیں اور یہ پاکستان ہی ہے جہاں حکومت اپوزیشن کے بغیر بھی چلتی رہتی ہے کیونکہ دونوں کے اہداف میں کوئی فرق ہی نہیں ہے جبکہ عمران خاں کا ہدف ملک میں وبا کی طرح پھیلی ہوئی کرپشن ہے جو حکومت اور اپوزیشن کے نزدیک کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کے بغیر نہ حکومت چل سکتی ہے نہ نام نہاد اپوزیشن۔ عمران خان اپنے اس مشن میں کامیاب ہوتا ہے یا ناکام‘ یہ ایک الگ مسئلہ ہے لیکن کرپشن کے خلاف اور صاف ستھری جمہوریت کے لیے جنگ لڑنے کا کریڈٹ ‘ اسی کو حاصل ہو گا۔
کامیابی دھرنے سے نہیں‘ کچھ 
کرنے سے ملتی ہے۔ نواز شریف
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''کامیابی دھرنے سے نہیں‘ کچھ کرنے سے ملتی ہے‘‘ اور خاکسار جو کچھ کر چکا ہے ‘ کر رہا ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی کرنے والا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ ''دو سیٹوں والے تحریک کیا چلائیں گے‘‘ جن میں سے ایک تو لاہور کی ہے جو ماشاء اللہ ہمارا گڑھ ہے اور اگر میری ٹانگ پر زخم نہ ہوتا تو یہ سیٹ بھی نہیں ہار سکتے تھے اور میں اور میرے سارے وزیر جو اپنی تقریروں میں دھرنے کا ذکر لازمی طور پر کرتے ہیں تو اس لیے کہ ہم اسے پرِکاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے اگرچہ مخالفین کا خیال یہ ہے کہ دھرنا ہمارے اعصاب پر بری طرح سوار ہے جو کہ بالکل جھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ'' ہم منتظر ہیں‘ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ اور جس سلسلے میں ہماری کوششیں قابلِ دید ہیں‘ خاص طور پر کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن کی مساعیٔ جمیلہ‘ جو ویسے بھی بزرگ آدمی ہیں اور گھر بیٹھے ہی آزادیٔ کشمیر کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں اور اسی عدیم الفرصتی کی وجہ سے کشمیر کمیٹی کی کوئی میٹنگ بھی کبھی کبھار ہی ہوتی ہے۔ آپ اگلے روز مظفر آباد میں ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔
شعر کی درستی...؟
اگلے روز یہ شعر زیر بحث رہا ؎
شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثلِ برگ
وہ طفل کیا گرے گا جو گُھٹنوں کے بل چلے
یہ شعر مرزا عظیم بیگ عظیم کا بتایا گیا تھا لیکن ایک صاحب نے تصحیح کی کہ اس کے آخر میں لفظ ''برق‘‘ ہے ''برگ‘‘ نہیں لیکن بعد میں ایک اور صاحب نے بتایا کہ اس کا پہلا مصرع جو ہم شروع سے سنتے آئے ہیں‘ اس طرح سے ہے ع
گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
یہ بات دل کو لگتی بھی ہے کیونکہ پورے شعر کی بجائے ضرب المثل بھی یہ ایک مصرع ہی ہے جو اکثر تحریروں اور تقریروں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔اگر کسی اور صاحب نے اس پر تحقیق کر رکھی ہو تو مطلع فرمائیں کیونکہ اس شعر کی سب سے پہلی صورت بھی تحقیق ہی کے نتیجے میں آئی ہے۔
گزر جانا...!
محترمہ مریم نواز کا کہنا ہے کہ نواز شریف جہاں سے گزر جائیں وہاں جلسہ ہو جاتا ہے۔ آخر اس سے بڑی سہولت اور کیا ہو سکتی ہے کہ اس کے مطابق تو کہیں جلسہ کرنے کی تگ و دو کی ضرورت ہی نہیں رہتی‘ جہاں جلسہ کرنا ہو‘ وہاں سے صاحب موصوف صرف گزر جایا کریں‘ اس سے خرچ کی بھی کافی بچت ہو سکتی ہے اور وزیر اعظم کو بھی زیادہ زحمت نہیں اٹھانا پڑے گی‘ صرف پیشگی اعلان ہونا چاہیے کہ آپ فلاں دن فلاں وقت پر فلاں جگہ سے گزریں گے‘ جلسہ خود بخود ہی ہو جائے گا کیونکہ اگر حکومت عرصہ دراز سے خود بخود ہی چل رہی ہے تو جلسے اپنے آپ کیوں نہیں ہو سکتے‘ بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جہاں کسی مخالف پارٹی نے جلسہ کرنا ہو وہاں سے وزیر اعظم گزر جائیں تو مخالفین کا یہ جلسہ بھی نواز لیگ کا جلسہ ہو کر رہ جائے گا اور وہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے ع
ہاتھ لا اُستاد کیوں کیسی کہی!
آج کا مقطع
اس طرح بادلوں کی چھتیں چھائی تھیں‘ ظفر
چاروں طرف ہوا کا سمندر سیاہ تھا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved