تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     04-08-2016

چار افتتاح اور کالا باغ

کسی منصوبے کی افتتاحی تقریب پر پانچ کروڑ روپے خرچ ہوں تو اس کی ایسی چار تقریبات کے اخراجات بیس کروڑ سے زیادہ ہوں گے۔ اس قسم کی حرکات کسی سربراہ مملکت کو زیب نہیں دیتیں کیونکہ وہ ملک کے خزانے کا امین ہوتا ہے۔ لیکن افسوس، ہمارے ہاں دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ کا جنرل مشرف سے لے کر اب تک کئی سربراہان مملکت عوام کو بیوقوف بنا نے کے لئے اس کا افتتاح کر چکے ہیں۔ سستی شہرت حاصل کرنے کے یہ طریقے صرف دیامر تک محدود نہیں بلکہ اس کا مظاہرہ کچھ عرصہ پہلے ہری پور اور مانسہرہ میں بھی دیکھنے میں آ چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے حکمران، غریب عوام کو کس طرح بیوقوف بناتے ہیں۔ لیکن یہ سب فریب اس وقت زمین بوس ہوجاتے ہیں جب افتتاحی تقریبات کی تقریریں سننے والے عوام لوڈ شیڈنگ اور بجلی کے بھاری بلوںکے نیچے کراہنے لگتے ہیں۔ کوئی ایک پاکستانی دل پر ہاتھ رکھ یہ بتا دے کہ ملک کو اس وقت اورنج ٹرین اور میٹرو بس کی ضرورت ہے یا دیامر اور کالا باغ ڈیم کی؟ بے ہنگم توڑ پھوڑ پہلی ترجیح ہے یا گھروں، مارکیٹوں اور کارخانوں کے لئے بجلی؟ میٹرو لاہور، راولپنڈی اور ملتان پر کھربوں روپے خرچ کرنے والے کاش جان سکتے کہ کبھی بھاشا ڈیم اورکبھی کالا باغ ڈیم کا لولی پاپ اس قوم کا علاج نہیں، توانائی کی پیداوار کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات درکار ہیں اور یہی اس کی اوّلین ضرورت ہے۔ درجنوں ٹی وی کیمروںکی روشنیوں میں دیامر، غازی بروتھا، نیلم جہلم اور کالا باغ کے نہ جانے کتنی بار خواب دکھائے جا چکے ہیں، لیکن تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ہے۔
بڑھتی ہوئی آبادی اور زیر زمین پانی کی سطح میں دن بدن ہونے والی کمی کو دیکھیں تو بلامبالغہ پاکستان پانی کی بدترین قلت کا شکار ہونے کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایک طرف انسانی حیات، نباتات اور حیوانات پانی کی کمی کے باعث نابود ہونا شروع ہو چکے ہیں اور دوسری جانب زراعت کے شگوفے بھی کھلنے سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ بڑے شہر اور مصروف اضلاع ہی نہیں بلکہ پاکستان کے تقریباً تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں کی قابل کاشت زمینیں تیزی سے رہائشی کالونیوں میں تبدیل ہوتی جا رہی ہیں۔ یہ سب آبادی میں اضافے کی وجہ سے ہو رہا ہے اور یہ ایسا کھلا راز ہے جو نہ جانے ہمارے حکمرانوں کی سمجھ میں کیوں نہیں آ رہا؟ جن لوگوں کو اﷲ نے آنکھیں دی ہیں، عقل وشعور کی نعمت سے نوازا ہے اور جن کے دلوں میں اس سر زمین کے لئے محبت کے جذبات بھی موجزن ہیں، وہ دیکھ رہے ہیں کہ پانی کی کمی اور موجود پانی کو سمندر میں غرق کرنے سے ملک تیزی سے اندھیروں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آبی ماہرین کی اصطلاح میں پاکستان کو درپیش اس صورت حال کو Water Scares Countryکے نام سے پکارا جاتا ہے، لیکن ہمارے حکمران ہیں کہ ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
آج اگر تیل کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں 38ڈالر فی بیرل ہیں اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ بجلی کی کمی دور کرنے کے لئے تیل سے چلنے والے پرائیویٹ پاور پراجیکٹ ہی کافی ہیں تو جناب والا! وہ وقت بھی یاد کریں جب جنرل مشرف کے دور میں یہی تیل عالمی منڈی سے 115 ڈالر فی بیرل میں مل رہا تھا اور اب بھی کسی وقت تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تو اندازہ کیجیے کہ بجلی کی قیمتوں اور زر مبادلہ میں ادائیگیوںکا عالم کیا ہوگا؟ واپڈا کے چیئرمین ظفر محمود نے ایک محب وطن پاکستانی کی حیثیت سے اخبارات میں پانی کی کمی اورکالا باغ ڈیم کی تعمیر کی اہمیت کے بارے میں متعدد اقساط پر مشتمل کالم لکھ کر باشعور پاکستانیوں پر پانی کی کمی اور کالا باغ کے کے بارے میں فرضی خدشات کی حقیقت کو بے نقاب کیا اور عوام کو احساس دلانے کی مخلصانہ کوشش کی ہے۔ لیکن ستم ظریفی دیکھیے کہ اپوزیشن لیڈر خور شید شاہ نے ان کی اس کوشش پر سخت ناک بھوں چڑھاتے ہوئے کہناشروع کر دیا ہے کہ چیئرمین واپڈا کی مہم سے لگتا ہے کہ کالا باغ ڈیم بنانے کی کوششوں کا آغاز ہونے والا ہے جسے پی پی پی کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گی۔ جی ہاں، پی پی پی باقی سب کچھ برداشت کر سکتی ہے لیکن سندھ کے پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کی بات برداشت نہیں کر سکتی۔کیا خورشید شاہ سمیت پیپلز پارٹی سندھ کے رہنما نہیں جانتے کہ پورا صوبہ سندھ دریائے سندھ کے آخر ی حصے میں آباد ہے، اس لئے یہاں تک پہنچتے پہنچتے پانی کی مقدار کم ہونا قدرتی بات ہے۔ لیکن کالا باغ ڈیم بننے کی صورت میں سندھ کا وہ پانی جو ہر سال سمندر میں جا گرتا ہے وہ سندھ کی زمینوں اور گھروں میں استعمال ہو سکے گا۔ یہ وہ سچائی ہے جو زہر کے سوداگر سندھی عوام کو نہیں بتاتے۔
پیپلز پارٹی اور سندھ کے مٹھی بھر قوم پرستوں کے علاوہ ولی خان خاندان کی یہ دھمکیاں قوم کب سے سن رہی ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم بنایا گیا تو اسے بم سے اڑا دیا جائے گا۔ بدقسمتی سے بڑے بڑے فوجی حکمران بھی ان دھمکیوں کے باعث کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے پیچھے ہٹ گئے۔ کراچی میں اب تک جو قتل و غارت ہو چکی ہے اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد اس ملک کا جو کھربوں روپے کا جو مسلسل نقصان ہو رہا ہے کیا وہ کم ہے؟ کالا باغ ڈیم بن جاتا تو پیپلز پارٹی اور ولی خان گروپ کی تخریب کاریوں سے اس نقصان کا عشر عشیر بھی نہیں ہونا تھا جو اب تک ہو چکا ہے۔ سندھ کے عوام کو وافر بجلی، زرعی ضروریات اور گھریلو استعمال کے لئے صاف پانی مل رہا ہوتا تو تمام مخالفین کے منہ بند ہو چکے ہوتے۔
جنرل مشرف نے2007ء میں دیا مر بھاشا ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا لیکن ورلڈ بینک نے بھارت کی دھمکیوں پر اس کے لئے فنانسنگ کرنے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ یہ دو ملکوں کے متنازع علا قے کے درمیان واقع ہے۔کاش! دریائے چناب اور جہلم پر بگلیہار اور کشن گنگا ڈیمز کے لئے فنڈز منظور کرتے وقت بھی ورلڈ بینک یہی اصول لاگوکرتا کیونکہ یہ کشمیر کے متنازع علا قے میں بنائے گئے ہیں۔ مزید ستم دیکھیے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی دیا مر بھاشا کے ٹینڈرز اور ریویو پر تین سال سے زائد کا عرصہ صرف کر دیا اور ساتھ ہی ورلڈ بینک کی ہدایت پر اس کے لئے کسی قسم کی فنانسنگ سے بھی معذوری ظاہر کر دی، گویا سب مل کر پاکستان کے بیس کروڑ سے زیادہ لوگوں کو پیاسا مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اگر کالا باغ ڈیم کی تعمیر شروع کر دی جائے تو اس پر پانچ سال کے عرصے میں6.1 بلین ڈالر اور دیا مر بھاشا پر8 سال میں12.6 ملیں ڈالر خرچ ہوںگے۔کالا باغ سے سالانہ11400 ملین یونٹ اور دیامر سے18000 ملین یونٹ توانائی حاصل ہو سکے گی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کے پی کے، پنجاب اور سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریاں نہ ہونے کے برا بر رہ جائیں گی۔ کالا باغ ڈیم بننے سے سستی بجلی اور پانی وافر مقدار میں دستیاب ہونے کی بدولت جگہ جگہ کارخانے اور گھریلو صنعتیں وجود میں آئیں گی جن سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، بھوک اور فلاس کا مداوا ہوگا اور پانی کو ترسے ہوئے انسان اور حیوان اس نعمت سے فیض یاب ہوسکیں گے۔ ہاں، اس سے کالا باغ کے مخالفین کے ووٹ ضرور کم ہو جائیں گے!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved