تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     11-08-2016

پیدل چلنے کی شرط

تابوت میں رکھی لکھبیر سنگھ کی لاش کو واہگہ بارڈر پر پاکستان رینجرز کے چار جوان بڑے احترام کے ساتھ کندھوں پر اٹھاکر بھارت کے حوالے کرنے کے لئے آگے بڑھے تا کہ وہ اسے بھارتی حدود کے اندر لے جائیں اور اسے بھارت کے کسٹم اور امیگریشن حکام کے سپرد کر دیں۔ لیکن بی ایس ایف کے اہلکار اس تابوت کو ہاتھ لگانے سے گھبرانے لگے ؛ چنانچہ سکھ یاتری کے تابوت کا آدھا حصہ پاکستان اور آدھا بھارت کی سرحد پر ہی رکھ دیا گیا۔ یہ صورت حال دیکھتے ہوئے دونوں طرف کے افسروں کی باہمی اجازت سے اس تابوت کو ایک بار پھر پاکستانی جوانوں نے اٹھاکر تین چار گز بھارتی حدود تک پہنچایا۔ پاکستان رینجرز کے جوان واپس جانے ہی لگے تھے کہ بھارت کی امیگریشن اور نار کاٹکس فورس نے یہ کہہ کر اپنے سکھ شہری کا تابوت واپس کر دیا کہ اس کو پاکستان جانے کے لئے جو ویزہ جاری کیا گیا تھا اس پر صاف لکھا ہوا ہے کہ وہ '' پیدل چلتے ہوئے آنے جانے کے لئے بارڈر کراس کرے گا‘‘۔ پاکستانی حکام یہ سن کر بہت سٹپٹائے کہ بھارتی امیگریشن کے اہلکار کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے بی ایس ایف کے اہلکاروں اور دوسرے حکام کو بتایا کہ تابوت میں رکھی ہوئی انسانی لاش کس طرح پیدل چل کر بارڈر کراس کر سکتی ہے؟ لیکن بھارت کے امیگریشن اہلکاروں نے پاکستانی حکام کی ایک نہ سنی اور لاش لینے سے انکار کردیا۔ اب ایک جانب بھارت کے ایک سکھ شہری کی تابوت میں رکھی ہوئی لاش تھی جسے پاکستان رینجرز بھارت کے حوالے کرنے کے لئے اصرار کر رہے تھے اور دوسری جانب بھارتی حکام یہ کہتے ہوئے
اسے وصول کرنے سے مسلسل انکار کر رہے تھے کہ اس کے ویزے پر صاف طور لکھا ہوا ہے کہ یہ On Foot ہی بھارت سے پاکستان اور پاکستان سے بھارت آ جا سکتا ہے۔
اسے کوئی مذاق یا لطیفہ نہ سمجھیے‘ یہ بالکل سچا اور حقیقی واقعہ ہے جو کچھ عرصہ قبل لاہور کے واہگہ بارڈر پر دیکھنے میں آیا۔ بھارت سے سکھ یاتریوں کا ایک جتھہ پنجہ صاحب کی سالانہ رسومات میں شرکت کرنے کے لئے پاکستان پہنچا۔ بد قسمتی سے ایک بوڑھا سکھ یاتری لکھبیر سنگھ جو عمر کے آخری حصے میں پنجہ صاحب کی باترا کے لئے آیا ہوا تھا‘ حسن ابدال میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔ جیسے ہی اس سکھ یاتری کی موت کی خبر پنجہ صاحب میں موجود بھارتی سفارت کاروں اور یاتریوں کے جتھے کے لیڈر تک پہنچی، اسے فوری طور پر وہاں کے میڈیکل روم میں پہنچا دیا گیا اور ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق بھی کر دی۔ بھارتی سفارت کاروں کی نگرانی میں ضروری کارروائی کے بعد اس کی لاش کو ہسپتال کے مردہ خانے پہنچا دیا گیا تاکہ اس کو واپس بھیجنے کے لئے معمول کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔ تیسرے دن لاش کو تابوت میں رکھ کر واہگہ بارڈر لے جایا گیا اور پاکستانی حکام نے معمول کی کارروائی کے بعد اسے پاکستان رینجرز کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اسے بھارتی حکام کے حوالے کر دیں۔ پاکستان رینجرز نے اس سکھ یاتری کے تابوت کو بڑے احترام سے کندھوں پر اٹھاکر بھارتی حدود میں رکھ دیا‘ لیکن چند منٹ بعد بھارت کے امیگریشن حکام نے یہ تابوت واپس لے جانے کا حکم دیا
اور اس کی وجہ یہ بتائی کے اس کے ویزے پر لکھا ہوا ہے کہ یہ اپنے ویزے کو پاکستانی حدود سے بھارت آنے جانے کے لئے On Foot سفر کرنے کا مجاز ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس کے ویزے کی میعاد پورے ہوئے دو دن ہو چکے ہیں ۔ پاکستانی حکام سخت سٹپٹائے کہ بھارتی سفارت خانے کے اہل کار جو پنجہ صاحب میں اپنے سکھ یاتریوں کی دیکھ بھال کے لئے موجود تھے‘ ان کے سامنے دل کا دورہ پڑنے سے اس یاتری کا انتقال ہوا ہے اور اس کے کاغذات پر صاف طور پر لکھا ہوا کہ اس کا کس تاریخ کو دل کے دورہ پڑنے سے انتقال ہوا۔ بعد ازاں معمول کی تمام سرکاری کارروائیاں بھارتی سفارت خانے کے ذمہ دار افسران نے ہی پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر مکمل کی ہیں۔ اب ایک مردہ شخص کیسے جان سکتا ہے کہ اس کے ویزے کی میعاد ختم ہو گئی ہے؟ دوسرے یہ کہ اس پر اگر کوئی اعتراض بنتا تھا تو وہ پاکستانی حکام کی جانب سے بن سکتا تھا لیکن وہ تو اسے کلیئر کر چکے ہیں۔ بڑی مشکل سے بھارتی حکام اس سکھ یاتری کا تابوت لینے پر آمادہ ہوئے۔ 
اس کے بعد کسٹم اور نارکاٹکس حکام کی باری آئی۔ انہوں نے ٹھوک بجا کر تابوت کی تلاشی لینے کے بعد اسے کلیئر تو کر دیا لیکن اس موقع پر امیگریشن حکام نے ایک اور تنازع کھڑا دیا کہ اس کے ویزے پر صاف لکھا ہوا ہے کہ یہ پیدل آ جا سکے گا۔ اب ایک بار پھر سر پیٹنے کا موقع تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ مردہ حالت میں تابوت کے اندر لیٹا ہوا لکھبیرسنگھ پیدل کیسے چل سکتا ہے؟ معاملہ پاکستان رینجرز اور بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام تک ایک بار پھر جا پہنچا کہ اب اس اعتراض کا کیا کیا جائے کیونکہ بھارتی حکام اپنے ایک مردہ سکھ شہری کو قبول نہ کرنے کے لیے مختلف حیلے بہانے کر رہے ہیں جو کسی طور پر بھی منا سب نہیں۔کافی بحث کے بعد یہ طے ہوا کہ پاکستان رینجرز کے چارجوان اس سکھ یاتری کے تابوت کو کھول کر اس کی لاش کو سہارا دیتے ہوئے اس کے پائوں پاکستان سے بھارتی حدود میں رکھوائیں اور اسے بھارتی حکام کے حوالے کریں تاکہ یہ شرط پوری ہو جائے کہ ویزے پر لکھی ہوئی ہدایات کے مطا بق پنجہ صاحب جانے والا سکھ یاتری پاکستان سے اپنے پائوں پر چلتے ہوئے واپس واہگہ سے بھارتی سرحدی حدود میں داخل ہوا تھا۔ پاکستانی حکام پہلے تو یہی سمجھے کہ بھارتی امیگریشن کے لوگ مذاق کر رہے ہیں لیکن جب کچھ دیر ہو گئی تو ان سے کہا گیا کہ اس تابوت کو لے جائیں تو پتا چلا کہ وہ یہ سب مذاق میں نہیں بلکہ سنجیدگی سے کہہ رہے ہیں۔ بڑی مشکل سے جب امرتسر اور دہلی میں اعلیٰ بھارتی حکام سے رابطہ ہوا تو انہوں نے کچھ پابندیوں کے ساتھ اسے وصول کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
جیسے ہی لکھبیر سنگھ کا تابوت بھارتی حدود کے اندر پہنچایا گیا وہاں موجود بھارتی حکام کو ایک نئی مشکل سے پالا پڑ گیا۔ بھارت کی بارڈر سکیورٹی کے غیر سکھ جوانوں نے تابوت اٹھانے سے پس وپیش کرنا شروع کر دیا کیونکہ وہ ڈر رہے تھے کہ پاکستان سے آنے والے تابوت میں یا تو کوئی زندہ دہشت گرد ہے یا اس تابوت میں کوئی بم اور بارود رکھا گیا ہو گا جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ صرف دو سکھ جوان اس وقت ڈیوٹی پر تھے جبکہ تابوت اٹھانے کے لئے چار جوانوں کی ضرورت تھی۔ لیکن اس موقع پر ان دو سکھ جوانوں نے ہی آگے اور پیچھے سے کندھا دیتے ہوئے اپنے گرو کے ماننے والے لکھبیر سنگھ کے تابوت کو کچھ دور کھڑی ہوئی ایمبولینس تک پہنچایا۔ اس دن شام کے وقت پرچم اتارنے کے لئے ہونے والی تقریب میں ہندو سٹاف کے اس رویے سے دل برداشتہ کوئی بھی سکھ جوان پریڈ اور پرچم اتارنے کی کارروائی میں شریک نہ ہوا۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved