تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     15-08-2016

پاک بھارت یا پاک افغان تعلقات؟

پاکستان کی سلامتی کے لیے،آج پاک افغان تعلقات، پاک بھارت تعلقات سے کہیں زیادہ اہم ہو چکے۔اس ملک کے ذمہ داران کو اس حسنِ کارکردگی پر داد دیجیے کہ بھارت کا خطرہ اپنی جگہ مو جودہے اور انہوں نے اس سے ایک بڑا خطرہ اپنی محنت سے پیدا کر دیا ہے۔
پاکستان کا امن آج جنوبی ا یشیا کے امن سے وابستہ ہے۔اگر بھارت اور افغانستان میں امن نہیں تو پھر پاکستان میں بھی امن کا امکان کم ہے۔اسی طرح اگر پاکستان میں امن نہیں تو بھارت اور افغانستان بھی پُرامن نہیں ہو سکتے۔اب اس خطے میں کوئی جزیرہ آباد نہیں ہو سکتا۔افغانستان میں بھارت کا نفوذ کہیں بڑھ چکا۔اب اس نے بالواسطہ حملہ آور ہونے کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔یہ واسطہ افغانستان ہے۔بھارت نے اپنے لیے امکانات کی ایک اورکھڑکی بھی کھول لی ہے جو پاک ایران سرحد ہے۔تاہم افغانستان کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔کل ہمیں افغانوں کو خوش آ مدید کہنے کی جلدی تھی،آج ہم انہیں خدا حافظ کہنے کے لیے بے چین ہیں۔عجلت کل بھی غلط تھی، عجلت آج بھی غلط ہے۔
افغانستان کا معاملہ عجیب ہے۔پاک افغان سرحد پرخطرات ہی نہیں، امکانات بھی سفر کرتے ہیں۔پاکستان میں سیمنٹ کی بہت سی فیکٹریاں اس لیے آباد ہیں کہ افغانستان کی مارکیٹ میں ان کی کھپت ہے۔آٹے کی بہت سی ملیں ایسی ہیں جن کا کاروبار افغانستان سے وابستہ ہے۔ پشاور اور اسلام آباد میں بالخصوص علاج معالجے کے کاروبارکا بڑا انحصارامیر افغانوں پر ہے۔پشاور میںنارتھ ویسٹ ہسپتال اوررحمان میڈیکل انسٹی ٹیوٹ جیسے طبی ادارے ان کی وجہ سے آباد ہیں۔ایک ذمہ دار شخصیت نے مجھے بتایا کہ اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال کی کم و بیش بیس فی صدآمدن کا سبب یہی افغان ہیں۔ سمگلنگ اس کے علاوہ ہے۔سرحد پہ سختی ضرور ہونی چاہیے لیکن اس وقت جس بے ترتیبی کے ساتھ معاملات ہورہے ہیں،اس سے کشید گی بڑھ رہی ہے اور امکانات کم ہو رہے ہیں۔ایسا ہر قدم افغانستان میں بھارت کے پاؤں مضبوط کر رہا ہے۔جب ایک دروازہ بند ہو تا ہے تودوسرا کھل جا تاہے۔قدرت نے انسانی فطرت کو اسی طرح بنا یا ہے۔
ہم نے امریکہ کے ساتھ مل کرسوویت یونین کو مار بھگایا۔ اس کی ایک قیمت تھی جو ہم نے ادا کی۔تاہم اس سے امکانات کا ایک دروازہ بھی کھلا۔ہم بطور قوم افغانوں کے قریب آئے۔سردار داؤد کے دور کی تلخی ختم ہو ئی۔نئے ابھرنے والی قیادت کے ساتھ ہمارے تعلقات دوستانہ تھے۔وہ ہمارے مرہونِ احسان تھے۔ہم نے اسے برادرانہ تعلق کے بجائے آقا اورغلام کا تعلق سمجھا۔افغانستان میں اپنی مرضی مسلط کر نا چاہی۔پہلی مرتبہ امکانات کی دنیا اس وقت برباد ہوئی جب مجاہدین باہمی جھگڑوں میں الجھے۔دوسری بار 9/11 کے بعد جب طالبان کے ساتھ ہم نے ایک مبہم تعلق استوار کر نا چاہا۔ایک طرف ہم طالبان مخالف عالمی اتحاد کا حصہ تھے اور دوسری طرف ان کے ہمدرد اور پشت بان بھی۔نتیجہ یہ نکلا کہ ہم عالمی برادری کی نظر میں مشکوک ٹھہرے اور ساتھ طالبان کی نظر میں بھی۔
ہم نے خیال کیا کہ یہ تضاد نبھا یاجا سکتا ہے۔افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔معاملات اشرف غنی صاحب کے ہاتھ میں آئے تو ایک موقع پھر پیدا ہوا۔ہم نے اسے بھی ضائع کر دیا۔بھارت کو معلوم تھا کہ آنے والے دنوں میں افغانستان کی کیا اہمیت ہو گی۔امریکہ پاکستان کے رویے کا شاکی تھا اور اسے خطے میںپاکستان کے متبادل کی تلاش تھی جو افغانستان میں اس کے اثر و رسوخ کو کم کر سکے۔بھارت نے اس موقع کو غنیمت جا نا۔اس نے افغانستان کے بارے میں پاکستان کی پالیسی کے اس تضاد اور ابہام کی پالیسی سے پورا فائدہ اٹھایا۔افغانستان کی نئی قیادت کے ساتھ معاملات کیے اوردوسری طرف ایران کو بھی باور کرایا کہ پاکستان کے ساتھ اس کے مفادات کا ٹکراؤ ہے اور بھارت سے نہیں۔ 
آج بھارت اور پاکستان کے مابین سرحد پر براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہے۔بھارت نے اب پاک ایران اور خاص طور پر پاک افغان سرحد کو استعمال کر نے کا فیصلہ کیا ہے۔کل بھاشن یادوایران سے آیا۔افغانستان میں بھارت کے کونسلر خانے متحرک ہیں۔افغانستان کی خفیہ ایجنسی 'این ڈی ایس ‘کے ساتھ اس کاتعلق قائم ہو چکا۔ٹی ٹی پی کی صورت میں افرادی قوت انہیں میسر ہے۔ایسے امکانات بھارت نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچے ہوں گے۔ اب اس کو یہ ضرورت نہیں رہی کہ وہ براہ راست پاک بھارت سرحد سے حملہ آورہو۔اس نے متبادل تلاش کر لیا اور ہم نے اپنے حسنِ کارکرد گی سے اسے یہ موقع فراہم کیا۔یہ ایجنسیوں کی جنگ ہے اور بھارت نے اپنا جال پورے جنوبی ا یشیا میں پھیلا دیا ہے۔
ہم اپنے ایٹمی پروگرام کو سدِ جارحیت قرار دیتے ہیں۔یہ بات غلط نہیں ہے۔بھارت اگر ایٹمی قوت ہے تو پاکستان کوبھی ہونا چاہیے تھا۔اس سے ایٹمی جنگ کے خطرات کم ہوگئے۔مفادات کا تصادم مگر اپنی جگہ موجودہے۔اس لیے اب کھلی جنگ کے بجائے،دوسرے ذرائع سے ایک دوسرے کے مفادات کو ہدف بنا یا جا تا ہے۔اس کے لیے رضا کاربھی استعمال کیے جاتے ہیں اور جاسوس بھی۔اس پر مستزاد دوسری قوتوں کے مفادات ہیں۔وہ بھی جنہیں گوادراور پاک چین راہ داری کی تعمیر اپنے مفادات سے متصادم دکھائی دیتی ہے۔ اس سے جنوبی ا یشیا میں فساد بڑھ گیا ہے۔پاکستان میں سب سے زیادہ۔
جنوبی ایشیا کی یہ صورت حال پیش ِ نظر ہو تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس وقت پاک افغان تعلقات کی اہمیت کیا ہے۔افغان قوم کے فطری اتحادی پاکستانی ہیں۔اس کی بنیادیں جغرافیہ میں ہیں اور ساتھ تمدن میں بھی۔اس کے ساتھ معاشی مفادات بھی ہیں۔اس تعلق کو حکومتوں کے بجائے قوموں کے تعلق کی روشنی میں دیکھناچاہیے۔واقعہ ہے کہ آج پاک بھارت تعلقات کا انحصار بھی پاکستان اور افغانستان کے باہمی تعلقات پر ہے۔اگر یہ مقدمہ درست ہے تو لازم ہے کہ ہماری ساری توجہ افغانستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے پر مرتکز ہو۔اسی کے تناظر میںافغان مہاجرین کی واپسی کی حکمتِ عملی طے ہو اور اسی کو سامنے رکھتے ہوئے، اچکزئی صاحب کے بیانا ت کا تجزیہ کیا جا ئے۔یہ تاریخ کا عجب جبر ہے کہ اے این پی جو کل افغانوں کی پاکستان آمد کے خلاف تھی،آج ان کی واپسی کے خلاف ہے۔کم و بیش چار عشروں میں نئے حقائق جنم لے چکے۔انہیں نظر انداز کیے بغیراب کوئی حکمتِ عملی نہیں اپنا ئی جا سکتی۔
آج افغانستان میں بھی نئے حقائق جنم لے چکے۔داعش کی مو جودگی ایک حقیقت ہے۔طالبان کا اپنا وجود ہے۔اس کے ساتھ سیاسی عمل بھی جاری ہے۔پاکستان کے پاس سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ افغانستان کے باب میں ایک نئی حکمتِ عملی تشکیل دے۔یہ افغانستان میں سیاسی عمل کی تائید اور عسکریت کے نفی پر مبنی ہو نی چاہیے۔اشرف غنی انتظامیہ کے ساتھ مل کر افغان مہاجرین کے مسئلے کو طے کر نا چاہیے۔افغان طالبان اگرسیاسی عمل کا حصہ نہیں بنتے تو پاکستان کوان کے بارے میں کوئی نئی حکمتِ عملی اپنانا ہو گی۔نئی حکمتِ عملی پر اشرف غنی صاحب کو اعتماد میں لیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی ان سے یقین دہانی لی جا سکتی ہے کہ افغان سرحد کی طرف سے پاکستان کودرپیش خطرات کا دروازہ بند ہوگا۔
یہ بات اسی وقت سمجھ میں آئے گی جب ہم پاکستان کو جنوبی ایشیا کے مجموعی تناظر میں دیکھیں گے۔جزیرہ اب نہیں بن سکتا۔پاکستان کے امن کے لیے ہمیں افغانستان کے بارے میں ایک نئی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔یہ اس وقت پاک بھارت تعلقات سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ ان کے لیے راستہ بھی اب یہیں سے نکلتاہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved