تحریر : ھارون الرشید تاریخ اشاعت     01-09-2016

حسنِ عمل

تمام افراد‘ تمام اقوام‘ سبھی کوقدرت مواقع مہیا کرتی ہے‘ مگر اپنے قوانین کبھی کسی کے لیے تبدیل نہیں کرتی۔ حسنِ خیال‘ حسنِ عمل کی ابتدا ہے اور حسنِ عمل کے تسلسل سے وہ معجزے رونما ہوتے ہیں چین‘ ملائیشیا اور ترکی میں جن کا ہم نے نظارہ کیا۔
بار بار انکشاف ہوتا ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیاں کس قدر تنگ دائرے میں سوچتی ہیں۔ بار بار کھلتا ہے کہ نام نہاد سول سوسائٹی کس قدر مردہ ہے اور غیر ملکیوں نے کتنا رسوخ اس میں پیدا کر لیا ہے۔
دو بڑے واقعات ہوئے ہیں‘ جن سے مشکلات میں گھرے پاکستان کے لیے نہایت ہی شاندار مواقع نے جنم لیا۔ ان مواقع کو ضائع کیا جا رہا ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی اس کے سوا کیا ہے کہ قدرت امکانات تخلیق کرتی ہے‘ بیدار لوگ ان سے استفادہ کرتے ہیں۔
مون سون کی بارشیں زمین کو نم کرتی ہیں تو جاگتا کسان ہل چلا دیتا ہے۔ دُھوپ میں بخارات بن کر اُڑ جانے کی بجائے‘ یہ نمی محفوظ ہو جاتی ہے۔ ماہِ نومبر طلوع ہوتا ہے تو نیلے آسمان کی وسعت پہ نگاہ کرتے ہوئے‘ گندم کے دانے‘ وہ اس میں بکھیر دیتا ہے‘ حتیٰ کہ دسمبر کی کسی نرم سویر اکھوے پھوٹ پڑتے ہیں۔ جنوری کے وسط تک سندھ کے ساحل سے پختون خوا کی بلندیوں تک دھرتی سبز پیراہن اوڑھ لیتی ہے۔ کہیں کہیں‘ جس میں سرسوں کے زمردیں قطعات مسکراتے ہیں۔ زمین نے گویازیورپہن لیے ہوں۔ بہار کی نرم ہوا گیہوں کی بالیوں کو جھولا جھلاتی ہے اور آغاز گرما میں سونے کے ڈھیر دکھائی دیتے ہیں۔
وادیٔ کشمیر میں مدتوں سے جیسے خزاں کا راج تھا۔ برہان وانی کی شہادت سے خوابیدہ بستیاں جاگ اٹھیں۔ قابض بھارتی فوج کا آہنی حصار ٹوٹنے لگا۔ افغانستان کی خانہ جنگی اور حکمرانوں کی بے حسی سے فائدہ اٹھا کر برہمن سامراج بلوچستان اور قبائلی پٹی میں اپنے مہرے آگے بڑھا رہا تھا۔ دہشت گردوں کا پشت پناہ ہو گیا۔ آگ اور خون کا کھیل کھیلنے لگا۔ دشمن کے عزائم کا ادراک کرنے کی بجائے حکمران دوستی کا راگ الاپتے رہے۔ انتہا یہ ہے کہ برسر اقتدار خاندان کی شوگر مل میں 56 بھارتی ملازمین کی موجودگی کا انکشاف ہوا۔ 56 ہیں یا 26۔ انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ان کے کوائف بتائے گئے یا نہیں۔ بجائے خود یہ کس قدر حیرت انگیز ہے کہ ملک کے جو امین ہیں‘ وہ تباہی پھیلانے پر تلے حریف کے لیے رسائی کے مواقع ارزاںکریں؟
اندریں حالات، کشمیر میں عوامی طوفان اٹھا اور برصغیر کا ماحول یکسر بدل گیا۔ کل بھوشن یادیو کی گرفتاری سے جو حکومت نہیں جاگی تھی، اسے جاگنا پڑا۔ بہت قیمتی وقت وزیراعظم نے ضائع کردیا تھا کہ عالمی رائے عامہ کو دہلی کے عزائم سے آگاہ کرتے۔ اب یکایک انہیں بات کرنا پڑی مگر بے دلی کے ساتھ ؎
نیند سے گو نماز بہتر ہے
اثرِ خواب ہے اذاں میں ابھی
بائیسں عدد ارکان اسمبلی کو انہوںنے سفیر بنانے کا فیصلہ کیا ہے کہ دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں جائیں۔ صدیوں سے غلامی کے ستم سہتے کشمیر کا مقدمہ پیش کریں۔یاللعجب ان سب کا تعلق حکمران پارٹی سے واقع ہوا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کا گویا اس مقدس خواب سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ پھران میں ایسے ہیں، جو انگریزی تو کیا، اردو میںاظہارِ خیال کی قدرت بھی نہیں رکھتے۔ یہ گزشتہ تیس برس میں پھلنے پھولنے والی مخلوق ہے۔ نیم خواندہ لوگ، جائیداد کا کاروبار، زمینوں پر قبضے اور سرکاری سرپرستی میں
جنہوں نے قیادت پر قبضہ جمالیا ہے۔ لاہور کے اخبار نویس فقط جنابِ افضل کھوکھر کے کارنامے مرتب کریں تو حیرت زدہ رہ جائیں۔کچھ لوگ دفترِخارجہ سے چنے جاتے، کچھ دوسرے سرکاری افسر، اپوزیشن کے ایسے رہنما جو ہنر رکھتے اور دنیا بھرمیں پہچانے جاتے ہیں۔ کچھ دانشور جن کی زندگیاں خارجہ امور پر ریاضت میں بیتی ہیں۔ محترمہ شیریں مزاری، محترمہ نسیم زہرہ،تنہا مشاہد حسین کو ذمہ داری سونپی جاتی، وہ ان بائیس ارکان پہ بھاری ہیں۔ برطانیہ اور ان دوسرے ممالک میں بات کرنے کے لیے عمران خان سے کہا جاتا، جن میں کرکٹ کھیلی جاتی ہے۔ شاہ محمود اور اسحاق خاکوانی کو شامل کیا جاتا کہ تجربہ رکھتے ہیں۔ سعودی عرب میں چودھری شجاعت کو روانہ کیا جاتا۔ کچھ اخبار نویس، جن کی زبان میں لکنت نہیں اور جو مرعوبیت کے بغیر بات کرسکتے ہیں۔ ترکی میںجماعتِ اسلامی کا وفد روانہ کیا جاتا۔کہیں پیپلز پارٹی کے رہنما بھیجے جاتے۔ حکومت کو کیا ہوا کہ ایسی افتاد اور ان مشکلات میں بھی اپنے پسندیدہ ارکان کو سیاحت کے مواقع ارزاں کرنے کا فیصلہ کیا۔ خود اپوزیشن کو کیا ہوا؟
اپنے لہو سے چراغ جلاتے کشمیریوں کے لیے جو سب سے بڑے اور سب سے سچے پاکستانی ہیں، کراچی، لاہور، پشاور ، راولپنڈی اور کوئٹہ میں کل جماعتی جلوس نکالے جاتے۔ حکومتی جماعت اگر شامل نہ ہوتی تو باقی جماعتیں ہی۔ کشمیر میں عوامی عتاب کا شکار‘ بھارت نے اپنے مہروں کو آگے بڑھایا ہے۔ پہلے محمود اچکزئی بروئے کار آئے‘ اب اسفند یار ولی نے انگڑائی لی ہے۔ ان سے توخیر اخبار نویس نمٹ لیں گے‘ مگر حزبِ اختلاف نے کشمیر کے لیے کیا کیا؟
کراچی میں آخر کار مطلع صاف ہو گیا۔ وہ کام جو عشروں کی تگ و دو سے ممکن نہ ہوا تھا‘ الطاف حسین کے ایک بیان سے ہو گیا۔ خبث باطن ایسا آشکار ہوا کہ اب وہ اور اس کا ٹولہ کبھی نہ سنبھل سکیں گے۔ ان کا مقدمہ لڑنے والے اول تو کم ہوں گے اور جو لڑیں گے انہیں پذیرائی نصیب نہ ہو گی۔ وہ دن کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے۔ خوف کا کاسنی رنگ دھلتا چلا جائے گا۔ فاروق ستار اینڈ کمپنی اپنے آقا کی مدد نہ کر سکے گی۔ کوشش کرے گی تو خاسرو پشیمان ہو گی۔ اندازہ یہ ہے کہ کچھ لوگ مصطفی کمال کے ساتھ چلے جائیں گے‘ جو لفظ نہیں چباتے اور ڈنکے کی چوٹ سچ بولتے ہیں۔ نون لیگ کے دانشوروں کو فاروق ستار سے ہمدردی ہے اور گہری ہمدردی۔ مفادات کا غلیظ سلسلہ کسی دیو ہیکل مچھلی میں پھیلے کانٹوں کے کسی جال کی طرح ہوتا ہے۔ زہر آخری سرے تک پھیل جاتا ہے۔ فاروق ستار اینڈ کمپنی کی مدد وہ صرف اس قیمت پر کر سکتے ہیں کہ خود ان کا محدود سا اعتبار اور بھی کم ہوتا جائے۔ ان کا بھی جو اللہ‘رسولؐ کا نام لے کر وزیر اعظم کے لیے دلائل تراشتے ہیں۔ فاروق ستار کے لیے اگر کوئی جائے پناہ ہے تو پورے سچ میں‘ مگر پورا سچ وہ کیونکر بول سکیں گے۔ فرمایا:صدق نجات دیتا اور جھوٹ تباہ کرتا ہے۔ اپنے سامنے رسول اکرمؐ کے قولِ مبارک کی تجسیم ہم دیکھ رہے ہیں۔
ایک رہنما سے گزارش کی کہ کراچی میں ''زندہ باد پاکستان ریلی‘‘ نکالیے۔ دوسری پارٹیوں کو شرکت کی دعوت دیجیے۔ صاف صاف کہہ دیجیے کہ اس دن کو اپنی جماعت کے لیے میں استعمال نہ کروں گا۔ کراچی کے اہلِ خیر تشہیر اور انتظامات کے لیے وسائل کا ڈھیر لگا دیتے۔ ہزاروں نوجوان بے تاب ہو کر نکلتے۔ دن رات ایک کر دیتے۔ بات ان کی سمجھ میں آئی نہیں‘ فقط ایک جلسے پراکتفا کرنے کا ارادہ کیا ؎
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیٔ داماں بھی ہے
مشکلات اور مصائب بھی ہیں مگر امکانات زیادہ ہیں۔ دانشور اور لیڈر قوم پہ اگر رحم کریں اور مایوسی پھیلانے سے گریز کریں تو زیادہ سے زیادہ پانچ برس میں ملک دلدل سے نکل جائے۔ دہشت گردی ختم ہو رہی ہے‘ سول اداروں کی بہتری اور پاک افغان سرحد پہ نگرانی کا عمل مستحکم کرکے ایک بڑی چھلانگ لگائی جا سکتی ہے۔ 2018ء تک لوڈشیڈنگ ختم ہو جائے گی یا برائے نام ہوگی۔ تجارتی راہداری کی تکمیل ہو رہی ہوگی۔ منصوبہ بندی کی جائے اور اس خطے کے لیے الگ سے ضروری قوانین بنا دیئے جائیں تو گوادر کے دوسرا دبئی بننے کا عمل شروع ہو چکا ہوگا۔
تمام افراد‘ تمام اقوام‘ سبھی کوقدرت مواقع مہیا کرتی ہے‘ مگر اپنے قوانین کبھی کسی کے لیے تبدیل نہیں کرتی۔ حسنِ خیال‘ حسنِ عمل کی ابتدا ہے اور حسنِ عمل کے تسلسل سے وہ معجزے رونما ہوتے ہیں چین‘ ملائیشیا اور ترکی میں جن کا ہم نے نظارہ کیا۔
پسِ تحریر: اگر بھارت نواز اخبار نویسوں کی فہرست مرتب کرنا ہو تو آج یہ بہت آسان ہے۔ اُس وقت جب مقبوضہ کشمیر اور ایم کیو ایم زیر بحث ہے‘ وہ بلوچستان کے بارے میں لکھ رہے ہیں۔ بھارتی حکومت بھی اسی موضوع پر بات کرتی ہے۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved