تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     05-09-2016

چار حلقوں سے چار سوالوں تک

پس ثابت ہوا کہ اگر آپ آٹھ دس ہزار،کچھ کم کچھ زیادہ، افرادجمع کر نے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو آپ کا یہ جمہوری حق ہے کہ آپ شہری زندگی معطل کر دیں۔حکومت کو یرغما ل بنا لیں۔آپ جو الزام چاہیں لگائیں۔ آپ کی زبان پر اعتبار کرتے ہوئے،ملزم کو مجرم سمجھ لیا جائے۔ عدلیہ کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ آپ کے فرمان پرمہرِ تصدیق ثبت کر دے۔بصورتِ دیگر یہ مان لیا جائے کہ' ادارے بک چکے ہیں‘۔آپ کے اس موقف اور طرزِ سیاست پر کوئی سوال اٹھانے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی کر بیٹھے تو آپ اسے حکومت کاحامی قرار دے کراس کی اخلاقی ساکھ کو مشتبہ بنا نے کی کوشش کریں۔جس معاشرے میں طاقت کے ہر مرکز کی اطاعت ووکالت اور جمہوری حکمرانوں کی کردارکشی وبغاوت ،حریتِ فکر اور عزیمت کی علامت سمجھی جائے،وہاں یہ آزمودہ نسخہ ہے۔تاہم اگر عقل و خردکے لیے تجزیے کی دنیا میںکوئی جگہ ہے تو پھر دلیل ہی کو فیصلہ کن ہو نا چاہیے۔
اگر اس اصول کو مان لیا جائے تو پھر آج عمران خان نکلیں گے کہ نوازشریف کرپٹ ہیں اور ان کو جیل میں ڈال دیا جائے۔کل طاہر القادری فرمان جاری کریں کہ شہبازشریف انڈیا کاایجنٹ ہے۔ان کو پھانسی دی جائے۔پھرمو لانا فضل الرحمن یہ عَلم اٹھا کر نکلیں گے کہ عمران خان یہودی ایجنٹ ہے۔محمود اچکزئی مطالبہ کریں گے کہ طاہرالقادری صاحب کے خلاف کینیڈا میں مقدمہ درج کرایا جائے ۔اس سلسلے کو دراز کر تے جائیں اور پھر فیصلہ کریں کہ اس طرزِ سیاست کے ساتھ کیاکوئی معاشرہ قائم رہ سکتا ہے؟ کوئی ریاست اپنا نظم بر قرار رکھ سکتی ہے؟آخر کون سا سیاسی یا مذہبی گروہ ایسا ہے جو آٹھ دس ہزار افراد جمع نہ کر سکے؟
اس اصول کو اگرقبول کر لیا جائے توانسانی تہذیب کا طویل سفر اورارتقا کالعدم قرار پائیں گے۔کیایہ قبائلی معاشرے کی طرف مراجعت نہیں جہاں، اسی طرح طاقت کے زور پر فیصلہ ہو تا تھا؟ یہ قبیلے کی جنگی صلاحیت ہو یا عددی برتری،قوت ہی فیصلہ کن کردار ادا کر تی تھی۔اخلاق، دلیل،انصاف، سب قدریں بے معنی تھیں۔قبیلے کے سردارکی بات ہی فیصلہ کن ہو تی تھی۔وہ اگر کسی کو کرپٹ،قاتل اور غدار کہہ دے تو اس کا فرمان ہی قولِ فیصل تھا۔کیا ہم اس دور کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں؟کیا ہم اپنے نوجوانوں کو یہی سبق دے رہے ہیں؟اُس دور میں اقتدار کی خواہش،ہیجان اور انتقام کے جذبات ہی برسرِ پیکار ہونے کے لیے قوتِ محرکہ تھے۔اگر آج بھی یہی جذبات معرکہ آرائی کی بنیاد ہیں تو کیا یہ مان لیا جائے کہ انسان کا تہذیبی ارتقا ایک رائگاں سفر ہے؟یہ عدلیہ، یہ مقننہ اور یہ انتظامی ادارے آخر کس کام کے؟
کہا جاتا ہے کہ یہ سب ادارے نااہل اور کرپٹ ہیں۔اس فرمان کا بھی جائزہ لیجیے۔پہلی بات کہ یہ محض ایک دعویٰ ہے۔کچھ لازم نہیں کہ سب اس سے اتفاق کرتے ہوں۔مثال کے طور پر سنیچر کو چیف جسٹس صاحب نے کہا:''میںپوری سچائی اور دیانت داری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ عدلیہ ہر سطح پر آزاد ہے۔عدلیہ میں ہر سطح پر صرف میرٹ کو بنیادبنانے اورخامیوں کو دورکرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘‘اس بیان کی روشنی میں ،عمران خان اور طاہر القادری سمیت، سب کے پاس دو ہی راستے ہیں:اس بات کو مان لیں اور انصاف کے لیے عدالت سے رجوع کریں۔یا پھر یہ فرمائیں کہ ہم اس بات پر اعتبار نہیں کرتے ا ورانصاف کے لیے 'سٹریٹ جسٹس ‘یا ' موب جسٹس ‘کا طریقہ اختیار کریں گے۔یہ ماننے کے لیے عمران خان یا طاہرالقادری صاحب پر یہ ایمان لا نا ضروری ہے کہ وہ وحی کی زبان میں کلام کرتے ہیں جس میں غلطی کا امکان نہیں۔ان کے علاوہ ہر آدمی نا قابل اعتبارہے،وہ ملک کا قاضی القضاۃ ہی کیوں نہ ہو۔ 
دوسری بات: یہ مانا جائے کہ اس نظام میں کارفرما ہر آ دمی کی اخلاقی ساکھ مشتبہ ہے۔اگر یہ بات درست ہے توپھرماننا پڑے گا کہ معاشرہ اخلاقی طور پر تباہ حال ہے۔سوال یہ ہے کہ معاشرتی ساخت کوتبدیل کیے بغیر،کوئی سیاسی تبدیلی کیسے فیصلہ کن ہو سکتی ہے؟پھر ایک ایسی ٹیم کے ساتھ جو اسی معاشرہ کا حصہ ہے؟کیاآپ مریخ سے تشریف لائے ہیں؟ آپ کے اعوان و انصار کیا کسی دوسری دنیا کی مخلوق ہیں؟آپ کہتے ہیں کہ نہیں ہم اسی دنیا سے ہیں لیکن زمین پر اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں۔بجا ارشاد لیکن کیا یہ جنسِ نایاب صرف آپ کی صفوں میں پائی جاتی ہے؟پھر یہ کہ جو آپ کے ساتھ ہیں،ان کا سیاسی شجرئہ نسب کیا ہے؟ چند سال پہلے یہ خواتین و حضرات کہاں پائے جاتے تھے؟
تیسری بات :ہم نے تو نظام کے اصلاح کی ہر کوشش کر کے دیکھ لی۔یہ سب کاوشیں ناکام ہوئیں، اس لیے ہم انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں؟اگر یہ درست ہے تو اس کی کوئی شہادت ہونی چاہیے۔آپ نے کتنے دن سڑکوں پر گزارے اور کتنے دن اپنا موقف پارلیمان میں پیش کیا؟ انتخابی اصلاحات کا عمل اس معاملے کی حقیقت واضح کر رہا ہے۔اس کے لیے ایک متفقہ پارلیمانی کمیٹی بنی۔ڈیڑھ سال تحریک انصاف نے اس کمیٹی کا بائیکاٹ کیے رکھا۔اس کے بعداس کمیٹی کے کم و بیش ساٹھ اجلاس ہو چکے۔کمیٹی نے تجاویز کے لیے اخبارات میں اشتہارات دیے۔ہزاروں تجاویز آئیں۔ان کا جائزہ لیا گیا۔مشاورت سے مو جود آٹھ انتخابی قوانین کو ملا کر ایک ایکٹ بنا دیا گیا۔ تین نکات پر اختلاف ہوا۔ان میں الیکٹرانک ووٹنگ، بائیو میٹرکس اور اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے معاملات شامل ہیں۔الیکشن کمیشن نے کئی طریقے آزمائے۔بیرونی دنیا سے ماہرین کی رائے لی گئی۔یہ بات سامنے آئی کہ یہ نظام ترقی یافتہ دنیا میں بھی کامیاب نہیں۔
حکومت نے تحریک انصاف کے اطمینان کے لیے ڈاکٹرعارف علوی کی سربراہی میں ایک سب کمیٹی بنادی جو اس پر کام کر رہی ہے۔اس کی رائے بھی یہی معلوم ہو تی ہے کہ یہ عمل پوری طرح نتیجہ خیز نہیں۔اس وقت ایکٹ کم و بیش تیار ہے جو کسی وقت پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔الیکشن کمیشن رولز بھی بنا چکا۔اس کے علاوہ متفقہ طور پر الیکشن کمیشن کے ارکان کاا نتخاب ہو چکا۔ کیا اس مشق کے بعد یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نظام کی اصلاح کے لیے سب پرامن اور قانونی راستے اختیار کیے جا چکے جو ناکام ثابت ہوئے؟
چار سوالوں کا قصہ بھی سن لیجیے۔کم و بیش یہی سوالات الیکشن کمیشن کے سامنے رکھے گئے۔یہی سپیکر کو پیش کی گئی درخواست میں بیان ہوئے۔یہی سپریم کورٹ کے سامنے رکھے گئے جس نے درخواست فنی بنیاد پرواپس کر دی۔اب ظاہر ہے کہ اس مقدمے میں ایک دوسرا فریق بھی ہے۔اس کی بات سنے بغیر کوئی عدالت کیسے فیصلہ دے سکتی ہے۔ اس کام میں کچھ وقت تو لگے گا۔اسی طرح حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک مسودئہ قانون پیش کیا ہے جس میں ہر طرح کی بدعنوانی کو مو ضوع بنایا گیا۔پیپلزپارٹی نے اس کے مقابلے میں ایک بل پیش کیا ہے جو کہتا ہے کہ صرف پاناما لیکس کی بات ہو اور اس میں بھی صرف نوازشریف کی۔یہی عمران خان کہہ رہے ہیں؟اگر یہ مقدمہ درست ہے کہ اس ملک میں صرف نوازشریف پر کرپشن کا الزام ہے اور صرف انہیں پکڑنے سے سیاست کی تطہیر ہو جائے گی تو عمران خان کی بات مان لینی چاہیے۔اگر الزام بہت سے افراد پر ہے۔ان میں وہ بھی شامل ہیں جنہوں نے کہیں اورآف شور کمپنیاں بنائیں اور قرضے معاف کرائے تو انہیں شامل کیے بغیر سیاست کو صاف کرنے کا عمل کیسے آگے بڑھ سکتا ہے؟کیا کوئی انصاف پسند عمران خان کی بات سے اتفاق کر سکتا ہے؟وہ تو تطہیرِ سیاست کے لیے زرداری صاحب کی بات بھی نہیں کرتے۔ 
مکرر عرض ہے، مسئلہ کسی فرد کا نہیں،اس نظام کی اصلاح کا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ فساد کے بجائے نظام میں موجود امکانات کو تلاش کیا جائے۔فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved