تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     12-09-2016

سرخیاں‘ متن اور اکبر معصوؔم کی شاعری

اگر مارشل لاء نہ لگتا تو ملک
بے تحاشا ترقی کرتا : نوازشریف
وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ '' اگر مارشل لاء نہ لگتا تو ملک بے تحاشا ترقی کرتا‘‘۔ آپ میرا مطلب تو سمجھ ہی گئے ہوں گے اور جہاں یہ بات پہنچانا چاہتا ہوں وہاں بھی پہنچ گئی ہو گی یعنی اب اگر مارشل لاء لگایا گیا تو یہ جو بے تحاشا ترقی ہو رہی ہے وہ رک جائے گی جو اگرچہ کسی کو نظر نہیں آ رہی لیکن اورنج لائن ٹرین منصوبہ مکمل ہوتے ہی سب کو نظر آ جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ''ملک سے پیسہ باہر جا نہیں رہا بلکہ آ رہا ہے‘‘ یعنی ہم نے کھل کر بعض لوگوں کی باتوں کی تردید کرنا شروع کر دی ہے جیسا کہ عزیزی میاں شہبازشریف نے اگلے دن صاف کہہ دیا کہ ایکشن پلان پر مکمل عمل نہ ہونے کا تاثر بالکل غلط ہے اور اسی طرح ملک سے پیسہ باہر جانے کا تاثر بھی سراسر غلط ہے۔ کر لو جو کرنا‘ کیونکہ اب ہم نے ڈرنا ورنا چھوڑ دیا ہے کہ جو کچھ ہونا ہے وہ تو ہو کر ہی رہے گا، ہم پہلے ہی کیوں اپنا خون خشک کرنے لگ جائیں‘ ہیں جی؟ انہوں نے کہا کہ ''ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے والوں سے حساب لیا جائے گا‘‘۔ یعنی جمہوریت ختم کرنے سے زیادہ اندھیروں میں دھکیلنے والی بات اور کیا ہو سکتی ہے، امید ہے اس کا مطلب بھی متعلقہ لوگ سمجھ گئے ہونگے۔ اگرچہ اس سے پہلے ہمارا حساب بھی شروع ہو سکتا ہے کیونکہ دیکھنا یہ ہے کہ پہلے آنکھ کون جھپکتا ہے یا پہلے آپ پھونک مارتے ہیں یا گھوڑا؟ انہوں نے کہا کہ ''ملک کے چپے چپے پر بجلی کے کارخانے لگ رہے ہیں‘‘ اگرچہ سی پیک منصوبے میں اربوں روپے کے کول پاور منصوبوں کا لائسنس منسوخ کر دیا گیا ہے کیونکہ وہاں انفراسٹرکچر ہی ناپید تھا نیز کوئلہ غیر معیاری ہونے کے ساتھ ساتھ بینکوں کو ٹیرف بھی قبول نہیں تھا اور اس کے علاوہ نندی پور منصوبے کا سارا ریکارڈ ہی چوری کر لیا گیا ہے، کچھ ضائع کر دیا گیا ہے تاکہ اس کے نقصانات کا صحیح اندازہ ہی نہ لگایا جا سکتا اور اسی نیک مقصد کے تحت ایل ڈی اے پلازہ، سنٹرل ماڈل سکول کے ووٹ ریکارڈ زکا بھی نام و نشان مٹایا گیا تاہم بہتر ہوتا کہ ان ریکارڈز کو جلانے کی بجائے چوری کر لیا جاتا تو بھی مقصد حاصل ہو سکتا تھا کیونکہ اگر حکومت کے سارے کام ہی پوشیدہ ہیں تو اسے بھی پوشیدہ رکھنا زیادہ بہتر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ''ادارے ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘ کیونکہ انہیں ٹھیک بھی وہی کر سکتا ہے جس نے انہیں بگاڑا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ''ہمارے تینوں ادوار میں ترقی کا سفر جاری رہا‘‘ اور برطانیہ میں خریدے گئے مہنگے ترین فلیٹ جس کا منہ بولتا ثبوت ہے جن کی وجہ سے اپوزیشن کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''نج کاری پالیسی سے اداروں نے فائدہ اٹھانا شروع کیا‘‘ جبکہ زیادہ تر چیزیں تو مختلف ناموں سے ہم خود ہی خرید رہے ہیں یا ہمارے بعض قریبی دوست جو کہ حقوق العباد پر عمل کرنے ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' اداروں کو خسارے سے نکال کر دم لیں گے‘‘ جو ہم نے کافی عرصہ پہلے سے ہی روکا ہوا ہے کیونکہ اپنے اعلانات کے مطابق لوڈشیڈنگ وغیرہ ختم کرنے جیسے معاملات پر بھی ہم نے ان کے ختم ہونے تک دم نہ لینے کا فیصلہ کیا تھا بلکہ اب تو دم روکنے کی پریکٹس ہی اتنی ہو گئی ہے کہ کئی کئی دن تک روکے رکھتے ہیں حتیٰ کہ اسے ہمیشہ کے لیے بھی روک کر دکھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''دنیا ہماری معاشی ترقی کی معترف ہے‘‘ جبکہ ہماری ذاتی ترقی کی سب سے زیادہ معترف ہے اور ہذا من فضل ربی کا مطلب بھی ہماری سمجھ میں اب آیا ہے‘ جلنے والے جلا کریں۔ انہوں نے کہا کہ ''2018 ء تک بجلی اور گیس کی قلت ختم کر دیں گے‘‘۔ اس پر ہنسنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے کئی اور دعوئوں پر 
ہنسنے کی کافی گنجائش پہلے ہی موجود ہے تاہم اگر ہم وعدے پورے نہ کر سکے تو اس کی وجہ دھرنے اور گھیرائو ہی ہوں گے اور یہ بات ہم پیشگی بتا رہے ہیں تاکہ اس وقت اس کا جواب نہ دینا پڑے۔ نیز ہمیں سوال جواب کرنے کی ویسے بھی عادت نہیں ہے ورنہ اپوزیشن کے چار سوالوں کے جواب ہی دے دیتے۔ آپ اگلے روز کراچی میں سٹاک ایکس چینج میں تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔
مجھے سپیکر ایوان نے منتخب کیا ہے
عمران خان نے نہیں : ایاز صادق
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ ''مجھے سپیکر ایوان نے منتخب کیا ہے عمران خان نے نہیں‘‘ اور جس کام کے لیے منتخب کیا ہے وہ میں کر بھی رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ''جناب سپیکر کہنے سے عمران خان کو تکلیف ہوتی ہے‘‘۔ حالانکہ سارا ایوان ہی مجھے جناب سپیکر کہہ کر پکارتا ہے‘ وزیراعظم سمیت‘ اس لیے ان کے خلاف ریفرنس پر یہی فیصلہ دے سکتا تھا۔ انہوںنے کہا کہ ''میری ذات ہمیشہ سے ہی ان کے لیے مسئلہ رہی ہے‘‘۔ حالانکہ جس طریقے سے میں منتخب ہوا بلکہ ہم سب کے سب منتخب ہوئے تھے نجم سیٹھی صاحب کا اس میں کچھ اتنا زیادہ عمل دخل نہیں تھا کیونکہ الیکشن کمشن سمیت ماشاء اللہ اور بھی کافی انتظامات کر لیے گئے تھے۔ آپ اگلے روز پارلیمنٹ ہائوس کے باہر دنیا نیوز سے گفتگو کر رہے تھے۔
اکبر معصوم
اور اب سانگھڑ سے موصول ہونے والے اپنے محبوب اور صاحب طرز شاعر اکبر معصوم کے کچھ تازہ اشعار :
چھوڑ یہ بُود و باش کسی دن
خود کو کریں تلاش کسی دن
لگے ٹھکانے خاک ہماری
بُلوائو فراش کسی دن
کیوں سب کو اچھے لگتے ہو
راز کرو یہ فاش کسی دن
پیارے پنچھی اُڑتے اُڑتے
بن جائو آکاش کسی دن
کھل جائیں گی شہر کی آنکھیں
بولے گی یہ لاش کسی دن
آئے گی معصوؔم سخن میں
دل پر پڑی خراش کسی دن
اب چلتے چلتے ڈاکٹر عاصم کا یہ شعر ؎
یوں اگر ہوائوں سے سلسلہ بھی رکھنا ہے
پھر چراغ بجھنے کا حوصلہ بھی رکھنا ہے
آج کا مطلع
بہت کچھ ہو تو سکتا ہے مگر کچھ بھی نہیں ہو گا
مجھے معلوم ہے اُس پر اثر کچھ بھی نہیں ہو گا

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved