تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     05-10-2016

سرخیاں‘ متن اور ریکارڈ کی درستی

کشمیریوں کی سیاسی و اخلاقی امداد
جاری رکھیں گے۔ نواز شریف
وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ''کشمیریوں کی سیاسی و اخلاقی امداد جاری رکھیں گے‘‘ جبکہ اس پر مودی صاحب کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہے کیونکہ وہ اس امداد کی اصلیت اور اہمیت کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاناما لیکس کے بعد خاکسار کی طرف سے سیاسی امداد کس بھائو بک رہی ہے اور سفارتی صورت حال سے ساری دنیا واقف ہے کہ اس کے طفیل پاکستان ساری دنیا سے الگ تھلگ صرف اپنے پائوں پر کھڑا ہے، البتہ انہیں جنرل اسمبلی میں میری تقریر اچھی نہیں لگی جو کہ خلاف توقع بھی تھی لیکن وہ یہ بھی تو دیکھیں کہ اپنی تقریر میں میں نے نہ کلبھوشن کا نام لیا اور نہ ہی ان خوش فعلیوںکا ذکر کیا جو بھارت کی طرف سے بلوچستان میں کی جا رہی ہیں‘ حتیٰ کہ کشمیریوں کے ساتھ جو سلوک اس کی طرف سے روا رکھا جا رہا ہے میں نے وہاں اس کی بھی تفصیل بتانے سے گریز کیا کیونکہ اس وقت میرے سامنے یہ شعر تھا کہ ؎
خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہر دم
انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
ہیں جی؟ آپ اگلے روز اسلام آباد میں پارلیمانی رہنمائوں سے خطاب کر رہے تھے۔
پاکستان کا آئین غیر اسلامی‘ کشمیر 
سے زیادہ ظلم فاٹا میں ہوتا۔ فضل الرحمن
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ''پاکستان کا آئین غیر اسلامی ہے‘‘ اور حیرت ہے کہ والد صاحب نے اس غیر اسلامی آئین پر دستخط کیسے کر دیے۔ یقیناً یہ 
جعلی ہوں گے اور فرانزک ٹیسٹ کے ذریعے جن کی تصدیق کی ضرورت ہے ورنہ خاکسار کی طرح انہیں کوئی لالچ دے کر دستخط نہیں کرائے جا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ''کشمیر سے زیادہ ظلم فاٹا میں ہوتا ہے‘‘جبکہ الیکشن کا موسم شروع ہونے والا ہے اور میری جماعت نے فاٹا سے بھی ووٹ لینا ہیں اس لیے فاٹا والوں کو مظلوم ظاہر کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ''ضرب عضب دہشت گردوں کے خلاف نہیں ‘ فاٹا کے عوام کے خلاف ہے‘‘ اور میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ حکومت کی طرح فوج کے پاس بھی فنڈز کی کمی نہیں ہوتی اس لیے اسے بھی سیاستدانوں کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے ورنہ اسی طرح کے بیانات آئیں گے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کر رہے تھے۔
سی پیک خطّے سے غربت کے 
خاتمہ میں کردار ادا کرے گا۔ شہباز شریف
خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ ''سی پیک خطے میں غربت کے خاتمہ میں کردار ادا کرے گا‘‘ اور اس نے ابھی سے یہ کام شروع کر بھی دیا ہے کیونکہ اس کی بعض شاہراہوں پر صنعتی زونز کے آس پاس کافی ضرورت مند دوستوں نے کسانوں سے اونے پونے داموں اراضی خرید لی ہے جو کئی گنا مہنگی ہو جائے گی اور اسی لیے اس منصوبے کو پبلک نہیں کیا جا رہا تاکہ یہ حضرات اس موقع سے اچھی طرح فائدہ اٹھا سکیں اور اس طرح اپنی غربت دور کر سکیں جبکہ مختلف ٹھیکوں وغیرہ کی مد میں حکومت بھی خاصی حد تک اپنی غربت دور کرنے میں کامیاب ہوئی ہے اور جب یہ کام مکمل ہو جائے گا تو عوام کی غربت دور کرنے پر بھی بھرپور توجہ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ''شکست خوردہ سیاسی عناصر قومی ترقی کے سفر کو روکنا چاہتے ہیں‘ اور انہی کی نحوست کی وجہ سے مہنگائی دگنی ہو گئی ہے اور لوڈ شیڈنگ میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے‘‘ نیز ہمیں ایک ہی کام آتا ہے اور اس سے بھی ہمیں روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ آپ اگلے روز ملاقات کے لیے آنے والے ایک وفد سے گفتگو کر رہے تھے۔
نیب میں ایمانداری اور شفافیت 
کے دور کا آغاز کر دیا۔چیئرمین نیب
نیب کے چیئرمین قمر زمان چوہدری نے کہا ہے کہ ''نیب میں ایمانداری اور شفافیت کے دور کا آغاز کر دیا گیا ہے‘‘ اور اب تک جو بے ایمانیاں اور بددیانتیاں ہوتی رہی ہیں ان پر ہم معذرت چاہتے ہیں اور اس دور کے آغاز پر امید ہے کہ عوام خوشی کے شادیانے ضرور بجائیں گے اور جہاں تک شفافیت کا تعلق ہے تو نہایت شفاف طریقے سے فی الحال چھوٹی مچھلیوں کو پکڑا جا رہا ہے جس پر سپریم کورٹ بھی آئے دن بیان دیتی رہتی ہے‘ تاہم بڑے مگرمچھوں کو بھی پورے شفاف طریقے سے بچایا جا رہا ہے جو سب کو صاف نظر بھی آ رہا ہے اب آپ ہی بتائیے کہ اس سے زیادہ شفافیت اور کیا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پلڈ اٹ کی رپورٹ کے مطابق 42فیصد لوگ نیب پر اعتماد کرتے ہیں‘ جبکہ انہیں پہلی فرصت میں اپنا دماغی معائنہ کرانا چاہیے اور ملک کے باقی 58فیصد لوگوں کی طرح انہیں اپنا ریکارڈ درست رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ یکسوئی اور اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا جا سکے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں نیب کی ڈائریکٹریٹ جنرل کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
عمران خان کی سولو فلائٹس مشکلات کا 
باعث بنتی ہیں۔بلاول بھٹو زرداری
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ''عمران خاں کی سولو فلائٹس مشکلات کا باعث بنتی ہیں‘‘ جیسا کہ نانا جان نے بھی سولو فلائٹ کی تھی اور بیچارے ایوب خان کو مشکل میں ڈال دیا تھا جسے وہ ڈیڈی کہہ کر پکارا کرتے تھے‘ اس لیے ہم اس سولو فلائٹ میں شامل ہو کر تایا جان صاحب نواز شریف کے لیے کوئی مشکل کھڑی نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اگر اگر ایسا کیا تو وہ ہمارے لیے بھی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں جبکہ والد محترم کے علاوہ پارٹی کے دیگر معززین کے خلاف ابھی فائلیں کھلی نہیں ہیں، ابھی کافی بند بھی پڑی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ''جمہوریت کے خلاف احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے‘‘ کیونکہ اسی جمہوریت نے اتنے بھاگ لگائے ہیں اور ہمارے ساتھ ساتھ تایا جان کی دولت کا بھی کوئی حساب نہیں لگایا جا سکتا اور ملک کو ایسی ہی جمہوریت کی ضرورت ہے جہاں کوئی کسی کو پوچھنے والا نہ ہو اور ہر طرف ہُن برستا رہے۔ آپ اگلے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
ریکارڈ کی درستی کے لیے
ہمارے دوست اور دیرینہ کرمفرما جناب نسیم احمد باجوہ نے اپنا کل والا کالم ایک مصرعے سے چھاپا ہے 'کہ آتی ہے اردو زبان آتے آتے‘ اور شروع اس طرح سے کرتے ہیں کہ استاد ذوق جو بچوں کے نہیں بلکہ شاعروں کے استاد تھے کے لکھے ہوئے شعر کا دوسرا مصرع آج کے کالم کا عنوان ہے۔ واضح رہے کہ یہ شعر ذوق کا نہیں بلکہ داغ کا ہے۔ دراصل شعر اس طرح سے ہے ؎
نہیں کھیل اے داغؔ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
میرا خیال ہے کہ بھائی صاحب کو داغؔکی روح سے معذرت کرنی چاہیے کیونکہ قبر میں انہیں اس سے خاصی تکلیف ہوئی ہو گی جبکہ اس گستاخی کے لیے میری طرف سے بھی معذرت قبول فرمائیں۔ یہ بات تو حامد کی پگڑی محمود کے سر باندھنے والی ہے حالانکہ دونوں خود بھی صاحب دستار ہیں اور انہیں ایک دوسرے کی پگڑی کی شاید ضرورت بھی نہیں ہے۔
آج کا مقطع
ایک اکیلا میں اس کو آزاد کرانے جائوں گا
کوہِ قاف میں قید ہے، ظفرؔ، جو شہزادی ایسی ہی

 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved