تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     14-10-2016

ٹوٹے

ایک دلچسپ خبر
سی ای اوریجنل پیس انسٹی ٹیوٹ رئوف حسن نے ایک اخباری بیان میں دعوی کیا ہے کہ حکومت اور فوجی سربراہان وغیرہ کی جس ملاقات میں انگریزی اخبار کا ایک صحافی زیر عتاب ہے وہ خبر نواز شریف نے خود لگوائی اور اب اس سے بھاگ رہے ہیں۔ موصوف کا یہ دعویٰ صحیح ہے یا غلط‘ اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں کیونکہ معاملہ اس قدر سیدھا سادا ہے کہ اس کا اندازہ ایک معمولی ذہانت رکھنے والا آدمی بھی لگا سکتا ہے جبکہ دیکھنے والی چیز یہ ہے کہ دونوں بڑے فریقوں میں سے اس خبر کا فائدہ کسے پہنچتا ہے‘ فوج کو یا نواز شریف کو۔ ظاہر ہے کہ یہ خبر جس طرح سے چھاپی گئی‘ فوج ہی کے خلاف تھی۔ اور اسی تناظر میں دیکھا جائے گا کہ فوج کے ساتھ حکومت کے اختلافات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے جبکہ فوج کو ہرگزکوئی ضرورت نہیں تھی کہ ایسی خبر لگواتی جس میں سراسر اس کا اپنا نقصان تھا اور اسی پر احتجاج بھی فوج کی طرف ہوا ہے حکومت کی طرف سے نہیں!
سکینڈلز 
اخباری اطلاع کے مطابق بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 2ارب 20کروڑ کرپشن کا انکشاف ہوا ہے جس میںتین بنکوں نے تیرہ سو ملین روپے سروس چارجز غیر قانونی وصول کئے۔ اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات جاری ہے۔ قومی اسمبلی اکائونٹس میں بے قاعدگیوں کا عالم یہ ہے کہ پارلیمنٹرینز کے علاج پرکروڑوں خرچ کیے گئے جن میں بیگم شہناز شیخ کے امریکہ میں سرکاری علاج پر 27لاکھ‘ بشریٰ رحمن 43لاکھ‘ فہمیدہ مرزا کے علاج پر 27لاکھ اخراجات آئے۔ نیشنل انشورنس میں2014-15ء میں 40کروڑ کی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ واضح رہے کہ یہ ایک ہی دن کے اخبارات کی خبریں ہیں اور یہی کیفیت روز مرّہ کی ہے۔ حیرت ہے کہ اس قدر ایماندار حکومت کے ہوتے ہوئے یہ سب کچھ کیوں اور کیسے ہو رہا ہے۔ یقیناً ہماری صاف و شفاف حکومت بھی اس پر بہت پریشان ہو گی۔ یقیناً یہ میڈیا کی سازش ہے اور اس نیک نام حکومت کو اس سلسلے میں جلداز کچھ کرنا چاہیے۔ ہیں جی؟
زرداری پلان۔؟
ایک اخباری اطلاع کے مطابق تحریک انصاف کا احتجاج ناکام بنانے کے لیے زرداری پلان تیار کر لیا گیا ہے جس کے مطابق ن لیگ نے پی پی سے مل کر فضل الرحمن کو اہم ٹاسک دے دیا ہے جبکہ زرداری الطاف ملاقات کا بھی امکان ہے اور بلاول بھٹو زرداری الطاف حسین کو محبِ وطن قرار دیتے ہوئے اپنا انکل بھی بنا چکے ہیں۔ عمران خاں کی یہ تحریک اور آئندہ اقدامات کامیاب ہوں گے یا نہیں‘ اس سے قطع نظر یہ بات طے ہو گئی ہے کہ یہ ساری جماعتیں عمران خاں کے خلاف نہیں بلکہ کرپشن کے حق میں ہیں کیونکہ اگر اس نظام میں کوئی تبدیلی آتی ہے تو ان کا متاثر ہونا یقینی ہے جن کا اس کرپٹ نظام میں حلوہ مانڈہ لگا ہوا ہے کیونکہ آج اگر کسی نہ کسی طرح کرپشن بند ہو جائے تو ان کی آئندہ نسلیں بھوکوں مر جائیں جبکہ دراصل یہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں کیونکہ کرپشن اور مفاد پرستی میں کوئی ایسا زیادہ فرق نہیں چنانچہ کرپٹ حکومت کو سہارا دینا بھی قدرتی طور پر ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ادائیگیاں ۔!
ایک آڈٹ رپورٹ کے مطابق حکومت نے سرکاری خزانے سے مختلف اہل قلم کو 35لاکھ روپے ادا کیے ہیں تاکہ وہ نواز شریف کے حق میں مضامین لکھیں جبکہ آڈٹ رپورٹ میں ان ادائیگیوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق 2016ء میںان حضرات کو 35لاکھ روپے ادا کیے گئے جبکہ 42لاکھ روپے وزیر اعظم کی تقریریں لکھنے والوں کو ادا کیے جانے کا انکشاف کیا گیا ہے؛ تاہم اس سے فرق اس لیے نہیں پڑتا کہ ایسی غیر قانونی ادائیگیاں اربوں کی صوت میں کی جا چکی ہیں جو وزیر اعظم اور خادم اعلیٰ کی ذاتی پبلسٹی پر میڈیا میں روبراہ کی گئی ہیں، کر لو جو کرنا ہے۔
انحطاط
ایک رپورٹ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے اس خبر پر بے حد تشویش کا اظہار کیا ہے جس کے مطابق اس سال سی ایس ایس کے امتحان میں نہایت بُری کارکردگی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ 2016ء میں 9663امیدواروں نے سی ایس ایس کا امتحان دیا جبکہ اس تحریری ٹسٹ میں ان میں سے صرف 202یعنی2.09فیصد پاس ہوئے جبکہ باقی سارے کے سارے فیل ہو گئے۔ یہ 2011ء سے اب تک کی کم ترین اوسط ہے۔ بورڈ نے اس کے اسباب کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے ہائر ایجوکیشن بورڈ سے مشورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک طرف حکومت کے آئے روز کے تعلیمی ترقی کے دعوے ہیں اور دوسری طرف ٹھوس نتائج کچھ اور کہانی سناتے ہیں۔ امتحانات میں نقل کا رواج اس قدر بڑھ گیا ہے کہ اکثر اوقات سپرنٹنڈنٹس حضرات خود اس ضمن میں ایسے طلبہ کی حوصلہ افزائی کرتے پائے گئے ہیں اور حکومت نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ نتیجہ بھی ایسا ہی نکل رہا ہے کہ جو بوئو گے سو کاٹو گے۔
آج کا مقطع
جھوٹ سارا بھر دیا عرضِ حقیقت میں، ظفرؔ
اور، سچی بات جتنی بھی تھی افسانے میں ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved