تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     18-10-2016

قدم بڑھائو…!

اگلے روز پیپلز پارٹی کی ریلی میں بہت نعرے لگے۔ بہت دعوے ہوئے اور بہت سی خوشخبریاں سنائی گئیں کہ تیر کمان سے نکل چکا ہے اور ہم آ رہے ہیں‘ وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ وہ صرف سندھ کی حد تک ہی آ جا سکتے ہیں۔ پچھلے الیکشن میں جو عناصر ان کے سّدِ راہ بنے تھے اور سندھ سے باہر اس پارٹی کو کنویسنگ تک نہیں کر نے دی گئی تھی وہ اب بھی برسرکار ہیں اور صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔پیپلز پارٹی ضیاء الحق کے وقت سے آج تک کبھی بعض قوتوں کی پسندیدہ نہیں رہی‘ وہ صرف اسے برداشت کرتی ہیں‘طوعاً و کرہاً۔
پچھلا الیکشن نواز لیگ کو زوروں سے جتوایا گیا اور وہ گروپ اب بھی ہم صفحہ ہے اور یہ جو ہم فوج اور حکومت کے ایک صفحے پر نہ ہونے کی پھلجھڑیاں چھوڑتے رہتے ہیں نہ صرف یہ کہ ہماری خوش خیالی ہے بلکہ یہ شوشے بالقصد چھوڑے جاتے ہیں تاکہ رونق لگی رہے اور اُمید و بیم کی ایک فضا قائم رہے ورنہ ہونا ہوانا کچھ بھی نہیں اور راوی اسی طرح سب ٹھیک لکھتا رہے گا۔
پیپلز پارٹی زیرعتاب اس لیے ہے کہ ضیاء الحق کے وقت سے امریکہ اس کے خون کا پیاسا ہے اور اس نے بھٹو کا نیوکلیئر پروگرام کبھی فراموش نہیں کیا۔ اس کے علاوہ پیپلز پارٹی کا شروع شروع میں سارا رنگ ڈھنگ لیفٹ کا تھا جبکہ امریکہ لیفٹ سے الرجک تھا اور ہے۔ اس کے علاوہ زرداری صاحب نے بھی کئی بار اہم ریاستی ادارے کو للکارا اور آپس کے یہ فاصلے ہمیشہ کے لیے طے ہو گئے اور حکومت اور فوج کے درمیان جو اختلافات کی خبریں اُڑائی جاتی ہیں وہ محض افسانے ہیں اور موجودہ حکمران ہمیشہ کے لیے ہماری تقدیر میں لکھ دیئے گئے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ حکومت اگر کرپٹ ہو تو فوج کا اس سے کیا لینا دینا ہے اور نہ ہی یہ اس کے فرائض میں شامل ہے۔ حکومت ایک منتخب ادارہ ہے‘تو کوئی قوت اس کے خلاف کیوں ہو گی؟ ہیں جی؟
سو‘ پیپلز پارٹی بُھول جائے کہ پنجاب کبھی اُس کا گڑھ تھا۔ 70ء جیسے اُبال بار بار نہیں آیا کرتے اور طاقت کا سرچشمہ عوام نہیں بلکہ کوئی اور ہے‘ پھرپیپلز پارٹی نے اپنے ادوار میں اپنے دامن کو داغدار بھی جی بھر کے کیا اور اسی قدر واشگاف طریقے سے کہ ان کے ایک وزیراعظم باقاعدہ ایم بی بی ایس کہلائے۔ اس کے مقابلے میں نواز لیگ بھی کوئی صوفیوں کی جماعت نہیں ہے لیکن یہ لوگ کاریگر اور گُھنے ہیں‘ بیشک پکڑے بھی جاتے ہیں لیکن رنگے ہاتھوں نہیں۔ ضیاء الحق کے وُرودسے پہلے اہلِ سیاست کو پتا ہی نہیں تھا کہ کرپشن بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ موصوف ہی کے دستِ شفقت سے موجودہ حکمرانوں کو اپنی نسل میں پہلی بار اقتدار کا منہ دیکھنا نصیب ہوا‘ حتیٰ کہ دوسروں کو بھی کرپشن پر اسی جماعت نے لگایا۔
سو‘ نواز لیگ بعض قوتوں کی مجبوری بن چکی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی بوجوہ اس کی آنکھ کا کانٹا ہے اور تحریک انصاف بھی بس رولا ہی رولا ہے۔ سو‘ اس بات کا کبھی سوال ہی پیدا نہیں ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ موجودہ حکمرانوں کی چھٹی کرا دے۔ حکومت اگر خواہ مخواہ پنگے بازی نہ کرتی تو مشرف کو بھی اس کا تختہ الٹنے کی جرأت نہ ہوتی کیونکہ یہ بھی تو نہیں ہو سکتا کہ میری ہی بلّی اور مُجھی کو میائوں؟ اور حد تو یہ ہے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے درمیان جو باریاں مقرر تھیں‘ وہ سلسلہ بھی بند ہو چکا ہے یعنی ع
کہاں کی رُباعی کہاں کی غزل
پیپلز پارٹی کے راستے کی کچھ مشکلات اور بھی ہیں کیونکہ جب بلاول بھٹو زرداری کے دائیں بائیں سید یوسف رضا گیلانی‘ راجہ پرویز اشرف اور رحمن ملک کھڑے ہوتے ہیں تو مایوسی ہوتی ہے کہ یہ لوگ پارٹی کو انتخاب میں کامیابی دلائیں گے؟ گیلانی بے شک اپنی سیٹ نکال جائیں گے لیکن موصوف کی وجہ سے جو کئی سیٹیں ہار دی جائیں گی‘ بلاول کو اس کا اندازہ نہیں ہے۔ سو! دونوں بڑی جماعتوں نے اپنے اپنے دور میں جو بے انداز دولت اکٹھی کی ہے اور جو اب ان کی تازہ مہمات میں تشہیراور ریلیوں کے لیے خرچ بھی ہو رہی ہے‘ عمران خاں تو اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا‘ علیم خان اور جہانگیر ترین کہاں تک اس کا ساتھ دیں گے کہ فنڈز پارٹی کے پاس خود ہونے چاہئیں‘ افراد کے پاس نہیں۔ اس کے علاوہ نواز لیگ نے اپنے تیس سالہ دور حکومت میں جو اے ایس آئی بھرتی کیا تھا وہ اب ڈی آئی جی اور آئی جی کے عہدے تک پہنچ چکا ہے اور جو نائب تحصیل دار بھرتی کیا تھا وہ اب اکیسویں‘ بائیسویں گریڈ میں اپنے ایک دور میں انہوں نے اتنے نائب تحصیل دار بھرتی کر لیے تھے کہ ان کی تعداد گرداوروں سے بڑھ گئی تھی‘ حتیٰ کہ ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ ایک ایک گھر سے دو دو نائب تحصیل دار بھرتی کیے گئے!
علاوہ ازیں‘ ان تیس برسوں میں انہوں نے اپنی بنیادیں اس قدر مضبوط کر لی ہیں کہ انہیں الیکشن میں بھی ہرایا نہیں جا سکتا۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کس کھیت کی مُولی ہیں‘ یہ دونوں مل کر بھی اسے نہیں ہرا سکتے کیونکہ الیکشن کمیشن ان کا اپنا‘ بیورو کریسی ان کے گھر کی لونڈی کہ ایک منتخب حکومت کو گرانا اس کے مینڈیٹ میں کہاں شامل ہے اور وہ یہ غیر ضروری مہم جوئی کیوں کرے؟
البتہ‘ سرنگ کے دوسرے سرے پر روشنی کی ایک کرن ضرور نظر آتی ہے اور وہ ہے پاناما لیکس کا سپریم کورٹ میں معاملہ‘ لیکن یہ لوگ خوش قسمت بہت ہیں‘ لگتا ہے کہ یہاں بھی بچ جائیں گے۔ چنانچہ اگر اصول بھی یہی ہے کہ جیسے لوگ ہوں گے ان پر حکومت بھی ویسی مسلط کی جائے گی تو جھگڑا کس بات کا ہے‘ نہ ہم اپنے آپ کو ٹھیک کریں اور نہ ہماری حکومت ٹھیک ہو۔ اس لیے جو لوگ یہ اُمید لگائے بیٹھے ہیں کہ نومبر میں کچھ نہ کچھ ہو جائے گا وہ کوئی اچھی سی چھائوں تلاش کر کے اپنا ٹٹّو وہاں باندھیں۔ نئے آرمی چیف کا اعلان ہو جائے گا‘ موجودہ آرمی چیف ریٹائر ہو کر گھر بھی چلے جائیں گے اور یار لوگ دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ جائیں گے اس لیے اب سے ہمارا نعرہ بلکہ نعرے بھی یہی ہوں گے کہ قدم بڑھائو نوازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ قدم بڑھائو شہبازشریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔
آج کا مقطع
سکندر نے ظفرؔ مر کر تہی دستی کا اک ناٹک رچایا تھا
یہاں لاکھوں کروڑوں زندہ انسانوں کے دونوں ہاتھ خالی ہیں

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved