تحریر : نذیر ناجی تاریخ اشاعت     21-10-2016

بہت خوب

جب سیاسی پارٹیاں ٹوٹتی ہیں تو ان میںدو یا زیادہ سے زیادہ تین گروپ نکلتے ہیں لیکن ایم کیو ایم کا اپنا ہی ایک انداز ہے۔ اس نے ٹوٹنا شروع کیا اور ابھی تک ٹوٹتی ہی چلی جا رہی ہے۔سب سے زیادہ مضبوط ستون‘ الطاف بھائی تھے لیکن اب وہ بھی ایک چھوٹے سے گروپ کے سربراہ بن گئے ہیں جس کی شناخت ‘ایم کیو ایم لندن سے کی جاتی ہے۔ڈاکٹر فاروق ستار کے گروپ کو جو اس وقت سب سے بڑا ہے‘ حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس کا واضح اعلان تو کوئی نہیں لیکن وزیراعظم‘ نوازشریف نے گزشتہ دنوں جن سیاست دانوں کو مدعو کیا تھا‘ان میں فاروق ستار کی شرکت سے اندازے لگائے گئے کہ ان کے گروپ کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔البتہ اس پر مہر تصدیق ثبت نہیں کی گئی۔ایم کیو ایم‘ سندھ کی سب سے بڑی پارٹی تسلیم کی جاتی ہے کیونکہ اس کی بنیاد کراچی میں ہے۔ہرچند الطاف بھائی‘ شہروں شہروں اور ملکوں ملکوں اپنی پارٹی پھیلاتے چلے گئے ۔ حتی کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں بھی نمائندگی حاصل کرلی۔حالیہ انتخابات میں کوئی بھی سرکاری گروپ ‘ایم کیو ایم کے کسی گروپ کا سرپرست نہیں تھا‘ اس لئے ایم کیو ایم کا کوئی بھی ٹوٹا ‘آزاد کشمیر اسمبلی میں داخل نہ ہو سکا۔خود ایم کیو ایم کے لئے بھی مشکل ہے کہ ان میں سے کون سا ٹوٹا‘ا پنا امیدوار کھڑا کر کے اسمبلی میں جاتا؟۔اصولی طور پر دیکھیںتو ہر ٹوٹا‘ الطاف بھائی کے کھاتے میں جاتا ہے۔ لیکن اب الطاف بھائی خود ہی کئی ٹوٹوں میں بٹ چکے ہیں۔ایک ندیم نصرت صاحب ہیں‘ جو الطاف بھائی کی نمائندگی کے دعویدار ہیں۔لیکن یہ دعویداری بھی بہت سے خواتین و حضرات کرتے ہیں۔مثلاً ایم کیو ایم کے مستند دعویدار کی حیثیت میں پروفیسر حسن ظفر‘ ایک پریس کانفرنس میں اچانک نمودار ہوئے۔ ان کے بارے میں پہلے بہت کم لوگوں نے سنا تھا۔ حتی کہ ایم کیو ایم کی نئی پود بھی ان پروفیسر صاحب سے کم ہی واقف تھی۔ایک اینکر صاحب اس دعوے کے ساتھ میدان میں اترے کہ پروفیسر موصوف کے الطاف بھائی کے ساتھ تعلقات کے پس منظر سے وہی زیادہ واقف ہیں۔
ابھی تک ڈاکٹر عشرت العباد‘ جو قریباً 14سال سے سندھ کے گورنر چلے آرہے ہیں۔انہیں ایم کیو ایم کا مستقل رکن سمجھا جا رہا تھا۔انہوں نے بطور گورنر‘ الطاف بھائی سے اپنے دیرینہ رشتے پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔یہ درست ہے کہ درپردہ ان کا سیاسی رشتہ برقرار رہا لیکن حقیقت میں انہوں نے داخلی دوریوں سے پردہ نہیں اٹھنے دیا۔مختلف 
مخالفین یہ الزام لگاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب‘ ‘ الطاف بھائی سے وفا کا رشتہ آج بھی قائم رکھے ہوئے ہیں۔ عین اس وقت بھی جبکہ ایم کیو ایم کے کئی دھڑے سامنے آکر ‘ایک دوسرے کی داڑھیوں کے بال نوچ رہے ہیں لیکن ڈاکٹر عشرت نے صرف ایک نشانہ چن رکھا ہے اور وہ ہیں سابق میئر کراچی‘ مصطفی کمال۔ مصطفی کمال نے اپنی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے شروع میں یہی کہا تھا کہ وہ کسی کے مخالف نہیں۔ صرف الطاف بھائی پر نشانہ لگا کر اپنی اننگز کا آغاز کیا تھا۔کچھ دن گزرے کہ انہوں نے اچانک اپنی توپ کا غلاف اتارا اور اس کا رخ لندن کی طرف کر دیا جسے عرف عام میں الطاف گروپ کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔مجھے بہت کم یاد ہے کہ الطاف بھائی نے اپنے بچھڑے ہوئے نو رتنوں کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے ہوں۔ وہ ایسا نہیں کرتے۔اور جب کرتے ہیں تو پھر کون سے ماضی کے رشتے اور کون سی تازہ دشمنی؟ الطاف بھائی کا سیدھا نشانہ پاکستان ہوتا ہے۔ آپ نے اپنے شہر ہ آفاق انٹرویو میں فرمایا کہ '' پاکستان کا ٹوٹنا ہی بہتر ہے۔ موصوف نے بھارت اوراسرائیل سے براہ راست اپیل کی تھی کہ وہ آگے بڑھ کر پاکستان کو توڑنے میں اپنا کردار ادا کریں‘‘۔یہ دھماکا خیز بیان اس بری طرح سے پاکستان پر گرا کہ ایم کیو ایم کی سمجھ سے باہر ہو گیا۔ اس کے ورکر اور کارکن سہم کر اپنے اپنے گھروں میں دبک گئے۔ خود الطاف بھائی بھی اپنے مذکورہ بیان کے دفاع میں ابھی تک کچھ کہنے سے قاصر ہیں۔لیکن آفرین ہے ان کے پرستاروں پر کہ چند روزہ خاموشی کے بعد‘ وہ ایک ایک کر کے حیلے بہانوں سے الطاف بھائی کے بیان کا جواز پیش کرنے لگے۔اگر آپ غور سے ان کے حامیوں کے بیانات دیکھیں تو ہر کوئی کسی نہ کسی انداز میں الطاف بھائی کے اس بیان کا درپردہ حامی دکھائی دیتا ہے کہ (خاکم بدہن) پاکستان کو ٹوٹ جانا چاہئے۔حیرت کی بات ہے کہ اتنی دیدہ دلیری اور جرأت مندی سے ‘بھارت نے بھی پاکستان کو توڑنے کا دعوی نہیں کیا۔ حتی کہ جن دوسرے ملکوں سے انہوں نے پاکستان توڑنے کی اپیل کی‘ ان میں بھی سوائے اسرائیل کے کسی اور ملک نے اس موقف کی تائید نہیں کی۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ پاکستان توڑنے کا جرأت مندانہ نعرہ لگانے والے الطاف بھائی نے بھی دوبارہ اپنے اس موقف کے حق میں کچھ نہیں کہا۔لیکن ان کے حامیوں کو داد دینا پڑتی ہے کہ سارے‘ کسی نہ کسی حیلے بہانے اور حجت سے الطاف بھائی کے مذموم مطالبے کے خلاف کھل کر سامنے نہیں آئے۔ کسی بہانے‘ کسی عذر اور کسی جواز کی بنیاد پر الطاف بھائی کے طرفدار‘پاکستان کی حمایت میں نہیں بولے۔ایم کیو ایم کے مختلف ٹوٹے ایک دوسرے سے اختلاف کرتے ہیں لیکن الطاف بھائی کو پاکستان توڑنے کے مطالبے پر کبھی حرف تنقید نہیں بناتے بلکہ ہر ایک کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی بہانے سے الطاف بھائی کو کمک پہنچائے۔ گزشتہ روز گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد نے چپ کا روزہ توڑتے ہوئے اپنے ''لیڈر‘‘ الطا ف بھائی سے مختلف امور پر اختلاف کا اظہار ضرور کیا لیکن جہاں موقع آیا ان سے ‘اپنے دیرینہ تعلق اور احسان مندی کا اظہار کرنے سے باز نہیں آئے۔صرف مصطفی کمال ایسے شخص ہیں جنہوں نے الطاف بھائی کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز نہیں کیا۔
ایک بات البتہ قابل تعریف ہے کہ جس تہمت سے ہمارے وزیراعظم اپنے آپ کو نہیں بچا پائے‘ ایم کیو ایم کا ہر لیڈر اسے خاطر میں نہیں لاتا۔آپ یاد کر کے دیکھ لیںہر کسی نے دوسرے پر یہ الزام ضرور لگایا کہ اس نے دولت خوب کمائی ہے۔دوچار ایسے بھی ہیں جن پر ''را‘‘ سے بٹوری ہوئی دولت کی تہمت نہ لگی ہو لیکن ان کی ہمت اور حوصلے کی داد دینا پڑتی ہے کہ ان میں سے کسی ایک نے بھی انکار نہیں کیا کہ اس نے ''را‘‘ سے کوئی پیسہ نہیں لیا۔ الطاف بھائی تو اس موضوع پر بات ہی نہیں کرتے۔لیکن مصطفی کمال نے اپنا کمال دکھاتے ہوئے‘ گورنر عشرت العباد پربرملا''را‘‘ سے دولت بٹورنے کا الزام لگایا لیکن کیا مجال ہے؟ کہ ڈاکٹرعشرت العباد نے اس تہمت پر ذرا سی توجہ بھی دی ہو۔مجھے تو یوں لگتا ہے کہ جہاں تک''را‘‘ کے پیسے کا تعلق ہے‘ ایم کیو ایم والے اسے ہضم کرنے کے الزام کا رتی بھر برا نہیں مناتے۔ایک زمانہ تھا کہ بھارت کے ساتھ‘ سیاسی بنیادوں پر دوستی کے حامیوں کو شدید نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ آج حالت یہ ہے کہ براہ راست بھارت سے رقوم بٹورنے کے الزام پر بھی کسی کے ماتھے پرشکن نہیں آتی بلکہ بعض تو بے تابی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ ایک پارٹی کی طرف آئی ہوئی بھارتی دولت میں سے‘ تھوڑا بہت حصہ انہیں بھی مل جائے۔''را‘‘ کا راتب کھانے والے آج بڑے فخر سے دندناتے پھرتے ہیں جبکہ یہی شے تھی ‘ جس کے نام پر بھی کراہت آیا کرتی تھی۔

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved