تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     27-10-2016

ٹوٹے

آئی ایم ایف کا دخل در معقولات......
آئی ایم ایف کی ایم ڈی کرسٹین لگارڈ نے کہا ہے کہ کرپشن یا اس کے تاثرکو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور کرپشن کا علاج شفافیت اور احتساب ہے، وہ پاناما لیکس ہوں یا کچھ اور۔ یہ سیدھی سادی ہمارے داخلی معاملات میں مداخلت ہے جبکہ اسحاق ڈار صاحب نے کہہ دیا ہے کہ ہم کرپشن کے خلاف پرعزم ہیں تو پھر آئی ایم ایف کو اس پر پریشان ہونے کی کیا ضرورت جبکہ شریف برادران با رہا کرپشن کے وجود ہی سے انکار کر چکے ہیں اورایسے غیر ذمہ دار لوگوں کا کوئی بندوبست کرنا چاہیے جو خواہ مخواہ ایسی بے پرکی اڑاتے رہتے ہیں اور اس طرح ہماری صاف شفاف حکومت کو بدنام کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ اول تو محترمہ کو کرپشن کی نشاندہی بھی کرنی چاہیے تھی کہ وہ کہاں کہاں پائی جاتی ہے کیونکہ حکومت جن مفید مطلب کاموں میں مصروف ہے اس کے پاس اتنا وقت ہی کہاں ہے کہ وہ ایسے فرضی اور فروعی معاملات کی کھوج لگاتی اور اپنا وقت ضائع کرتی پھرے۔ ہمارے خیال میں حکومت کو موصوفہ کے بیان کی تردید بلکہ مذمت کرنی چاہیے، ہیں جی؟
آخری دہشت گرد
ہمارے کرم فرما وفاقی وزیراطلاعات و نشریات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ حکومت آخری دہشت گرد کے خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھے گی حالانکہ پہلے وہ چین اور سکون کی نیند سوتی ہے، اسے نہ عمران خان سے کوئی خطرہ ہے، نہ فوجی مداخلت کا، بلکہ وہ خود فوج کے اندر مداخلت پر تلی ہوئی ہے اور اس کا آغاز بھی کردیا ہے اور تاریخ بھی اپنے آپ کو دہرا رہی ہے کیونکہ بم کو لات مارنے کی ایک باقاعدہ تاریخ ہے جس سے ساری دنیا واقف ہے جبکہ ہم کو لات مارنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ پھٹ کر زیادہ نقصان کر سکتاہے اور حکومت قوم کا کسی بھی قسم کا نقصان برداشت نہیں کر سکتی؛ چنانچہ یہ سخت بیان اس لیے بھی ضروری تھا کہ اس کی بھی ایک تاریخی اہمیت ہے کہ ہر ایسے سانحے پر حکومت اسی طرح کا بیان دیتی ہے اور اس کے بعد لمبی تان کر سو جاتی ہے کیونکہ سونا بھی انسانی صحت کے لیے بے حد ضروری ہے جبکہ حکومت کواپنی صحت کا اتنا خیال اس لیے بھی رکھنا پڑتا ہے کہ زیادہ دلیری کے ساتھ حکومت کرسکے۔
چیلنج نہیں کرے گی
ایک اخباری اطلاع کے مطابق حکومت سپریم کورٹ میں دائرہ اختیار کو چیلنج کرنے کا حق استعمال نہیں کرے گا کیونکہ ایسا کرکے وہ اپنے آپ کو مجرم ثابت کرنے کی حماقت نہیں کر سکتی اور اس طرح اپنی بے گناہی کو شک و شبہ میں نہیں ڈالے گی جبکہ وزیراعظم خود بار بار کہہ چکے ہیں کہ ان باتوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور جہاں تک ان کے برخورداران کا تعلق ہے تو وہ ہر قسم کے بیانات اپنی سادگی کی وجہ سے دیتے رہے ہیں جو انہیںورثے میں ملی ہے، اس لیے عدالت کو بھی اس سادہ دلی کا احترام کرنا چاہیے اور جس کا ایک سب سے بڑا ثبوت یہ بھی ہے کہ بیان دیتے وقت انہیں آپس میں مشورہ کرنے کا کسی نے مشورہ ہی نہیںدیا ورنہ کم از کم ان کے بیانات ہی ایک طرح کے ہوتے لیکن یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ اس طرح بیانات میں کیسی ورائٹی پیدا ہوگئی ہے جبکہ اصل مزہ ورائٹی ہی میں ہے۔ اس لیے برخورداران کی اس متنوع پیشکش کی داد دینی چاہیے کیونکہ ایک جیسے بیانات ویسے بھی بہت بورنگ ہوتے۔
ضرب کاری
عابد شیر علی صاحب کا کہنا ہے کہ عمران خان انتشار پھیلا کر سی پیک پر کاری ضرب لگانا چاہتے ہیں۔ یہ بھی انہوں نے تکلف ہی کیا ہے ورنہ چھوٹے صوبوں نے یکے بعد دیگرے اپنی انتشار پسندی کی وجہ سے اس پر اعتراضات لگا رکھے ہیں بلکہ کے پی کے والوں نے تودھمکی بھی دے رکھی ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان کے علاوہ بھی ہمارے ہاں ملک دشمن موجود ہیں، حالانکہ اس پر جو چیز جہاں بھی لگ رہی ہے وہ ملک کے اندر ہی لگ رہی ہے، باہر نہیں اور اگر بڑے صوبے کے لیے چند ترجیحات ہیں بھی تو اس لیے کہ وہ بڑا ہے اور اس منصوبے میںاس صوبے کے وزیراعلیٰ کا بہت زیادہ حصہ بھی ہے ورنہ پرویز خٹک سینے پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ اس منصوبے کی تشکیل وتدوین میں کوئی ان کا حصہ بھی ہے۔ افسوس کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو ہوّا بنا لیتے ہیں۔ اب آپ ہی بتائیے کہ یہ ملک کیسے ترقی کرسکتا ہے؟
گریٹ گیم؟
جنرل (ر) امجد شعیب نے کہا ہے کہ بھارت، امریکہ، افغانستان اور اسرائیل خطے میں بڑی گیم کھیل رہے ہیں جبکہ یہی بات دفاعی تجزیہ کار ماریہ سلطان نے بھی کہی ہے۔ یہ بات ہماری اور حکومت کی تو سمجھ ہی سے بالاتر ہے کہ کوئی اگر گیم کھیل رہا ہے تو اس میں ہمارا کیا نقصان ہے، اس سے سپورٹس کو تقویت ملے گی۔ اور اگر ان میں بھارت بھی شامل ہے تو یہ بھی بڑی خوش آئند بات ہے کیونکہ اگر وہ ہمارے ساتھ کرکٹ نہیں کھیلتا تو گریٹ گیم ہی سہی، یہ تو اور بھی اچھی بات ہے اور اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ وہ بہت جلد ہمارے ساتھ کرکٹ بھی کھیلنے پر تیار ہو جائے گا اور جہاں تک وزیراعظم کا تعلق ہے تو وہ ایک بھلے مانس آدمی ہیں‘ ان کی بلا جانے گریٹ گیم کیا ہوتی ہے۔وہ ایسی پیچیدہ اور بے معنی باتوں پر دماغ سوزی کرنا مناسب نہیں سمجھتے اور جو کام انہیں آتا ہے وہ پوری دلچسپی سے کررہے ہیں، اس لیے ان کو ایسی غیر متعلقہ باتوں میں الجھانا ہرگز مناسب نہیں ہے۔
اچھے اور برے دہشت گرد
محترم آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اچھے اور برے دہشت گردوں کی پالیسی نہیں چلنی چاہیے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ حکومتی کام ہیں اور زرداری صاحب کا حکومتی معاملات سے کوئی دور کا رشتہ بھی نہیں ہے اور اگر وہ فرینڈلی اپوزیشن ہونے کی حیثیت سے کہہ رہے ہیں تو بھی یہ ان کا دردسر نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ اچھے اور برے میں جب ایک ازلی فرق موجود ہے جس کے مطابق برے سے احتراز اور اچھے سے قربت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے تو پھر اس پر اعتراض کرنے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے جبکہ اچھے دہشت گردوں نے حکومت کے ساتھ تعاون کر کے ہمیشہ اپنے اچھے ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے۔ اگرچہ اس کی وجہ سے کچھ مشکلات بھی پیدا ہوتی رہتی ہیں لیکن یہ بہادر حکومت مشکلات سے گھبرانے والی نہیں ہے ورنہ اب تک کوئی سرکاری بکرا ہی قربانی کے لیے پیش کر چکی ہوتی اور اسے امید واثق ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاملہ بھی ختم ہو جائے گا، ٹائم پاس کرنا ویسے بھی ایک نعمت سے کم نہیں ہے۔
بڑی کارروائی
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے خلاف بڑی کارروائی کا فیصلہ کرلیا گیا ہے اور اگر یہ کام اب تک نہیں کیا گیا تھا تو اس لیے کہ حکومت کے خیال میں یہ اپنے آپ ہی سدھر جائیں گی۔ حکومت نے ملکی سلامتی سے متعلقہ بڑے بڑے کام ویسے بھی اللہ میاں پر چھوڑ رکھے ہیں کیونکہ حکومت کے نزدیک سب سے بڑا کارساز وہی ہے اور یہی توکل ہے جس پر حکومت آج تک یقین کے ساتھ کارفرما ہے کیونکہ انسان کو وہی کام کرنا چاہیے جو اس کے کرنے کا ہو اور اللہ میاں کے کاموں میں مداخلت کا حکومت تصور بھی نہیں کرسکتی اور یہ جو آئے روز دھماکے وغیرہ ہو رہے ہیں تو یہ بھی اللہ میاں ہی کے فیصلے ہیں جس سے سرِمُو انحراف نہیں کیا جاسکتا۔ اوراگر یہ دھماکے مزید ہونا ہیں تو اس کام میںانسانوں کا کیا کردار ہوسکتا ہے۔ یعنی ع
جس کا کام اسی کو ساجے اور کرے تو ٹھینگا باجے
آج کا مقطع
میں تو خود رہتا ہوں غیروں کی طرح اس میں ظفر
اپنے گھر میں اُسے ٹھہرا بھی کہاں سکتا ہوں 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved