تحریر : ظفر اقبال تاریخ اشاعت     03-11-2016

سرخیاں، متن اور ٹوٹے

عمران کو سیاسی شکست ہوئی، اب شرمندگی
سے منہ چھپا رہے ہیں: زعیم قادری
مسلم لیگ (ن) کے رہنما زعیم قادری نے کہا ہے کہ ''عمران کو سیاسی شکست ہوئی، اب شرمندگی سے منہ چھپا رہے ہیں‘‘۔ لیکن الحمدللہ ہم شرمندگی سے منہ نہیں چھپاتے بلکہ ڈٹے رہتے ہیں۔ اول تو ہم نے شرمندہ ہونے کا کبھی تکلف ہی روا نہیں رکھا‘ کیونکہ یہ بزدلی کی نشانی ہے، اگرچہ ہم سپریم کورٹ میں باقاعدہ پھنس گئے ہیںاور اپنے انجام کو پہنچنے ہی والے ہیں لیکن اس کے بعد بھی ہم شرمندہ نہیں ہوں گے، نہ ہی منہ چھپائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ''عمران صبح ،دوپہر اور شام جھوٹ بولتے ہیں‘‘ جبکہ ہمارے ہاں جھوٹ بولنے کی کوئی پابندی نہیں ہے اور اس کار خیر میں ہروقت مصروف رہتے ہیں اور اس تیز رفتار ترقی کے گن گاتے رہتے ہیں جو ابھی شروع نہیں ہوئی لیکن کسی وقت بھی ہوسکتی ہے یعنی اگر اس بار نہ ہوئی تو اگلی بارشروع ہو سکتی ہے بشرطیکہ ہم اس بار بچ گئے جو کہ کافی مشکل نظر آ رہا ہے۔ بہرحال ہم نے اپنا سامان باندھ رکھا ہے۔ آپ اگلے دن اسلام آباد میں موجودہ صورت حال پر اپنا ردعمل ظاہر کررہے تھے۔
مدت ملازمت کا فیصلہ ایک
نازک مسئلہ ہے:خواجہ آصف
مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ''مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ ایک نازک مسئلہ ہے‘‘ کیونکہ صاحب موصوف اس پر راضی ہی نہیں ہو رہے اور ان کی سوئی متنازعہ خبر پر ہی اڑی ہوئی ہے جبکہ ہماری طرف سے ابھی پرویز رشید صاحب کو فارغ کرنے کا نوٹیفکیشن ہی جاری نہیں کیا جاسکا کیونکہ عمران خان نے جس حد تک پریشان کر رکھا تھا اس میں ایسے کاموں کی فرصت کہاں میسر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ '' سپریم کورٹ چند روز سے معاملات کو قریب سے دیکھ رہی ہے‘‘ اور یہی امر باعث تشویش بھی ہے حالانکہ ان معاملات کو بڑی آسانی کے ساتھ دور سے بھی دیکھا جاسکتا تھا جیسا کہ ایک گانا بھی ہے کہ کیجیے نظارہ دور دور سے جبکہ چیزوں کو نزدیک سے دیکھنے سے بینائی بھی متاثر ہوسکتی ہے بلکہ چیزوں کو نہ دیکھنا زیادہ مفید ہوتا ہے؛ چنانچہ بہتر ہے کہ یہ معززادارہ ادھرادھر دیکھنے کی بجائے اپنے کام سے کام رکھے اور اپنا قیمتی وقت بچا کر رکھے۔ آپ اگلے روز ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔
ہیٹ ٹرک؟
ہمارے بعض دوستوں نے عمران خان کے دھرنے اور اسلام آباد کو بند کرنے کے فیصلے سے واپسی پر اسے یوٹرن کی ہیٹ ٹرک قراردیتے ہوئے نہ صرف اسے سیاسی شکست قرار دیا ہے بلکہ وہائٹ واش سے بھی تعبیر کیا ہے۔ ان سے صرف اتنی گزارش ہے کہ اگر پاکستان بھر سے اسلام آباد آنے والے راستوں پرکنٹینر لگا دیئے جائیں، موٹروے کو جگہ جگہ سے کھود دیا جائے، سڑک پر مٹی کے ڈھیر لگا دیئے جائیں، بسیں قبضہ میں لے کر ڈرائیوروں کو ہراساں کیا جائے اور ریلوے سٹیشن بھی بند کردیئے جائیں تو میں ان شرفاء سے پوچھتا ہوں کہ اگر عمران کی جگہ آپ ہوتے تو کیا کرتے۔ کیا کارکن اُڑ کر پہنچ جاتے جن پر لاٹھیاں برسائی جا رہی ہوں‘ عورتوں کوبالوں سے پکڑ کر گھسیٹا جا رہا ہو اور گرفتاریوں کے علاوہ گھروں پر چھاپے مارے جارہے ہوں، خود عمران خان ہائوس اریسٹ میں ہوں اور لال حویلی کو سیل کردیا گیا ہو تو اکیلا عمران خان کیا کرتا۔ اے کمال افسوس ہے تجھ پر کمال افسوس ہے۔
صرف چھوٹی مچھلیاں
نیب اتنی تنقید اور لے دے کے باوجوداپنی پرانی روایت پر ہی عمل پیرا ہے جس کا ثبوت ایک اخباری رپورٹ سے ملتا ہے جس کے مطابق ہزاروں بڑے بڑے مگرمچھوں کی بجائے جن کی فہرستیں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کہ پلی گارگینک کرنے والے افراد سے کل رقم وصول کی جائے اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے، نیب نے صرف چند پٹواریوں اور چھوٹے ملازمین کے خلاف ہی کارروائی کا آغاز کیا ہے اور یہ نیب کی کارکردگی کا ایک اور کھلا ثبوت ہے جوسامنے آیا ہے جس نے سپریم کورٹ میں بیان دیا ہے کہ اسے پاناما لیکس کے ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ نیب انہی لوگوں کے خلاف کارروائی کرے گی جن کے بارے میں ہماری انصاف پسند حکومت اجازت دے گی۔
کیا چھپائیں گے؟
اگرچہ بعض معزز اینکروں اور تجزیہ کاروں کے نزدیک عمران خان کے اعلان کو شکست فاش سے تعبیر کیا جا رہا ہے لیکن حکومت جس کے خلاف یہ سارا کچھ ہو رہا تھا اور حکومت اس کے جواب میں جو کچھ کر رہی تھی، وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ یہ کسی کی شکست یا فتح نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی فتح ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپناحق نمک بھی ادا کیا ہے۔ مثلاً انہوں نے سوال کیا ہے کہ آخر وزیراعظم کیا چھپانا چاہتے ہیں؟ اگر یہ پیسہ ہے تو یہ تو آنی جانی چیز ہے، کبھی کسی کے پاس اور کبھی کسی کے پاس اور یہ کہ کیا یہ پیسہ میاں صاحب اپنی وفات کے بعد ساتھ لے کر جائیں گے؟ کیا آپ کے سامنے سکندر یونانی کی مثال نہیں ہے؟ 
نہیں جائے گی!
ہمارے محترم سید خورشید احمد شاہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی پاناما لیکس پر عدالت نہیں جائے گی۔ ہمارے خیال میں اس کا اعلان کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی کیونکہ یہ گلی میں جاتے ہر آدمی کومعلوم ہے کہ پیپلزپارٹی حکومت کے خلاف بیانات کے ذریعے پھوکے فائر ہی کرتی رہے گی اور کرپشن کے خلاف عمران خان کی جدوجہد میں شریک نہیں ہوگی کیونکہ اس کے ہاتھ پائوں پہلے ہی بندھے ہوئے ہیں اور وہ بوجوہ اس سے آگے نہیں جاسکتی کہ ان معززین کے خلاف وزیرداخلہ کے خلاف محفوظ فائلیں کسی بھی ایسی حرکت پر کھل سکتی ہیں۔ نیز اگر یہ تحریک دوسری طرح سے کامیاب ہو جاتی تو اس کا سارا فائدہ عمران خان کو پہنچنا تھا حالانکہ اس کا فائدہ اب بھی اس پارٹی کو نہیں پہنچے گا اور پنجاب میں اس کے ساتھ وہی کچھ ہوگا جو پچھلی دفعہ ہوا تھا کیونکہ اس کے بچے کھچے ووٹر بھی یہ بات اچھی طرح سے جان چکے ہیں کہ ن لیگ کے ساتھ ان کا مک مکا ہے اورفی الحال پیپلزپارٹی اس کو کافی سمجھے گی کہ ن لیگ کی مہربانی سے ڈاکٹر عاصم اور ایان علی کی گلوخلاصی ہو جائے۔
آج کا مطلع
آئینے پہ اتنا جو غبار آیا ہوا ہے
کیسا یہ طبیعت میں نکھار آیا ہوا ہے

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved