تحریر : مفتی منیب الرحمٰن تاریخ اشاعت     12-11-2016

شُگون

لُغت میں اِس کے معنیٰ ہیں : اچھی یا بری فال نکالنا ۔ ہندو معاشرت کے اثرات کے تحت ہمارے ہاں نیک وبَد شُگون کی بہت سی روایات چلی آرہی ہیں ۔صَفرالمُظفر قمری سال کا دوسرا مہینہ ہے ،ظہورِ اسلام سے پہلے اہلِ عرب میں بھی اِس مہینے کے بارے میں بہت سی روایات موجود تھیں ،بعض لوگ اِس کی طرف بیماری یامالی نقصان یا مصیبتوں کے نزول کی بدشُگونی منسوب کرتے تھے ۔رسول اللہ ﷺ نے اِن تمام باتوں کی نفی فرمائی۔ اس حوالے سے کُتبِ احادیث میں متعدد روایات ہیں ،ہم اُن تمام روایات کو یکجا کرکے درج کررہے ہیں۔آپ ﷺ نے فرمایا : '' بدشُگونی کی کوئی حقیقت نہیں ،کوئی مرض اپنی ذات سے مُتعدی نہیں ہوتا،اُلّو کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں ،ماہِ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت نہیں ،ستاروں (کی چالوں )کا انسانوں کی تقدیر میں کوئی دخل نہیںاور بھوت پریت کی تاثیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘‘۔
قرآن مجید میں بد شگونی کے معنیٰ میں ' 'نَحس‘‘ اور ''طِیَرَہ‘‘ کے کلمات آئے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: (1)ترجمہ:'' بے شک ہم نے اُن پر تُند وتیز مسلسل چلنے والی آندھی منحوس دن میں بھیجی ،جو اُن کو اٹھاکر اِس طرح مارتی تھی جیسے وہ جڑسے کٹے ہوئے کھجور کے تنے ہیں،(القمر :19-20)‘‘۔(2):'' سوہم نے (اُن کے )منحوس دنوں میں اُن پر خو ف ناک آواز والی آندھی بھیجی تاکہ ہم اُنہیں دنیاکی زندگی میں ذلّت کے عذاب کا مزا چکھائیں اور آخرت کا عذاب سب سے زیادہ رُسواکُن ہے ،(حم ٓ السجدہ:16)‘‘ ۔ (3):'' اور رہے عاد ،تو اُن کو گرجتی ہوئی تیز آندھی سے ہلاک کردیاگیا ،(اللہ نے) اِس آندھی کو اُن پرمسلسل سات راتیں اور آٹھ دن تک مُسَلّط رکھا،پس تم دیکھتے کہ یہ لوگ زمین پر کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح گر گئے ،(الحاقّہ:6-7)‘‘۔(4):''پس جب اُن پر خوشحالی آتی تو وہ کہتے یہ ہماری وجہ سے ہے ۔او راگر اُن پر کوئی بدحالی آتی ،تووہ موسیٰ اور اُن کے ساتھیوں کی نحوست قرار دیتے ، سنو!اِن کافروں کی نحوست اللہ کے نزدیک ثابت ہے ،لیکن اِن میں سے اکثر نہیں جانتے ،(اعراف:131)‘‘۔(5): ''کافروں نے (مُرسَلین سے)کہا: ہم تم سے براشگون لیتے ہیں اوراگر تم باز نہ آئے توہم تم کو سنگسار کردیں گے اور ہماری طرف سے تم کو ضرور دردناک عذاب پہنچے گا ،اُنہوںنے کہا :تمہاری بدشگونی تمہارے ساتھ ہے،کیا تم نصیحت کو براسمجھتے ہو بلکہ تم حد سے گزرنے والے ہو،(یس:18-19)‘‘۔
ابتدائی تین آیات میں ''نَحس‘ کا کلمہ آیاہے ۔ اِن آیات میں قومِ عاد پر عذاب کے دنوں کو منحوس قراردیاگیا اورحضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ قومِ عادپر عذاب بدھ کے دِن آیاتھا اوروہ اِس دن کومنحوس کہتے تھے۔اس کی تفسیر میںعلامہ محمود آلوسی لکھتے ہیں : '' میں کہتاہوں کہ تمام ایام برابر ہیں اور بدھ کا دن نحوست کے لئے خاص نہیں ہے (یعنی اُن پر عذاب اُن کی سرکشی اوربغاوت کی وجہ سے آیانہ کہ بدھ کے دن کی وجہ سے۔ )اورہر گزرنے والی ساعت کسی شخص کے لئے اچھی اور مبارک ہوتی ہے اوروہی ساعت دوسرے شخص کے لئے بری اور منحوس ہوتی ہے اور ہر دن کسی شخص کے لئے خیر اور دوسرے شخص کے لئے شَر ہوتاہے(یعنی ایک ہی دِن کہیں جنازہ اٹھتاہے اورکہیں شادیانے بج رہے ہوتے ہیں) یعنی نحوست یا ناسازگار ہونے کاتعلق زمانے سے نہیں ہوتا ،بلکہ افراد کے اعتبار سے ہوتاہے ۔اور اگر کسی شخص پر عذاب یا کوئی مصیبت نازل ہونے کی وجہ سے بدھ کا دن منحوس ہے تو ہردن بلکہ ہرساعت میں کسی نہ کسی شخص پر کوئی نہ کوئی مصیبت اوربلا نازل ہوتی ہے ،تواِس طرح توتمام ساعتیں منحوس قرار پائیں گی، (روح المعانی ، جلد 27، ص:86)‘‘۔
آخری دو آیات میں کُفار نے بالترتیب دعوتِ حق دینے والوں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں کی طرف نحوست کی نسبت کی ، تو اُنہیں جواب دیاگیاکہ تمہاری نحوست ، تمہاری بداعمالیوں کے سبب اللہ تعالیٰ کے یہاں مُقدر ہے ۔
حدیث پاک میں فرمایا : ''لَاطِیَرَۃَ‘‘ یعنی کسی خاص مقام ،دِن یا وقت کے حوالے سے شریعت میں نحوست یا بدشگونی کا کوئی تصور نہیں ہے ،بلکہ ایک روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا:''جوشخص کسی چیز سے بدشُگونی لے کر اپنے مقصد سے لوٹ آیا ،اُس نے شرک کیا ‘‘۔یہ اُس صورت میں ہے کہ اُس کا یہ عقیدہ ہوکہ اِس چیز یا واقعے کے ظاہر ہونے سے یقیناً ناکامی ہوگی اور اِس کی بناپر اُس نے اپنا پروگرام ملتوی کردیا ،تو گویا اُس نے اعتقادی طورپر شرک کا ارتکاب کیاکہ غیر اللہ کو مؤثر بالذات مانا ،جیسے ہمارے ہاں بلی کے راستہ کاٹنے کو بھی نحس سمجھاجاتاہے۔
اِس کے برعکس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:'' اسلام میں بدشگونی تونہیں ہے ،(البتہ )نیک فال لینا بہترہے۔ صحابہ نے پوچھا :'' نیک فال کیاہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا:ہروہ اچھی بات جو تم میں سے کوئی سنے ،(صحیح بخاری:5754)‘‘۔
چنانچہ جب صلح حدیبیہ کے موقع پر سہیل بن عمروقریشِ مکہ کے نمائندے کے طورپر مذاکرات کے لئے آیا تو آپ ﷺ نے اُس کے نام سے نیک فال لیتے ہوئے فرمایا:'' تمہاراکام آسان ہوگیا ہے ‘‘۔سہیل کا مادّہ ''سہل ‘‘ ہے ،جس کے معنی ہیں آسانی ۔ اِسی طرح رسول اللہ ﷺ کے سفرِ ہجرت کے موقع پر کفارِ مکہ نے آپ کو گرفتارکرنے والے کے لئے سو اونٹ کا انعام مقرر کیا ، بُرَیدہ انعام کی لالچ میں قریش کے 70شہسواروں کے ساتھ روانہ ہوااور راستے میںآپ تک جا پہنچا۔آپ ﷺ نے پوچھا:تم کون ہو؟اُس نے کہا: بُرَیدہ،آپ نے اپنے رفیق سفر حضرت ابوبکر کی طرف مُتوجہ ہوکر فرمایا: ہمارے معاملے میں ٹھنڈک مقدر ہوگئی ،پھر آپ نے اُس سے پوچھا : تمہارا خاندان کیاہے ؟اُس نے کہا:''اسلم‘‘ ،اِس پرآپ ﷺ نے فرمایا:ہمیں سلامتی مل گئی ‘‘(کیونکہ اسلم کا مادّہ'' سَلْم ‘‘بمعنیٰ سلامتی ہے)پھرآپ نے پوچھا : تمہارا قبیلہ کیا ہے؟اُس نے جواب دیا : بنوسہم ،آپ نے فرمایا: تمہارا تیر نکل گیا (سہم کے معنیٰ ہیں :تیر)،چنانچہ بُرَیدہ اور اُن کے سب ساتھی اسلام لے آئے ، (سُبُل الھدی والرشاد، جلد9،ص:356)‘‘۔
رسول اللہ ﷺ اچھے ناموں کو پسندفرماتے تھے اور بعض مواقع پر ناموں کو تبدیل فرمایا ۔آپ نے ''بَرّہ‘‘ نام کو تبدیل کرکے زینب اور جویریہ رکھا ، اَصرم کو بدل کر زُرعہ رکھا ۔اِسی طرح آپ ﷺ نے ''عاص،عزیز ،عَتَلہ ،غُراب ،حُباب اور شِہاب‘‘ ناموں کو بھی بدلا ۔سعید بن مُسیّب نے بتایاکہ اُن کے دادا کا نام ''حَزن‘‘ تھا۔وہ حضور کے پاس آئے۔،آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا نام سَہل ہے ،اُنہوں نے کہا : میں اپنے باپ کے رکھے ہوئے نام کو نہیں بدلوں گا، چنانچہ اِسی کا اثرہے ہمارے خاندان کے مزاج میں سختی چلی آرہی ہے ۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان کہ ''صفر کی کوئی حقیقت نہیں ہے ‘‘،اِس کے معنی یہ ہیں کہ ماہِ صفر کو جو لوگ منحوس تصور کرتے ہیں اور اِس ماہ کی تیرہ تاریخ کو بعض لوگ تیرہ تیزی کہتے ہیں اور اِس مہینے میں شادی نہیں کرتے ،شریعت کی رُوسے یہ سب باتیں بالکل بے اصل اور باطل ہیں ۔ امام احمد رضا قادری سے سوال ہوا کہ صفر کے آخری بدھ کے متعلق لوگوں میں مشہور ہے کہ اُس دن رسول اللہ ﷺ نے صحت پائی تھی ،لہٰذا وہ اِس خوشی میں شیرینی تقسیم کرتے ہیں ،بعض لوگ اِس دن کو نَحس جان کر برتن توڑتے ہیں ۔ اُنہوں نے جواب دیا :آخری بدھ کی شریعت میں کوئی اصل نہیں اور اس دن برتن توڑنا مال ضائع کرنا ہے اور گناہ کا سبب ہے۔اُس دن آپ کی صحت یابی کا بھی کوئی ثبوت نہیں ،بلکہ جس مرض میں آپ کا وصال ہوا،اُس کاآغاز صفر 11ھ کے آخری بدھ کے دن ہواتھا اور ایک روایت کے مطابق حضرت ایوب علیہ السلام کی ا بتلا بھی بدھ ہی کے دن شروع ہوئی تھی‘‘۔
رسول اللہ ﷺ کایہ فرمان کہ'' ستارے کی کوئی اصل نہیں ‘‘، اِس کے معنی یہ ہیں کہ بعض نجومیوں کے یہ نظریات کہ ستاروں کی چالیں انسانوں کی تقدیر پر اَثر انداز ہوتی ہیں یا یہ کہ فلاں کا ستارہ یہ ہے اور برج یہ ہے اور اُس کا دن یاسال اِس طرح گزرے گا ،یہ سب باتیں شریعت کی نظر میں باطل ہیں، علامہ اقبال نے کہاہے ؎ 
ستارہ کیا مِری تقدیر کی خبردے گا؟
وہ خود فراخیٔ ِ افلاک میں ہے، خوار و زبوں 
یعنی جوستارہ اپنی مرضی سے حرکت نہیں کرسکتا،وہ خود قادرِ مُطلق کے حکم کا پابندہے اور کسی کی کیامجال ،کہ اُس کے حکم سے سرتابی کرے یا بال برابر اِنحراف کرے ،اِسی لئے اُنہوں نے کہاتھا : ؎
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے؟
خودی تیری مسلماں کیوں نہیں ہے؟
عَبَث ہے شکوۂ تقدیرِِ یزداں
تو خود تقدیرِ یزداں کیوں نہیں ہے؟

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved