تحریر : ایم ابراہیم خان تاریخ اشاعت     19-11-2016

شکر کی بوری

سنتے آئے تھے کہ بِلّی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کرتا ہے۔ دیکھ بھی لیا۔ ہمارے بھاگ یعنی نصیب کا چھینکا امریکا میں ٹوٹا ہے۔ اور ایک ہمارے نصیب پر کیا منحصر ہے، ہم جیسے نہ جانے کتنے ہی ''قلم برداروں‘‘ کا نصیب جاگ اٹھا ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ قلم کی گاڑی کو چلتی پھرتی رکھنے کے لیے ایک نئی قسم کے، خاصے طاقتور ایندھن کا قدرت نے اہتمام کردیا ہے۔ 
امریکیوں کی اکثریت نے جمہوریت پسند اور ''باشعور‘‘ ہونے کا ایسا بھرپور ثبوت دیا ہے کہ دنیا حیران ہے۔ دنیا کو حیرانی کیوں نہ ہو؟ ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں امریکی ایوان صدر کو ایک ایسی ''مہان‘‘ ہستی ملی ہے جس کا ہر انداز نرالا ہے، ہر رنگ باقی تمام رنگوں کو پھیکا کردینے والا ہے۔ اور تو اور، بہت سے امریکی بھی اب تک سمجھ نہیں پارہے کہ یہ ہوا کیا ہے۔ اُن کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ ٹرمپ کے انتخاب کو اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنا کہیں یا اپنی ہی آنکھوں میں دُھول جھونکنا! حد یہ ہے کہ احتجاج کی لہر سے گھبراکر صدر براک اوباما کو بھی مداخلت کرتے ہوئے کہنا پڑا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اب امریکا کے منتخب صدر ہیں اور اِس حقیقت کو بہ سر و چشم تسلیم کیا جائے۔ شاید وہ کہنا چاہتے تھے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو اُسی طور صدر تسلیم کرلیا جائے جس طور باقی دنیا امریکا کو کڑوی گولی کی طرح نگلتی آئی ہے! 
آپ نے بھی یہ محاورہ تو سُنا ہی ہوگا کہ شکر خورے کو اللہ کسی نہ کسی شکل میں اور کسی نہ کسی ذریعے سے شکر دے ہی دیتا ہے۔ ہم بھی محروم نہیں رہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ہمیں جو کچھ ملا وہ آرزو اور بساط سے بڑھ کر ہے۔ بس یہ سمجھ لیجیے کہ شکر کی بوری ہاتھ لگ گئی ہے۔ اہلِ جہاں ٹرمپ کی کامیابی پر حیران و پریشان ہیں اور ہم حیرانی و پریشانی کو ایک طرف ہٹاکر خوش ہیں۔ اب تک ہم شاہ سائیں یعنی سید قائم علی شاہ، نواب منظور وسان، ڈاکٹر ذوالفقار مرزا، رانا ثناء اللہ خان، خواجہ سعد رفیق، عابد شیر علی کے خِرمن سے خوشہ چینی سے کرتے آئے ہیں۔ یہ صاحبان جب بھی میڈیا کے سامنے لب کُشا ہوتے ہیں، ہمیں میر انیسؔ کا یہ شعر یاد آتا ہے ؎ 
لگا رہا ہوں مضامینِ نو کے پھر انبار 
خبر کرو مِرے خِرمن کے خوشہ چینوں کو 
اِن صاحبان میں سے ہر ایک کی باتوں میں کئی کالم مہک رہے ہوتے ہیں! اِن میں سے ہر ایک کے خِرمن کی خوشہ چینی نے ہمیں کئی بار یوں بار آور کیا ہے کہ لوگ حیران رہ گئے ہیں۔ پرویز مشرف کے دور میں یہی کردار چوہدری شجاعت حسین نے بخوبی ادا کیا تھا۔ 
اب ڈونلڈ ٹرمپ میدان میں آئے ہیں تو ہم یوں خوش ہیں کہ ''دیسی ذرائع‘‘ کے ساتھ ساتھ عالمی سطح کے ایک ذریعے سے بھی کالم کشید کرنے کا موقع ملے گا، بلکہ ملتا ہی رہے گا۔ 
بیرونی ذرائع سے امداد کی راہ ہموار ہونے پر اندرونی ذرائع کو بھلا دینا یا ان کا شکر گزار نہ رہنا بے مُروّتی کے سوا کچھ نہیں۔ ہم یہ گوارا نہیں کرسکتے کہ ہمارا شمار بندگانِ ناسپاس میں ہو۔ ایک مدت سے ہم شاہ سائیں اور نواب منظور وسان کی دل لبھانے والی، سہانی چاندنی جیسی باتوں سے کالم کشید کرتے آئے ہیں۔ منظور وسان صاحب نے جب بھی کوئی خواب بیان کیا ہے، ہمارے کالم شرمندۂ تعبیر دکھائی دیئے ہیں۔ کبھی کبھی تو اُن کے خوابوں نے ہمارے کالموں کو ایسا خواب ناک بنایا ہے کہ قارئین (اپنے) سَر دُھنتے پائے گئے ہیں۔ اِن دونوں بزرگوں کے ہم جتنے بھی متشکّر ہوں کم ہے۔ جب بھی ہمیں کچھ نہیں سُجھ رہا ہوتا (اور ایسا تو اکثر ہوتا ہے!) تب ہم میڈیا سے اِن اصحاب کی گفتگو بغور سُنتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اُس نے ہمیں محروم نہ رکھا! 
لکھنے والوں کی معاونت کے معاملے میں رانا ثناء اللہ بھی کسی سے کم نہیں۔ اُنہوں نے ن لیگ میں بڑھک لیگ متعارف کرائی ہے۔ جب یہ اصحاب مخالفین پر تابڑ توڑ حملے کرتے ہیں تو بہت دیر تک سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ کس کس نکتے پر غور کیا جائے۔ خبر نویس تو خیر کسی نہ کسی طور اپنا کام کر گزرتے ہیں مگر ہم جیسے لکھنے والوں کی شامت آجاتی ہے۔ ہم کون سے ایسے لکھنے والے ہیں کہ ایک بات سُنیں اور کالم گھسیٹ دیں۔ بڑھک لیگ کے ارکان جب نکتہ سنج ہوتے ہیں تو بہت دیر تک سمجھ میں نہیں آتا کہ کس نکتے پر توجہ مرکوز رکھیں اور کس نکتے کو درخورِ اعتناء نہ گردانتے ہوئے ذہن کے ''ٹریش کین‘‘ میں ڈالیں! ؎ 
کس کس کی نظر دیکھوں، کس کس کی ادا دیکھوں؟ 
ہر سمت قیامت ہے، اب اور میں کیا دیکھوں؟ 
مولانا فضل الرحمن بھی تواتر سے ایسے جملے اور نکات عنایت کرتے آئے ہیں جن کی بنیاد پر کالم کی عمارت کھڑی کرنا قدرے آسان ثابت ہوا ہے۔ کالم کی عمارت کے لیے بنیاد کا کردار ادا کرنے والے نکات عنایت کرنے میں تو خیر شیخ رشید، پرویز رشید اور خواجہ آصف کا بھی جواب نہیں۔ 
شیخ رشید صاحب کا یہ احسان کیا کم ہے کہ وہ اپنی دل فریب باتوں سے لکھنے والوں کو قیاس کے گھوڑے دوڑانے کا موقع عطا کرتے رہے ہیں۔ شیخ صاحب کا اضافی احسان یہ ہے کہ ان کی صحبت سے کچھ رنگ پکڑ کر دو ڈھائی سال کے دوران کپتان نے بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ شائستہ اور سلجھی ہوئی گفتگو کی منزل سے گزرنے کے بعد خیر سے اب وہ بھی بڑھک کے میدان میں ہیں اور ہر دم شہسواری کے موڈ میں دکھائی دیتے ہیں۔ اُنہوں نے شاید قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ن لیگ کی حکومت ہے، وہ بات بات پر ہنساکر دم لیں گے۔ احتساب کے نام پر احتجاج اور احتجاج کے بھیس میں شاندار نان اسٹاپ کامیڈی اب ان کی شناخت ہوکر رہ گئی ہے۔ 
یہ سب تو ٹھیک ہے مگر دیگر اہلِ وطن کی طرح ہم بھی ولایتی مال کے عاشق ہیں۔ گھر کی مرغی دال برابر کے مصداق اپنے وطن کے ریشم کی بھی ہم قدر نہیں کرتے اور کہیں باہر سے تھرڈ کلاس کھدّر بھی آجائے تو لپک کر گلے لگاتے ہیں۔ ہمیں بھی باہر کا ہر مال اچھا لگتا ہے مگر گوروں کی بات ہی کچھ اور ہے۔ وہ کون سا لذیذ پکوان ہے جو ہماری دھرتی پر نہیں پکتا مگر پھر بھی ہم خاصا بے مزا سا اور مزاج سے مطابقت نہ رکھنے والا پیزا محض اِس لیے کھاتے ہیں کہ گوروں کی زمین سے آیا ہے! یہی حال دوسری بہت سی اشیاء و خدمات کا بھی ہے۔ آپ ہی سوچیے کہ جب گوروں کی بنائی ہوئی اشیاء ہماری نظر میں اِتنی محترم ہیں تو خود گوروں کی کس قدر وقعت ہوگی! 
تارکین وطن کے خلاف محاذ کھول کر ٹرمپ نے عندیہ تو دے ہی دیا ہے کہ وہ اپنے چار سالہ دورِ صدارت میں اور کچھ کریں نہ کریں، محاذ ضرور کھولتے رہیں گے۔ اور یہ بات ہمارے لیے حد سے بڑھ کر اُمید افزاء ہے۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ ٹرمپ کا وائٹ ہاؤس تھیٹر ثابت ہوگا اور اُس میں طرح طرح کے ڈرامے پیش کیے جاتے ہی رہیں گے! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved