تحریر : خورشید ندیم تاریخ اشاعت     21-11-2016

’سٹیٹس کو‘

ہم میں سے اکثر 'سٹیٹس کو‘ کے خلاف ہیں۔ تبدیلی کی ایک بے پناہ خواہش ہے۔کیا ہم جانتے ہیں کہ 'سٹیٹس کو‘کیا ہے؟
'سٹیٹس کو‘ سے مراد حالات کا جمود ہے۔ وہ اجتماعی قوتیں ہیں جو ہر تبدیلی کے راستے میں مزاحم ہو جاتی ہیں۔ سٹیٹس کو اصلاً ایک سماجی عمل ہے۔ سیاست ایک شعبہ ہے جس میں اس کا ظہور ہوتا ہے۔ سٹیٹس کو نے سیاست سے جنم نہیں لیا۔ اس کا تعلق سماجی رویے سے ہے۔ جب تک یہ رویہ بر قرار ہے، سٹیٹس کو بر قرار ہے۔ سوال یہ ہے کہ سٹیٹس کو کی نمائندہ قوتیں کون سی ہیں جن سے نجات کے بغیر تبدیلی نہیں آ سکتی؟ 
مفکرین نے ان کی نشان دہی کی ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک یہ تین قوتیں ہیں جو برصغیر کے مسلم سماج کی ترقی اور ارتقا میں حائل ہیں: سلطانی، ملائیت اور پیری۔ اقبال کی اس تشخیص سے مجھے پورا اتفاق ہے۔ 'سلطانی‘ سے مراد وہ موروثی سیاسی قوتیں ہیں جو عوام کی گردنوں پر سوار ہیں۔ ماضی میں یہ بادشاہ تھے۔ یہ لوگ محض اس بنیاد پر کہ ان کا باپ بھی حکمران تھا، عوام پر مسلط ہو جاتے تھے۔ سیاسی قوت ان کے ہاتھ میں تھی۔ دورِ جدید میں جاگیر دار اورسرمایہ دارنے ملوکیت کی جگہ لے لی۔ جاگیر دار تو صدیوں سے سیاسی قوت پر قابض ہے۔ سرمایہ دار نسبتاً نیاگروہ ہے جس کے ہاتھ میں سیاسی قوت مرتکز ہو گئی ہے۔ جاگیر دار اور سرمایہ دار آج سیاسی جماعتوں پر قابض ہیں اور وہی ہیں جو چہرے بدل کر حکمران بن جا تے ہیں۔
ملائیت سے مراد وہ روایتی مذہبی طبقہ ہے جو دین کی حقیقت اور روحِ عصر سے ناواقف، ان مذہبی بحثوں میں الجھا ہوا ہے جن سے کوئی روحانی بالیدگی ممکن ہے نہ سماجی ارتقا۔ یہ تصوف اور کلام کے ان مو ضوعات پر رات سے دن اور دن سے رات کرتا ہے، جن کی کوئی عصری یا عملی افادیت نہیں۔ جیسے حضرت مسیحؑ زندہ ہیں یا وفات پا چکے؟ امام مہدی کون ہیں؟ اقبال ان موضوعات کوالہیات کے لات و منات قرار دیتے ہیں۔''ابلیس کی مجلس شوریٰ‘‘ میں وہ ایسے چند مسائل کی نشا ندہی کرتے ہیں:
ابنِ مریم مرگیا یا زندۂ جاوید ہے؟
ہیں صفاتِ ذاتِ حق، حق سے جدا یا عینِ ذات؟
آنے والے سے مسیحِ ناصری مقصود ہے؟
یا مجدد، جس میں ہوں فرزندِ مریم کے اوصاف؟
یہی وہ طبقہ ہے جو اجتہاد کے راستے میں حائل ہے۔ مذہب کی تعبیر پر اس نے اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔ اس طبقے سے باہر کا کوئی آدمی اگرالہیات اور دین کے موضوعات پرکلام کرے تو یہ اس کے اس حق کو چیلنج کرتا اور تعبیرِ دین کے جملہ حقوق اپنے نام رکھنا چاہتا ہے۔ اسلاف کے نام پر تقلید کا پرچار کرتا اورقرآن وسنت کے بجائے عام افراد کو قدیم تعبیرِ دین سے وابستہ رکھنا چاہتا ہے۔ ان کو عصری تحقیقات سے دور رکھتا اور انہیں بشارتوں اور پیش گوئیوں میں الجھائے رکھنا چاہتا ہے۔ یہ عوام کو قرآن وسنت سے براہ راست متعلق ہونے میں مزاحم ہوتا ہے۔ اسلاف سے اس کی مراد صحابہ نہیں، وہ لوگ ہیں جن کا تعلق اہلِ اسلام کی تیسری یا چوتھی نسل سے ہے۔ یہ الگ بات کہ خود اسلاف اس رویے کے حامی نہیں تھے۔ ایسا ہوتا تو وہ اپنے 'اسلاف ‘ سے اختلاف نہ کرتے۔
سٹیٹس کو کی نمائندہ تیسری قوت پیر اور خانقاہی نظام ہے۔ وہ صوفیانہ تعبیرات جو امورِ دنیا کو رجال الغیب کے حوالے کر کے، مسلمانوں کو بے عملی کی تعلیم دیتی ہیں۔ وہ پیر جو بزعمِ خویش خود کو خدا کا نمائندہ بنا کر پیش کرتے ہیں اوران کے مرید یہ سمجھتے ہیں کہ حق ان کی زبان سے بولتا ہے۔ ان کی بات کو الہام قرار دیتے اور اسے علم و عقل کی کسوٹی پر پرکھنے کے لیے تیار نہیں۔ ان سے خرافات کا ظہور ہوتا ہے اور وہ اسے کرامت سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ یہ مرید ملائیت کی دنیا میں پائے جاتے ہیں اور پیری کی دنیا میں بھی۔ اقبال نے تبصرہ کیا:
شیر مردوں سے ہوا بیشۂ تحقیق خالی
رہ گئے صوفی وملا کے غلام،اے ساقی 
اقبال نے ان تینوں امراض کا حل بتایا ہے۔ ملوکیت اور چند افراد یا گروہوں کی سلطانی کا علاج، سلطانیٔ جمہور ہے۔ اسی طرح ملائیت و پیری کا علاج تحقیق اور اجتہاد ہے۔ اجتہاد سے مراد محض استنباطِ احکام نہیں، بلکہ ایک نئے اندازِفکر کی ترویج ہے۔ اس کا تعلق فہمِ قرآن و سنت کے اصولوں سے ہے اور اطلاقی معاملات سے بھی۔ اس باب میں اقبال کے انگریزی میں لکھے گئے دومضامین اہم ہیں۔ ایک 'مسلم سیاسی تصور‘ (Muslim Political Thought) اور دوسرا 'اقتدار کا خدائی حق‘ (Divine Right to Rule) ۔ وہ بتاتے ہیں کہ خلافتِ راشدہ کے بعد مسلم حکمرانوں نے مستقل قانون ساز ادارہ نہیں بنایا کیونکہ یہ ان کے ملوکانہ مفاد میں نہیں تھا۔ انہوں نے انفرادی اجتہاد کا حق تو دیا لیکن اجتماعی اجتہاد کے لیے کوئی اسمبلی نہیں بنائی کہ کہیں وہ اتنا طاقت ور نہ ہو جائے کہ ان کے اقتدار کے لیے خطرہ بن جائے۔ اقبال کی دوٹوک رائے یہ تھی کہ اب انفرادی اجتہاد کے بجائے، اجتماعی اجتہاد ہو۔ ایک قانون ساز اسمبلی ہونی چاہیے جہاں ہر فرقے کی رائے سامنے آئے اور پھرایک اجتماعی رائے قائم کی جائے۔ یہی اجماع کی نئی صورت ہے۔ یہ اسمبلی قانون سازی میں ایک عام آ دمی کی بصیرت سے بھی فائدہ اٹھائے جو ان معاملات کا ادراک رکھتا ہے۔ وہ برصغیر کے مسلم حکمرانوں پر بھی تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے ایسا ادارہ نہیں بننے دیا۔ اقبال نے الیکشن کے اصول کو نئے سیاسی نظم کی بنیاد مانا ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ سٹیٹس کو کی یہ تینوں نمائندہ قوتیں جمع ہوگئی ہیں۔ پیر اور ملا نے سلطانیٔ دوراں کے نمائندوں سے اتحاد کر رکھا ہے۔ اقبال کے الفاظ میں:
یہ ہماری سعی پیہم کی کرامت ہے کہ آج
صوفی و ملا، ملوکیت کے بندے ہیں تمام!
آج ملک کی تینوں اہم ترین سیاسی جماعتوں کی قیادت پر ایک نظر ڈالیے۔ یہی لوگ ان جماعتوں پر قابض ہیں۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے بارے میں تو دوسری رائے نہیں کہ ان کی قیادت ان تین طبقات کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ تیسری جماعت جو اس دعوے کے ساتھ اٹھی ہے کہ وہ سٹیٹس کو کے خلاف ہے، اس کے وائس چیئرمین، پاکستانی سیاست کی واحد شخصیت ہیں جو بیک وقت سٹیٹس کو کی تینوں قوتوں کے تنہا نمائندہ ہیں۔ وہ جاگیر دار بھی ہیں، حکمرن طبقے سے بھی اور ساتھ ہی روحانی اور مذہبی پیشوا بھی ہیں۔
اگر ہم سماج کو سٹیٹس کو سے نکالنا چاہتے ہیں تو اس کی واحد صورت یہی ہے کہ ان تینوں طبقات کی غلامی سے قوم کو آزاد کرایا جا ئے۔ یہ کام سیاسی ہنگامہ آرائی سے نہیں ہو سکتا۔ یہ عوامی شعورکی بیداری سے ہوگا۔ اس کے لیے سماجی تبدیلی ناگزیرہے۔ ہمارے ہاں سات عشروں سے قوم کویہ سکھایا جا رہا ہے کہ سیاسی تبدیلی سے سٹیٹس کو ختم ہو گا۔ ایسا ماضی میں کبھی ہوا ہے نہ آج ہو گا۔ سیاسی لڑائی سٹیٹس کو کے مختلف طبقات میں ہوتی ہے۔ سماجی سطح پر سٹیٹس کو کو ختم کیے بغیر سیاسی تبدیلی محض چہروں کی تبدیلی ہے۔
علاج سلطانیٔ جمہور ہے۔ دوسرے الفاظ میںایک جمہوری معاشرے کا قیام۔ ایسا معاشرہ جو آزادی رائے کو یقینی بنائے اور سیاسی امور میں عوام کی رائے یعنی اجتماعی دانش فیصلہ کن شمار ہو۔ یہ تدریج سے ہوگا۔ پائیدار تبدیلی کا کوئی دوسرا راستہ انسان آج تک دریافت نہیں کر سکا۔ 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved