تحریر : بابر اعوان تاریخ اشاعت     28-11-2016

ایک سو پچاس سال اور تین مقدمے

اگلے روز وفاق کے سب سے بڑے ایوان میں ایک اہم سوال زیرِ بحث آیا اور وہ یہ کہ تختِ لاہور برانڈ وزیراعظم ہاؤس میں فاٹا اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ملازم یا افسرکتنے ہیں؟ حکومت معاملہ گول مول کرنے پر تُل گئی۔
آج کل موجودہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سب سے زیادہ سنایا جانے والا لطیفہ اسمبلی کا اجلاس سنتا ہوں۔ اگلے روز بھی میں سینیٹ ہال کے قریب ترین بیوروکریسی کی گیلری میں جا بیٹھا۔ یہاں مختلف جماعتوں کے سرکردہ پارلیمنٹیرینز آکر علیک سلیک کرنے لگے۔ اسی اثنا میں حکومت کی تعریف والا لطیفہ بھی چل پڑا۔ تھوڑی دیر بعد قومی اسمبلی کے سپیکر صاحب کا بھیجا ہوا اہلکار آیا۔ ہم نے سمجھا شاید سپیکر صاحب ڈسٹرب ہو گئے ہیں، لیکن پاس آکر اہلکار نے پیغام دیا کہ سپیکر صاحب چاہتے ہیں میں یہاں بیٹھنے کے بجائے سپیکر گیلری میں بیٹھ جاؤں، قومی اسمبلی کے سپیکر کی ڈائس کی دائیں جانب واقع اسی لیول پر جہاں سپیکر صاحب کے نشست گاہ ہے۔ اس نشست گاہ سے سپیکر گیلری کی پہلی کرسی محض چند فٹ کے فاصلے پر ہے۔ یہاں بیٹھ کر پارلیمان میں ہونے والی لابنگ اور حکومت واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ آج کل اقتدار لیگ کے ارکان بیزار لیگ بن چکے ہیں۔ اس کی وجہ ایوان میں اپوزیشن کے بڑوں کا گروہ ہے۔ یہ گروہ درحقیقت تابعدار لیگ میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اسی کا 
روزانہ مظاہرہ ہوتا ہے، بلکہ اس تابعداری کی ایک باقاعدہ میراتھن دوڑ لگی ہوئی ہے۔
بلوچستان اور فاٹا کی جانب اقتدار لیگ کے امتیازی سلوک پر احتجاجی آواز اُٹھانے کے لئے مجھے موقع ''چھیننا‘‘ پڑا۔ میری نشست کا مائیک بند رہا اس کے 
باوجود میں نے بھرپور آواز اُٹھائی اور کہا اعلیٰ اداروں میں حکومت آئینی کوٹے کو کیسے نظر انداز کر سکتی ہے۔ اس کے فوراً بعد زلزلہ زدہ علاقوں میں بلڈنگ کوڈ کی رپورٹ ایوان میں پیش ہوئی۔ چیئرمین سینیٹ نے اس رپورٹ کی تعریف کی۔ میں نے بھی بطور رُکن کمیٹی اپنی نوعیت کی اس پہلی رپورٹ میں حصہ ڈالا۔ کمیٹی کی سربراہ سینیٹر جاوید عباسی حکومتی بینچوں پر بیٹھے ہیں۔ اس کے باوجود حکومتی بنچوں سے رپورٹ کو پذیرائی ملی اور نہ ہی داد۔ حکومت کی پھُس پھُسی اور بُری حکمرانی پر اپوزیشن جس طرح داد کے ڈونگرے برساتی ہے اور بغل میں درخواستیں دبائے اپوزیشن کے مسخرے ٹھیکیدار ملکی تاریخ کی سب سے نااہل کابینہ کے وزیروں کی خوشامد کرتے ہیں، اُسے دیکھ کر حزبِ اقتدار کی نشستوں والے اونچی آواز میں کہتے ہیں، یہ پہلی اپوزیشن ہے جس کے بنچوں پر حکومت کی ''اے ٹیم‘‘ بیٹھی ہے۔ حزبِ اقتدار والے بے چارے اپنے آپ کو حکومت کی بی ٹیم کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اسی حوالے سے تابعداری آسمان پر ایک اور ستارہ نمودار ہوا جس کی سفارش پر غریب عوام کے انتہائی غریب لیڈروں نے اپنی تنخواہ میں خود ہی 150فیصد اضافہ کر لیا۔ ملک بھر کے کلرک، کنٹریکٹ ملازمین، معذور اور نابینا افراد، چھوٹے درجے کے اہلکار، چپڑاسی، نائب قاصد، ینگ ڈاکٹرز، اسکول ٹیچرز، غریب مزدور، پرائیوٹ اداروں کے ملازمین (Fixed Income Group) سے تعلق رکھنے والے منہ کھولے دیکھتے رہ گئے۔ طاقت کا سرچشمہ عوام ایک دفعہ پھر شکست کا سر چشمہ بن گیا اور ان کے وزیر اپنی دیہاڑی، ٹی اے ڈی اے، سرکاری پٹرول والی گاڑیاں، سرکاری خرچے پر چلنے والے گھر، ہوائی جہاز کے مفت ٹکٹ، سات سمندر پار کی آنیاں جانیاں ملا کر اس دنیا کو اپنے مفادات کی جنت بنانے کے مشن میں کامیاب ہو گئے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر بے شمار رپورٹرز نے مجھ سے یہی سوال کیا، اُن کا کہنا تھا کہ کیا آپ اس ''حرکتِ شریف‘‘ کو جمہوریت سمجھتے ہیں؟ عرض کیا تنخواہ میں اضافے کی منظوری کس نے دی؟ رپورٹرز بولے نواز شریف نے۔ پھر خود ہنس پڑے اور قہقہ لگاتے ہوئے کہا جی ہاں یہ ''حرکتِ شریف‘‘ ہی ہے۔ ایک رپورٹر بولا، مجھے اپنی ایک ذاتی حرکتِ شریف پر سخت شرمندگی ہے اور ساتھ کہا کہ کاش میں نے دھرنے کے دوران امیروں کی یہ جمہوریت امیروں کے لئے نہ بچائی ہوتی۔ اس پر ایک اور رپورٹر نے کہا کہ آپ کی اس حرکتِ شریف کا خمیازہ ہم سب بھگت رہے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی رپورٹرز نے سپریم کورٹ کے ایک تازہ فیصلے پر تبصرہ مانگا، جس میں چوبیس سال بعد ایک مجرم کو رہائی کا پروانہ ملا۔ 24 سال کا عرصہ ایک چوتھائی صدی ہے۔ شکر ہے ملک کی آخری عدالت نے وہ راز ڈھونڈھ نکالا جس کو ماتحت عدالتیں نہ سمجھ سکیں۔ بہر حال ایک بات طے ہے، اب کوئی جج صاحب ملزم کو اس کی جوانی کے 24 سال واپس نہیں دے سکتے۔ رہی جمہوریت تو اس میں قیدیوں کے لیے اتنا بجٹ کہاں ہوتا ہے جس سے بے گناہ کال کوٹھڑی میں بند رہنے والے کو ہرجانہ ادا کیا جا سکے۔
ان دنوں لا ہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس منصور علی شاہ صاحب متحدہ پنجاب میں تشکیل پانے والے ہائی کورٹ کی 150 سالہ تقریبات میں مصروف ہیں۔ وکیل برادری نے اس جشن کا بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ میں اس بات پر حیران ہوں کہ اتنے زیادہ وکیل لیڈر حضرات اور اتنے سینئر جج حضرات کی موجودگی میں کسی نے پنجاب میں اعلیٰ عدلیہ اور وکیل اداروں کے درمیان جاری بحران حل کرنے کے لیے ابھی 
تک پہلا قدم تک نہیں اُٹھایا۔ درمیانی راستہ نکالنے کے لیے عدلیہ کے سینئر ارکان کو بڑے دل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ بڑے دل سے یاد آیا لاہور ہائی کورٹ کے 150سالہ قابلِ تعریف ریکارڈ میں تین عدد سیاہ دھبے بھی ہیں۔ ان میں سے پہلا تحریکِ آزادی کے نوجوان مگر مہان ہیرو بھگت سنگھ کا عدالتی قتل ہے۔ دوسرا پاکستان کے آئین کے خالق شہید بھٹو کا جوڈیشل مرڈر جبکہ تیسرا ماڈل ٹاؤن قتل عام کے بارے میں جسٹس باقر نجفی صاحب کی چشم کشا اور دلیرانہ رپورٹ ہے جو عام ہونی چاہیے، ورنہ ماڈل ٹاؤن کا داغ، جلیانوالہ باغ کی صورت میں عدل و انصاف کا ہمیشہ منہ چڑاتا رہے گا۔ جسٹس منصور علی شاہ آزاد منش وکیل رہے ہیں۔ ان کے پاس ان مٹ تاریخ رقم کرنے کا بہترین موقع ہے۔ وہ باقر نجفی کمیشن رپورٹ کو عام کر دیں۔ بھگت سنگھ کیس اور شہید بھٹو کیس کے ٹرائل کا جائزہ لیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے 150سالہ جشنِ تاسیس کو آنے والے زمانوں میں یادگار اور ناقابلِ فراموش بنا دینے کے لیے یہی 3 عدد مقدمات ہی کافی ہیں۔ باقی روٹین ہے۔ جو پہلے ہوتا آیا ہے وہی ہوتا جائے گا۔ عدل ہو، تاریخ یا جہاد، نشان حیدر ایک آدھ مورچے کے حصے میں آتا ہے۔ بڑے دل گردے والے ہی بڑے اعزاز پاتے ہیں۔ روٹین کے کاغذوں میں بقول جسٹس عظمت سعید شیخ صاحب وقت گزر جانے کے بعد ''پکوڑے‘‘ پیک ہوتے ہیں، جیسے مک مکا والے ایوان کی کارروائی جہاں اصلی حکومت اپوزیشن کے بنچوں پر دستیاب ہے ع
چہ از راں فروختند...

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved