تحریر : علامہ ابتسام الہٰی ظہیر تاریخ اشاعت     30-11-2016

استقامت

کسی درست نظریے، سوچ یا اصول کو اپنانا بہت بڑی کامیابی ہے، لیکن اس سے بھی بڑی کامیابی اس نظریے، اصول اور سچائی پر پورے عزم کے ساتھ کاربند ہو جانا ہے۔ انسان مٹی کا پتلا ہے اور اس میں مختلف کمزوریاں، خواہشات اور احساسات پائے جاتے ہیں۔ انسان میں طبعی اعتبار سے لالچ اور خوف کا عنصر بھی موجود ہے۔ کئی مرتبہ انسان کسی بات کو حق اور سچ سمجھ لیتا ہے لیکن اس کے باوجود کسی مفاد کی وجہ سے اپنے راستے یا اصولی موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ اسی طرح انسان لمبا عرصہ اس دنیا میں رہنا چاہتا ہے اور کوئی بھی ایسا معاملہ جس سے اس کی جان، مال، اعزہ واقارب کو خطرہ لاحق ہو اس سے بچنا پسند کرتا ہے۔کئی مرتبہ انسان کسی موثر اور صاحب اختیار شخصیت، حاکم یا ادارے کے خوف کی وجہ سے بھی اپنے اصولی موقف سے ہٹ جاتا ہے۔ 
اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس رسولﷺ نے استقامت اختیار کرنے والوں کی مختلف انداز میں تعریف کی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سے ایسے واقعات بھی بیان کیے ہیں جو انسان کو کسی درست راستے کو اختیار کرنے کے بعد اس پر سختی کے ساتھ ڈٹ جانے کی طرف راغب کرتے ہیں۔ استقامت اختیار کرنے کے لیے انسان کا اپنے نظریے کی سچائی پر پختہ یقین ہونا ازحد ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کو یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ اس کی موت وحیات ، نفع ونقصان، رزق ، خوشی، غم، سہولیات اور مشکلات کا مالک درحقیقت اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو بھانپ لیتا ہے کہ اس زمین پر اس کا قیام عارضی ہے اور اس کو کچھ عرصہ زمین پر رہنے کے بعد اپنے مالک حقیقی کی طرف پلٹ جانا ہے اور اس کو اپنے اعمال کے حوالے سے قیامت کے دن اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں جواب دہ ہونا پڑے گا اور اچھے اعمال اور اچھے نظریے پر سختی سے کاربند ہونے کا صلہ جنت کی شکل میں حاصل ہوگا جبکہ بداعمالیوں اور برے نظریات پر کاربند رہنے کا نتیجہ جہنم کی شکل میں حاصل ہوگا تو انسان فکری اعتبار سے دنیا کے لالچ اور خوف سے بے نیاز ہوکر اپنے اصولوں پر سختی کے ساتھ کاربند ہو جاتا ہے۔
قرآن مجید کا مطالعہ اس بات کو بڑے واضح انداز میں سمجھاتا ہے کہ روئے زمین پر انبیاء علیہم السلام سے زیادہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی معرفت رکھنے اور اس کی خشیت اختیار کرنے والے لوگ کوئی اور نہ تھے، اسی وجہ سے انہوںنے اپنی دنیاوی زندگی میں طرح طرح کی مشکلات کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیا۔ اللہ تبارک وتعالیٰ کے جلیل القدر انبیاء میں سے اولوالعزم رسول اس اعتبار سے بلند مقام کے حامل ہیں کہ انہوں نے صبر و استقامت کا ایسا طرز عمل اپنایا جو رہتی دنیا تک لوگوں کے لیے ایک مثال بن گیا۔ 
حضرت نوح علیہ السلام 950 برس تک اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی تبلیغ میں مصروف رہے۔ اس دوران حضرت نوح علیہ السلام کو دیوانہ اور مجنوں کہا گیا،ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی گئیں اور آپ پر پتھر برسائے گئے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے ہر طرح کی تکلیف کوخندہ پیشانی سے برداشت کر لیا لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید سے ہٹنا گوارہ نہ کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی بھی جہد مسلسل کی ایک تصویر ہے۔ آپ نے حاکم وقت کی رعونت کو نہیں مانا، آپ نے اپنی بستی والوں کی مخالفت کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا، آپ نے نمرود کی جلتی ہوئی چتا میں کودنا گوارہ کرلیا اورآپ نے بت کدے میںعلمِ توحید کو بلند کر دیا۔ آپ نے جہاں کوئی دباؤ قبول نہ کیا وہیں پرآپ نے اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کے لیے بہت سی محبتوں کی بھی قربانیاں دیں۔ آپ نے اپنے باپ کی محبت اور پیار کو تج کرنا گوارہ کر لیا۔ نوزائیدہ بچے حضرت اسماعیل علیہ السلام اور اپنی بیوی حضرت ہاجرہ علیھا السلام کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی رضاکے لیے وادیٔ بے آب وگیاہ میں چھوڑ دیا اور اپنے کم سن لاڈلے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر اللہ تبارک وتعالیٰ کے حکم پر چھری چلانا گوارہ کر لیا۔ استقامت کے ان عظیم الشان روایات کو قائم کرنے کی وجہ سے اللہ تبارک وتعالیٰ نے رہتی دنیا تک کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو انسانیت کا قائد اور لیڈر(امام) بنا دیا۔ 
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی بھی استقامت اور جہدوجہد کی ایک لازوال داستان ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک عظیم مشن کی تکمیل کے لیے پیدا کیا۔ آپ کی بعثت کا مقصد دنیا سے شرک اور بداعتقادی کا خاتمہ کرکے اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید خالص کی دعوت دینا اور مظلوم اور بے کس انسانیت کو ظالم کے پنجے سے نجات دلوا کر انصاف اور امن کو قائم کرنا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ وقت کے انتہائی موثر اور با اختیار لوگوں سے ہوا۔ حاکم وقت فرعون آپ کا مخالف اور دشمن تھا۔ وقت کا بہت بڑا عہدے دار ہامان بھی آپ کا بہت بڑا دشمن تھا۔ آپ نے فرعون کی رعونت کو نہیں مانا، ہامان کے منصب کو نہیں دیکھا، اسی طرح شداد کی جاگیر اور قارون کا سرمایہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قدموں میںکسی بھی قسم کی لڑکھڑاہٹ پیدا نہ کر سکا۔ موسیٰ علیہ السلام پیہم جدوجہد میں مصروف رہے اور آپ نے فرعون کے جھوٹے دعوائے ربوبیت کو بے نقاب کیا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بنی اسرائیل کے لوگ آپ کے خون کے پیاسے ہو گئے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کی دعوت کو نہایت احسن انداز میں آگے بڑھاتے رہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر لٹکانے کی کوشش بھی کی گئی لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے اعدائے دین کی شقاوتوں سے ان کو محفوظ و مامون فرما کر زندہ آسمانوں کی طرف اُٹھا لیا۔ قرب قیامت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کی جامع مسجد کے کنارے پر ہوگا۔ آپ ازسر نو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید اور اس کی حاکمیت کے قیام کے لیے کوشاں ہوں گے اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے دشمن اور انسانیت کا قتل عام کرنے والے بہت بڑے فتنے دجال کا خاتمہ کردیں گے۔ 
حضرت رسول اللہﷺ کی زندگی بھی استقامت کی منہ بولتی تصویر ہے۔ حضرت رسول اللہﷺ نے اپنی زندگی میں بہت سی ابتلاؤں اور اذیتوں کو سہا لیکن آپ اپنے اصولی موقف سے نہ ہٹے۔ آپ کو شعب ابی طالب کی گھاٹی میں محصور کیا گیا، آپ کے راستے میں کانٹے بچھائے گئے، آپ کے وجود اطہر پر سنگ باری کی گئی، طائف کی وادی میں حضرت رسول اللہﷺ کو اذیتوں اور تکالیف کا اس انداز میں نشانہ بننا پڑا کہ آپ کے وجود اطہر سے لہو رواں ہوگیا۔ حضرت رسول اللہﷺ کے پاس حضرت جبرائیل امین اور پہاڑوں کا فرشتہ آیا اور انہوں نے عرض کی کہ اگر آپ حکم کریں تو طائف کی وادی کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دیا جائے۔ اس عالم میں حضرت رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا، اللہ میری قوم کے لوگوں کو ہدایت دے دے یہ مجھ کو پہچانتے نہیں ہیں۔ حضرت رسول اللہﷺ کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی توحید کے لیے اپنے وطن کو بھی خیر باد کہنا پڑا۔ دارالسلام مدینہ طیبہ میں قیام کے دوران بھی آپ کو بہت اتار اور چڑھائو کا سامنا کرنا پڑا۔ کافروں اور اسلام کے دشمنوں نے مسلسل مدینہ طیبہ کے خلاف جارحانہ عزائم کا اظہار اور منصوبہ بندی کی، اہل اسلام پر بہت سی جنگیں مسلط کیں۔ اسلام اور مدینہ کے دفاع کے لیے کی جانے والی بہت سی جنگوں میں حضرت رسول اللہﷺ خود بھی شریک ہوئے۔ آپ صرف حکمت عملی اور منصوبہ بندی میں مصروف نہ رہے بلکہ آپ نے اسلام اور اسلامی ریاست کے دفاع کے لیے خود اپنے ہاتھوں میں تلوار اُٹھالی۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے نبی کی نصرت فرمائی اور چند ہی برسوں میں وہ لوگ جو آپ کے خون کے پیاسے تھے وہ حلقہ بگوش اسلام ہو گئے اور فتح مکہ کا عظیم الشان واقعہ آپ حیات مبارکہ ہی میں رونما ہو گیا۔ 
انبیاء علیہم السلام کے ساتھ ساتھ ان کے رفقاء اور ان کے راستے پر چلنے والے لوگ بھی ہر دور میں اذیتوں کا نشانہ بنتے رہے۔ قرآن وسنت اور تاریخ کا مطالعہ واضح کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کے مومنوں، اصحاب الاخدود، رسول اللہﷺ کے صحابہ کرام اور آئمہ دین کو اپنے عقائد کی وجہ سے مختلف طرح کی اذیتوں کا نشانہ بننا پڑا۔ 1400 برس کے دوران ہر عہد کا مسلمان تکالیف اور اذیتوں کا نشانہ بنتے رہے اور تاحال یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ برما،کشمیر، فلسطین اور دنیا کے بہت سے دیگر مقامات پر مسلمانوں کو تکلیفوں اور اذیتوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی میں اہل ایمان اور اہل اسلام کو جن تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا ازالہ اللہ تبارک وتعالیٰ اس دنیا میں بھی فرما دیتے ہیں اور انسان کو سکینت اور امن والی زندگی عطا فرما دیتے ہیں اور اس دنیا کے بعد اخروی کامیابیاں اورآخرت کی سربلندیاں بھی اہل استقامت کا مقدر بن جائیں گی۔ 
کسی درست نظریے کو اختیار کرلینا یقیناً خوش آئند ہے لیکن اس نظریے کے حوالے سے آنے والی تنگیوں، تلخیوں اور مشکلات کا سامنا کرنا اصل کامیابی ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں انبیاء، شہداء اور صلحاء کے راستے پر چلتے ہوئے دین اور سچائی پر استقامت عطا فرمائے۔ آمین!

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved