تحریر : منیر احمد بلوچ تاریخ اشاعت     06-12-2016

’’ ٹرمپ خان ‘‘

کل تک ہیلری کلنٹن کی حمایت میں سب سے پیش پیش پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز سمیت ان کے اتحادی حضرات امریکی صدارتی انتخاب کیلئے ہیلری کے مد مقال ری پبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی تقریروں اور بیانات کے حوالے سے ان پر طنز اور تنقید کے تیر برساتے نہیں تھکتے تھے'' لیکن جیسے ہی انتخابات مکمل ہونے کے بعد کیلیفورنیا اور چند ایک دوسری ریا ستوں سے ری اکائونٹنگ کی امیدیں دم توڑنے لگیں تو پھر '' وائٹ ہائوس کے باہر سے کی جانے والی ایک ہی فون کال کے سامنے یہ سب ایسے ڈھیر ہو گئے ہیں جیسے غبارہ ہوا نکل جانے سے ہو جا تا ہے‘‘۔ کیا ان سب سے عمران خان کی پالیسی سب سے بہتر اور ایک پاکستانی کی حیثیت سے منا سب نہیں تھی کہ انہوں نے امریکی صدر سے تعلق منا سب سمجھا چاہے وہ ہیلری ہو یا ٹرمپ؟۔ جب بارک اوبامہ پہلی دفعہ امریکی صدارتی انتخاب میں حصہ لے رہے تھے تو ہمارے ہاں خوش فہمی پھیلی ہوئی تھی کہ بارک اوبامہ کے والد مسلمان نسل سے تعلق رکھتے ہیں اس وقت بھی یہی کہا تھا کہ وہ جو بھی ہیں امریکہ کے صدر ہیں اور پھر وقت نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک امریکی ہی تھے۔پاکستان سے منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کی جانے والی ایک ہی فون کال پر لڈیاں ڈالنے والے اور اپنے آدمیوں سے اس فون کال پر دھڑا دھڑ کالم اور پروگرام کرانے ولاے وہی لوگ ہیں جو اپنی تقریروں، تحریروں اور تبصروں میں خود کو بڑے فخر سے ہیلری کلنٹن کی حمایت کرتے ہوئے عمران خان کو ٹرمپ خان کہتے رہے اور انہی کی خصوصی ہدایات پر حکومتی ایجنڈے کی تعریف توصیف کیلئے مقرر کئے جانے والے کرائے کے دانشور عمران خان کا ڈونلڈ ٹرمپ کے نام سے اپنے ٹی وی پروگراموں اور تحریروں اور پروگرام میں ٹرمپ خان کہتے ہوئے مذاق اڑایا کرتے۔۔۔لیکن برا ہو اس فون کال کا جو امریکہ میں مقیم ری پبلیکن پارٹی کے کسی تارڑ کی مہربانی سے ممکن ہوئی اور جس نے ٹرمپ سے ہمارے وزیر اعظم کی فون پر بات کرا کر اسی ٹرمپ خان کو دنیا کا سب سے بڑا لیڈر اور مثبت سوچ رکھنے والا انسان بنا دیا۔۔اوبامہ8 سال تک امریکہ کے صدر رہے اور اس دوران وہ دو مرتبہ بھارت، چار مرتبہ افغانستان اور دو بار عوامی جمہوریہ چین کا دورہ کر چکے ہیں اور اس کے با وجود کہ اپنی نوجوانی کے دور میں وہ پاکستان آ کر رہتے رہے اور ان کے کئی کالج کے دوستوں کا تعلق بھی پاکستان سے ہے انہوں نے ایک بار بھی امریکی صدر کی حیثیت سے پاکستان کا دورہ نہیں کیا تو کیا ٹرمپ سے چند منٹ کی فون پر بات کرنے کے بعد اچھل کود کرنے والے موجو دہ اور ان سے پہلے ان کے اتحادیوں کی حکومتوں کی سفارتی اور سیا سی ناکامی نہیں؟۔
دنیا بھر کا میڈیا جس طرح ٹرمپ سے کی جانے والی'' اس گفتگو‘‘ کو ہمارے وزیر اعظم ہائوس سے لیک کئے جانے پر پاکستان کا ٹھٹھا اڑا رہے ہیں اس تضحیک پر ایک پاکستانی ہونے کے ناتے انتہائی دکھ ہے اور وہ پاکستانی جو امریکہ سمیت دوسرے مغربی ممالک میں مقیم ہیں ہماری حکومت کی اس'' پھرت بازی‘‘ پر منہ چھپاتے پھررہے ہیں اور ساتھ ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم اور امریکہ کا سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ جس انداز میں علیحدہ سے ناپسندیدگی کا اظہار کر رہا ہے وہ بھی سخت تکلیف دہ ہے ڈونلد ٹرمپ کی ٹیم کا اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ اس سلسلے میں ہمیں اگر اعتماد میں لیا جاتا تو بہتر تھا پاکستانی وزیر اعظم نے وہ باتیں تو اگل دیں جو انہوں نے کہیں لیکن جو ہماری جانب سے کہا گیا اسے نشر کرنا کسی طور بھی درست نہیں کہا جا سکتا ٹرمپ کی ٹیم کا کہنا ہے کہ منتخب امریکی صدر دنیا کے جس بھی رہنما سے کوئی بات کرتے ہیں ہماری ٹیم اس کے بارے میں پریس ریلیز جاری کرتی ہے کیونکہ اس سلسلے میں ٹرمپ کی بیٹی خود نوٹس لکھتی ہے لیکن پاکستانی وزئر اعظم نواز شریف سے کی جانے والی گفتگو شائدمنا سب نہیں سمجھی کہ میڈیا کو جاری کی جائے ۔میاں نواز شریف کے علا وہ ٹرمپ کی تائیوان اور قازقستان کے صدور سے بھی فون پر تفصیلی بات چیت ہوئی لیکن کسی بھی حکومت نے ٹرمپ کی ٹیم کی مشاورت کے بغیر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔۔۔۔دنیا بھر میں میاں نواز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ کی فون کال کی جو تفصیلات زیر بحث ہیں ان کے مطا بق منتخب امریکی صدر نے پاکستانی وزیر اعظم سے وہی گفتگو کی ہے جو قازقستان کے صدر نور سلطان سے کی ہے جس میں انہیں25 سال مسلسل اقتدار پر رہنے کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا امریکہ اور قازقستان کی گہری دوستی کیلئے آپ نے اپنے نیو کلیئر پروگرام اور اثا ثوں کو جس طرح فریز کیا ہے اس کی مثال کم ہی ملتی ہے لیکن اس سے ہماری دیر پا دوستی مزید مضبوط ہو گی ۔۔۔۔اور یہی بات غیر ملکی میڈیا کہے جا رہا ہے کہ دونوں لیڈران کی گفتگو میں پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام‘‘ اہم ترین موضوع تھا ۔نور سلطان1989 سے قازقستان پر آہنی ہاتھوں سے حکومت کرتے چلے آ رہے ہیں پہلے کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ اور پھر روس سے آزادی حاصل کرنے کے بعد قازقستان کے صدر کی حیثیت سے وہ فردواحد کی صورت میں براجمان ہیں۔
میڈیا میں موجود اپنے بہت سے دور کے ساتھیوں سے جرائت کرتے ہوئے جب بھی پوچھنے کی کوشش کی کہ جناب یہ یکدم کیا ہوا کہ ٹرمپ خان سے پھر وہ ڈونلڈ ٹرمپ ہو گئے ہیں تو وہ حسب عادت ایک'' بھیگی سی مسکراہٹ‘‘ سے یہ کہتے ہوئے سر جھکا لیتے ہیں کہ ہمیں کیا پتہ ہم نے تو حکم کی تعمیل کرنی ہوتی ہے جو اہمیں فون کال کے ذریعے ملتا ہے۔ہمیں یہی بتایا گیا تھا کہ امریکی وائٹ ہائوس کے قریب سے ایک فون کال اسلام آباد آئی اور پھر وہاں سے ایک فون کال ہم تک پہنچائی گئی اور جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں ہمارے یہ ہاتھ اور اس سے لکھی جانے والی تحریریں تو صرف ایک فون کال کی مار ہوتی ہیں۔۔۔اور جب ان سے پوچھا کہ آپ لوگ تو جنرل مشرف کو آج تک طعنہ دیتے نہیں تھکتے کہ وہ وائٹ ہائوس سے آنے والی ایک فون کال کے سامنے ڈھیر ہو گیا تھا؟۔
ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی شہہ سرخیاں اور بریکنگ نیوز پر خوشی سے بے حال ہونے والوں کی مثال ایسے ہی ہے جیسے روزمرہ اخبارات کا مطالعہ کرنے والوں کی نظروں سے اکثر ایسے چھوٹے موٹے حضرات کی تصاویر گذرتی ہوں گی جو وہ کسی حکومتی یا سیا سی جماعت کے اہم ترین اور سینئر لوگوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ان تصاویر کے نیچے لکھا ہوتا ہے کہ فلاں سماجی ہنما یا سیا سی کارکن کی فلاں وزیر، گورنر یا وزیر اعلیٰ یا ان کے کسی بیٹے یا بیٹی کے ساتھ ان کے گھر میں یا کسی دعوت میں شرکت کے موقع پر لی گئی تصویر؟ اس شوق یا حرکت کو آج سیلفی کے نام سے پکارا جاتا ہے اور یہ سلفیاںسوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی جا رہی ہیں ان سیلفیوں اور اخبار ات کیلئے متعدد درخواستوں اور ترغیبات کے ساتھ بھیجی جانے تصاویر کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے تاکہ دیکھنے اور سننے والوں کو پتہ چلا جائے کہ اس شخص کے وزیر اعلیٰ اس کے بیٹے یا وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے ساتھ کس قدر قریبی تعلقات ہیں اوراس طرح کے لوگ ان تصاویر کو بڑے بڑے فریموں کے ساتھ اپنے گھر کے ڈرائنگ روم یا بیٹھکوں کی زینت بناتے ہیں تاکہ وہاں آنے جانے والوں پر رعب جما سکیں کہ ان کے وزیر اعلیٰ ہائوس اور پرائم منسٹر ہائوس کے ساتھ کس قدر قریبی تعلقات ہیں۔ اس فون کال کو پاکستان میں سب سے بڑی خبراور اخبارات کی شہہ سرخیاں دیکھ کر انٹرنیشنل میڈیا قہقہے لگا رہا ہے کہ پاکستان میں ایسے خوشیاں منائی جا رہی ہیں جیسے کوئی ورلڈ کپ جیت لیا ہو ۔۔۔۔یہ کیسا آزاد اور خود مختار ملک ہے اور ان کے مرکزی لیڈران کی کس قدر خوشامدانہ سوچ ہے ۔۔۔۔!! 

Copyright © Dunya Group of Newspapers, All rights reserved